Google+ Followers

Monday, 15 February 2016

اسلامی " جماعتیں " یا جماعتوں میں : اسلام


امت سے امت کا تصور نکلتا جا رہا ہے اور جو گروہ امت کی سطح پر جماعتوں کی شکل میں دین کا کام کر رہے ہیں ان کا المیہ یہ ہے کہ وہ انتہائی خلوص سے خدمت تو دین کی کر رہے ہوتے ہیں لیکن یہ خدمت انکی جماعتی فکر اور مفادات کے تناظر میں ہوتی ہے ........
آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: "مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْراً فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ"(مشکوٰۃ:۳۱)
ترجمہ:جوشخص جماعت سے بالشت برابر جدا ہوا تواس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے الگ کردی۔
ایک جگہ ارشاد ہے: "مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةِ مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً"۔ (مصنف عبدالرزاق، كتاب الصلاة، باب الأمراء يؤخرون الصلاة، حدیث نمبر:۳۷۷۹)
ترجمہ:جو جماعت سے الگ ہوجائے تواس کی موت جاہلیت کے طرز پر ہوگی۔
مذکورہ بالا احادیث کا جتنا بے دریغ استعمال دینی جماعتوں کے ہاتھوں ہوا ہے اسکی دوسری مثال ملنی مشکل ہے ہر جماعت خود کو دین کی واحد جماعت سمجھتی ہے اور صرف اپنی جماعت کے اندر ہی دین کو مقید جانتی ہے ایک جگہ مولانا امین احسن اصلاحی مرحوم کا ایک قول سنا تھا کہ جماعتیں بنتی ہیں دین کی خدمت کیلیے لیکن پھر ان جماعتوں سے منسلک افراد دین کو ان جماعتوں کے اندر ہی جاننے لگتے ہیں ....
احادیث مبارکہ میں جہاں جہاں جماعتوں کی بات کی گئی ہے مقصود مسلمانوں کی جماعت (السواد الاعظم ) ہے نا کہ مسلمانوں میں موجود کوئی مخصوص جماعت ...
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
لا يجمع الله هذه الامة علی الضلالة ابدا وقال : يدالله علی الجماعة فاتبعوا السواد الاعظم فانه من شذ شذ فی النار.
"اللہ تعالی اس امت کو کبھی بھی گمراہی پر اکٹھا نہیں فرمائے گا اور فرمایا : اللہ تعالی کا دست قدرت جماعت پر ہوتا ہے۔ پس سب سے بڑی جماعت کی اتباع کرو اور جو اس جماعت سے الگ ہوتا ہے وہ آگ میں ڈال دیا جاتا ہے"
حاکم، المستدرک، 1 : 199، رقم : 391
ابن ابی عاصم، کتاب السنة، 1 : 39، رقم : 80، مکتبة العلوم والحکم، مدينة منوره، سعودی عرب
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
ان أمتی لا تجتمع علی ضلالة فاذا رأيتم اختلافا فعليکم بالسواد الاعظم.
"بے شک میری امت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہو گی پس اگر تم ان میں اختلاف دیکھو تو تم پر لازم ہے کہ سب سے بڑی جماعت کو اختیار کرو"۔
ابن ماجه، السنن، 4 : 367، رقم : 3950 دارالکتب العلمية، بيروت، لبنان
طبرانی، معجم الکبير، 12 : 447، رقم : 13623، مکتبة ابن تيمية قاهره
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
ان بنی اسرائيل افترقت علی أحد وسبعين فرقة. وان أمتی ستفترق علی ثنتين وسبعين فرقة. کلها فی النار، الا واحدة. وهی الجماعة.
یقینا بنی اسرائیل اکتہر فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور میری امت یقینا بہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ وہ سب کے سب دوزخ میں جائیں گے سوائے ایک کے اور وہ جماعت ہے"۔
ابن ماجه، السنن، 2 : 1322، رقم : 3991
أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 145، رقم : 12501
مذکورہ بالا روایات سے تصریح ہوتی ہے کہ جوڑ کا حکم ایک بڑی جماعت سے ہے چھوٹے چھوٹے گروہوں سے نہیں ......
جس طرح فرقہ وارانہ تقسیم مذموم ہے ویسے ہی جماعتی عصبیت بھی کم بری شے نہیں ..
گو کہ امت کی سطح پر دین کے احیاء کی مختلف شعبہ جاتی تحاریک اپنے اپنے دائروں میں احسن انداز میں دین کی خدمت کر رہی ہیں لیکن جہاں بھی یہ سوچ پیدا ہو جاوے کہ دین تو میری ہی جماعت نے سمجھا ہے اور اصل دین کا کام صرف میری ہی جماعت کر رہی ہے اور اگر دنیا میں دین آیا تو میری جماعت سے ہی آوے گا در اصل جماعتی غلو کی ایک بدترین مثال ہے کہ جس نے دین کو امت کی سطح سے اٹھا کر جماعتی کوزوں میں بند کر دیا ہے .
حسیب احمد حسیب

اسلام میں اشیاء (Goods) اور امور کی حلت و حرمت کے فکری اصول

اسلام صرف ایک مذھب ہی نہیں کہ جو عقائد اور عبادات کا مجموعہ ہو بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات
(A code of conduct ) ہے جس میں متعین کردہ اصول و مبادی اپنی قانونی اخلاقی اور معاشرتی بنیادیں رکھتے ..
قوانین عالم کی تشکیل یا تو خالص عقلی بنیادوں پر ہوتی ہے یا خالص الہیات کی بنیاد پر، فی زمانہ نافذ قوانین نہ تو خالص عقلی ہیں اور نہ ہی الوہی بلکہ انکو قلت و کثرت رائے کے مطابق تشکیل دیا گیا ہے یعنی ان کی تشکیل (Qualitative) نہیں بلکہ (quantitative) ہے .
اس بحث میں پڑے بغیر کہ قوانین علمی ہوں یا عقلی اکثریتی رائے پر قائم ہوں یا الہی اصولوں پر مبنی اور ان قوانین میں سے کون سے برتر و بہتر اور کون سے بدتر و کمتر ہیں اور اس برتری و کمتری کے پیچھے کون سا (argument) کار فرما ہے ہم یہ بات سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام بطور قانون احکامات اوامر و نواہی کس انداز میں اور کن اصولوں کے مطابق نافذ کرتا ہے ..
اسلام کے پاس تین بنیادی اصول ہیں کہ جنکی بنیاد پر اشیاء و احکام کا حلال (lawful) اور حرام (unlawful) ہونا ثابت ہوتا ہے اب اگر غور کیا جاوے تو ان بنیادوں سے ہٹ کر کوئی بھی الگ علت ہمیں دکھائی نہیں دیتی کہ جو ان قوانین کے پیچھے کار فرما ہو ..
اس سے پہلے کہ ان امور کو سمجھا جاوے اسلامی ریاست و معاشرت کی ہیت ترکیبی کو سمجھ لینا ضروری ہے کہ جو چار بنیادوں پر کھڑی ہے ..
١. ریاست اور شریعت (احکام الہی ) کا تعلق .
٢. ریاست اور عوام کا تعلق .
٣. عوام اور شریعت کا تعلق .
٤.عوام کا باہمی تعلق .
ان چار دوائر سے باہر اسلامی ریاست کی گفتگو نہیں ہے اور ان ہی کے اندر قوانین اسلامی کا اجراء ہوتا ہے ...
اب ان تمام قانونی بنیادوں کو سمجھا جاوے کے جن کے تحت اشیاء کی حلت و حرمت ثابت ہوتی ہے ..
اسلامی قوانین کا تعلق سنت الہی اور سنن نبوی صل الله علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق " یسر " کے اصول پر قائم ہے ..
الله کے رسول صل الله علیہ وسلم نے فرمایا .. !
عن أبي هريرة - رضي الله عنه - أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال:((إن الدين يسر، ولن يشاد أحد الدين إلا غلبه، فسددوا وقاربوا وأبشروا واستعينوا بالغدوة والروحة وشيء من الدلجة))؛ رواه البخاري.

'' دین آسان ہے، جو کوئی دین سے سختی میں مقابلہ کرے گا تو وہ اس پر غالب آ جائے گا۔ پس راہ راست دکھاؤ، میانہ روی اختیار کرو اور خوش خبری دو...۔''
اب یہ معاملہ صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی اور قانونی بھی ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابو موسیٰ اشعری کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا تو دوسری باتوں کے علاوہ یہ نصیحت بھی کی :
یسرا ولا تعسرا وبشرا ولا تنفرا وتطاوعا ولا تختلفا...
'' تم دونوں آسانی پیدا کرنا، تنگی پیدا نہ کرنا، خوش خبری دینا، نفرت نہ دلانا، او رخوشی سے ایک دوسرے کی تابع داری کرنا، اختلاف نہ کرنا۔''
رواہ البخاری، کتاب الایمان، باب: الدین یسر۔
اسلامی معاشرت کی دو پرتیں ہیں انفرادی اور اجتماعی اور ہر دو اپنی جگہ انتہائی اہم اور ضروری ہیں ایک منفرد جب تک اسلامی امور پر عامل نہ ہوگا اور نواہی سے بچنے کی کوشش نہیں کرے گا وہ اجتماعیت کیلیے بھی مفید نہ ہوگا ..
دوسری جانب دینی احکامات کی ترویج نصیحت کے ساتھ کی جاوے گی کہ جسکا اصول ہمیں نبی کریم صل الله علیہ وسلم سے بطور قانون ملتا ہے
بَاب قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّم الدِّينُ النَّصِيحَةُ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ وَقَوْلِهِ تَعَالَى{ إِذَا نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ }
نبی ﷺ کا ارشاد کہ دین، اللہ اور اس کے رسول اور قائدینِ اسلام اور عام مسلمانوں کے لئے نصیحت (کا نام) ہے اور اللہ کا قول کہ جب وہ اللہ اور اس کے لئے نصیحت کریں، یعنی دین کا خلاصہ اور حاصلِ اخلاص اور خیر خواہی ہے۔
جلد نمبر ۱ / پہلا پارہ / حدیث نمبر ۵۶ / حدیث متواتر : مرفوع
یہاں قول رسول صل الله علیہ وسلم سے ریاست و معاشرت کے تمام (sectors) کیلیے اصول دین ہے اور دین کے پیچھے خیر خواہی کی حکمت کار فرما ہے ..
اب ہم ان تین بنیادوں کو دیکھتے ہیں کہ جن کے مطابق دین اسلام میں اشیاء (Goods) اور امور ( Affairs) کو حلال و حرام قرار دیتا ہے ..
١. قوانین الہی یا شریعت میں تغیر و تبدل (بدعات ).
٢. مضرت و مشقت .
٣. منفعت کی غیر موجودگی .
اب ان تمام اصولوں کو الگ الگ سمجھتے ہیں
رب کریم کی جانب سے نازل کردہ شریعت اور نبی کریم صل الله علیہ وسلم کی جانب سے نافذ کردہ شریعت میں تغیر و تبدل کا اختیار کسی کے پاس موجود نہیں ہے یہاں تک کہ کوئی ناسخ (جدید حکم یا شریعت) کسی قدیم (حکم یا شریعت) کو منسوخ نہ کر دے ..
اس حوالے سے احادیث مبارکہ میں واضح اصول و مبادی موجود ہیں ..
الله کے رسول صل الله علیہ وسلم نے فرمایا ..
سنت خلفاء راشدین پر عمل کیا جاوے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«عَلَيْکُمْ بِسُنَّتِی، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِيْنَ الْمَهْدِيِّينَ تَمَسَّکُوْا بِهَا وَعَضُّوْا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَاِيَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْاُمُوْرِ، فَاِنَّ کُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَکُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ» سنن ابی داود، السنة، باب فی لزوم السنة، ح:4607
’’تم میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو، اسے مضبوطی سے تھام لو اور دانتوں کے ذریعہ سختی سے پکڑ لو اور (دین میں) نئے نئے کاموں سے کنارہ کشی اختیارکرو کیونکہ (دین میں ایجاد کردہ) ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘
راغب اصفہانی لکھتے ہیں ''والبدعة فی المذہبایراد قول لم یستند قائلھا وفاعلھا فیہابصاحب الشریعة واماثلھا المتقدمة واصولھا المتقنة.(مفردات الفاظ القرآن ٣٩ .)
دین میں بدعت ہر وہ قول و فعل ہے جسے صاحب شریعت نے بیان نہ کیا ہو اور شریعت کے محکم و متشابہ اصول سے بھی نہ لیا گیا ہو
ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں ''والمحدثات بفتح الدال جمع محدثة ،والمراد بھا ما احدث ولیس لہ اصل فی الشرع ویسمیہ فی عرف الشرع بدعة ، وماکان لہ اصل یدل علیہ الشرع فلیس ببدعة ''( فتح الباری ١٣ ٢١٢ . )
ہر وہ نئی چیز جس کی دین میںاصل موجود نہ ہو اسے شریعت میں بدعت کہا جاتا ہے اور ہر وہ چیز جس کی اصل پر کوئی شرعی دلیل موجود ہو اسے بدعت نہیں کہا جائے گا ۔ یہی تعریف عینی نے صحیح بخاری کی شرح (عمدة القاری ٢٥ ٢٧. )،مبارکپوری نے صحیح ترمذی کی شرح (تحفة الأحوذی ٧ ٣٦٦ .) ، عظیم آبادی نے سنن ابی داؤد کی شرح (عون المعبود ١٢ ٢٣٥.) اور ابن رجب حنبلی نے جامع العلوم میں ذکر کی ہے۔(جامع العلوم والحکم ١٦٠ ، طبع ہندوستان.)
یہاں سے دو بنیادی اصول معلوم ہوتے
بدعات کا تعلق صرف عقائد و عبادت کے باب سے نہیں بلکہ ریاست و معاملات کے ابواب سے بھی ہے ..
اب قانونی طور پر اگر الله کے رسول صل الله علیہ وسلم نے ہمیں پانچ نمازوں کا حکم دیا ہے تو انہیں چار نہیں کیا جا سکتا ..
رمضان کا ایک ماہ کا ہوگا دو یا تین کا نہیں ..
حج مخصوص ایام میں ہوگا ان سے ہٹ کر نہیں ...
دوسری جانب امور کہ جن میں صراحت کے ساتھ کوئی حکم موجود نہیں وہاں اجتہاد کا در بھی وا کیا گیا ہے جسکی طرف حدیث رسول صل الله علیہ وسلم میں اشارہ ملتا ہے ...
حدیث معاذ بن جبل رض
یمن روانہ کرتے وقت آنحضرتﷺ نے معاذؓ سے پوچھا تھا کہ "مقدمہ آئے گا تو کیونکر فیصل کروگے؟" حضرت معاذؓ نے جواب دیا کتاب اللہ سے آپ نے فرمایا اگر اس میں نہ پاؤ، تو عرض کی سنت رسول اللہ ﷺ سے پھر فرمایا اگر اس میں بھی نہ پاؤ تو عرض کی کہ "اجتہاد کرونگا" یہ سن کر آنحضرتﷺ اس قدر خوش ہوئےکہ ان کے سینہ پر اپنا دست مقدس پھیرا اور فرمایا خدا کا شکر ہے جس نے تم کو اس بات کی توفیق دی جس کو میں پسند کرتا ہوں، حضرت معاذؓ کے جواب سے گویا اصول فقہ کا یہ پہلا اصول مرتب ہوا کہ احکام اسلامی کے یہ تین بہ ترتیب ماخذ ہیں اول کتاب الہی پھر حدیث نبوی اوراس کے بعد قیاس
شروع زمانہ میں جو لوگ دیر میں پہنچتے اور کچھ رکعتیں چھوٹ جاتیں تو وہ نمازیوں سے اشارہ سے پوچھ لیتے کہ کتنی رکعتیں ہوئیں اور وہ اشارہ سے جواب دیدیتے ،اس طرح لوگ فوت شدہ رکعتیں پوری کرکے صف نماز میں مل جاتے تھے،ایک دن جماعت ہورہی تھی اور لوگ قعدہ میں تھے کہ معاذؓ آے اور دستور کے خلاف قبل اس کے کہ رکعتیں پوری کرتے جماعت کے ساتھ قعدہ میں شریک ہوگئے،آنحضرتﷺ نے سلام پھیرا تو حضرت معاذ نے اٹھ کر بقیہ رکعتیں پوری کیں، آنحضرتﷺ نے دیکھا تو فرمایا :قد سن لکم فھکذا فاصنعوا یعنی معاذؓ نے تمہارے لئے ایک طریقہ نکالا ہے تم بھی ایسا ہی کرو (مسند:۵/۲۴۶،۲۳۳) یہ حضرت معاذؓ کے لئے کتنی قابل فخر مزیت ہے کہ ان کی سنت تمام مسلمانوں کے لئے واجب العمل قرار پائی اورآج تک اسی پر عمل در آمد ہے اور دنیا کے سارے مسلمان اسی کے مطابق اپنی فوت شدہ رکعتیں ادا کرتے ہیں۔
فقہ اسلامی کے مطابق ایک اصول کا تعین دوسرے سے کیا جاتا ہے مثال کے طور پر ایک حدیث میں آتا ہے
( أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ ) تمہارے لئے سمندر کا شکار اوراسکا کھانا حلال قرار دیا گیا ہے
[المائدة: 96]
اور ابو داود (83) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے بارے میں فرمایا: (سمندر [کا پانی] پاک کرنیوالا ہے، اور اسکا مردار حلال ہے) البانی نے
"صحیح ابو داود " کی اس روایت کو صحیح کہا ہے۔
اس کے مطابق کچھ فقہاء تمام سمندری جانوروں کو حلال قرار دیتے ہیں لیکن ایک دوسری حدیث اس کی وضاحت کر دیتی ہے
عن جابر قال : حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم يعني يوم خيبر الحمر ولحوم البغال وكل ذي ناب من السباع وذي مخلب من الطير
( سنن الترمذي : 1478 ) .
ترجمہ : حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقعہ پر پالتو گدھا اور خچر کا گوشت ، ہر کچلی دانت والا جانور اور ہر پنجے سے شکار کرنے والے پرندے کو حرام قرار دیا ۔ { سنن ترمذی }
یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام (predators) حرام ہیں چاہے وہ خشکی کے ہوں یا پانی کے ...
اسی طرح وہ جاندار کہ جو حلال تو ہیں لیکن انکے دوسری زیادہ اہم مصارف موجود ہیں جیساکہ جنگ کے مواقع پر جب کہ گھوڑوں کی انتہائی ضرورت تھی انہیں بطور غذاء استعمال کرنے سے روکا گیا ..
اب آتے ہیں دوسری شق کی طرف

٢. مضرت و مشقت .

اسلام افراد کو مشقت میں ڈالنا پسند نہیں کرتا ایسے ہی اسلامی تعلیمات ہر اس شے کو حرام خیال کرتی ہیں کہ جن دینی اخلاقی جسمانی یا مالی اعتبار سے لوگوں کیلیے مضر ہو ..
کسی کی جان لےلینا بغیر حق کے (یعنی قصاص نہ ہو ) اسلام میں حرام ہے
کسی کا مال لے لینا بغیر حق کے اسلام میں حرام ہے
کسی کی عزت کو ٹھیس پہنچانا بغیر حق کے اسلام میں حرام ہے ..
اب اسکی ایک مثال ملاحظہ کیجئے اسلام میں تجسس حرام ہے
ارشاد باری تعالی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيراً مِنْ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلا تَجَسَّسُوا ۔ (حجرات 49:12)
اے ایمان والو، بہت گمان کرنے سے بچا کرو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ تجسس کرنے سے بھی بچا کرو۔
ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد ہے:
لا تغتابوا المسلمین و لا تتبعوا عوراتھم۔ فان من اتبع عوراتہم یتبع اللہ عورتہ و من یتبع اللہ عورتہ یفضحہ فی بیتہ۔ (قرطبی)
مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کے عیوب کی جستجو نہ کرو۔ کیونکہ جو شخص ان کے عیوب کی تلاش کرتا ہے، اللہ تعالی اس کے عیب کی تلاش کرتا ہے۔ اور جس کے عیب کی تلاش اللہ تعالی کرے، اس کو اس کے گھر کے اندر بھی رسوا کر دیتا ہے۔
اسی طرح چادر اور چار دیواری کا تقدس اسلام میں انتہائی اہمیت کا حمل ہے
آدم بن ابی ایاس، ابن ابی ذئب، زہری، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے سوراخ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جھانکا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو او زار سے کھجا رہے تھے، آپ نے فرمایا کہ اگر میں جانتا کہ تو جھانک رہاہے تو میں اس کو تیری آنکھوں میں چبھو دیتا اور اجازت لینادیکھنے ہی کی وجہ سے مقرر کیا گیا ہے۔
صحیح بخاری۔۔جلد نمبر 3 / چوبیسواں پارہ / حدیث نمبر 864 / حدیث مرفوع
یہاں معاشرتی اعتبار سے چند بنیادی اخلاقی اصولوں کا تعین ہوتا ہے کہ جنہیں قانونی حیثیت بھی حاصل ہے اسی طرح ماکولات و مشروبات میں وہ تمام اشیاء کہ جو انسانی صحت کیلیے مضر ہوں اصول مضرت کے مطابق حرام ہیں ..
دوسری جانب مشقت کا معاملہ یعنی اگر کوئی اپنے آپ کو یا دوسروں کو ایسی مشقت میں ڈالے کہ جو غیر ضروری ہو تو اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا ..
ارشاد ربانی ہے :
وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ.
’’اور رہبانیت (یعنی عبادتِ الٰہی کے لئے ترکِ دنیا اور لذّتوں سے کنارہ کشی) کی بدعت انہوں نے خود ایجاد کر لی تھی، اسے ہم نے اُن پر فرض نہیں کیا تھا، مگر (انہوں نے رہبانیت کی یہ بدعت) محض اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے (شروع کی تھی)۔‘‘
يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ ﴿٣١﴾ قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ۚ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﴿٣٢﴾ قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴿٣٣﴾
اے بنی آدم، ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ رہو اور کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا اے محمدﷺ، ان سے کہو کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں؟ کہو، یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لیے ہیں، اور قیامت کے روز تو خالصتاً انہی کے لیے ہوں گی اِس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھنے والے ہیں اے محمدﷺ، اِن سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں: بے شرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی کو شریک کرو جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو کہ وہ حقیقت میں اسی نے فرمائی ہے ۔
قرآن، سورت الاعراف، آیت نمبر 33-31
اسی طرح حدیث نبوی صل الله علیہ وسلم میں آتا ہے
بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی رہبانیت اختیار کرنے کی کوشش کی اور یہ ارادہ کیا کہ وہ رات بھر نمازیں پڑھا کریں گے، ہمیشہ روزہ رکھیں گے اور ہمیشہ اپنی بیویوں سے دور رہیں گے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا: ’’خدا کی قسم! میں تم سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا ہوں اور اس کے حدود کا پاس رکھنے والا ہوں، لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں۔ میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور شادی بیاہ بھی کرتا ہوں۔ جس نے میرے طریقے سے انحراف کیا ، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ ‘‘ (بخاری ، کتاب النکاح)
مضرت سے بچنے کا اصول اتنا قوی ہے کہ بعض اوقات وہ اشیاء کہ جو حرمت کے باب میں ہوتی ہیں اسلام انہیں بھی حلال قرار دیتا ہے ...
حالت اضطرار میں احکامات
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالْدَّمَ وَلَحْمَ الْخَنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَإِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
اس نے تم پر صرف مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام بلند کیا گیا ہو حرام کیا ہے۔ پس جو (ان کے کھانے پر) مجبور ہو جائے نہ باغی ہو اور نہ حد سے تجاوز کرنے والا (تو کوئی مضائقہ نہیں) بے شک خدا بڑا بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
(سوره النحل)
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَمَن اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفِ لاِّثْمٍ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (المائدہ:۳)
(جو شخص بھوک سے مجبور ہوکر حرام چیزوں کا استعمال کرے اوراس کا رجحان گناہ کی طرف نہ ہو تواس میں کوئی حرج نہیں، بے شک اللہ معاف کرنے والاہے)
حضرت عمر حدود و تعزیرات میں حالت اضطرار کا عذر پیش نظر رکھتے تھے ۔
حضرت عمر کے پاس ایک عورت لائی گئی جسے صحراء میں جب کہ وہ شدید پیاسی تھی ، ایک چرواہا ملا۔ عورت نے اس سے پانی مانگا۔ اس نے اسے پانی دینے سے انکار کیا۔ سوائے اس صورت کے کہ وہ اسے اجازت دے کہ وہ اس کے ساتھ بدکاری کرے۔ عورت نے اسے اللہ کا واسطہ دیا مگر وہ نہیں مانا۔ جب اس عورت کی قوت برداشت جواب دے گئی تو اس نے اس شخص کو اپنے آپ پر قدرت دے دی۔ حضرت عمر نے اضطرار کی اس حالت کی بناء پر اس عورت سے حد ساقط کر دی۔ [33]
مصنف عبد الرزاق : 7/407 ، سنن البیہقی : 8/236 ، المغنی لابن قدامہ : 8/187 بحوالہ فقہ عمر : ٩٣
اسلام میں مصالح مرسلہ ایک مستقل حکم کے طور پر موجود ہے
کسی منفعت کی تحصیل یاتکمیل یاکسی مضرت وتنگی کا ازالہ یاتخفیف کی وہ صورت جوشارع کے مقصود کی رعایت وحفاظت پر مبنی ہو اور اس کی تصریح وتشخیص یااس کے کسی نوع کی صراحت شریعت نے نہ کی ہو، اسے اصطلاح میں مصالح مرسلہ کہا جاتا ہے اور اسے "مرسلہ" "الاستدلال المرسل" اور الاستصلاح بھی کہا جاتا ہے۔
(ارشاد الفحول:۲۸۵۔ البحرالمحیط:۶/۷۶)
فقہاء نے مصالح مرسلہ پر عمل کرنے کی تین شرطیں بیان کی ہیں:
۱۔وہ مصلحت ایسی ہوجوشریعت کے مقاصد کے مناسب ہو اور دلائلِ قطعیہ کے مخالفت نہ ہو اور نہ ہی کسی اصل کے منافی ہو؛ بلکہ شارع کی مراد کے موافق اور اس سے متفق ہو۔
۲۔مصلحت بذاتِ خود معقول ہو، عقول سے بالاتر نہ ہو، عقل سلیم ان کو قبول کرتی ہو۔
۳۔مصلحت کی رعایت کا مقصد کسی ضرر کو دفع کرنا ہو، محض نفسانی خواہشات کی پیروی نہ ہو۔
(المدخل:۲۰۱)
مصالح مرسلہ مقید ہیں
۱)حفظِ جان
(۲)حفظِ نفس
(۳)حفظِ عقل
(۴)حفظِ نسل
(۵)حفظِ مال۔
میں ..
مصالح مرسلہ کا خیال خود الله رب العزت نے بھی رکھا اور الله کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ صل الله علیہ وسلم نے بھی رکھا ...
حضرت عائشہ صدیقہ رض سے مروی ہے
عن عَائِشَةَ قالت سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عن الْجَدْرِ أَمِنْ الْبَيْتِ هو قال نعم قلت فَلِمَ لم يُدْخِلُوهُ في الْبَيْتِ قال إِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرَتْ بِهِمْ النَّفَقَةُ قلت فما شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا قال فَعَلَ ذَلِكِ قَوْمُكِ لِيُدْخِلُوا من شاؤوا وَيَمْنَعُوا من شاؤوا وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ في الْجَاهِلِيَّةِ فَأَخَافُ أَنْ تُنْكِرَ قُلُوبُهُمْ لَنَظَرْتُ أَنْ أُدْخِلَ الْجَدْرَ في الْبَيْتِ وَأَنْ أُلْزِقَ بَابَهُ بِالْأَرْضِ. (مسلم، رقم 3249)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روايت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا حطیم بھی بیت اللہ میں داخل ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں،پھر میں نے پوچھا کہ لوگوں نے اسے کعبے میں شامل کیوں نہیں کیا؟ آپ نے جواب دیا کہ تمھاری قوم کے پاس خرچ کی کمی پڑ گئی تھی، پھر میں نے پوچھا کہ یہ دروازہ کیوں اونچا بنایاہے؟ آپ نے فرمایا:یہ بھی تمھاری قوم ہی نے کیا ہےتاکہ وه جسے چاہیں اندر آنے دیں او رجسے چاہیں روک دیں۔اگر تمھاری قوم نےجاہلیت كو نيا نيا نہ چهوڑا ہوتا اور مجھے اس کا خوف نہ ہوتا کہ ان کے دل بگڑ جائیں گے تو ميں اس حطیم کو بھی کعبہ میں شامل کر دیتا اور کعبہ کا دروازہ بهى زمین کے برابر کر دیتا۔

اب تیسرے اور آخری اصول کو دیکھتے ہیں ..
٣. منفعت کی غیر موجودگی .
ترک لا یعنی اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے
علامہ قرطبی رحمتہ اللہ علیہ الجامع میں لکھتے ہیں :
ما لا خیر فیه او بما یلغی اثمه
"جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور اس میں کوئی گناہ ہی ہو۔"
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے

اِنَّ مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُہ مَالَا یَعْنِیْہِ (ترمذی ۲/ ۵۸)
آپ ﷺ نے فرمایا،" آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ لا یعنی امور کو ترک کردے۔"
(ترمذی ص 58، مشکوٰۃ )
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا،" آدمی کے اسلام کی خوبی میں سے یہ ہے کہ بے فائدہ امور کو چھوڑدے۔"
(مجمع الزوائد ج 8 ص 18)
کتاب الله میں ہے مون تو وہ لوگ ہیں ...
وَٱلَّذِينَ لَا يَشۡهَدُونَ ٱلزُّورَ وَإِذَا مَرُّواْ بِٱللَّغۡوِ مَرُّواْ ڪِرَامً۬ا
(سُوۡرَةُ الفُرقان 72)
"اور وہ بیہودہ باتوں میں شامل نہیں ہوتے اور اگر (اتفاقاً )بیہودہ مشغلوں کے پاس سے ہو کر گزریں تو سنجیدگی کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔"
حدیث مبارکہ صل الله علیہ وسلم میں آتا ہے
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّخِذَھَا ھُزُوًا اُولٰٓءِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مَّھِیْنٌ. وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰتُنَا وَلّٰی مُسْتَکْبِرًا کَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْھَا کَاَنَّ فِیْ اُذُنَیْہِ وَقْرًا فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ. اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَھُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِ . خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّا وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ . (لقمان ۳۱: ۶۔۹)
’’اورلوگوں میں ایسے بھی ہیں جو ’لھو الحدیث‘ خرید کر لاتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر بھٹکا دیں اور ان آیات کا مذاق اڑائیں۔یہی لوگ ہیں جن کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ اور جب ان کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تواس طرح متکبرانہ اعراض کرتے ہیں گویا ان کو سنا ہی نہیں۔ گویا ان کے کانوں میں بہرا پن ہے تو ان کو ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔ البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، ان کے لیے نعمت کے باغ ہوں گے جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ اللہ کا وعدہ پورا ہو کے رہے گا اور وہ غالب و حکیم ہے۔‘‘
’لھو‘ کے معنی کھیل تماشے اور غافل کر دینے والی چیز کے ہیں۔
’’لسان العرب ‘‘میں ہے:
لھو: ما لھوت بہ ولعبت بہ وشغلک من ھوی وطرب نحوھما. (۱۵/ ۲۵۸)
’’لہو‘ سے مراد وہ چیز ہے جس کے ساتھ تم کھیلتے ہو یا ایسی خواہش یا خوشی یا کوئی بھی ایسی چیز جو تمھیں مشغول کردے یا ان دونوں جیسی کوئی چیز۔‘‘
صاحب مفردات علامہ راغب اصفہانی بیان کرتے ہیں:
اللھو ما یشغل الإنسان عما یعنیہ ویھمہ. (المفردات فی غریب القرآن ۴۵۵)
’’لہو وہ چیز ہے جو انسان کو اس سے غافل کردے جس کا وہ ارادہ رکھتا ہو۔‘‘
زمخشری کہتے ہیں
للھو کل باطل ألھی عن الخیر وعما یعني و(لھو الحدیث) نحو السمر بالأساطیر والأحادیث التي لا أصل لہا، والتحدث بالخرافات والمضاحیک وفضول الکلام، وما لا ینبغي من کان وکان، ونحو الغناء وتعلم الموسیقار، وما أشبہ ذلک. (الکشاف۳/ ۴۹۶۔۴۹۸)
’’ ہر وہ باطل چیز ’ لھو ‘ہے جو انسان کو خیر کے کاموں اور بامقصد باتوں سے غافل کر دے۔ جیسے داستان گوئی، غیر حقیقی قصے، خرافات ہنسی مذاق ، فضول باتیں ، ادھر ادھر کی ہانکنا اور جیسے گانا، موسیقار کا موسیقی سیکھنااور اس طرح کی دوسری چیزیں۔‘‘
اور رازی رح کی راۓ ہے
أن ترک الحکمۃ والاشتغال بحدیث آخر قبیح. (التفسیر الکبیر۲۵/ ۱۴۰)
’’اس سے مراد اچھی بات کو چھوڑکر کسی بری بات میں مشغول ہوجانا ہے۔‘‘

اسلامی فلسفے کے مطابق " وقت " الله رب العزت کی جانب سے ودیعت کردہ ایک نعمت ہے اور اس عظیم نعمت کو صحیح طریقہ پر استعمال نہ کیا جاوے تو یہ بھی ایک جرم ہے
معروف مفسر اور مورخ امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کے شیخ ابوالمظہر یحییٰ بن محمد بن ھبیرہ فرمایا کرتے تھے :
والوقت أنہس ما عہنہيتَ بحہظه وأراه أسهل ما عليک يَضہيع
(ابن عماد حنبلي، شذرات الذهب، 4 : 195)
’’وقت وہ قیمتی ترین شے ہے جس کی حفاظت کا تمہیں ذمہ دار بنایا گیا ہے لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ یہی وہ چیز ہے جو تمہارے پاس نہایت آسانی سے ضائع ہو رہی ہے۔‘‘
حضرت حسن بصری رحمة الله عییہ فرماتے ہیں : اے انسان ! تو ایام ہی تو ہے ، جب ایک دن ختم ہو جائے تو تیرا ایک حصہ ختم ہو جاتا ہے ۔
قرآن کریم وقت کی قسم اٹھاتا ہے
’’والعصر ۔ ان الانسان لفی خسر‘‘ (العصر:1، 3) ’’زمانے کی قسم، بلا شبہ انسان گھاٹے میں ہے۔‘‘
سواۓ ان لوگوں کے
إِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ(۳)
سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے اور انہوں نےایک دوسرے کو حق کی وصیت کی اور صبر کی وصیت (تلقین) کی ! (۴)
پس معلوم ہوا کہ وہ تمام امور و اشیاء کہ جو اسلامی تعلیمات و احکامات میں تغیر پیدا کریں یا اپنے اندر کسی بھی قسم کی مضرت رکھتی ہوں یا پھر لا یعنی کے قبیل سے ہوں اسلامی تعلیمات کے مطابق حرام ہیں.

مولانا اور مسخرہ

مولانا اور مسخرہ .... !

یہ کہانی ہے دو کرداروں کی یہ واقعہ ہے دو انتہائوں کا یہ حقیقت ہے دو انسانی رویوں کی ...
ایک جانب اخلاق ہے کردار ہے انسانی مروت ہے رحمت ہے مودت ہے سچائی ہے محبت ہے ..
تو
دوسری جانب
شیطانیت ہے دروغ گوئی ہے نفاق ہے فرقہ واریت ہے دشمنی ہے تفریق ہے نفرت ہے .....
ایک حق کا علمبردار ہے
تو
دوسرا جھوٹ کا پیرو کار
ایک مولانا ہیں
اور
دوسرا مسخرہ
مولانا کا تعلق ایک معزز خانوادے سے ہے ایک اچھے گھرانے سے ہے آپ رکھ رکھاؤ والے انسان ہیں آپ کی کہانی متاثر کر دینے والی ہے آپ کی زندگی لوگوں پر مثبت اثرات ڈالنے والی ہے ..
مسخرے کی کوئی خاندانی بنیاد نہیں اس کا کوئی فکری پس منظر نہیں اس کا کوئی بنیادی کردار نہیں اس کی شخصیت کراہیت آمیز ہے اور اس کا کردار تعفن زدہ ...
مولانا کی فکری زندگی کا سفر بطور طالب علم ہوتا ہے ایک صاحب ثروت گھرانے کا نوجوان کہ جو طب کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اپنے گھر سے نکلتا ہے اور پھر دین سے متاثر ہوکر اپنی زندگی دینی علوم کیلیے وقف کر دیتا ہے جب کٹھن مشقت آمیز محنت سے بھرپور ماہ و سال گزار کر یہ سونا کندن بن کر بھٹی سے نکلتا ہے تو ایک دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کر دیتا ہے ...
مولانا جب دعوت کے میدان میں قدم رکھتے ہیں تو الله ان کے قلب کو انسانی محبت اور ہدایت کو عام کرنے کی تڑپ سے لبریز کر دیتے ہیں مولانا کے بیانات دلوں کو بدل دینے والے ہوتے ہیں مولانا انسانی اجسام کو نہیں بلکہ قلوب کو مسخر کرتے ہیں ...
مسخرے کی زندگی آوارگی اور اضطراب کا نمونہ ہے اس کے دل میں سختی ہے اس کی ابتداء جہاد کے نام پر جھوٹے نعرے لگانے سے ہوتی ہے یہ گمراہی کا پروردہ ہے یہ ذلالت کا کارندہ ہے اور اس کے علمی اور تحریکی سفر کا انجام ایک جھوٹے اور کذاب کی پیروی پر ہوتا ہے ....
مولانا اپنے حصے کا کام کر کے اس دنیا فانی سے کوچ کر جائینگے اور انشاء الله ثم انشاء الله جب اپنے خالق حقیقی کے سامنے حاضر ہونگے تو شاداں و فرحاں حاضر ہونگے نبی کریم صل الله علیہ وسلم اپنے اس غلام کو سینے سے لگائیںگے ..
آگیا میرا وہ امتی کہ جس نے اپنے دن رات میرے دین کی دعوت کی محنت میں لگاۓ ..
خوش آمدید اے میرے روحانی بیٹے
خوش آمدید ...
اور
یہ وہ وقت ہوگا کہ جب مسخرہ ذلت کے ساتھ دھتکارا جا رہا ہوگا
اور
یہی وہ وقت ہوگا کہ جب اسے دیدار کی دولت بھی نصیب نہ ہوگی
اور پھر
مسخرہ انتہائی ذلت کے ساتھ اپنے جھوٹے کذاب کے جلو میں جہنم کی طرف روانہ کر دیا جاوے گا ...
اور مولانا تمام اہل حق کے ساتھ جنت کی نعمتوں میں اپنے خالق حقیقی کے سامنے شکر گزار ہونگے ..
اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے
ہم مولانا کا ساتھ دیتے ہیں
کہ
مسخرے کی بات سنتے ہیں ....
حسیب احمد حسیب

رد الحاد کی محنت کرنے والے احباب کی خدمت میں


مذھب الحاد کوئی جدید شے نہیں بلکہ یہ ایک قدیم یونانی مغالطہ ہے کہ جس کی طرف خود قرآن کریم بھی ہمیں متوجہ کرتا ہے
أَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُوْنَ(۳۵)
کیا وہ پیدا کئے گئے ہیں بغیر کسی شے(بنانے والے) کے،یا وہ خود پیدا کرنے والے ہیں۔(۳۵)
أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۚ بَلْ لَّا يُوْقِنُوْنَ(۳۶)
کیا انہوں نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو؟(نہیں) بلکہ وہ یقین نہیں رکھتے۔(۳۶)
سوره طور میں یہ سوال ان لوگوں سے کیا جا رہا ہے کہ جو لا مذھب ہیں آگے پھر ان سے پوچھا جاتا ہے
أَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ ۖ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِيْنٍ(۳۸)
کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے؟جس پر(چڑھ کر) وہ سنتے ہیں ،تو چاہئیے کہ ان کا سننے والا کوئی کھلی سند لائے۔(۳۸)
بخاری شریف میں مذکور ہے کہ جب حضرت جبیر ابن مطعم رض نے ان آیات کو سنا تو ایمان نے ان کے دل میں گھر کر لیا ....
سوال یہ ہے کہ ہر اس شے کے ہونے کا احتمال موجود رہتا ہے کہ جس کے نہ ہونے پر کوئی واضح اور صریح دلیل موجود نہ ہو جدید سائنس نہ تو خدا اور مذھب کے وجود کی موید ہے اور نہ ہی منکر سو اس کو لے مذھب کا انکار ایک انتہائی غیر منطقی اور نامناسب بات ہے ...
رد الحاد یا رد لا مذہبیت کا میدان انتہائی قدیم ہے اور دور جدید میں اس کی ضرورت و اہمیت اور بڑھ جاتی ہے کیونکہ جتنے آج کے لوگ خاص کر جدید تعلیم یافتہ طبقہ اس فتنے کی زد پر ہے قدیم لوگ نہ تھے ...
آج کے وہ نوجوان کہ جو مسلکی اور فرقہ وارانہ حد بندیوں سے اوپر اٹھ کر اس میدان میں سر گرم عمل ہیں ان کی کاوشیں انتہائی قابل ستائش ہیں اور وہ تعریف کے حقدار بھی ہیں لیکن انکی محنت یک رخی ہے اور دعوت کے مدارج سے واقفیت کے ساتھ ساتھ رسوخ فی الدین کی بھی کمی دکھائی دیتی ہے ...
سب سے پہلی اور بنیادی چیز دعوت دین کے اصول و مبادی کا سیکھنا سمجھنا اور پھر انکو بھرپور ایمانی قوت کے ساتھ سامنے والے پر پیش کرنا ہے اگر ہم قرآن کریم سے رجوع کریں تو ہمیں دعوت کے مدارج و منہج کا علم ہوتا ہے ...
ادْعُ إِلٰی سَبِيْلِ رَبِّکَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّکَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ(۱۲۵)
اپنے رب کے راستے کی طرف بلاؤ دانائی سے،اور اچھی نصیحت سے،اور ان سے ایسے بحث کرو جو سب سے بہتر ہو،بیشک تمہارا رب اس کو خوب جاننے والا ہے جو اللہ کے راستے سے گمراہ ہوا،اور وہ راہ پانے والوں کو خوب جاننے والا ہے۔(۱۲۵) سوره النحل
یہاں تین مختلف مدارج کا بیان ہے
١. فلسفہ و اسرار دین کہ جسے حکمت کے نام سے موسوم کیا گیا ہے .
٢. مواعظ حسنہ .
٣. مجادلہ کہ جو بحث و مناظرے کے باب سے ہے
دینی عقائد ہوں احکامات ہوں معاملات ہوں یا عبادت ان سب کو سبط کرنے کے مختلف طرق سکتے ہیں چاہے وہ فلسفہ ہوں منطق ہوں علم کلام کا استعمال ہو یا جدید سائنسی علوم سے استفادہ لیکن ایک امر سمجھ لینا انتہائی ضروری ہے کہ جس کی طرف اپنے دور کے ایک عبقری نے اشارہ فرمایا تھا ...
مولانا یوسف بنوری رح
"علوم کی قسمیں اور ان کا حکم " (شمارہ 456)
(بصائر وعبر)
میں فرماتے ہیں
اصلی علم کیا ہے؟
" اگر بنظرِ غائر دیکھا جائے تو بآسانی واضح ہوگا کہ اصلی علوم وہی ہیں جو صرف وحی الٰہی کے ذریعہ اور انبیاء کرام کی تعلیمات کے واسطہ سے ظہور میں آتے ہیں، یہ وہ علوم ہیں جن کے ادراک سے عقلی انسانی نہ صرف قاصر ہے بلکہ عقلِ انسانی کے دائرے سے ہی یہ علوم خارج ہیں، علوم وفنون کی اصطلاح میں ان کو ماوراء الادراک اور ماوراء العقل کہا جاتا ہے۔
اس لیے انبیاء کرام کا دائرہ تعلیم وتربیت انہی علوم الہٰیہ میں منحصرہوتا ہے جو عقل انسانی کی رسائی سے بالاتر ہیں، قرآن کریم اور تعلیمات نبویہ میں ان علوم طبعیہ و عقلیہ اور ان کے ذریعہ وجود میں آنے والی ایجادات واختراعات کی نہ تو تعلیم دی گئی ہے اور نہ ہی ان کی طرف توجہ کی گئی ہے اورنہ ہی اس کی ضرورت تھی۔
ظاہر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے عقل و ادراک جیسی خود کفیل نعمت اور قوتِ اختراع جیسی خود کار طاقت انسان کو عطا فرمادی جو ان تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کافی و وافی ہے تو پھر کسی مزید تفصیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
چنانچہ اسلامی تاریخ اس کی شہادت دیتی ہے کہ ہر دور میں عقلِ انسانی یہ خدمت انجام دیتی رہی ہے اور آج اس دورِ ترقی میں بھی جو کچھ نتائج سامنے آرہے ہیں اور آئندہ آتے رہیں گے وہ سب اسی کے کرشمے ہیں۔
اگر ہم ان گزشتہ اشارات اور گزارشات کا خلاصہ بیان کرنا چاہیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسان کی دوقسم کی ضرورتیں تھیں۔ ایک دنیا کی اور ایک آخرت کی۔ یا یوں کہئے کہ ایک روح کی اور ایک جسد کی، علومِ الہٰیہ ربانیہ کے وہ سرچشمے جن کا تعلق وحی آسمانی سے ہے ان کا تعلق آخرت اور اصلاحِ روح سے ہے اور نفس کا تزکیہ وتہذیب ہی ان سے مقصود ہے مگر ان علوم کے حقیقی ثمرات ونتائج آخرت کی زندگی میں کماحقہ ظاہر ہوں گے اگرچہ ان کے برکات کا قدرت سے ظہور اس دنیا میں بھی ہو اور علومِ عقلیہ انسانیہ کا تعلق جسم وجسمانیات اور دنیا کی زندگی سے ہے ان کے منافع کا تعلق بھی دنیوی زندگی اور عالمِ جسمانی سے وابستہ ہے۔ "
آگے فرماتے ہیں
سائنسی علوم کا ظاہری فائدہ
" البتہ ان علومِ طبیعیہ سائنسی علوم وفنون کا اس زندگی میں ایک عظیم الشان فائدہ یہ ہے کہ یہ علوم اور ان کے ذریعہ حاصل ہونے والے اکتشافات حق تعالیٰ کے کمالِ قدرت، کمالِ علم اور حقائق الہٰیہ کی معرفت کا ذریعہ بنتے ہیں، اس کارخانۂ قدرت اور محیرالعقول نظامِ کائنات میں حق تعالیٰ کی قدرت کے وہ راز ہائے سربستہ ان کے ذریعہ منکشف ہوتے ہیں جو معجزات کا کام دیتے ہیں او ر ایمان کامل، یقین محکم، علمانیتِ دل ودماغ اور رسوخِ ایمانی جیسے عظیم اور حیرت انگیز ثمرات کی بدولت میسر آتے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی حجت منکرین وکافرین پر پوری ہوجاتی ہے لیکن تجربہ اس کا شاہد ہے کہ جو حضرات پہلے سے مشرف بایمان ہیں ان کے لیے تو یہ رسوخ ایمانی کا ذریعہ بنتے ہیں لیکن جو لوگ سعادتِ ایمان سے محروم ہوتے ہیں ان کے لیے نفسِ ایمان کا ذریعہ بھی نہیں بنتے۔
یہی وجہ ہے کہ یہ سائنسدان حق تعالیٰ کے اس کارخانۂ ملکوت میں اس حیرت انگیز نظام کے اسرار وغوامض پر مطلع ہونے کے بعد بھی ان میں سے کسی ایک کو ابھی ایمان کی توفیق نصیب نہیں ہوتی، ایمان تو کیا حقیقی معنی میں وہ انسان بننا بھی نصیب نہیں ہوتا جس کے پہلو میں دل اور دل میں رحم وعاطفۂ انسانیت ہو یہی وجہ ہے کہ عہدِ حاضر کے تمام تر سائنس دانوں کی یہ گوناگوں ایجادات آج نسلِ انسانی کو تباہ وبرباد کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ تمام دنیا کو تباہی کے کنارے لاکر کھڑا کردیا ہے، اس تفصیل سے یہ بات بھی خیال میں آگئی ہوگی کہ سب سے زیادہ مقدم روح کی اصلاح وتربیت ہے اس کے بعد ہی یہ جدید علومِ عصر یہ مفید ہوسکتے ہیں۔ "
یہاں یہ بات سمجھ لینا انتہائی ضروری ہے کہ دعوت دین میں قوت اس ایمان کے بقدر پیدا ہوگے کہ جو آپ کے اندر ہے اگر آپ کا اپنا ایمان مستحکم نہیں ہے تو آپ کی دعوت بھی اس درجے قوی نہ ہوگی ...
پھر مزید اس بات کا سمجھ لینا بھی انتہائی ضروری ہے کہ ایمان صرف منطقی استدلال کے واقع ہونے کا نام نہیں بلکہ ایمان نام ہے اس کیفیت کا جو آپ کے قلب سے نکل کر براہ راست دوسروں کے قلوب کو متاثر کرے ...
درس و تدریس کے شعبے خاص کر اسلامیات کے مضمون کی تدریس کے دوران ایک عمومی تجربہ یہ ہوا کہ جن جن محاضرات کے دوران میری اپنی ایمانی کیفیت بلند تھی انکا اثر انتہائی بہتر اور دیر پا ہوا اور جب جب اپنی ایمانی کیفیت میں کمی محسوس کی تب وہ افادہ نہ ہو سکا کہ جو مقصود و مطلوب تھا جبکہ اکثر دلائل بعد کی کیفیت کے زیادہ قوی تھے ...
دوسری جانب لوگوں تک دین کو صاف اور سیدھے انداز میں پہنچا دینا اور پورے تیقن کے ساتھ اسلام کو ان کے سامنے پیش کر دینا ہی مطلوب ہے لیکن اس میں تنافر اور تحقیر کا عنصر شامل نہ ورنہ وہ دعوت نہیں رہتی بلکہ مجادلہ و مناظرہ بن جاتی ہے کہ جس کے نتیجے میں ہدایت کا عام ہونا ممکن نہیں رہتا ...
قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر مجادلے کی ضرورت پیش بھی آ جاوے تو احسن انداز میں کیا جاوے ورنہ وہ صرف نفس پرستی اور ہار جیت کے کھیل سے بڑھ کر اور کچھ نہیں رہ جاتا ...
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ :
’’علم میں جدال اور جھگڑا نورِ علم کو انسان کے قلب سے نکال دیتا ہے۔ کسی نے عرض کیا کہ ایک شخص جس کو سُنّت کا علم ہو گیا وہ حفاظت سُنّت کے لیے جدال کر سکتا ہے؟ فرمایا: نہیں بلکہ اس کو چاہیے کہ مخاطب کو صحیح بات سے آگاہکر دے، پھر وہ قبول کر لے تو بہتر ورنہ سکوت اختیار کر لے۔ (اوجز المسالک شرح مؤطا امام مالک ، جلد اوّل، صفحہ۱۵)
الشیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’حکمت میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ معانی کو مخاطب کی زبان میں ایسے موثراور آسان اسلوب میں بیان کیا جائے جسے مخاطب بخوبی سمجھ جائے ، نہ تواس کے دل میں اس معانی سے متعلق کوئی بھی شبہ باقی رہ جائے، نہ بیان کی کمزوری ،زبان کے فرق ،بعض دلائل کے باہم متعارض ہونے ،اور راجح قول بیان نہ کرنے کی وجہ سے حق پوشیدہ رہ جائے۔اور اگر کسی وقت مدعو کو متنبہ کرنے ، اس کا دل نرم کرنے اور اسے قبول حق پر آمادہ کرنے کے لئے ڈرانے و دھمکانے والی آیات اورترغیب و ترہیب کی احادیث کے ذریعہ وعظ و نصیحت کرنا ضروری ہو جائے تو ایسی صورت میں ترغیب و ترہیب والی نصیحت مدعو کے حسب حال ہونی چاہیئے، کیونکہ کبھی مدعو قبول حق کے لئے تیار ہوتا ہے جوتھوڑی سی تنبیہ کے ذریعہ ہی حق قبول کر لیتا ہے اور اس کے لئے حکمت ہی کافی ہوتی ہے۔اور بعض دفعہ مدعو کے قبول حق کی راہ میں کچھ دشواریاں اور رکا وٹیں بھی درپیش ہوتی ہیں تو ایسی صورت میں ترغیب و ترہیب والی آیات قر آنیہ کے ذریعہ نصیحت کرنے کے ساتھ ساتھ مدعو کے سامنے ان دشواریوں اور رکاوٹوں کا مناسب حل بھی پیش کرنا چاہیئے ۔[الدعوۃ لابن باز ؒ ص:۶۴]
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمة الله علیہ اپنی تفسیر میں دعوت کے حوالے سے مذکورہ بالا آیت کو لیکر مختلف نکات بیان فرماتے ہیں ..
دعوت کے اصول و آداب
آیت مذکورہ میں دعوت کے لیے تین چیزوں کا ذکر ہے، اول حکمت۔دوسرے موعظت حسنہ۔ تیسرا مجادلہ باللتی ہی احسن۔ بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ تین چیزیں مخاطبین کی تین قسموں کی بنا پر ہیں ۔دعوت بالحکمة اہل علم و فہم کے لیے۔دعوت بالموعظت عوام کے لیے۔مجادلہ ان لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں شکو ک و شبہات ہوں۔یا جو عناد اور ہٹ دھری کے سبب بات ماننے سے منکر ہوں۔
سیدی حضرت حکیم الاُمت تھانوی نے بیان القرآن میں فرمایا کہ ان تین چیزوں کے مخاطب الگ الگ تین قسم کی جماعتیں ہونا سباق آیت کے لحاظ سے بعید معلوم ہوتا ہے ۔انتہی۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ آداب دعوت ہر ایک کے لیے استعمال کرنا ہے کہ دعوت میں سب سے پہلے حکمت سے مخاطب کے حالات کا جائز ہ لے کر اس کے مناسب کلام تجویز کرنا ہے ۔پھر اس کلام میں خیر خواہی و ہمدردی کے جذبہ کے ساتھ ایسے شوابد اور دلائل سامنے لانا ہے جس سے مخاطب مطمئن ہو سکے اور طرز بیان و کلام ایسا مشفقانہ اور نرم رکھے کہ مخاطب کو اس کا یقین ہو جائے کہ یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں مجھے شرمندہ کرنا یا میری حیثیت کو مجروح کرنا ان کا مقصد نہیں۔
البتہ صاحب روح المعانی نے اس جگہ ایک نہایت لطیف نکتہ بیان فرمایا ہے کہ آیت کے نسق سے معلوم ہوتا ہے کہ اصولِ دعوت اصل میں دو ہی چیزیں ہیں ۔ حکمت اور موعظت ۔تیسری چیز اصول مجادلہ اصول دعوت میں داخل نہیں ۔ہاں! طریق دعوت میں کبھی اس کی بھی ضرورت پیش آجاتی ہے۔صاحب روح المعانی کا استد لال اس پر یہ ہے کہ اگر یہ تینوں چیزیں اصول دعوت ہوتیں تو مقتضائے مقام یہ تھا کہ تینوں چیزوں کو عطف کے ساتھ اس طرح بیان کیا جاتا بالحکمة و المواعظة الحسنہ والجدال الاحسن مگر قرآن کریم نے حکمت و موعظت کو تو عظف کے ساتھ ایک ہی نسق میں بیان فرمایا اور مجادلہ کے لیے الگ جملہ جادلہم باللتی ہی احسن اختیار کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مجادلہ فی العلم دراصل دعوت الی اللہ کا رکن یا شرط نہیں، بلکہ طریق دعوت میں لوگوں کی ایذاؤں پر صبر کرنا ناگزیر ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اصولِ دعوت دو چیزیں ہیں، حکمت اور موعظت، جن سے کوئی دعوت خالی نہیں ہونی چاہیے ،خواہ علماء و خواص کو ہو یا عوام الناس کو البتہ دعوت میں کسی وقت ایسے لوگوں سے بھی سابقہ پڑ جاتا ہے جو شکوک واوہام میں مبتلا اور داعی کے ساتھ بحث و مباحثہ پر آمادہ ہیں ۔تو ایسی حالت میں مجادلہ کی تعلیم دی گئی ،مگر اس کے ساتھ باللتی ہی احسن کی قید لگا کر بتلا دیا کہ جو مجادلہ اس شرط سے خالی ہو اس کی شریعت میں کوئی حیثیت نہیں۔
پھر آگے حضرت مجادلے کے باب کو مزید واضح کرتے ہیں
وجادلھم باللتی ہی احسن لفظ جادل سے مشتق ہے ۔اس جگہ مجادلہ سے مرادبحث و مناظرہ ہے اور باللتی ہی احسن سے مراد یہ ہے کہ اگر دعوت میں کہیں بحث و مناظرہ کی ضرورت پیش آجائے تو وہ مباحثہ بھی اچھے طریقے سے ہونا چاہیے۔روح المعانی میں ہے کہ اچھے طریقہ سے یہ مراد ہے کہ گفتگو میں لطف اور نرمی اختیار کی جائے ۔دلائل ایسے پیش کیے جائیں جو مشہور معروف ہوں ،تا کہ مخاطب کے شکوک دور ہوں اور وہ ہٹ دھرمی کے راستہ پر نہ پڑ جائے اور قرآن کریم کی دوسری آیات اس پر شاہد ہیں کہ یہ احسان فی المجادلہ صرف مسلمانوں کے ساتھ مخصوص نہیں ۔اہل کتاب کے بارے میں تو خصوصیت کے ساتھ قرآن کا ارشاد ہے ۔ولا تجادلوا اہل الکتاب الا باللتی ہی احسن اور دوسری آیات میں حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام کو قولالہ قولالیناکی ہدایت دے کر یہ بھی بتلا دیا فرعون سے سرکش کافر کے ساتھ بھی یہی معاملہ کرنا ہے۔
دعوت و تبلیغ کے آداب
مفتی محمد شفیع رحمة الله علیہ
غور کیجئے کہ محنت کس انداز میں کرنے کی ضرورت ہے اور ہمارا رخ کیا ہے کیونکہ اگر محنت کا رخ درست نہ ہو تو نتیجہ بھی غلط ہی نکلتا ہے .
حسیب احمد حسیب
حسیب احمد حسیب, جنوری 28, 2016
http://www.urduweb.org/…/%D8%B1%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D8%AD%D…/

بر صغیر کے مسلمانوں پر برطانوی استعمار کے اثرات : ایک تحقیقی وتجزیاتی مطالعہ

بر صغیر کے مسلمانوں پر برطانوی استعمار کے اثرات
( ایک تحقیقی وتجزیاتی مطالعہ)
تحقیق و تدوین :حسیب احمد حسیب

The British Empire passed quickly and with less humiliation than its French and Dutch counterparts, but decades later, the vicious politics of partition still seems to define India and Pakistan.
Pankaj Mishra

پیش نظر مضمون میں ہمارا مقصود یورپ میں بادشاہتوں کے اختتام کے نتیجے میں پیدا ہونے والی قومی ریاستوں اور ان قومی ریاستوں کے استعماری عزائم خاص طور پر برطانوی استعمار کے بر صغیر پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینا ہے .

اردو دائرۃ معارف العلوم - اردو انسائیکلوپیڈیا
کے مطابق استعمار کی تعریف اور تاریخ کچھ اس انداز میں بیان کی جا سکتی ہے
" استعماریت Colonialism کے عام معنی ایک ملک کے ذریعہ دوسرے ملک یا علاقہ کو بتدریج اور منظم طریقہ سے سیاسی اور اقتصادی طور پر محکوم بنانے یا ایسے محکوم علاقوں کو برقرار رکھنے کی پالیسی کے ہیں۔ اس معنی میں نوآبادیوں یا محکوم علاقوں کا وجود قدیم زمانہ سے ملتا ہے۔ ایشیا میں عربوں، منگولوں اور چینیوں کی توسیع، استعماری نوعیت کی تھی۔ خصوصی طور پر استعمار سے مراد یورپی طاقتوں کی پندرہویں اور سولہویں صدی کی جغرافیائی دریافتوں کے بعد سے سمندر پار علاقوں میں جنگ، فتوحات اور خالی علاقوں میں نوآباد کاری کی کوششوں سے ہے۔ استعماری طاقتیں نئے علاقوں کی تلاش، نوآباد کاری اور جنگ کے حادثوں سے استعماری طاقتیں بن گئیں۔ اس سلسلے میں اسپین اور پرتگال نے نوآباد کاری کی ابتدا کی۔ انگلستان، فرانس اور ہالینڈ نے ان کے مقبوضات پر دست درازی کی اور یہ ممالک اپنی استعماری سلطنت وسیع کرتے گئے۔ بعد میں ڈنمارک، ناروے اور سویڈن نے بھی معمولی علاقے حاصل کیے۔ یورپی استعمار انیسویں صدی کے خاتمہ تک اپنے عروج کو پہنچ چکا تھا جس کے محرکات سیاسی اور اقتصادی دونوں تھے۔ ایشیا اور افریقہ میں یورپ کی استعماری توسیع کا محرک سامراجیت بھی تھی یعنی اندرون یورپ بڑی طاقتوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش میں سمندر پار مقبوضات کا حصول قومی طاقت کی نشانی اور اس کی بنیاد سمجھا جاتا تھا۔ دوسری طرف یورپ میں سائنس اور ٹکنالوجی کی مدد سے صنعتی انقلاب کے پھیلنے اور قومی سرمایہ دارانہ نظام کے پھلنے پھولنے سے آزاد تجارت، سرمایہ کی نکاسی، خام مال کی فراہمی اور مصنوعات کی فروخت کے لیے منڈیوں کی تلاش ہوئی۔ برطانیہ، فرانس اور ہالینڈ کے علاوہ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں بلجیم، جرمنی، اطالیہ، ریاست ہائے متحدہ امریکا اور جاپان نے بھی اہم نوآبادیاں حاصل کیں۔
استعماری تسلط اور استعماری حکومت کے جواز میں کئی طرح کے دلائل دیے گئے۔ مثلاً نوآباد کار ملک کے اپنے مفادات کی تکمیل کے ساتھ ساتھ نوآبادی کی پسماندہ اور غیر مہذب قوم کی تنظیم، ان کے امور کی نگہداشت اور ان کی سیاسی، تہذیبی، تعلیمی اور اقتصادی ترقی و بہبود کا اخلاقی نصب العین، یا نوآباد کار ملک اپنے یہاں آبادی کی کثرت اور اقتصادی ترقی کے لیے خام مواد کی نایابی کی بنا پر مزید علاقے اور منڈیاں حاصل کرنے کا جواز پیش کرتا ہے مثلاً دونوں عالمی جنگوں کے درمیان جرمنی، اطالیہ اور جاپان کی توسیع، نوآبادیاتی نظام، پہلی عالمی جنگ کے بعد سے ٹوٹنا شروع ہوا اور دوسری عالمی جنگ کے بعد قومی آزادی کی تحریکوں اور اقوام متحدہ کی کوششوں سے دنیا کی بیشتر نوآبادیاں آزاد ہو چکی ہیں۔ درحقیقت استعماری ملکوں کی حیثیت صنعتی اور معاشی اعتبار سے ترقی یافتہ اور ان کی تہذیب مشینی دور کی پیداوار تھی جبکہ نوآبادیاتوں کی معیشت پسماندگی سے دوچار تھی اور زراعتی تھی جہاں نہ تو صنعتوں کا وجود تھا اور نہ ہی تعلیم کا دور دورہ۔ نوآبادیاتی علاقے محض حکمراں ممالک کی مصنوعات کے لیے منڈیوں اور خام مال کے رسد کا مرکز تھے۔
استعماری حکومت کے امتیازی خصائص مندرجہ ذیل ہیں :
یورپی ملکوں یا یورپی نسل کے لوگوں سے آباد ملکوں کا دوسری نسل کے لوگوں خصوصاً ایشیائی و افریقی اقوام پر براہ راست سیاسی کنٹرول۔
نوآبادی کے اندر ایک سفید فام حکمراں اقلیت کی بالادستی
مقامی افراد پر مشتمل ایک وفادار نوکر شاہی جو حکمراں طاقت کے سیاسی، فوجی اور اقتصادی مفادات کی تکمیل اور ملکی وسائل کے استعماری استحصال میں مدد دیتی ہے۔
نوآبادی میں سائنس و ٹکنالوجی پر مبنی مغربی تہذیب اور مقامی زراعتی اور جاگیردارانہ نظام سے وابستہ فرسودہ مشرقی تہذیب کے درمیان ٹکراؤ اور مغربی تہذیب کا تسلط۔
نوآبادی کے عوام اور وسائل کا معاشی استحصال۔
حکمراں اقلیت میں نسلی، تہذیبی اور اخلاقی برتری کا احساس اور مقامی آبادی کو ذہنی، اخلاقی، تہذیبی، علمی اور تکنیکی اعتبار سے پسماندہ اور محتاج رکھنے کا رویہ۔ "
ڈاکٹر مبارک علی اپنی کتاب
تاریخ اور آج کی دنیا میں لکھتے ہیں
نیشنل ازم نے یورپ میں قومی ریاستوں کو پیدا کیا ہے اس کے نتیجے میں کولونیلزم اور امپیریلزم پھیلا جس کے رد عمل میں تسلط شدہ ملکوں میں نیشنل ازم کے تحت تحریکیں اٹھیں اور انہوں نے کولونیل تسلط سے آزادی حاصل کی ازدی کے بعد ان ملکوں میں اسی نیشنل ازم کو حکمران طبقوں نے اپنے مفادات کیلیے استعمال کیا اور یہ نو آزاد ریاستیں ٹوٹ پھوٹ انتشار اور فوجی آمریتوں کا نشانہ بنیں اب ایک بار پھر گلوبلائزیشن نیو امپیریلزم کی شکل میں پوری طاقت سے آ رہا ہے
تاریخ اور آج کی دنیا ، ڈاکٹر مبارک علی ، صفحہ ١١، فکشن ہاؤس پبلشرز .
غور کیجئے آج ہم بحیثیت قوم جس جگہ کھڑے ہیں کیا اس کی وجہ وہ استعماری اثرات تو نہیں کہ جو برطانیہ ہماری رگوں میں چھوڑ گیا ہے کیا ہمارا قومیتوں میں منقسم ہونا اور ہمارے ملک کا فکری اور زمینی اعتبار سے تقسیم ہونا اسی زہریلے استعماری اجنڈے کا نتیجہ تو نہیں ... ؟
مسلم قوم کی اپنی ایک مذہبی اور ملی تاریخ ہے اور یہ تاریخ کسی اندھیرے میں نہیں بلکہ آج بھی روز روشن کی طرح تاریخ کے صفحات میں چمک رہی ہے گو کہ استشراقی فکر نے ان حقائق پر پردہ ڈالنے کی پوری کوشش کی ہے اور یورپی استعمار نے اس استشراقی فکر کو مکمل مدد فراہم کی ہے لیکن جھوٹ و دجل کے بے شمار پردے ڈالنے کے باوجود بھی وہ تاریخ کے صفحات سے ہمارے روشن کارنامے کھرچنے میں ناکام رہے ہیں .
اسلام ایک زندہ اور پائندہ دین ہے اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اسلام ایک ایسا ضابطہ زندگی ہے کہ جو رہنی دنیا تک کے انسانوں کے لیے سامان ہدایت اپنے دامن میں رکھتا ہے .
عقائد ، عبادات ، معاملات ، سیاسیات ، تعلیم ، معاشرت ، معیشت غرض کون سا ایسا شعبہ ہے کہ جس کے حوالے سے اسلامی تعلیمات موجود نہ ہوں اور یہی تمام شعبے اسلام کو صرف ایک مذہب سے بڑھا کر ایک مکمل دین بناتے ہیں جن کی جانب قرآن و سنت میں واضح اشارے ملتے ہیں .
﴿شَرَ‌عَ لَكُم مِنَ الدّينِ ما وَصّىٰ بِهِ نوحًا وَالَّذى أَوحَينا إِلَيكَ وَما وَصَّينا بِهِ إِبر‌ٰ‌هيمَ وَموسىٰ وَعيسىٰ ۖ أَن أَقيمُوا الدّينَ وَلا تَتَفَرَّ‌قوا فيهِ......١٣ ﴾.... سورة شورىٰ
"اس نے تمہارے لئے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح علیہ السلام کو دیا تھا اور جسے (اے محمد ا) اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعے سے بھیجا ہے اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم اور موسیٰ اور عیسٰی علیہم السلام کو دے چکے ہیں، اس تاکید کے ساتھ کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا"
شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے دین اسلام کے پس منظر کے حوالے سے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں بیان کیا ہے کہ اصل دین ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے ۔ تمام انبیا نے بنیادی طور پر ایک ہی جیسے عقائد اور ایک ہی جیسے اعمال کی تعلیم دی ہے۔ شریعت کے احکام اور ان کی بجا آوری کے طریقوں میں حالات کی ضرورتوں کے لحاظ سے ، البتہ کچھ فرق رہا ہے۔ سر زمین عرب میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اس موقع پر اس دین کے احوال یہ تھے کہ صدیوں کے تعامل کے نتیجے میں اس کے احکام دینی مسلمات کی حیثیت اختیار کر چکے تھے اورملت ابراہیم کے طور پر پوری طرح معلوم و معروف تھے، تاہم بعض احکام میں تحریفات اور بدعات داخل ہو گئی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد ہوا:’ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا‘ یعنی ملت ابراہیم کی پیروی کرو۔ آپ نے یہ پیروی اس طریقے سے کی کہ اس ملت کے معلوم و معروف احکام کو برقرار رکھا، بدعات کا قلع قمع کیااور تحریف شدہ احکام کو ان کی اصل صورت پر بحال فرمایا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں:
اصل الدین واحد اتفق علیہ الانبیاء علیہم السلام، وانما الاختلاف فی الشرائع والمناہج. تفصیل ذلک انہ اجمع الانبیاء علیہم السلام علی توحید اللّٰہ تعالٰی عبادۃ واستعانۃ،... وانہ قدر جمیع الحوادث قبل ان یخلقہا، وان للّٰہ ملائکۃ لا یعصونہ فیما امر، ویفعلون ما یؤمرون، وانہ ینزل الکتاب علی من یشاء من عبادہ، ویفرض طاعتہ علی الناس، وان القیامۃ حق، والبعث بعد الموت حق، والجنۃ حق، والنار حق. وکذلک اجمعوا علی انواع البر من الطہارۃ والصلٰوۃ والزکٰوۃ والصوم والحج والتقرب الی اللّٰہ بنوافل الطاعات من الدعاء والذکر وتلاوۃ الکتاب المنزل من اللّٰہ، وکذلک اجمعوا الی النکاح وتحریم السفاح واقامۃ العدل بین الناس وتحریم المظالم واقامۃ الحدود علی اہل المعاصی والجھاد مع اعداء اللّٰہ والاجتہاد فی اشاعۃ امر اللّٰہ ودینہ، فھذا اصل الدین، ولذلک لم یبحث القرآن العظیم عن لمیۃ ہذہ الاشیاء الا ما شاء اللّٰہ، فانہا مسلمۃ فیمن نزل القرآن علی السنتہم. وانما الاختلاف فی صور ہذہ الامور واشباحہا.
(حجۃ اللہ البالغہ۱ / ۱۹۹۔۲۰۰)
’’اصل دین ایک ہے، سب انبیا علیہم السلام نے اسی کی تبلیغ کی ہے۔ اختلاف اگر ہے تو فقط شرائع اور مناہج میں ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ سب انبیا نے متفق الکلمہ ہو کر یہ تعلیم دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید دین کا بنیادی پتھر ہے۔ عبادت اور استعانت میں کسی دوسری ہستی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ ... ان کا یہ پختہ عقیدہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے سب حوادث اور واقعات کو وقوع سے پہلے ازل میں مقدر کیا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ایک پاک مخلوق ہے جس کو ملائکہ کہتے ہیں۔ وہ کبھی اس کے حکم سے سرتابی نہیں کرتے اور اس کے احکام کی اسی طرح تعمیل کرتے ہیں، جس طرح ان کو حکم ہوتا ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے کسی ایک کو چن لیتا ہے جس پر وہ اپنا کلام نازل فرماتا ہے اور لوگوں پر اس کی اطاعت فرض کر دیتا ہے۔ موت کے بعد زندہ ہونا اور قیامت کا قائم ہونا حق ہے، جنت اور دوزخ کا ہونا حق ہے۔جس طرح ہر دین کے عقائد ایک ہیں، اسی طرح بنیادی نیکیاں بھی ایک جیسی ہیں۔ چنانچہ دین میں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے، طہارت، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کو فرض قرار دیا گیا ہے۔نوافل عبادات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اقدس میں قرب حاصل کرنے کی تعلیم ہر دین میں موجود ہے۔ مثلاًمرادوں کے پورا ہونے کے لیے دعا مانگنا، اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول رہنا نیز کتاب منزل کی تلاوت کرنا۔ اس بات پر بھی تمام انبیا علیہم السلام کا اتفاق ہے کہ نکاح جائز اور سفاح۳؂ حرام اور ناجائز ہے۔ جو حکومت دنیا میں قائم ہو عدل اور انصاف کی پابندی کرنا اور کمزوروں کو ان کے حقوق دلانا اس کا فرض ہے۔ اسی طرح یہ بھی اس کا فرض ہے کہ مظالم اور جرائم کے ارتکاب کرنے والوں پر حد نافذ کرے، دین اور اس کے احکام کی تبلیغ اور اشاعت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے۔ یہ دین کے وہ اصول ہیں جن پر تمام ادیان کا اتفاق ہے اور اس لیے تم دیکھو گے کہ قرآن مجید میں ان باتوں کو مسلمات مخاطبین کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے اور ان کی لمیت سے بحث نہیں کی گئی۔ مختلف ادیان میں اگر اختلاف ہے تو وہ فقط ان احکام کی تفاصیل اور جزئیات اور طریق ادا سے متعلق ہے۔‘‘
غامدی صاحب کے تصور ’سنت‘ پر اعتراضات کا جائزہ حصہ اول
ماہنامہ اشراق

فخر الدین رازی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تکمیلی کام کے بارے میں تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں
"انبیاء و رسل اَرواحِ بشریہ کا علاج کرتے ہیں اور ان کا رُخ غیراللہ سے موڑ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف کرتے ہیں۔ انبیاءِ کرام میں سے جس درجے میں بھی ان فوائد کا گذرہوگا وہ اسی قدر عظیم اورکامل ہوگا۔ جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی دعوت بنی اسرائیل تک محدود تھی۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت کااثر بہت تھوڑے لوگوں پر ظاہر ہوا۔ نصاریٰ نے باپ بیٹا اور روح القدس کی تثلیث کا فاسد عقیدہ گھڑ کربدترین کفر کا ا رتکاب کیا اوریہ ان کی بدترین جہالت تھی۔ اوریہچیز کسی نبی کی پاکیزہ اور خالص دعوت سے بعید تر ہے۔ جبکہ ان کی دعوت خالص توحید و تنزیہ کے عقیدے پر مشتمل تھی۔ مجوسی دو خداؤں کی پوجا پاٹ کا غلط نظریہ رکھتے تھے اوربہنوں، بیٹیوں کے ساتھ نکاح کو جائز سمجھتے تھے۔ صائبین کواکب پرستی کا شکار تھے اوربت پرست شجرو حجر کی پرستش میں مگن تھے"
"ان حالات میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعوتِ توحید لے کر تشریف لائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پورے عالم کی طرف نبی بنا کر بھیجا۔ آپ کی آمد سے اَدیانِ باطلہ اور خیالاتِ فاسدہ کا خاتمہ ہوگیا۔ توحید کے چراغ روشن ہوگئے، انسانی قلوب توحید وتنزیہ کے پاکیزہ اورسچے اَفکار سے معمور ہوگئے۔بیمار دلوں اور تاریک سینوں کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت تاثیر کے اعتبار سے دیگر تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے بڑھ کر تھی۔ لہٰذا محمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء و رسل علیہم السلام سے افضل ہیں۔ روحانی علاج کی تاثیر اور ہمہ گیر شریعت اور عالمی اثرات کے اعتبار سے ختم المرسلین، رحمة للعالمین کے کمالات کا کوئی ثانی نہیں" ...صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!

مفاتیح الغیب: ۱۲/۱۲
حوالہ : انبیاءِ کرام کا تشریعی مقام و مرتبہ... فکر ِرازی کا مطالعہ
محدث مگزین ، شمارہ:247 ،اپریل 2001 ،محرم 1422،جلد:33
مصنف : شبیر احمد منصوری
عَنْ تَمِيمٍ الداري رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:الدِّينُ النَّصِيحَةُ. الدِّينُ النَّصِيحَةُ. الدِّينُ النَّصِيحَةُ. قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ
(سنن أبي داود 4944، ومثله في الترمذي 1926،والنسائي عن أبي هريرة 4199، وأصله فی صحیح مسلم رقم 95)
تمیم داریؓ سے مروی ہوا، کہا: فرمایا رسول اللہﷺ نے: دین تو ہے مخلص رہنا۔ دین تو ہے مخلص رہنا۔ دین تو ہے مخلص رہنا۔ عرض کی گئی: مخلص کس کا، اےاللہ کے رسول؟ فرمایا: مخلص اللہ کا، اس کی کتاب کا، اس کے رسول کا، مسلمانوں کے ائمہ کا اور عامۃ المسلمین کا۔
یہاں اس حدیث مبارکہ میں دین کو ان تمام شعب پر حاوی قرار دیا جا رہا ہے کہ جو منفرد اور مجمع عوام اور حکومت سب سے منسلک ہو .
خطابیؒ کہتے ہیں: ’’نَصیحۃ‘‘ ایک جامع لفظ ہے۔ جس کا مطلب ہے کسی کےلیے پورے طور پر مخلص ہونا۔ یہ دریا کو کوزے میں بند کردینے والا کلمہ ہے۔ بلکہ لغت میں ایک لفظ بول کر یہ پورا مفہوم ادا کردینے کےلیے اس سے بہتر کوئی لفظ ہے ہی نہیں۔ یہ وہ حدیث ہے جس کی بابت کہا گیا ہے کہ دین کی ایک چوتھائی اِسی ایک حدیث میں آگئی ہے۔ یہ رائے رکھنے والوں میں امام محمد بن اسلم طوسیؒ آتے ہیں۔ جبکہ نوویؒ کہتے ہیں: یہ حدیث ایک چوتھائی دین کیا، پورے دین کی غرض و غایت کو سمیٹ گئی ہے کیونکہ دین ان امور سے باہر ہے ہی نہیں جو اس حدیث میں مذکور ہوئے۔
(فتح الباری، کتاب الایمان ترجمۃ باب قول النبی الدین النصیحۃ ج 1 ص 138)
مسلمان کی ’’وفاداریاں‘‘؟ ماہنامہ ایقاظ
در حقیقت اسلام ہی وہ حقیقی جامع دین تھا اور ہے کہ جو اس عالمی استعمار کے سامنے رکاوٹ ہو .

اس سے پہلے کہ ہم ان چند میادین کا مستند حوالوں کی روشنی میں جائزہ لیں کہ جن کو برطانوی استعمار نے متاثر کرنے کی کوشش کی پہلی اس استعماری مقصود کی وضاحت ہو جاوے کہ جس کے نتیجہ میں ایک دنیا کو مشقت اور تکلیف میں رکھا گیا .
رچرڈ کونگریو بشپ آف آکسفورڈ کہتا ہے
خدا نے ہندوستان کو ہمیں عطا کیا ہے تاکہ ہم اسے اپنے تسلط میں رکھیں لہذا یہ ہمارا کام نہیں کہ اس فرض سے دستبردار ہو جائیں .
(Asish Nandy: The Entimate Enemy. Oxford Delhi, Eight Impression 1994 , P.34)
عالمی تہذیبی کشمکش اور علامہ اقبال
کے مصنف پروفیسر عبدالجبار شاکر مرحوم ایک جگہ لکھتے ہیں
بیسویں صدی کے معروف برطانوی مؤرخ نائن بی نے تہذیبوں کے تصادم کے لیے Encounter of Civilization کی اصطلاح استعمال کی تھی۔ دورِ حاضر کے یہودی مفکر برنارڈ لیوس (Bernard Lewis) نے اس Encounter کو Clash کا درجہ دے دیا ہے۔ اسی طرح ہارورڈ یونیورسٹی، امریکا کے پروفیسر سیموئل پی ہٹنگٹن نے اپنی کتاب (Clash of Civilizations) میں تہذیبوں کے اس تصادم میں آویزش کے اس تصور کو جنگی جنون تک بڑھا دیا ہے۔ فرانسس فوکویاما نے تو اپنی کتاب ’’خاتمۂ تاریخ‘‘ (The End Hastory) میں دنیا کے مستقبل کو جس نگاہ سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے، اس میں بالآخر اقتدار ایک یک محوری قوت کے پاس چلا جائے گا اور یوں باقی ماندہ دنیا ایک نوآبادی کی شکل اختیار کر لے گی۔
مغربی اقوام کے نزدیک اس تاریخی آویزش کا علاج گلوبلائزیشن یا عالمگیریت میں مضمر ہے۔ وہ اپنی عسکری قوت اور اقتصادی غلبے کے ذریعے سے دنیا کو ایک گلوبل ویلیج دیکھنا چاہتے ہیں جس پر صرف اور صرف ان کی حکمرانی ہو مگر افریشیائی مسلمانوں کی نسلِ نو اپنے ایمان اور عقائد کی نئی تعبیر چاہتی ہے۔ تسخیرِ فطرت اور مظاہرِ کائنات کے مطالعہ کی تلقین ہمارے قرآنی صحیفے کی اہم تعلیم ہے، لہٰذا ہمیں کھلے ذہن کے ساتھ مغرب کی اس ترقی کا جائزہ لینا ہو گا کہ جن نتائج اور سائنسی فتوحات کو ابھی تک مغرب نے حاصل کیا ہے، اس کے اصول کیا ہیں اور ان اصولوں کی اسلامی فکر کے ساتھ کس حد تک موافقت یا مغائرت موجود ہے۔ مغربی طاقتوں نے تسخیرِ کائنات کے اس سفر میں جہاں گیری اور جہاں داری کا درجہ تو حاصل کیا ہے مگر وہ جہاں بانی اور جہاں آرائی کے منصب سے محروم ہیں۔
جہانبانی سے ہے دشوار تر کارِ جہاں بینی
جگر خون ہو تو چشمِ دل میں ہوتی ہے نظر پیدا
(طلوعِ اسلام، بانگِ درا)
بحوالہ: ماہنامہ ’’دعوۃ‘‘ اسلام آباد۔ اپریل ۲۰۰۹ء
اب وکی پیڈیا سے کچھ حوالے
https://ur.wikipedia.org/…/%D8%A8%D8%B1%D8%B7%D8%A7%D9%86%D…
ایسٹ انڈیا کمپنی اگرچہ ایک تجارتی کمپنی تھی مگر ڈھائی لاکھ سپاہیوں کی ذاتی فوج رکھتی تھی۔ جہاں تجارت سے منافع ممکن نہ ہوتا وہاں فوج اسے ممکن بنا دیتی۔
1757ء میں جنگ پلاسی کا واقعہ پیش آیا جس میں انگریزوں کو کامیابی حاصل ہوئی، جس کے بعد بنگال کے جوبیس پرگنوں پر انگریزوں کا کنٹرول ہوگیا۔ مغلیہ سلطنت کے زوال کے نتیجے میں 1765ء میں لارڈ کلائیو مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی سے مشرقی صوبوں بنگال،بہار اور اڑیسہ کی دیوانی (ٹیکس وصول کرنے اور عوام کو کنٹرول کرنے کے حقوق) چھبیس لاکھ روپے سالانہ کے عوص حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ دیوانی حاصل کرنے کے بعد، انگریزوں نے رفتہ رفتہ اپنے پاؤں پھیلانے شروع کردیئے اور ان مہاراجوں پر بھی تسلط حاصل کرلیا جو مغلیہ سلطنت کے زوال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، اپنے اپنے صوبوں کی خود مختیاری کا اعلان کرچکے تھے۔ ان میں سے چند مہاراجے ہندو تھے جو دوسری مغربی طاقتوں کی مدد سے مغل شہنشاہ کے خلاف بغاوت کرچکے تھے۔ ان کے خلاف، کامیاب فوجی کاروائی کرتے ہوئے انگریزوں کو ملک کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول حاصل ہوگیا۔
(Grant of the Diwani of Bengal, Bihar and Orissa to the East India Company by the Great Mughal Shah Alam (1765)
(A.B.Keith (ed.), Speeches and Documents on Indian Policy 1750-1921 (London 1922), Vol. I, p. 20 f.)
شیخ دین محمد جو ایسٹ انڈیا کمپنی کا ملازم تھا اپنے سفر نامے میں لکھتا ہے کہ (سن 1780ء کے لگ بھگ) جب ہماری افواج آگے بڑھ رہی تھیں تو ہمیں بہت سارے ہندو زائرین نظر آئے جو سیتا کُنڈ جا رہے تھے۔ 15 دنوں میں ہم مونگیر سے بھاگلپور پہنچ گئے۔ شہر سے باہر ہم نے کیمپ لگا لیا۔ یہ شہر صنعتی اعتبار سے اہم تھا اور اسکی ایک فوج بھی تھی تاکہ اپنی تجارت کو تحفظ دے سکے۔ یہاں ہم چار پانچ دن ٹھہرے۔ ہمیں پتہ چلا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا کیپٹن بروک جو سپاہیوں کی پانچ کمپنیوں کا سربراہ تھا وہ بھی قریب ہی ٹھہرا ہوا ہے۔ اسے کبھی کبھار پہاڑی قبائلیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ پہاڑی لوگ بھاگلپور اور راج محل کے درمیانی پہاڑوں پر رہتے تھے اور وہاں سے گزرنے والوں کو تنگ کرتے تھے۔ کیپٹن بروک نے انکی ایک بڑی تعداد کو پکڑ لیا اور انہیں عبرت کا نمونہ بنا دیا۔ کچھ لوگوں کو سر عام بے تحاشا کوڑے مارے گئے، اور کچھ مردُودوں کو پھانسی پر اس طرح لٹکایا گیا کہ پہاڑوں پر سے واضح نظر آئے تاکہ انکے ساتھیوں کے دلوں میں دہشت بیٹھ جائے۔
یہاں سے ہم آگے بڑھے اور ہم نے دیکھا کہ ان پہاڑیوں کی لاشیں نمایاں جگہوں پر ہر آدھے میل کے فاصلے پر لٹکی ہوئی ہیں۔ ہم سکلی گڑھی اور تلیا گڑھی سے گزر کر راج محل پہنچے جہاں ہم کچھ دن ٹھہرے۔ ہماری فوج بہت بڑی تھی مگر عقب میں تاجروں پر کچھ دوسرے پہاڑیوں نے حملہ کر دیا۔ ہمارے محافظوں نے ان کا پیچھا کیا، کئی کو مار دیا اور تیس چالیس پہاڑی لوگوں کو پکڑ لیا۔ اگلی صبح جب شہر کے لوگ معمول کے مطابق ہاتھی گھوڑوں اور بیلوں کا چارہ لینے اور جلانے کی لکڑی خریدنے پہاڑیوں کے پاس گئے تو پہاڑیوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ سات آٹھ شہری مارے گئے۔ پہاڑی اپنے ساتھ تین ہاتھی کئی اونٹ گھوڑے اور بیل بھی لے گئے۔ ہماری بندوق بردار فوجوں نے جوابی کاروائی میں بہت سے پہاڑیوں کو مار دیا جو تیرکمان
اور تلواروں سے لڑ رہے تھے اور دو سو پہاڑیوں کو گرفتار کر لیا۔ انکی تلوار کا وزن 15 پاونڈ ہوتا تھا جو اب ہماری فتح کی ٹرافی بن چکی تھیں۔
کرنل گرانٹ کے حکم پر ان پہاڑیوں پر شدید تشدد کیا گیا۔ کچھ کے ناک کان کاٹ دیئے گئے۔ کچھ کو پھانسی دے دی گئی۔ اسکے بعد ہم نے کلکتہ کی طرف اپنا مارچ جاری رکھا۔
UC Press E-Books Collection, 1982-2004 : formerly eScholarship Editions
(The Travels of Dean Mahomet, A Native of Patna in Bengal, Through Several Parts of India, While in the Service of The Honourable The East India CompanyWritten by Himself, In a Series of Letters to a Friend)
(Letter IX)
جون 1757ء میں پلاسی کی جنگ میں نواب سراج الدولہ (جو فرانس کا اتحادی تھا) کو شکست دینے کے بعد کمپنی کے اعلیٰ ترین افسران نے بنگال میں یکے بعد دیگرے کئی نواب مقرر کیئے اور ہر ایک سے رشوت لے کر 26 لاکھ پاونڈ بٹور لیئے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوجیں اکثر مقامی حکمرانوں کو اجرت کے عوض فوجی خدمات فراہم کرتی تھیں۔ لیکن ان فوجی اخراجات سے مقامی حکمران جلد ہی کنگال ہو جاتے تھے اور اپنی حکمرانی کھو بیٹھتے تھے۔ اس طرح ایسٹ انڈیا کمپنی کی سلطنت وسیع ہوتی چلی گئی۔
بنگال کے قحط نے کمپنی کے افسران کو امیر بننے کا بھر پور موقع فراہم کیا۔ چاول جو ایک روپے میں 120 سیر ملتا تھا اب ایک روپے میں صرف تین سیر ملنے لگا۔ ایک جونیئر افسر نے اس طرح 60,000 پاونڈ منافع کمایا۔ Cornelius Wallard کے مطابق ہندوستان میں پچھلے دو ہزار سالوں میں 17 دفعہ قحط پڑا تھا۔ مگر ایسٹ انڈیا کمپنی کے 120 سالہ دور میں 34 دفعہ قحط پڑا۔ مغلوں کے دور حکومت میں قحط کے زمانے میں لگان (ٹیکس) کم کر دیا جاتا تھا مگر ایسٹ انڈیا کمپنی نے قحط کے زمانے میں لگان بڑھا دیا۔
Warren Hastings کے مطابق لگ بھگ ایک کروڑ افراد بھوک سے مر گئے جو کل آبادی کا ایک تہائی تھے۔ لوگ روٹی کی خاطر اپنے بچے بیچنے لگے تھے۔
(The Corporation that Changed the World)
اسلامی عقائد پر ضرب
اسلام کی اولین بنیاد عقیدہ ہے اور ایک مسلمان کا اپنے دین سے بنیادی تعلق ایمانیات کا ہی ہوتا ہے اور اس عقیدے کی بنیاد پر ہی سب سے پہلا ہاتھ برطانوی استعمار کی جانب سے ڈالا گیا
غلام احمد قادیانی اسی برطانوی استعمار کا کا خود کاشتہ پودا تھا اس کی اپنی تحریرات کی کی گواہ ہیں
قادیانیت انگریزی استعمار کی ضرورت اور پیداوار
Tahaffuz, August-September 2011, ا سلا می عقا ئد
جب انگریزی استعمار اپنے تمام تر مظالم اور جبرواستبداد کے باوجود ہندوستانی مسلمانوں کے دل سے جذبہ جہاد ختم نہ کرسکا تو 1869ء کے اوائل میں برٹش گورنمنٹ نے ممبران برٹش پارلیمنٹ‘ برطانوی اخبارات کے ایڈیٹرز اور چرچ آف انگلینڈ کے نمائندوں پر مشتمل ایک وفد سر ولیم میور کی قیادت میں ہندوستان بھیجا تاکہ ہندوستانی مسلمانوں کو رام کرنے کا کوئی طریقہ دریافت کیا جاسکے۔ برطانوی وفد ایک سال تک برصغیر میں رہ کر مختلف زاویوں سے تحقیقات کرتا رہا۔ 1870ء میں وائٹ ہال لندن میں اس وفد کا اجلاس ہوا جس میں اس وفد نے برطانوی راج کی ہندوستان میں آمد کے عنوان سے دو رپورٹس پیش کیں۔ جن کاخلاصہ یہ تھا کہ مسلمان اپنے سوا تمام مذاہب کو کفریہ مذاہب سمجھتے ہوئے ان مذاہب کے پیروکاروں کے خلاف مسلح جنگ کو ’’جہاد‘‘ قرار دے کر‘ جہاد کرنا اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ چونکہ مسلمانوں کے کے مذہبی عقیدہ کے مطابق انگریزی حکومت‘ کافر حکومت ہے۔ اس لئے مسلمان اس حکومت کے خلاف بغاوت اور جہاد میں مصروف رہتے ہیںجو برطانوی حکومت کے لئے مشکلات کا سبب ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اپنے روحانی اور مذہبی پیشوائوں کی اندھا دھند پیروی کرتی ہے۔ اگر کوئی ایسا شخص مل جائے جو انگریز حکومت کے جواز اور اس کے خلاف بغاوت و جہاد کے حرام ہونے کی بابت الہامی سند پیش کردے تو ایسے شخص کو سرکاری سرپرستی میں پروان چڑھا کر اس سے برطانوی مفادات کے لئے مفید کام لیا جاسکتا ہے۔ ان رپورٹس کو مدنظر رکھ کر برطانوی حکومت کے حکم پر ایسے موزوں شخص کی تلاش شروع ہوئی جو برطانوی حکومت کے استحکام کے لئے سند مہیا کرسکے اور جس کے نزدیک تاج برطانیہ کا ہر حکم وحی کے مترادف ہو۔ ایسے شخص کی تلاش ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ‘ پارنکسن کے ذمہ لگائی گئی۔ جس نے برطانوی ہند کی سینٹرل انٹیلی جنس کی مدد سے کافی چھان بین کے بعد چار اشخاص کو اپنے دفتر طلب کرکے انٹرویو کئے۔ بالاخر ان میں سے مرزا غلام احمد قادیانی کو برطانوی مفادات کے تحفظ کے لئے نامزد کرلیا گیا اور اس کی سرکاری سرپرستی شروع کردی گئی۔ مرزا قادیانی کیوں برطانوی مفادات کے تحفظ کے لئے موزوں ترین شخص تھا؟ اس لئے کہ اس کا خاندان شروع سے ہی برطانوی سامراج کی خدمت اور کاسہ لیسی میں مشہور تھا۔ اس کا اعتراف خود مرزا قادیانی نے اپنی متعدد تحریروں میں کیا ہے بطور نمونہ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔
گورنمنٹ کا پکا خیرخواہ خاندان
میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیرخواہ ہے۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیرخواہ آدمی تھا‘ جن کو دربار گورنری میںکرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور 1857ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریز کو مدد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے عین زمانہ عذر کے وقت سرکار انگریز کی امداد میں دیئے تھے۔ ان خدمات کی وجہ سے چٹھیات خوشنودی حکام ان کو ملی تھیں۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہوگئیں مگر تین چٹھیات جو مدت سے چھپ چکی ہیں‘ ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں۔ پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا۔ اور جب تموں کے محاذ پر مفسدوں کا سرکار انگریز کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریز کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا
(کتاب البریہ ص 5,4,3‘ مندرجہ روحانی خزائن جلد 13‘ ص 6,5,4 مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
پچاس برس سے وفادار جانثار خاندان
سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جانثار خاندان ثابت کرچکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیرخواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشتہ پودہ کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کرمجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا
(مجموعہ اشتہارات جلد سوئم ص 21‘ از: مرزا غلام احمد قادیانی)
سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں پچاس الماریاں
میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکھٹی ہیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصراور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہوجائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں‘ ان کے دلوں سے معدوم ہوجائیں
(تریاق القلوب ص 28,27 مندرجہ ذیل روحانی خزائن جلد 15 ص 156,155 از: مرزا غلام احمد قادیان)
مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے
میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے‘ ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے
(مجموعہ اشتہارات جلد سوئم ص 19‘ از: مرزا غلام احمد قادیانی)

برطانوی گورنمنٹ کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے
بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے‘ یا نہیں۔ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے‘ اس سے جہاد کیسا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔
(اشتہارات القرآن ص 84‘ مندرجہ روحانی خزائن جلد 6‘ ص 380 از مرزا قادیانی)
جیسی خدا تعالیٰ کی اطاعت ویسی اس سلطنت کی اطاعت
سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہرکرتا ہوں‘ یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں‘ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو‘ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے
(اشتہارات القرآن ص 84‘ مندرجہ روحانی خزائن جلد ص 380 از: مرزا قادیانی)
انگریز سلطنت ایک رحمت و برکت ہے
سو یہی انگریز ہیں جن کو لوگ کافر کہتے ہیں جو تمہیں ان خونخوار دشمنوں سے بچاتے ہیں اور ان کی تلوار کے خوف سے تم قتل کئے جانے سے بچے ہوئے ہو۔ ذرا کسی اور سلطنت کے زیر سایہ رہ کر دیکھ لو کہ تم سے کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ سو انگریز سلطنت تمہارے لئے ایک رحمت ہے۔ تمہارے لئے ایک برکت ہے اور خدا کی طرف سے تمہاری وہ سپر ہے۔ پس تم دل و جان سے سپر کی قدر کرو
(مجموعہ اشتہارات جلد سوئم ص 584‘ از: مرزا غلام احمد قادیانی)
دنیا میں آنے کا مقصد گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی
ہم دنیا میں فروتنی کے ساتھ زندگی بسر کرنے آئے اور بنی نوع کی ہمدردی اور اس گورنمنٹ کی خیرخواہی جس کے ہم ماتحت ہیں یعنی گورنمنٹ برطانیہ۔ ہمارا اصول ہے۔ ہم ہرگز کسی مفسدہ اور نقص امن کو پسند نہیں کرتے اور اپنی گورنمنٹ انگریزی کی ہر ایک وقت میں مدد کرنے کے لئے تیار ہیں اور خدا تعالیٰ کا شکر کرتے ہیں جس نے ایسی گورنمنٹ کے زیر سایہ ہمیں رکھا ہے
کتاب البریہ ص 17‘ اشتہار مورخہ 20 ستمبر 1897ء مندرجہ روحانی خزائن‘ جلد 13ص 18‘ مصنفہ: مرزا غلام احمد قادیانی
ان حوالہ جات کی روشنی میں قادیانیت کی وجہ تخلیق کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مرزا قادیانی استعماری سیاست کا خود کاشتہ پودا تھا۔ انگریز نے اپنے نظریہ ضرورت کے تحت قادیانی تحریک کو پروان چڑھایا۔ جناب مرتضیٰ احمد خاں مکیش بھی رقم طراز ہیں۔ دین مرزا برطانیہ کی استعماری سیاست کا ایک خود کاشتہ پودا ہے یعنی ایک ایسی سیاسی تحریک ہے جو انگریز کے مقبوضہ ہندوستان میں ایک ایسی مذہبی جماعت پیدا کرنے کے لئے شروع کی گئی جو سرکار برطانیہ کی وفاداری کو اپنا جزو ایمان سمجھے۔ غیر اسلامی حکومت یا نامسلم حکمرانوں کے استیلا کو جائز قرار دے اور ایک ایسے ملک کو شرعی اصطلاح میں دارالحرب سمجھنے کے عقیدہ کا بطلان کرے جس پر کوئی غیر مسلم قوم اپنی طاقت و قوت کے بل پر قابض ہوگئی۔ انگریز حکمرانوں کی قہاریت اور جباریت کو مسلمان ازروئے عقیدۂ دینی اپنے حق میں اﷲ کا بھیجا ہوا عذاب سمجھتے تھے اور ان کی رضاکارانہ اطاعت کو گناہ تصور کرتے تھے۔ انگریز حکمران مسلمانوں کے
اس جذبے اور عقیدے سے پوری طرح آ گاہ تھے۔ لہذا انہوں نے اس سرزمین میں ایک ایسا پیغمبر کھڑا کردیا جو انگریزوں کو اولیٰ الامر منکم کے تحت میں لاکر ان کی اطاعت کو مذہباً فرض قرار دینے لگا اور ان کے پاس ہندوستان کو دارالحرب سمجھنے والے مسلمانوں کی مخبری کرنے لگا جس طرح باغبان اپنے خود کاشتہ پودے کی حفاطت و آبیاری میںبڑے اہتمام سے کام لیتا ہے‘ اسی طرح سرکار انگریز نے دین مرزائیت کو فروغ دینے کے لئے مرزائی جماعت کو پرورش کرنا اپنی سیاسی مصلحتوں کے لئے ضروری سمجھا۔ اور اس دین کے پیروئوں سے مخبری‘ جاسوسی اور حکومت کے ساتھ جذبہ وفاداری کی نشرواشاعت کا کام لیتی رہی۔ 1919ء میں جب مولانا محمد علی رحمتہ اﷲ علیہ نے خلافت اسلامیہ ترکی کی شکست سے متاثر ہوکر مسلمانوں کو انگریزوں کے قابو چیانہ گرفت سے چھڑانے اور ارض مقدس کو عیسائیوں کے ہاتھ میں جانے سے بچانے کے لئے تحریک احیائے خلافت کے نام سے مسلمانوں کو بیدار کرنے کی مہم شروع کی اور عام مسلمان مولانا محمد علی اور دیگر زعمائے اسلام کی دعوت ونفیر پر کان دھر کر انگریز حکومت سے ترک موالات کرنے پر آمادہ ہوگئے تو مرزائی جماعت نے اس دور کے وائسرائے کے سامنے سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے سرکار انگریزی کو یقین دلایا کہ مسلمانوں کے اس جہاد آزادی کا مقابلہ کرنے کے لئے آپ کے خادم موجود ہیں‘ جو سرکار انگریز کی وفاداری کو مذہبی عقیدہ کے رو سے اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔
پاکستان میں مرزائیت صفحہ 25 تا 27 از مرتضیٰ احمد خان مکیش
معاشی قتل
ہزاروں سال سے کرنسی سونے چاندی کے سکّوں پر مشتمل ہوا کرتی تھی کیونکہ لوگ اپنی مرضی کی چیز بطور کرنسی استعمال کرنے کا حق رکھتے تھے۔ لیکن بعد میں حکومتیں قانون بنا کر لوگوں کو مخصوص کرنسی استعمال کرنے پر مجبور کرنے لگیں۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
جب بینکاری کو عروج ہوا تو بینکوں کو اندازہ ہوا کہ کاغذی کرنسی کے رواج کو فروغ دینے سے بینکوں کو کس قدر زیادہ منافع ہو سکتا ہے۔ مرکزی بینک چونکہ سونا اور چاندی بنا نہیں سکتے اس لئے وہ سونے چاندی سے بنی کرنسی کو کنٹرول بھی نہیں کر سکتے۔ اس لئے مرکزی بینک سونے چاندی کو بطور کرنسی استعمال کرنے کے سخت خلاف ہوتے ہیں۔ مرکزی بینک ہمیشہ ایک ایسی کرنسی چاہتے ہیں جسے وہ پوری طرح کنٹرول کر سکیں تاکہ بے حد امیر اور طاقتور بن سکیں اور یہ کرنسی صرف کاغذی کرنسی ہو سکتی تھی کیونکہ کاغذی کرنسی جتنی چاہیں اتنی چھاپی جا سکتی ہے۔ اس طرح دولت تخلیق کرنے کا اختیار بینکاروں کے ہاتھ میں آ جاتا ہے۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ برطانیہ میں تو بادشاہ نے قانون بنا کر لوگوں کو بینک آف انگلینڈ کی چھاپی ہوی کاغذی کرنسی استعمال کرنے پر مجبور کر دیا تھا جو بعد میں وہاں پوری طرح رائج بھی ہو گئی تھی لیکن دنیا کے کئی ممالک میں کاغذی کرنسی مقبول نہ ہو سکی کیونکہ وہاں لوگ سونے چاندی پر زیادہ اعتبار کرتے تھے اور کاغذی نوٹ کو شک کی نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ اس میں چین ، ہندوستان اور امریکہ بھی شامل تھے۔برطانیہ میں بینک آف انگلینڈ کی کاغذی کرنسی کو 1718 سے "لیگل ٹینڈر" (قانونی کرنسی) کا درجہ حاصل تھا۔[35] ان بینکوں نے بہت آہستہ آہستہ لوگوں کو کاغذی کرنسی کے استعمال کی عادت ڈال دی اور مختلف مواقع پر ایسے قوانین نافذ کروائے جو لوگوں کو کاغذی کرنسی استعمال کرنے پر مجبور کریں۔ مختلف طلائی معیار (گولڈ اسٹینڈرڈ) اِن ہی قوانین کی مثالیں ہیں۔
جب انگریز ہندوستان آیا تو یہاں کی دولت لوٹنے کے لیے کاغذی نوٹ کو رواج دینے کی کوشش میں لگ گیا۔ ہندوستان باقی دنیا کو بہت زیادہ مالیت کا سامان تجارت برآمد کرتا تھا جبکہ درآمدات کم تھیں۔ یعنی تجارت کا توازن ہندوستان کے حق میں تھا۔ انگریزوں کو اس مال کے بدلے ہندوستان کے لوگوں کو سونا یا چاندی ادا کرنی پڑتی تھی جو وہ نہیں دینا چاہتے تھے۔ انگریزوں کی خواہش تھی کہ اگر ہندوستان میں بھی کاغذی نوٹ کا رواج پڑ جائے تو صرف کاغذ چھاپ چھاپ کر مال خریدا جا سکتا ہے۔ اس وقت ہندوستانیوں کو بینکاری اور کاغذی نوٹوں کا بالکل تجربہ نہیں تھا جبکہ انگریز اس میں ماہر تھا۔ ہندوستان کے لوگوں کو بینکاری کی عادت ڈالنے کے لئے ایسٹ انڈیا کمپنی کے زمانے سے ہی ڈاک خانوں میں پوسٹل سیونگ بینک بنائے گئے جن سے متوسط اور نچلے طبقے کے پاس محفوظ سونا چاندی بٹورنا ممکن ہو گیا۔ 1879 میں ان پوسٹل سیونگ بینکوں کی جانب سے 4 فیصد سے زیادہ سود دیا جاتا تھا جو بعد میں کم ہوتا چلا گیا۔ اس زمانے میں افراط زر نہ ہونے کی وجہ سے یہ ایک بہت ہی معقول منافع تھا
(Washington & Lee University School of Law
Washington & Lee University School of Law Scholarly
Commons
Faculty Scholarship
1-1-2011
The Changing Face of Money
Christopher M. Bruner
Washington and Lee University School of Law, brunerc@wlu.ed)
انگریز چونکہ ہندوستان سے سونا بٹورنا چاہتا تھا اس لئے اس نے صرف چاندی کے روپے کو سرکاری کرنسی قرار دیا حالانکہ اس وقت برطانیہ میں گولڈ اسٹینڈرڈ نافذ تھا۔ 1835 میں انہوں نے معیارِ نقرہ کا قانون (سلور اسٹینڈرڈ) نافذ کیا جس کے مطابق چاندی کا روپیہ سرکاری سکّہ بن گیا۔ یہ سکّہ پہلے ہی سے بمبئی اور مدراس میں رائج تھا۔ سونے اور چاندی کے ان سکوں کا وزن ایک تولہ یعنی 180 گرین (grain) ہوتا تھا اور یہ 22 قیراط کے ہوتے تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے جاری کردہ ان چاندی کے سکوں نے جلد ہی مقبولیت حاصل کر لی اور پہلے سے رائج دو درجن طرح کے چاندی کے روپے معدوم ہو گئے[36]۔ حکومت عوام سے سونے کا سکّہ قبول تو کر لیتی تھی مگر عوام کو سونا دینے کی پابند نہیں تھی۔ اسی قانون میں اشرفی (گولڈ مُہر) کی قیمت 15 چاندی کے روپے کے برابرطے کی گئی مگر پھر بھی اس قانون کا نام گولڈ اسٹینڈرڈ نہیں رکھا گیا۔۔ اس قانون کے ذریعے لوگوں کی توجہ چاندی پر مرکوز کروا کر انگریز حکومت نے بڑی مالیت میں زیر گردش سونے کے سکے اپنے پاس ذخیرہ کر لیے جو بعد میں انگلستان بھجوا دیے گئے۔
(Realms of Silver: One Hundred Years of Banking in the East)
حکومت عوام سے سونے کا سکّہ قبول تو کر لیتی تھی مگر عوام کو سونا دینے کی پابند نہیں تھی۔ اسی قانون میں اشرفی (گولڈ مُہر) کی قیمت 15 چاندی کے روپے کے برابرطے کی گئی مگر پھر بھی اس قانون کا نام گولڈ اسٹینڈرڈ نہیں رکھا گیا۔۔ اس قانون کے ذریعے لوگوں کی توجہ چاندی پر مرکوز کروا کر انگریز حکومت نے بڑی مالیت میں زیر گردش سونے کے سکے اپنے پاس ذخیرہ کر لیے جو بعد میں انگلستان بھجوا دیے گئے۔
اس وقت کاغذی کرنسی "پریزیڈنسی بینکِ بنگال" جاری کرتا تھا۔ در حقیقت یہ بینک 1809 سے کاغذی کرنسی جاری کر رہا تھا مگر وہ ہندوستان میں مقبول نہیں ہو رہی تھی اور قانونی کرنسی کا درجہ نہیں رکھتی تھی۔ بمبئی میں کاغذی کرنسی 1840 میں اور مدراس میں 1943 میں جاری کی گئی۔ اس وقت ایک علاقے کی کاغذی کرنسی دوسرے علاقے میں نہیں چلتی تھی۔ 1903 میں پہلی دفعہ تجرباتی طور پر 5 روپے کے نوٹ کو پورے ہندوستان میں قابل قبول بنایا گیا۔ پھر 1910 سے دس روپے اور پچاس روپے کا نوٹ بھی پورے ہندوستان میں قبول کیا جانے لگا۔ 1911 میں سو روپے کا نوٹ بھی ہر علاقے میں چلنے لگا۔[37]
(Indian Currency and Finance (1913)
by John Maynard Keynes)
میں ہندوستان کی برطانوی حکومت نے چاندی کا سکّہ بنانے والی ٹکسال بند کروا دیں تاکہ نہ چاندی کا سکہ مناسب مقدار میں دستیاب ہو نہ لوگ اسے استعمال کر سکیں۔ سونے کا سکہ (اشرفی) انگریز پہلے ہی سمیٹ کر غائب کر چکا تھا۔ اب ہندوستان میں لوگوں کے پاس لین دین کے لئے کاغذی کرنسی استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ اس طرح 1835 میں سرکار کا بنایا ہوا سلور اسٹینڈرڈ 1893 میں بحقِ کاغذی کرنسی ختم کر دیا گیا۔ اس کے باوجود عوام میں سونے اور چاندی کے سکوں کی طلب برقرار رہی۔ حکومت کی طرف سے کئی بار یہ عندیہ دیا گیا کہ حکومت چاندی کا سکہ بحال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے مگر اس پر عمل نہ کیا گیا۔
پہلی جنگ عظیم شروع ہوتے ہی ہندوستان میں لوگوں کا کاغذی کرنسی پر شک بڑھ گیا اور اگست 1914 میں صرف چار دنوں میں حکومت کو کاغذی نوٹوں کے بدلے 20 لاکھ پاونڈ کی مالیت کے سونے کے سکے عوام کو ادا کرنے پڑے۔ اسکے بعد سونے میں ادائیگی روک دی گئی لیکن چاندی کی ادائیگی جاری رہی۔ صرف پانچ سالوں میں حکومت ہند کو دوسرے ممالک سے 53 کروڑ اونس (16600 ٹن) چاندی خریدنی پڑی اور دیڑھ ارب چاندی کے روپے جاری کرنے پڑے۔ کاغذی کرنسی کو مزید مقبول بنانے اور چاندی پر سے بوجھ ہٹانے کے لئے 1917 میں حکومت ہند نے ایک روپے اور ڈھائی روپے کے نوٹ جاری کیے۔ اس سے پہلے سب سے چھوٹا نوٹ پانچ روپے کا تھا۔ ستمبر 1917 میں چاندی کی قیمت (جو 1893 سے 34 پنس فی اونس سے کم رہی تھی) بڑھ کر 55 پنس فی اونس ہو گئی اور لوگوں نے سکے پگھلا کر چاندی کے زیورات بنانے شروع کر دیے۔ 1835 سے اِس وقت تک پانچ ارب (یعنی 60 ہزار ٹن) چاندی کے سکے بنائے جا چکے تھے۔ اس لئے حکومت کو مجبوراً ہندوستانی روپے کی قیمت میں اضافہ کرنا پڑا۔[40]
حوالہ : پہلی جنگ عظیم کے ہندوستانی کرنسی پر اثرات.
اسلام میں جمہوریت کی پیوند کاری
پروفیسر عبدالجبار شاکر مرحوم اپنے مقالے میں لکھتے ہیں
مغربی تہذیب نے اپنی سیاسی ہیئت کے لیے جمہوریت کو اختیار کیا جو بلاشبہ اسلام کے عطا کردہ شورائی نظام سے ماخوذ اور مستفیض دکھائی دیتی ہے مگر وہ اپنے عملی قالب میں وہ نتائج پیدا نہیں کر سکی جو ایک اسلامی ریاست کی بنیادی خصوصیات سے ہم آہنگ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ محمد اقبال نے مغربی جمہوریت کے تصور پر شدید تنقید کی ہے:
ہے وہی سازِ کہن، مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصری
دیوِ استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری
(حضرِ راہ۔ بانگ درا)
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے، تو رہ جاتی ہے چنگیزی!
(بالِ جبریل)
متاعِ معنی بیگانہ ازدوں فطرتاں جوئی؟
زموراں شوخی طبع سلیمانے نمی آید
گریز از طرزِ جمہوری، غلامِ پختہ کارے شو
کہ از مغزِ دو صد خر فکر انسانے نمی آید
(جمہوریت، پیامِ مشرق)
مغربی تہذیب اور جمہوریت لازم و ملزوم ہیں مگر اسلامی ریاستوں کے لیے اقبال ایک ایسی روحانی جمہوریت کے قالب کے تمنائی ہیں جو اسلامی معاشرت کی اقدارِ خیر کی ضمانت فراہم کر سکے۔ مغربی حکومتیں جمہوری مزاج رکھنے کے باوجود دنیا کو متحد کرنے کے بجائے منقسم کر رہی ہیں۔ معاشی سطح پر بھی مغربی تہذیب ایک استحصالی رویہ رکھتی ہے، جس کا مشاہدہ گزشتہ صدیوں سے جاری و ساری ہے۔ یہ کیسی انصاف دشمن اور غیر عادلانہ تہذیب ہے کہ اقوامِ عالم کے پلیٹ فارم پر چند قوتوں کو ویٹو کا حق دیتی ہے جس کے نتیجے میں ظلم اور شقاوت پنپتی دکھائی دیتی ہے۔ اپنی اسی صورتحال کے پیش نظرمغربی تہذیب تیزی کے ساتھ روبہ زوال ہے اور مغرب کے پیرانِ خرابات اس تباہی اور بربادی کے منظر سے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ تہذیب کو ان دنوں جس زوال اور شکست کا سامنا ہے، اس کا علاج کسی دانشور کو سجھائی نہیں دیتا۔ امنِ عالم تار تار ہو رہا ہے اور چاروں جانب برق و بارود کا دھواں چھایا ہوا ہے۔ مشہور مغربی ادیب جارج برنارڈشا نے کیا خوب کہا تھا:
’’جو ایک آدمی کو قتل کرے، اسے قاتل کہتے ہیں لیکن جو ہزاروں بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگ لے، وہ فاتح کہلاتا ہے۔‘‘
عالمی تہذیبی کشمکش اور علامہ اقبال
بحوالہ: ماہنامہ ’’دعوۃ‘‘ اسلام آباد۔ اپریل ۲۰۰۹ء
مولانا یوسف لدھیانوی شہید رح اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں
بعض غلط نظریات قبولیتِ عامہ کی ایسی سند حاصل کرلیتے ہیں کہ بڑے بڑے عقلاء اس قبولیتِ عامہ کے آگے سر ڈال دیتے ہیں، وہ یا تو ان غلطیوں کا ادراک ہی نہیں کرپاتے یا اگر ان کو غلطی کا احساس ہو بھی جائے تو اس کے خلاف لب کشائی کی جرأت نہیں کرسکتے۔ دُنیا میں جو بڑی بڑی غلطیاں رائج ہیں ان کے بارے میں اہلِ عقل اسی المیے کا شکار ہیں۔ مثلاً “بت پرستی” کو لیجئے! خدائے وحدہ لا شریک کو چھوڑ کر خود تراشیدہ پتھروں اور مورتیوں کے آگے سر بسجود ہونا کس قدر غلط اور باطل ہے، انسانیت کی اس سے بڑھ کر توہین و تذلیل کیا ہوگی کہ انسان کو - جو اَشرف المخلوقات ہے- بے جان مورتیوں کے سامنے سرنگوں کردیا جائے اور اس سے بڑھ کر ظلم کیا ہوگا کہ حق تعالیٰ شانہ کے ساتھ مخلوق کو شریکِ عبادت کیا جائے۔ لیکن مشرک برادری کے عقلاء کو دیکھو کہ وہ خود تراشیدہ پتھروں، درختوں، جانوروں وغیرہ کے آگے سجدہ کرتے ہیں۔ تمام تر عقل و دانش کے باوجود ان کا ضمیر اس کے خلاف احتجاج نہیں کرتا اور نہ وہ اس میں کوئی قباحت محسوس کرتے ہیں۔
اسی غلط قبولیتِ عامہ کا سکہ آج “جمہوریت” میں چل رہا ہے، جمہوریت دورِ جدید کا وہ “صنمِ اکبر” ہے جس کی پرستش اوّل اوّل دانایانِ مغرب نے شروع کی، چونکہ وہ آسمانی ہدایت سے محروم تھے اس لئے ان کی عقلِ نارسا نے دیگر نظام ہائے حکومت کے مقابلے میں جمہوریت کا بت تراش لیا اور پھر اس کو مثالی طرزِ حکومت قرار دے کر اس کا صور اس بلند آہنگی سے پھونکا کہ پوری دُنیا میں اس کا غلغلہ بلند ہوا یہاں تک کہ مسلمانوں نے بھی تقلیدِ مغرب میں جمہوریت کی مالا جپنی شروع کردی۔ کبھی یہ نعرہ بلند کیا گیا کہ “اسلام جمہوریت کا عَلم بردار ہے” اور کبھی “اسلامی جمہوریت” کی اصطلاح وضع کی گئی، حالانکہ مغرب “جمہوریت” کے جس بت کا پجاری ہے اس کا نہ صرف یہ کہ اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ اسلام کے سیاسی نظریہ کی ضد ہے. جمہوریت” اس دور کا صنمِ اکبر "
سید مودودی رح نے ایک مرتبہ کہا تھا
" غلطیاں بانجھ نہیں ہوتیں یہ بچے جنتی ہیں "
ہم کہتے ہیں کہ
" غلطیوں کے یہ بچے شیر مادر پر نہیں خون ملت پر پروان چڑھتے ہیں "
اسلامی ترقی کا معیار اسلامی معاشرت میں مضمر تھا
سید قطب شہید رح ایک جگہ لکھتے " اسلامی حکومت اسلامی معاشرت کا عطر "
اسلامی معاشرت جن امور کی بنیاد پر تشکیل دی جا سکتی ہے وہ ہیں
١ تزکیہ
٢ تعلم
٣ دعوت
٤ جہاد
ان کے علاوہ جو بھی راستہ اختیار کیا گیا وہ ایک ایسی بدعت بنا جسکا تریاق سنت کی طرف مکمل طور پر پلٹنے کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا
ہم سے غلطی یہ ہوئی کہ ہم نے وہ ہتھیار جو مغرب کا تھا خود استعمال کیا مگر ہم اس سے ناواقف تھے کہ کہ ہم اپنی ہی گردن کاٹنے جا رہے ہیں یہ ہتھیار تھا " مغربی جمہوریت "
اسی لیے اقبال نے اس جدید استعماری نظام پر بھرپور چوٹ کی ہے دور جدید کے ایک محقق اسکالر اپنے تحقیقی مقالے میں اسکی تفصیل کچھ یوں بیان فرماتے ہیں
" مسلمانوں کی عصری تاریخ میں اقبال جمہوریت پر گفتگو کرنے والی سب سے اہم شخصیت ہیں۔ اگرچہ اقبال کی اردو کلیات میں جمہوریت پر نو دس شعر ہی موجود ہیں، مگر ان نو دس شعروں میں بھی اقبال نے جمہوریت کی مبادیات کو سمیٹ لیا ہے۔ اقبال نے اپنے شعروں میں جمہوریت پر چار بڑے اعتراضات کیے ہیں۔
ان کا پہلا اعتراض مغربی دانش ور اسٹینڈل کے حوالے سے یہ ہے:
جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
اقبال کے اس شعر کا مفہوم یہ ہے کہ جمہوریت ایک معیاری یا Qualitative نظام نہیں ہے بلکہ ایک مقداری Quantitative نظام ہے۔ اس طرح گویا جمہوریت نے انسان کی پوری فکری تاریخ کی نفی کردی ہے۔ انسان کی پوری فکری تاریخ معیاری نظام بندی کی تاریخ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی کی معنویت، اس کا حسن و جمال، اس کی پائیداری، اس کی افادیت معیار سے ہے مقدار سے نہیں۔ چنانچہ جمہوریت نے گاڑی کے آگے گھوڑا باندھنے کے بجائے گھوڑے کے آگے گاڑی باندھ دی ہے۔ جمہوریت کے مقداری پہلو کے اطلاق سے امام غزالیؒ اور ایک جاہل برابر ہوجاتا ہے۔ جمہوریت کا مزید غضب یہ ہے کہ وہ ’’کمتر‘‘ سے ’’برتر‘‘ کا انتخاب کراتی ہے۔ حالانکہ اصولی، اخلاقی اور علمی اعتبار سے کمتر، برتر کے انتخاب کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اقبال نے جمہوریت پر دوسرا بنیادی اعتراض یہ کیا ہے ؎
ہے وہی سازِ کہن مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردے میں غیراز نوائے قیصری
اقبال کے اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ جمہوریت کا ’’نیا نظام‘‘ ہونے کا دعویٰ فریب کے سوا کچھ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’بادشاہت‘‘ جمہوریت کا لباس پہن کر آگئی ہے۔ فی زمانہ اس کی سب سے بڑی مثال امریکہ ہے۔ کہنے کو امریکہ دنیا کی سب سے مضبوط جمہوریت ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے اکثر فیصلے امریکہ کے عوام نہیں امریکی سی آئی اے، پینٹاگون، امریکہ کے ایوانِ صنعت و تجارت، ملٹی نیشنلز اور امریکہ کے ذرائع ابلاغ کرتے ہیں۔ یہ ادارے ’’خواص الخواص‘‘ کی علامت ہیں۔ یہ الگ بات کہ ان کی آراء کو عوام کی آراء اور ان کے فیصلوں کو کسی نہ کسی حوالے سے عوام کے فیصلے قرار دے دیا جاتا ہے۔ بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہا جاتا ہے، لیکن بھارت کے حکمرانوں کی تاریخ کا نصف حصہ نہرو خاندان کی ’’میراث‘‘ ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کہنے کو عوامی جماعت ہے لیکن اس پر اعلیٰ ذات کے ہندوئوں کا قبضہ ہے۔ باقی ماندہ بھارتی سیاست پر جرائم پیشہ عناصر کا قبضہ ہے۔ اقبال نے جمہوریت پر
تیسرا بنیادی اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے ؎
تُونے کیا دیکھا نہیں یورپ کا جمہوری نظام
چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر
چنگیز خان جارحیت اور خون آشامی کی بڑی علامت ہے۔ لیکن چنگیز خان نے کبھی نہیں کہا کہ وہ انسانی آزادی کا عَلم بردار ہے۔ اس نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ وہ انسانی حقوق کا چیمپئن ہے۔ اس نے کبھی نہیں کہا کہ وہ مساوات اور بھائی چارے کے تصورات پر ایمان رکھتا ہے۔ لیکن مغربی جمہوریت نے آزادی کا نعرہ لگاکر درجنوں اقوام کی آزادی سلب کی۔ اس نے انسانی حقوق کا نعرہ بلند کرکے انسانی حقوق کی پامالی کی تاریخ رقم کی۔ اس نے مساوات کا پرچم اٹھاکر عدم مساوات، اور بھائی چارے کی مالا جپتے ہوئے انسانی تعلقات کو روندا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو چنگیز خان کی پوزیشن جمہوریت اور اس کے عَلم برداروں سے بہتر ہے۔ اس لیے کہ کم از کم چنگیز خان کے قول اور فعل میں ہولناک تضاد تو موجود نہیں۔ اقبال کا جمہوریت پر چوتھا بنیادی اعتراض یہ ہے ؎
دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تُو سمجھتا ہے کہ آزادی کی ہے نیلم پری
مغربی جمہوریت عہدِ حاضر میں انسانی آزادی کی سب سے بڑی علامت ہے، لیکن ایک سطح پر وہ عوام کی پست خواہشات کی خدائی کا اعلان ہے۔ دوسری سطح پر وہ اکثریت کے جبر کا مظہر ہے۔ اور یہ دونوں استبداد کی دو مختلف صورتیں ہیں۔ اسلامی اصطلاحوں میں گفتگو کی جائے تو مغربی جمہوریت ’’نفسِ امارہ‘‘ کی علامت ہے اور اسلامی نظام ’’نفسِ مطمئنہ‘‘ کی علامت۔ جمہوریت نفسِ امارہ سے آغاز کرتی ہے، اسی میں سفر کرتی ہے اور اسی کے دائرے میں اس کا سفر تمام ہوجاتا ہے۔ دوسری جانب اسلامی نظام کے دائرے میں حکمران خود بھی نفسِ مطمئنہ کی علامت ہیں اور وہ مسلم عوام کو بھی نفسِ امارہ کے چنگل سے نجات دلاکر انہیں نفسِ لوامہ اور نفس مطمئنہ، اور پھر نفسِ مطمئنہ کی مزید برتر صورتوں کی طرف لانا چاہتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اسلامی نظام فرد کو ’’بندگی‘‘ کی سطح پر پہنچاتا ہے اور وہ اس کی بندگی کو کامل تر بناکر اسے اس کے خالق و مالک اور تمام انسانوں کے قریب تر کرتا ہے۔
اس کے برعکس جمہوریت فرد کو اس کی پست خواہشات اور ادنیٰ مطالبات کی سطح پر پہنچاتی ہے، اور وہ پست خواہشات اور ادنیٰ مطالبات کی نفسیات کو ایک نظام بنادیتی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اسلامی نظام کا بنیادی تصور لاالہٰ الا اللہ ہے، اور جمہوریت کا بنیادی تصور لاالہٰ الا انسان ہے۔ جمہوریت کی تعریف ’’عوام کا نظام، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے‘‘ کا اصل پیغام یہی ہے۔ عصر جدید میں علماء کی عظیم اکثریت نے جمہوریت کی اس فلسفیانہ بنیاد کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ مسلم معاشرے میں حاکمیت صرف اللہ کی ہوگی اور قرآن و سنت کے خلاف کسی قانون کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اس پوزیشن کا سب سے بڑا مظہر پاکستان اور اس کا ’’اسلامی آئین‘‘ ہے، لیکن گزشتہ چالیس سال کا تلخ تجربہ یہ ہے کہ پاکستان کے حکمران طبقے نے اسلام کو کبھی آئین کی قید سے نکلنے نہیں دیا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان کا آئین اسلام کا سب سے بڑا زنداں ہے، اور یہ صورت جمہوریت کے مجموعی کلچر اور مزاج کے عین مطابق ہے"
(جمہوریت اور انسانی تاریخ ---- شاہنواز فاروقی)
اسلامی نظام اپنی شکست و ریخت کے باوجود کبھی اس درجے پستی میں نہیں پہنچا کہ کھلی جاہلیت کو قبول کر لے جب تک کہ اسے اسلامی رنگ نہ دیا جاۓ....
سید مودودی رح تجدید و احیاء دین میں لکھتے ہیں
جاہلیت کا حملہ
" سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ جاہلیت بے نقاب ہوکر سامنے نہ آئ تھی بلکہ مسلمان بن کر آئ تھی کھلے دہریے یا مشرکین و کفار سامنے ہوتے تو مقابلہ آسان تھا مگر وہاں تو آگے آگے توحید کا اقرار رسالت کا اقرار صوم و صلات پر عمل قرآن و حدیث سے استشہاد تھا اور پیچھے پیچھے جاہلیت اپنا کام کر رہی تھی ایک ہی وجود میں اسلام و جاہلیت کا اجتماع ایسی سخت پیچیدگی پیدہ کر دیتا ہے کہ عہدہ بر آ ہونا ہمیشہ جاہلیت صریحہ کے مقابلے میں مشکل ہوتا ہے "
یہ جاہلیت ہمیشہ اسلام کے لبادے میں ہی حملہ اور ہوتی ہے اور اکثر اسکا نشانہ اسلام کا سیاسی نظام ہوتا ہے یہ مغالطہ جمہوریت کو اسلامائز کرنے والے احباب سے ہوا جب ایک نظریہ کیلئے دلائل قرآن و سنت سے
فراہم کے جائیں تو اسکی حیثیت ایک ٹول کی سی نہیں رہتی بلکہ اسکی حیثیت دین کی ہو جاتی ہے اور یہ ایک ایسی " بدعت " ہے جو اسلام کے متعارض ایک نظام کو اسلام قرار دلوا دیتی ہے .....
نظام تعلیم کی بربادی
ایک انتہائی کاری ضرب جو مسلمانوں پر لگائی گئی وہ یہ تھی کہ انکے قدیم عربی اور فارسی نظام تعلیم کو متروک قرار دے دیا گیا اور اس کی جگہ ان پر اپنی جدید الحادی مغربی نظام مسلط کرنے کی کوشش کی گئی
میکالے تعلیمی نظام
آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ہندوستان کے گورنر جنرل کی کونسل کے پہلے رُکن برائے قانون ” لارڈ میکالے” کے برطانیہ کی پارلیمنٹ کو 2 فروری 1835 عیسوی کے خطاب سے اقتباس ۔
“I have traveled across the length and breadth of India and I have not seen one person who is a beggar, who is a thief, such wealth I have seen in this country, such high moral values, people of such caliber that I don’t think we would ever conquer this country unless we break the very backbone of this nation which is her spiritual and cultural heritage and, therefore, I propose that we replace her old and ancient education system, her culture, for if the Indians think that all that is foreign and English is good and greater than their own, they will lose their self-esteem, their native culture and they will become what we want them, a truly dominated nation”.
میں نے ہندوستان کے طول و عرض میں سفر کیا ہے۔ مجھے کوئی بھی شخص بھکاری یا چور نظر نہیں آیا۔ اس ملک میں میں نے بہت دولت دیکھی ہے، لوگوں کی اخلاقی اقدار بلند ہیں اور سمجھ بوجھ اتنی اچھی ہے کہ میرے خیال میں ہم اس وقت تک اس ملک کو فتح نہیں کر سکتے جب تک کہ ہم ان کی دینی اور ثقافتی اقدار کو توڑ نہ دیں جو انکی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ ہم ان کا قدیم نظام تعلیم اور تہذیب تبدیل کریں۔ کیونکہ اگر ہندوستانی لوگ یہ سمجھیں کہ ہر انگریزی اور غیر ملکی شئے ان کی اپنی اشیاء سے بہتر ہے تو وہ اپنا قومی وقار اور تہذیب کھو دیں گے اور حقیقتاً ویسی ہی مغلوب قوم بن جائیں گے جیسا کہ ہم انہیں بنانا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
اس زمانے میں ہندوستان میں فارسی اور سنسکرت زبان میں تعلیم دی جاتی تھی۔
https://ur.wikipedia.org/…/%D9%85%DB%8C%DA%A9%D8%A7%D9%84%D…
لارڈ میکالے کی اس متعصبانہ ذہنیت کا اندازہ ان اقتباسات سے لگایا جاسکتا ہے جو اس نے ایک یادداشت کی شکل میں ۳/فروری ۱۸۳۵ء کو بیرک پور (کلکة) کے مقام پر گورنر جنرل ہند لارڈ ولیم بینٹنک کو پیش کی‘ جس پر مباحثہ کے لئے جنرل کمیٹی برائے پبلک انسٹرکشن کا اجلاس ۷/مارچ ۱۸۳۵ء کو منعقد ہوا۔ وہ کہتے ہیں:
”ہمارے پاس ایک رقم (ایک لاکھ روپیہ) ہے ،جسے گورنمنٹ کے حسب ہدایت اس ملک کے لوگوں کی ذہنی تعلیم وتربیت پر صرف کیا جاتا ہے‘ یہ ایک سادہ سا سوال ہے کہ اس کا مفید ترین مصرف کیا ہے؟ کمیٹی کے پچاس فیصداراکین مصر ہیں کہ یہ زبان انگریزی ہے‘ باقی نصف اراکین نے اس مقصد کے لئے کوئی ایسا شخص نہیں پایا ہے جو اس حقیقت سے انکار کرسکے کہ یورپ کی کسی اچھی لائبریری کی الماری میں ایک تختے پر رکھی ہوئی کتابیں ہندوستان اور عرب کے مجموعی علمی سرمایہ پر بھاری ہیں۔ پھر مغربی تخلیقات ادب کی منفرد عظمت کے کما حقہ معترف تو کمیٹی کے وہ اراکین بھی ہیں جو مشرقی زبانوں میں تعلیم کے منصوبے کی حمایت میں گرم گفتار ہیں․․․․“۔
”ہمیں ایک ایسی قوم کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہے جسے فی الحال اپنی مادری زبان میں تعلیم نہیں دی جاسکتی ہے۔ ہمیں انہیں لازماً کسی غیر ملکی زبان میں تعلیم دینا ہوگی‘ اس میں ہماری اپنی مادری زبان کے استحقاق کا اعادہ تحصیل حاصل ہے‘ ہماری زبان تو یورپ بھر کی زبانوں میں ممتاز حیثیت کی حامل ہے‘ یہ زبان قوت متخیلہ کے گراں بہا خزانوں کی امین ہے․․․ انگریزی زبان سے جسے بھی واقفیت ہے اسے اس وسیع فکری اثاثے تک ہمہ وقت رسائی حاصل ہے جسے روئے زمین کی دانشور ترین قوموں نے باہم مل کرتخلیق کیا ہے اور گزشتہ نوے سال سے بکمال خوبی محفوظ کیا ہے۔ یہ بات پورے اعتماد سے کہی جاسکتی ہے کہ اس زبان میں موجود ادب اس تمام سرمایہ ادبیات سے کہیں گراں تر ہے جو آج سے تین سوسال پہلے دنیا کی تمام زبانوں میں مجموعی طور پر مہیا تھا“۔(۶)
”اب ہمارے سامنے ایک سیدھا سادا سوال ہے کہ جب ہمیں انگریزی زبان پڑھنے کا اختیار ہے تو پھر بھی ہم ان زبانوں کی تدریس کی ذمہ داری قبول کریں گے جن کے بارے میں یہ امر مسلمہ ہے کہ ان میں سے کسی موضوع پر بھی کوئی کتاب اس معیار کی نہیں ہوگی کہ اس کا ہماری کتابوں سے موازنہ کیا جاسکے‘ آیا جب ہم یورپئین سائنس کی تدریس کا انتظام کرسکتے ہیں تو کیا ہم ان علوم کی بھی تعلیم دیں جن کے بارے عمومی اعتراف ہے کہ جہاں ان علوم میں اور ہمارے علوم میں فرق ہے تو اس صورت میں ان علوم ہی کا پایہ ثقاہت پست ہوتا ہے اور پھر یہ بھی کہ آیا جب ہم پختہ فکر‘ فلسفہ اور مستند تاریخ کی سرپرستی کرسکتے ہیں تو پھر بھی ہم سرکاری خرچ پر ان طبی اصولوں کی تدریس کا ذمہ لیں جنہیں پڑھانے میں ایک انگریز سلوتری بھی خفت محسوس کرے․․․․ ایسا علم فلکیات پڑھائیں جن کا انگریزی اقامتی اداروں کی چھوٹی چھوٹی بچیاں بھی مذاق اڑائیں“۔(۷)
”بچے جو گاؤں کے مدرسے میں استاد سے حروف تہجی یا تھوڑی بہت ریاضی سیکھتے ہیں‘ انہیں استاد کو بھی کچھ نہیں ادا کرنا پڑتا‘ استاد کو پڑھانے کی تنخواہ ملتی ہے تو پھر جو لوگ سنسکرت اور عربی پڑھتے ہیں‘ انہیں مالی اعانت دینے کا کیا جواز ہے؟“۔
”․․․․عربی کالج اور سنسکرت کالج پر ہم جو خرچ کررہے ہیں‘ یہ حق ہے‘ بلکہ غلط کاروں کی پرورش وتربیت کے لئے بے دریغ کی جانے والی اعانت ہے‘ اس مصرف سے ہم ایسی عافیت گاہیں تعمیر کررہے ہیں جن میں نہ صرف بے یارو مددگار‘ بے ٹھکانہ لوگ پناہ لیتے ہیں‘ بلکہ ان میں تعصبات اور ذاتی مفادات کے مارے وہ تنگ نظر لوگ بھی پل رہے ہیں جو اپنے ذاتی فائدوں اور گروہی عصبیتوں کے سبب تعلیمی اصلاح کی ہر تجویز کے خلاف ہر زہ دراہوں گے‘ اگر میری سفارش کردہ تبدیلی کے خلاف ہندوستانیوں میں احتجاج ہوا تو اس کا سبب ہمارا اپنا نظام اور طریق کار ہوگا۔ علم مخالفت بلند کرنے والوں کے قائدین وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے ہمارے وظائف پر پرورش پائی ہوگی․․․․“ (۸)
”․․․․․عربی اور سنسکرت کی اہمیت کے سلسلے میں ایک اور دلیل بھی دی جاتی ہے جو اس سے بھی زیادہ کمزور اور غیر مستحکم ہے‘ بیان کیا جاتا ہے کہ عربی اور سنسکرت وہ زبانیں ہیں جن میں کروڑوں انسانوں کی مقدس کتابیں محفوظ ہیں اور اس لئے یہ زبانیں خصوصی حوصلہ افزائی کی مستحق ہیں۔ یقینا حکومت برطانیہ کا فرض ہے کہ وہ ہندوستان کے تمام مذہبی مسائل میں روا دار اور غیر جانبدار رہے‘ لیکن ایک ایسے ادب کی تحصیل کی حوصلہ افزائی کرتے چلے جانا جو مسلمہ طور پر معمولی قدر وقیمت کا حامل ہے اور محض اس لئے کہ وہ ادب اہم ترین موضوعات پر غلط ترین معلومات ذہن نشین کراتا ہے‘ ایک ایسا رویہ ہے جس کی موافقت نہ تو عقل کرتی ہے نہ اخلاق․․․․جو لوگ ہندوستانیوں کو حلقہ بگوش مسیحیت کرنے کے کام میں مصروف ہیں‘ ہم ان کی سرکاری طور پر ہمت افزائی سے اجتناب کر تے رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آئندہ بھی مجتنب رہیں گے۔ جب عیسائیت کے بارے میں ہمارا یہ رویہ ہے تو کیا مناسب اور درست ہوگا کہ ہم سرکاری خزانے سے رشوت دے کر لوگوں کو اس امر پر مستعد کریں کہ وہ اپنی جوان نسل کی زندگیاں یہ جاننے میں برباد کر دیں کہ گدھے کو چھونے کے بعد وہ اپنے آپ کو کس طرح پاک کر سکتے ہیں یا وید کے کن اشلوکوں کو پڑھنے سے ایک بکرا مار دینے کا کفارہ ادا ہوجاتا ہے“۔(۹)
”․․․․میرا خیال ہے کہ ایک بات واضح ہے کہ ہم پارلیمنٹ ایکٹ ۱۸۱۳ء کے پابند نہیں ہیں‘ نہ ہی کسی ایسے معاہدے کے جو ہم نے اس خصوص میں صراحتاً کیا ہو یا کنایةً اور یہ کہ ہم زیر بحث رقوم کو اپنی صوابدید کے مطابق استعمال کرنے میں آزاد ہیں اور یہ کہ ہمیں اس فنڈ کو اس علم کے حصول میں صرف کرنا چاہئے جو بہترین طور پر شایان مطالعہ ہو اور یہ کہ انگریزی زبان‘ عربی اور سنسکرت کے مقابلے میں مطالعہ کے لئے موزوں تر ہے اور یہ کہ خود ہندوستانی لوگ انگریزی زبان سیکھنے کے خواہش مند ہیں‘ انہیں عربی اور سنسکرت سیکھنے کے لئے کوئی طلب نہیں اور یہ کہ نہ تو قانونی زبان کی حیثیت سے اور نہ مذہبی زبان کے لحاظ سے سنسکرت یا عربی زبان کو ہماری خصوصی ہمت افزائی کا کوئی استحقاق ہے“۔(۱۰)”․․․․․میں اس نظام ناکارہ کو جڑ سے اکھاڑ دینا چاہتاہوں جسے ہم نے ابھی تک سینے سے چمٹا رکھا ہے‘ میں فی الفور عربی اور سنسکرت کی کتابوں کی طباعت روک دوں گا۔ میں کلکة کے مدرسہ اور سنسکرت کالج کو ختم کر دوں گا۔ بنارس برہمنی تعلیم کا بڑا مرکز ہے اور دلی عربی تعلیم کا‘ اگر ہم ان دونوں ہی کو جاری رکھیں تو السنہ الشرقیہ کے فروغ کے لئے کافی ہوگا بلکہ میرے خیال میں کافی سے زیادہ ہے‘ اگر بنارس اور دلی کے کالجوں کو برقرار رکھنا ہے تو میری کم سے کم یہ سفارش ہوگی کہ ان میں داخلہ لینے والے کسی طالب علم کو وظیفہ نہ دیا جائے۔ (۱۱)
”․․․․فی الوقت ہماری بہترین کوششیں ایک ایسا طبقہ معرض وجود میں لانے کے لئے وقف ہونی چاہئیں جو ہم میں اور ان کروڑوں انسانوں کے مابین جن پرہم حکومت کررہے ہیں‘ ترجمانی کا فریضہ سرانجام دے۔ یہ طبقہ ایسے افراد پر مشتمل ہو جو رنگ ونسل کے لحاظ سے تو ہندوستانی ہو لیکن ذوق ‘ ذہن‘ اخلاق اور فہم وفراست کے اعتبار سے انگریز ہو ․․․․“۔(۱۲)
http://www.urduweb.org/…/%D9%84%D8%A7%D8%B1%DA%88%D9%85%DB%…
حوالہ جات :
۶- بخاری‘ سید شبیر‘ ”میکالے اور برصغیر کا نظام تعلیم“ آئینہ ادب چوک مینار‘ انارکلی لاہور ۱۹۸۶ء ص:۳۰-۳۳۔
۷- ایضاً ص:۳۳-۳۴۔ ایضاً ص:۳۷-۴۰۔ ۹-ایضاً ص:۴۲-۴۳۔
۱۰- ایضاً ص:۴۴-۴۵۔۱۱- ایضاًص:۴۶۔۱۲- ایضاً ص:۴۵۔
۱۳- مسلمانوں کا روشن مستقبل ص:۱۷۰-۱۷۱
۱۴- حالی‘ الطاف حسین‘ مولانا ”حیات جاوید“ آئینہ ادب چوک مینار انار کلی لاہور‘ ۱۹۶۶ء سرسید احمد خان پر ایک نظر ص:۴۶-۴۷
سوچنے کی بات ......
یہ وہ بنیادی عوامل و عناصر تھے کہ جن کو برطانوی استعمار نے متاثر کیا اور اسی غلامی کا تسلسل آج بھی بر صغیر کی تقسیم شدہ مسلم قوم کو اپنے آہنی شکنجے میں کسے ہوے ہے اور اس سے آزادی کی کوئی سبیل دکھائی نہیں دیتی کیا خوب کہا ہے شاعر نے
مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغِ اسیر
کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لئے
اور انتہائی افسوس کہ اس انحتاط سے عام آدمی کو ہی نہیں دینی قیادت کو بھی پوری شدت سے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ہر اس شعبے میں کہ جس میں احیاء دین کی مکمل گنجائش موجود تھی اسے جدید فتنوں میں مبتلا ہوکر اسلامی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
کیا خوب کہا تھا اقبال مرحوم نے
ہندی اسلام
ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملت
وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد
وحدت کی حفاظت نہیں بے قوت بازو
آتی نہیں کچھ کام یہاں عقل خدا داد
اے مرد خدا! تجھ کو وہ قوت نہیں حاصل
جا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر یاد
مسکینی و محکومی و نومیدی جاوید
جس کا یہ تصوف ہو وہ اسلام کر ایجاد
ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد!
اب چند امور کا سمجھ لینا ضروری ہے لیکن یہ ہم پر لازم ہے کہ اس موضوع پر سلف کے سیدھے اور سچے راستے کو تھام کر رکھیں .......
١ .احکام شریعت یا حدود الله کا نفاز تمام مسلمانوں پر فرض ہے اور اگر کہیں مسلمان اکثریت میں موجود ہیں اور نظام شریعت موجود نہیں تو ان پر لازم ہے کہ نظام شریعت کو نافذ کریں ورنہ وہ تمام معاملات شریعت جو حکومت سے منسلک ہیں ہمیشہ معطل ہی رہینگے .....
یہاں شاہ ولی اللہ دھلوی رح کی ایک عبارت نقل کرتا ہوں
مسئلہ در تعریف خلافت: 'هی الرياسة العامة فی التصدی لإقامة الدين بإحياء العلوم الدينية وإقامة أرکان الإسلام والقيام بالجهاد وما يتعلق به من ترتيب الجيوش والفرض للمقاتلة و اعطائهم من الغيئ والقيام بالقضاء وإقامه الحدود ورفع المظالم والأمر بالمعروف والنهی عن المنکر نيابة عن النبی صلی اللّٰه عليه وسلم.'تفصیل ایں تعریف آنکہ معلوم بالقطع ست از ملت محمدیہ علی صاحبہا الصلوات والتسلیمات کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم چوں مبعوث شدند برایئ کافہ خلق اللہ باایشاں معاملہ ہاکردند و تصرفہا نمو دند برائے ہر معاملہ نُوّاب تعیین فرمودند و اہتمام عظیم در ہر معاملہ مبذول داشتند، چوں آں معاملات را استقراء نمائیم واز جزئیات بکلیات واز کلیات بہ کلی واحد کہ شامل ہمہ باشد انتقال کنیم جنس اعلیٰ آں اقامت دین باشد کہ متضمن جمیع کلیات ست و تحت وے اجناس دیگر باشد یکے ازاں احیائے علوم دین ست از تعلیم قرآن و سنت و تذکیر و موعظت.
(١/١٣-١٤)
''یہ مسئلہ خلافت کی تعریف میں ہے: 'خلافت سے مراد وہ ریاست ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں علوم دینیہ کے احیا، ارکان اسلام کی پابندی، جہاد اور اس کے لیے افواج اور ساز و سامان کی تیاری کے اہتمام، مال فے کی تقسیم ، نظام قضا کے اہتمام، حدود کے نفاذ، رفع مظالم اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکے ذریعے سے دین کی اقامت کے درپے ہو۔ اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات جب پوری قطعیت سے معلوم ہے کہ وہ تمام مخلوق کی ہدایت کے لیے مبعوث تھے تو ان کے ساتھ آپ نے طرح طرح کے معاملات اورمختلف تدابیر اختیار فرمائیں۔ ہر معاملے کے لیے ذمہ داروں کی تعیین فرمائی اور ہر معاملے کو انجام دینےکے لیے بڑا اہتمام فرمایا۔ جب ہم ان تمام معاملات کا استقرا کرتے ہیں اور جزئیات سے کلیات اور پھر ان کلیات سے ایسا واحد کلیہ معلوم کرتے ہیں جو تمام کلیات کا جامع ہو تو وہ جنس اعلیٰ، دراصل 'اقامت دین' ہی ہے، جو تمام کلیات پر مشتمل ہے اور ا س کے تحت بہت سے دوسرے شعبے بھی آتے ہیں۔ ان میں سے ایک قرآن و سنت کی تعلیم، تذکیر اور وعظ و نصیحت کے ذریعے سے دینی علوم کا احیا ہے۔''
دوسری طرف ایک شدید ترین مغالطہ یہ لگتا ہے کہ ہم بزور قوت خلافت کو نافذ کر دینگے یہاں ایک بات واضح طور پر جان لیجئے کہ پہلی اسلامی ریاست " مدینہ " کے قیام میں کسی بھی قسم کی کوئی قوت صرف نہیں ہوئی .......
خلافت ارضی کی اقسام ہیں ایک وہ خلافت ہے جو انسان کو تمام مخلوقات پر حاصل ہے یعنی انسان دوسری تمام مخلوقات سے افضل و اشرف ہے جیساکہ قرآن کریم نے بیان فرمایا کہ زمین و آسمان کو انسان کے واسطے مسخر کر دیا گیا .......
پھر ایک خلافت وہ ہے جو انبیاء علیھم السلام کو حاصل ہے بطور نائب جس کا اعلان حضرت آدم علیہ سلام کی تخلیق کے ساتھ کیا گیا ........
پھر ایک خلافت بمعنی حکومت یا اسلامی ریاست کے ہے .......
ریاست اسلامی چاہے کتنی بھی قوت کیوں موجود نہ ہو اسلامی معاشرے کے بغیر قائم نہیں ہو سکتی اسلامی ریاست زمین کے کسی ٹکڑے یا چند قوانین کا نام نہیں بلکہ اسلامی ریاست کا مطلب ہے اسلامی معاشرت کا قیام .......
اب پورے قرآن کا مطالعہ کیجئے ہر جگہ الله نے خلافت کی نسبت اپنی جانب کی ہے یعنی ہم نے تمہیں خلیفہ بنایا ہم نے تمہیں ریاست عطا فرمائی کہیں بھی کوئی ایک ایسی آیت موجود نہیں جہاں یہ مضمون ہو کہ تم نے خلافت حاصل کر لی .....
اگر معاشرے کا کثیر طبقہ دیندار ہے اور دین سے محبت رکھتا ہے اور چند قلیل شر پسند معاشرے میں موجود ہیں تو حدود الله کے نفاذ سے یعنی شرعی سزاؤں سے انھیں اعتدال میں رکھ جا سکتا ہے ....
لیکن اگر معاشرے کا کثیر طبقہ سرکشی پر آمادہ ہو تو حکومت اور قوت کے باوجود بھی آپ حدود الله کو قائم نہیں رکھ سکتے .......
حضرت عمر بن عبدلعزیز جنھیں پانچواں خلیفہ رشید بھی کہا جاتا ہے حکومتی قوت کے باوجود دو سال میں ایسی معاشرت تشکیل نہ کر سکے جو خلافت کی حقدار ہوتی اور جیسے ہی انکی کی اس دنیا سے رخصت ہوئی خلافت نے پھر ملوکیت کی شکل اختیار کر لی ......
الله کے رسول نے پہلے یکسوئی کے ساتھ امت تشکیل دی پھر ریاست کے حصول کے ساتھ بدر سے پہلے اسلام کا نظام عبادات قائم فرما دیا اب چونکہ پشت پر ریاست تھی اور احکام شریعت اور اسلامی معاشرت قائم تھے اسلئے الله کی جانب سے فتوحات کا نزول ہونا شروع ہوا ......
یہاں پھر چند امور پر غور کیجئے احد اور خاص کر حنین میں جب نو مسلموں کی جانب سے ذرا سی کوتاہی ہوئی تو نبی کریم صل الله علیہ وسلم کی ذات بابرکات کی موجودگی میں بھی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ مسلمانوں کے پاس زبردست قوت موجود تھی .......
دوسری طرف غزوہ احزاب جس میں قرآن خود کہتا ہے کہ کلیجے حلق میں آ رہے تھے پیچھے یہود اور سامنے پورے عرب کی قوت الله نے تلوار ہلاۓ بغیر فتح مبین سے نواز دیا .......
سمجھنے کی چیز یہ ہے کہ آپ کے پاس کتنی ہی جہادی قوت کیوں موجود نہ ہو الله کی صریح نصرت کے بغیر فتح ممکن نہیں اور یہ اسوقت کا معاملہ ہے جب اسلامی ریاست موجود تھی ......
دوسری طرف تلوار کی قوت سے اسلامی ریاست کا قیام ممکن نہیں .....
یہ سمجھ لیجئے کہ تلوار کی قوت سے ریاست کا قیام تو ضرور ممکن ہے لیکن اس ریاست میں مکمل اسلامی معاشرت موجود ہو اسکیلئے نبوی طریق پر محنت کی شدید ضرورت ہے ...
قیام ریاست اور اقامت دین کے صاف اور واضح مدارج ہیں جن کے بغیر اسلامی حکومت تو قائم ہو سکتی ہے خلافت نہیں ......
اب سوال یہ ہے کہ اسلامی حکومت اور خلافت میں کیا فرق ہے ....
بنو امیہ یا بنو عباس کے متعدد حکمرانوں یا خلافت عثمانیہ یا پھر ہندوستان کے دیندار مغل حکمرانوں اورنگزیب وغیرہ کی حکومت کو اسلامی حکومت کہ سکتے ہیں جب کہ احکام شریعت ریاستی سطح پر قوت کی بنیاد پر نافذ تھے اسلامی سزائیں دی جاتی تھیں .........
لیکن انہیں خلافت راشدہ قرار نہیں دیا جا سکتا ......
خلافت راشدہ وہ اسلامی حکومت ہے جہاں تمام معاشرہ چند ایک شر پسندوں کو چھوڑ اسلام کے مکمل رنگ میں رنگا دکھائی دے ...
پھر خلافت راشدہ کا مطالعہ کیجئے پہلے دو ادوار یعنی حضرت ابو بکر صدیق رض اور حضرت عمر فاروق رض کے ادوار کے استحکام میں اور حضرت عثمان رض اور حضرت علی رض کے ادوار کے استحکام میں فرق تھا ........
اگر غور کیجئے تو واضح دکھائی دیتا ہے کہ اصحاب رسول رض کے انتقال اسلامی ریاست کی سرحدوں کی تیزی سے وسعت اور کثیر تعداد میں نو مسلموں کی اسلام میں شمولیت نے خوارج اور روافض جیسے شدید تر فتنوں کو پیدہ کیا .......
یعنی جیسے ہی اسلامی معاشرت کی گرفت ڈھیلی ہونا شروع ہوئی خلافت کا رنگ تبدیل ہونا شروع ہو گیا آخر کیوں .........
غور کیجئے حکومت موجود تھی قوت موجود تھی ریاست میں اسلامی قوانین نافذ تھے لیکن پھر دنیا نے یہ منظر بھی دیکھا کہ مروان اور یزید جیسے حکمرانوں نے حکومت کی ...
اب کچھ خلافت کے قیام کے مختلف مدارج کی جانب اشارہ کر دوں .......
قرآن کریم سے ہدایت حاصل کیجئے
سورہ شوریٰ میں ارشاد ہے:
شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰی بِه نُوْحًا وَّالَّذِیْۤ اَوْحَيْْنَآ اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْْنَا بِهۤ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰی وَعِيْسٰۤی اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ.(٤٢: ١٣)
''اس نے تمھارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کی ہدایت اس نے نوح کو فرمائی اور جس کی وحی ہم نے تمھاری طرف کی اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا، اس تاکید کے ساتھ کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ نہ پیدا کرنا۔''
اب غور کیجئے ان تمام انبیاء کو دین میں " اولولعزم پیغمبر " کا خطاب دیا گیا ہے اب کچھ اس کی تفصیل
'عزم'' کے معنی مستحکم اور مضبوط ارادہ کے ہیں، راغب اصفہانی اپنی مشہورو معروف کتاب ''مفردات'' میں کہتے ہیں: عزم کے معنی کسی کام کے لئے مصمم ارادہ کرنا ہے، ''عقد القلب علی امضاء الامر''
قرآن مجید میں کبھی ''عزم'' کے معنی صبر کے لئے گئے ہیں، جیسا کہ ارشاد خداوند ہے:
( وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ ِنَّ ذَٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الُْمُورِ )(١)
''اور یقینا جو صبر کرے اور معاف کردے تو اس کا یہ عمل بڑے صبرکا کام ہے''۔
اب ان انبیاء علیہ سلام کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کیجئے
نوح علیہ سلام
ابراہیم علیہ موسیٰ علیہ سلام
عیسی علیہ سلام
اور حضرت محمد مصطفیٰ صل الله علیہ وسلم خاتم النبین
١.پہلے شدید ترین مشکلات میں انتہائی صبر کے ساتھ دعوت
٢. صالح ترین لیکن مختصر انسانی گروہ کی تعلیم ، تزکیہ و تربیت
٣. پھر اتمام حجت کے بعد ہجرت
خلافت ہمیشہ اتمام حجت اور ہجرت کے بعد ہی قائم ہوئی ہے اس گروہ انبیاء میں صرف حضرت مسیح علیہ سلام کا معاملہ بظاہر مختلف دکھائی دیتا ہے ....
لیکن غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ
آپ نے شدید مشکلات میں صبر کے ساتھ دعوت دی قوم پر اتمام حجت کیا آپ کی ہجرت آسمان پر ہوئی اور اب آپ زمین پر نازل ہوکر خلافت قائم فرمائینگے .........
یہاں محمد قطب رح کا جملہ نقل کر دوں ......
حکومت الہیہ اسلامی معاشرت کا عطر ہے
جب تک تشکیل معاشرت نہیں ہو جاتی اور معاشرہ رجوع الی الله نہیں کر لیتا اسلامی حکومت کا ظہور نا ممکنات میں سے ہے .........

حسیب احمد حسیب