ہفتہ، 29 مارچ، 2014

" ڈرون بڑا بے غیرت ہے "

" ڈرون بڑا بے غیرت ہے "


وہ ایک چھوٹی سی معصوم سی بچی کی تصویر تھی جسکی آنکھوں میں حیرانی تھی خوف تھا آسمان سے اترنے والی بلاؤں کا اسکی آنکھیں کچھ پوچھتی تھیں یہ انجانا خوف کیوں یہ آسمان سے آگ کیوں برستی ہے یہ بلائیں کہاں سے آتی ہیں .........با با کیا میں باہر کھیلنے جاؤں ......نہیں میرے جان کے ٹکڑے ....پر کیوں با با .......بیٹا ڈرون آ جاۓ گا .....

ہر روز معصوم لبوں پر یہی سوال اور پھر ایک روز سامنے والے مکان پر ڈرون آ گیا .......

یہ ڈرون بھی بڑا بےغیرت ہے یہ نہیں دیکھتا شادی بیاہ ہے یا پھر غم کی ماتمی فضا ......گھر کے دروازے کھلے ہیں یا بند یہ تو بس منہ اٹھاۓ چلا آتا ہے بغیر کسی پرواہ کے .یہ نہیں دیکھتا بستر مرگ پر پڑا بوڑھا ہے یا جوانی کے جذبات سے سرشار دوشیزہ کوئی نئی نویلی دلہن ہے یا پھر ممتا سے بھری ماں کی محبت و شفقت قوت والی جوانی ہے یا حکمت والی ادھیڑ عمرییا پھر ہنستا کھیلتا معصوم بچپن یہ تو بس چلا آتا ہے اپنے جلو میں موت لیے سب کے لیے یکساں یہ کسی کو نہیں چھوڑتا ....میری بچی تم مت ڈرو جاؤ چند سانسیں کھلی فضا میں لے لو کچھ دیر جی لو کیونکہ بیٹا ! ڈرون بڑا بےغیرت ہے یہ گھر پر بھی آ جاتا ہے

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں