ہفتہ، 1 مارچ، 2014

گھریلو طالبان !

گھریلو طالبان !

کل ایک خبر سن کر غالب کا شعر بے اختیار زبان پر آ گیا 

حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں

کل تک سنتے تھے افغانی طالبان پاکستانی طالبان آج طالبان کی ایک جدید قسم دریافت ہوئی گھریلو طالبان ....
ہاں جی
حیران ہونے کی چنداں ضرورت نہیں اور آپ کی سوچ سے بڑھ کر مستعد ہمارے گھبرو وردی پوش جوانوں نے ایک طالبان مار گرایا
ویسے اس پر اختلاف ہے کہ مذکورہ بالا طالبان مر کر گرا یا گر کر مرا یا پھر یہ حادثہ بعد از مرگ پیش آیا ....

کراچی ناگن چورنگی میں دن دھاڑے دو طالبان آپس میں دست و گریبان پاۓ گۓ ایک طالبان اصل میں طالبہ تھیں اور دوسرے انکے مطلوب
اس سے پہلے کہ چاک گریبانی کا سامان ہوتا حکومتی رٹ قائم رکھنے کیلئے گولی آزمائی گئی لیکن افسوس یہ گولی ڈسپرین کی نہیں بندوق کی تھی
طالبہ کا طالب زخموں کی ذلت کی تاب نہ لاتے ہوے ہلاک ہو گیا اور طالبہ زخمی
یہ ابھی تک معلوم نہیں ہوا کہ یہ معرکہ گرم کیسے ہوا
طالبہ کو بیوی اور طالب کو میاں قرار دیا گیا ہے
ان طالبان میاں بیوی کے درمیان ہونے والی جوتم پیزاری جب گھریلو حدود و قیود سے باہر نکلی اور تماشا سر عام ہونے لگا اور عوام کو لطف اندوز ہونے کا بھرپور موقع بغیر ٹکٹ فراہم ہوا تو سرکاری اہلکار فرط جذبات سے بےقابو ہو گیا اور خوشی میں سٹریٹ فائرنگ شروع کر دی اسکی یہ معصومانہ ادا اگر چہ قاتلانہ ثابت ہوئی اور شوہر نامی طالب بیوی نامی طالبہ کی دست برد سے بچ کر خالق حقیقی سے جا ملا ......

خس کم جہاں پاک

واقعاتی شواہد اختلافی منظر کشی کر رہے ہیں

شوہر طالب بیوی طالبہ کی کٹائی کر رہا تھا
یا بیوی طالبہ شوہر طالب کی پھینٹی لگا رہی تھی
یا پھر میاں بیوی طالبان ایک دوسرے کی دھلائی کر رہے تھے

یہ بھی معلوم نہیں کہ متاثرہ جوڑا پہلے سے طالبان تھا یا پھر بعد میں طالبان قرار دیا گیا بہر حال میاں بیوی مزاج طالبانی ہی رکھتے تھے
کہتے ہیں مغرب میں اگر کبھی ضرورت پڑے تو فسادیوں کے پیروں پر گولی ماری جاتی ہے تاکہ جانی نقصان نہ ہو
لیکن کیا کیجئے
یہ مشرق ہے اور وہ بھی ہمارا پیارا پاکستان
یہاں گولی سیدھی سینے پر ماری جاتی ہے تاکہ سینے وچ ٹھنڈ پے جاوے

بقول شاعر
تیرا پاکستان ہے نہ میری پاکستان ہے
یہ اسکا پاکستان ہے جو شیر پاکستان

لیکن ہر خیر میں شر
اور ہر شر میں بشر کی بھلائی ڈھونڈ نکالنا ہماری قوم کا خاصہ ہے

آئندہ میاں بیوی سر عام دھینگا مشتی سے پرہیز کرینگے
کیونکہ سر عام دھینگا مشتی ایک طالبانی فعل ہے اور اسکی سزا
اے کے فورٹی سیون کی تازہ تازہ کڑک گولی

تمام گھریلو طالبان سے درخواست ہے
دھول دھپا گھر کے اندر کیا جاوے
ورنہ اندر کر دیا جاۓ گا
اب جیل کے یا قبرستان کے
یہ آپ کی قسمت

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں