ہفتہ، 29 مارچ، 2014

آپ کون سے راہب ہیں.........؟

آپ کون سے راہب ہیں.........؟


افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم لوگ زمینی حقائق سے شاید نا واقف ہیں اور آج کی امّت میں صحابہ رض کے دور کو تلاش کر رہے ہیں ! کیا اپ لوگوں کو حاطب بن ابی بلتعہ رض ،حضرت ابو لبابہ رض ،ابو محجن ثقفی رض یاد ہیں یہ نبی کے دور کے لوگ تھے !
آج امّت تنزل کا شکار ہے یہ اک غیر تربیت یافتہ قوم ہے اوپر سے نیچے تک خرابیاں بھی موجود ہیں لیکن نبی صلعم کی محبّت انکے قلوب میں ضرور کہیں موجود ہے !

ایک آدمی زانی ہے شرابی ہے بد کردار ہے لیکن اگر اسکے باپ کو کوئی سرے عام گالی دے اسکی تذلیل کرے تو وہ بھڑک اٹھے گا اور اپنے جذبات کا اظہار کرے گا یہ انسانی فطرت ہے اسی طرح ہم جتنے بھی گناہگار سہی جب ہمارے نبی صلعم کی شان میں کوئی گستاخی کی کوشش کرتا ہے ہمارا خون کھول اٹھتا ہے !اب کوئی جدید مفتی فتویٰ لگاۓ ارے او زانی شرابی جھوٹے رشوت خور منافق تجھے کوئی حق نہیں نبی کی ناموس کی خاطر آواز اٹھانے کا اسکا ٹھیکہ تو ہم نے لے رکھا تو جا اور جا کر سو جا مگر جناب وہ کہاں سنے گا مسلہ اسکی غیرت کا ہے اپ لاکھ تلقین کیجئے ہزار فتوے تھوپئیے وہ اپنے فہم کے مطابق احتجاج کرے گا اور ضرور کرے گا !
ویسے مجھے نہیں معلوم ہمیں یہ خدائی اختیارات کب مل گۓ کے ہم معاشروں کے ایمان اور کفر کے فیصلے کرنے لگے!حضرت ابوسعید بن مالک بن سنان خدری رضی اﷲ عنہ روای ہیں کہ نبی کریمۖ نے فرمایا تم سے پہلے گذرنے والی اقوام میں کسی شخص نے نناوے (99) آدمی قتل کئے ، اور لوگوں سے پوچھا اس زمانے میں روئے گیتی پر کون بہت بڑا عالم فاضل ہے؟ لوگوں نے ایک راہب کے متعلق بتایا وہ اس کے پاس گیا اور پوچھا کہ میں نناوے آدمی قتل کرچکا ہوں کیا میرے لئے توبہ کی گنجائش ہے؟ راہب نے کہا نہیں! اس نے راہب کو بھی قتل کردیا اور تعداد پوری سو (100) ہوگئی پھر پوچھا کہ روئے زمین پر اب کون عالم ہے ؟ تو اسے ایک عالم کا پتہ بتایا گیا وہ ان کے پاس گیا اور کہا کہ میں سو افراد کا قتل کرچکا ہوں کیا میری توبہ کی کوئی صورت ہے ؟ عالم نے کہا کیوں نہیں!تمہارے اور تمہاری توبہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں. تم فلاں جگہ چلے جاؤ ! وہاں اﷲ کے کچھ بندے ہیں جو اﷲ کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں . تم بھی ان کے ساتھ اﷲ کی عبادت میں مصروف ہوجاؤ اور اپنے وطن لوٹنے کا خیال دل سے نکال دو کہ وہ سرزمین بدی کا گہوارہ ہے ! وہ شخص بتائے ہوئے پتہ پر روانہ ہوگیا. راہ ہی میں تھا کہ موت آگئی. اب رحمت و عذاب کے فرشتوں میں باہم تنازع ہوا کہ اس کی روح کو ن قبض کرے . ملائکہ رحمت کا کہنا تھا کہ یہ دل سے توبہ کرکے اور اﷲ سے لو لگا کر آرہاتھا . مگر فرشتہ عذاب کہہ رہے تھے کہ اس نے تو زندگی بھر نام کی کوئی نیکی نہیںکی. اس تنازعہ کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک فرشتہ بصورت آدمی ان کے پاس آیا. جس کو انہوں نے ثالث مان لیا. تو اس نے کہا زمین کی پیمائش کر لو،جس زمین کے یہ قریب ہو انہیں میں شمار کرلو،زمین کی پیمائش کی گئی تو نیک لوگوں سے اس کا فاصلہ قریب نکلا لہٰذا فرشتہ رحمت اس کی روح لے گئے.( بخاری 3283 مسلم2766 )ویسے آپ راہب ہیں پہلے یا دوسرے ؟

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں