ہفتہ، 1 مارچ، 2014

"کتوں کا اتحاد باہمی "

"کتوں کا اتحاد باہمی "

بجلی کی تنگی نے جہاں انسانوں کا برا حال کر رکھا ہے وہیں مشینیں بھی اسکی زد میں ہیں خاص کر ہمارا بیچارہ "ریفری جریٹر" جب اسکا دم نکلتا ہے تو برف خرید کر لانی پڑتی ہے کیا خوب کہا تھا شاعر نے .....

" لے آئینگے بازار سے جاکر دل و جاں اور "

تو ہم بھی بازار سے برف لانے چل دئیے راستے میں ایک پارک پڑتا ہے جسکے آدھے حصے پر بھائی لوگ کا قبضہ ہے باقی آدھے پر کتے پلے ہوے ہیں یہ آوارہ کتے ہیں جو خود ہی پل گۓ ہیں یہ راستہ اسلئے اختیار کیا تھا کہ کسی کی برات تھی جسکا شامیانہ لب سڑک بلکہ میان سڑک تھا جاتے وقت کتوں نے کوئی دیہان نہ دیا لیکن آتے وقت جب برف کی تھیلی ہاتھ میں تھی تو ایک "پلا" بھڑک گیا ...........
بہت سمجھایا قسم لے لو ہم نے تمہاری دم پر پاؤں نہیں رکھا لیکن وہ کتے پن پر اتر چکا تھا ..
اس نے ایک درد ناک بھونک لگائی
اور
شاباش ہے کتوں کے امداد باہمی کو ایک پلّے کی بھونک پر سارے جمع ہو گۓ لاکھ ہشکارا مگر نہ مانے مجبوراً دوڑ لگانی پڑی نوجوانی کے دن یاد آ گۓ اس کتا ماری میں ہم بھی گھر پہنچ گۓ اور برف بھی .....
لیکن
اس کہانی سے سبق یہ سیکھا کہ جب تک بھونکو گے نہیں دشمن پر رعب نہیں پڑے گا اور کتے ہمیشہ کتے ہی رہینگے کتوں کی اس اجتماعیت پر گھنٹوں آبدیدہ رہا اور سوچتا رہا یہ کتے بھی تو اسی مٹی کے باسی ہیں ہمارا بچا کچھا ہی کھاتے ہیں پھر بھی ایک قوم ہیں .........

اپنی فطرت سے قریب ہونا اور اپنی فطرت پر قائم رہنا ایک عظیم نعمت ہے جنکو یہ میسر آجانے وھی لوگ زندہ لوگ ہیں ......

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں