جمعرات، 6 مارچ، 2014

پڑھنے سے گریز کریں !

پڑھنے سے گریز کریں !

ذہن پراگندہ دل پریشان ہے افکار پژمردہ یکسوئی مفقود وہ کیا کہا ہے انشاء الله خاں نے

نہ چھیڑ اے نکہت بادِ بہاری راہ لگ اپنی
تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں

سو ارادہ ہے دل کی بھڑاس نکالی جاوے جس کسی کو عزت پیاری ہو ہو پڑھنے سے گزیز کرے ملک کی عجیب صورت حال ہے لڑائی مار کٹائی ہنگامے پر ہمیں کیا ہماری بلا سے کھانے کو دو روٹیاں مل جائیں کافی ہیں
مگر کافی کہاں کس کافر کا دل ہے جو مرغ مسلم کی خواہش نہ کرے مگر دال بھی مل جاوے تو خیر ہے لعنت ہے اس کسر نفسی ارے یہ پیٹ تو ھل من مزید کی پکار کرے ہے ...

شاعر کہتا ہے

جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

اب جاناں ہو تو تصور کیا جاوے اور یہاں تو فرصت ہی فرصت
کیا بکواس ہے کہنے والا اور سننے والے دونوں برابر کے بے وقوف

پھر عرض کیا پڑھنے سے گریز کریں !

آپ یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ اگر پڑھنے سے گزیز ہی کروانا ہے تو لکھتے ہی کیوں ہو .....؟

اسکا بہت علمی فکری اور منطقی جواب ہو سکتا ہے
سو ہمار جواب ہے

ہماری مرضی جو کر سکتے ہو کر لو

سنا ہے ہماری ٹیم بازیاں مار رہی ہے دشمنو کی فوج کی فوج کھیت رہی کرکٹ کے میدان میں کشمیر آزاد کروا لیا اور مشرقی پاکستان دوبارہ مغربی ہونے جا رہا ہے لیکن شاید پاکستان اب پاکستان نہیں رہا

لعنت ہے قنوطیت پر
پاکستان زندہ باد
کمال کا انسان ہے یہ نسوار خان بھی اس سے پہلے پوری قوم اخروٹ خان کے سحر میں مبتلاء تھی اور اب نسوار خان کا طوطی بولے گا بلکہ طوطی گاۓ گی اور وینا باجے گی

نجانے کیوں آج یہ سب معرفت کی باتیں کرنے کو دل کر رہا ہے

گو ہاتھ میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے

مینا کے م کو محذوف سمجھا جاوے

تو ہم کہاں تھے لوگ کہتے ہیں امن ہونے جا رہا ہے
غریب کا بچہ بھوکا سوتا ہے امیر کے بچے کو بدہضمی سے نیند نہیں آتی
انقلاب آنے کو ہے اور ایسے میں امن کی باتیں
تف ہے تف

اگر آپ کو یہ سب پڑھ کر ہماری عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہ رہا ہے تو سینہ کوبی ضرور کیجئے گا یا پیٹھ ہماری طرف کریں ہم نشتر زنی خوب کرتے ہیں
سینے پر وار ہماری خصلت نہیں

اجی کس بے وقوف نے کہا اس تحریر کو پڑھیں اور اگر پڑھ ہی لیا ہے تو یہ تو نہ کہیں

حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں

یہ آپ کا مسلہ ہے دل کو پیٹیں یا جگر کو
اور اگر مقدور ہو تو نوحہ گر کو بھی ساتھ رکھیں ورنہ
اپنی آنکھیں اپنے آنسو
اور اپنا سا منہ

ہم نے تو پہلے ہی کہا تھا

پڑھنے سے گریز کریں

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں