Sunday, 20 July 2014

غزہ کے گمنام شہیدوں کے نام !

غزہ کے گمنام شہیدوں کے نام ! 

" ہم تو ہیں جنوں زادے "

الله کی قدرت سے ہر ظلم کی وادی کی تصویر بدل دینگے 
و الله میرے دشمن ہر خواب کی ہم تیرے تعبیر بدل دینگے 

تونے یہ نہیں سوچا ہر ظلم کا دنیا میں انجام تباہی ہے 
پر یاد رہے ظالم کچھ دیر میں ہم تیری تقدیر بدل دینگے

ہے آج تیری شاہی اس ظلم کی دنیا میں قوت ہے تجھے حاصل 
اک روز وہ آۓ گا ہر ظلم کی ہم تیرے تحریر بدل دینگے 

گرتا ہے لہو میرا بن کر یہ گل و لالہ ابھرے گا زمیں سے کل
اور باغ ارم تیرا برباد کرینگے ہم تعمیر بدل دینگے 

روشن ہے تیرے گھر میں یہ جھوٹ کا سورج جو اسکو بھی تباہی ہے 
کل کو یہ نہیں ہوگا ہم تیری طرف آتی تنویر بدل دینگے 

گو آج ہیں دنیا میں عظمت کی تیری باتیں اونچی ہیں تیری گھاتیں
وہ وقت بھی آۓ گا جب اہل جنوں تیری توقیر بدل دینگے 

اے میرے خدا وندا جب ہم نے پکارا تو آواز ہمیں آئی
اے میرے جنوں زادوں کچھ دیر میں ہم اپنی تدبیر بدل دینگے 


حسیب احمد حسیب


دین کے طالب علموں سے ایک التجا !

دین کے طالب علموں سے ایک التجا !

بے شک الله کا دین کی کسی کی میراث نہیں 
بے شک الله کی محبت کسی کی میراث نہیں 
بے شک الله کے رسول صل الله علیہ وسلم کی محبت کسی کی میراث نہیں ....

یہ تو وہ خزانہ ہے جسکا ہر کوئی برابر کا حق دار ہے
یہ دولت سب کی سانجھی ہے
یہ وہ گنج ہاۓ گرانمایہ ہے جس کا منہ ہر خاص و عام کیلئے کھول دیا گیا ہے
آؤ آتے جاؤ اور بقدر ظرف لیتے جاؤ
اس پر کسی مولوی ملا فقیہ محدث کس مفسر مجدد مجتہد کسی پیر فقیر صوفی بزرگ
اور کسی جماعت ادارے فرقے مسلک قوم یا نسل کی اجارہ داری نہیں
یہ وہ خیر کثیر ہے جسکا دریا چودہ سو سال سے رواں ہے اور ان شاء الله قیامت تک بلکہ قیامت کے بعد بھی رواں رہے گا ....

إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ ﴿١﴾ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ ﴿٢﴾ إِنَّ شَانِئَکَ هُوَ الأبْتَرُ

خدا نے کہ دیا بے شک خدا نے کہ دیا خیر کثیر آپ کا مقدر ہے
خدا نے کہ دیا بے شک خدا نے کہ دیا آپ کا دشمن ہی جڑ کٹا ہے
ہاں ہم سے مطالبہ ہے بس ایک مطالبہ

فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ
بس یہ مطالبہ پورا کر دیجئے پھر ہم بھی اس خیر کثیر میں شریک ہونگے جو فیضان نبوت کا جاری چشمہ ہے

آج دین کے طالب علموں سے ایک التجا ہے ایک گزارش ہے ایک درخواست ہے
یہ دین کے طالب علم مدارس مساجد خانقاہوں کے مکین اور دینی تبلیغی اصلاحی فکری و احیائی جماعتوں کے اراکین ہی نہیں بلکہ ہر وہ شخص جو دین کے علم کا طالب ہے دین کو سمجھنے جاننے کی جستجو میں ہے جو بھی اس راستے کا مسافر اس راہ کا راہی ہے ان سب سے درخواست ہے .

اکثر احباب مجھ سے پوچھتے ہیں دین کا علم کیسے حاصل کریں کہاں سے شروع کریں کون سا سرا پکڑیں کسی کو حدیث سے شغف کوئی فقہ کو جاننے سمجھنے کی کوشش میں کوشاں کوئی علوم قرآنی کا طالب کسی کا میدان تاریخ تو کسی کی طلب تزکیہ نفس
سب کو میرا ایک ہی جواب ہوتا ہے

خدا کے واسطے سیرت پڑھو
سیرت سے تعلق پیدہ کرو
سیرت میں مشغول رہو
بجز سیرت علوم دینیہ کا دروازہ نہیں کھلنے والا
سیرت سے ہٹ کر نہ تو قرآن کو سمجھا جا سکتا نہ حدیث کا فہم حاصل کیا جا سکتہ نہ فقہ کا افادہ ہو سکتا اور نہ ہی تاریخ کی سمجھ آ سکتی .....
بلکہ سیرت کو اپنے اندر اتارے بغیر نہ تو جہاد ، جہاد ہے
نہ دعوت ، دعوت ہے
نہ علم ، علم ہے
اور نہ ہی تزکیہ ، تزکیہ

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ’’ ترجمہ : بے شک رسول کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے

اور ایک جگہ فرمایا

من یطع الرسول فقدااطاع اﷲ’’ (النساء :80) ترجمہ:” جس نے رسول ﷺ کی اعطاعت کی اُس نے میری اعطاعت کی

اور پھر حجت ہی تام کر دی

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ’’ ترجمہ: کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالٰی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالٰی بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔

سب سے پہلی چیز جو امت پر پیش کی گئی وہ احکامات و عقائد کا بیان حکومتی و سیاسی معاملات علمی و فقہی موشگافیاں نہیں تھیں بلکہ کردار تھا

جی ہاں محمّد عربی صل الله علیہ وسلم کا کردار
پہلے چالیس سال آپ کا کردار منوایا گیا پھر نبوت اتاری گئی
اور کردار بھی ایسا کہ دشمن بھی بول رہا ہے
بے شک آپ صادق و امین ہیں
بے شک آپ سچے ہیں
بے شک آپ امانت دار ہیں
بے شک آپ معیار ہیں سچائی کا
بے شک آپ معیار ہیں امانت کا
بے شک آپ معیار ہیں کردار کا

آپ صاحب کتاب نہیں
آپ تو چلتی پھرتی کتاب ہیں

صاحبو ! جان لیجئے جب تک مزاج نبوی صل الله علیہ وسلم اور صفات نبوی صل الله علیہ وسلم کا رنگ آپ میں نہیں جھلکے گا
اور جب تک اوصاف محمدی کا نور آپ کے قلوب میں نمودار نہیں ہوگا
نہ تو آپ کو قرآن راستہ دے گا کہ اسے سمجھیں
نہ ہی حدیث آپ کی دل میں سماۓ گی کہ اسکی حکمتوں سے نفع اٹھائیں
نہ ہی فقہ آپ کے فہم کی درستگی کرے گی کہ اسکی روشنی میں دنیا کے مسائل کا حل تلاش کر سکیں

خدا کی قسم سالوں خاک چھاننے کے بعد سمجھ آیا کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آیا
یقین جانیے سیرت رسول عربی صل الله علیہ وسلم ہی وہ دروازہ ہے جو منزل کی طرف کھلتا یہی وہ راستہ ہے جسے صراط مستقیم کہتے ہیں یہی انعام والوں کا راستہ اور اس سے ہٹ کر کچھ بھی نہیں سواۓ اندھیرے اور بھٹک جانے کے .....

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّواْ مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ

سو یہ کتنی بڑی رحمت ہے اللہ کی کہ ہو تم (اے محمد ﷺ ) نرم مزاج ان کے لیے اور اگر کہیں ہوتے تم سخت مزاج اور سنگدل تو ضرور منتشر ہوجاتے یہ تمہارے گرد و پیش سے سو تم معاف کردو ان کو اور دعائے مغفرت کرو ان کے حق میں اور مشورہ لیتے رہو ان سے دین کے کام میں پھر جب پختہ فیصلہ کرلو تم تو توکّل کرو اللہ پر (اور کر گزرو) بےشک اللہ دوست رکتھا ہے توکّل کرنے والوں کو

حسیب احمد حسیب

Tuesday, 8 July 2014

ام معاویہ رض حضرت ہند بنتِ عتبہ رضی اللہ عنہا

ام معاویہ رض حضرت ہند بنتِ عتبہ رضی اللہ عنہا ! 

ابن جریر کی روایت ہے فتح مکہ کے موقع پر عورتیں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوئیں تو آپ ۖ نے حضرت عمر بن خطاب رضی ﷲ عنہ کو حکم دیا کہ وہ عورتوں سے کہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم تم سے اس بات پر بیعت لیتے ہیں کہ تم ﷲ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو. ان بیعت کے لئے آنے والوں میں حضرت ہندہ بھی تھیں جو عتبہ بن ربیعہ کی بیٹی اور حضرت ابوسفیان کی بیوی تھیں، یہی تھیں جنہوں نے اپنے کفر کے زمانے میں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی ﷲ عنہ کا پیٹ چیر دیا تھا. اس وجہ سے یہ ان عورتوں میں ایسی حالت میں آئی تھیں کہ انھیں کوئی پہچان نہ سکے. اس نے جب فرمان سنا تو کہنے لگی میں کچھ کہنا چاہتی ہوں . لیکن اگر بولوں گی توحضور صلی ﷲ علیہ وسلم مجھے پہچان لیں گے اور اگر پہچان لیں گے تو میرے قتل کا حکم دے دیں گے . میں اسی وجہ سے اس طرح آئی ہوں کہ پہچانی نہ جاؤں مگر وہ عورتیں سب خاموش رہیں اور ہندہ کی بات اپنی زبان سے کہنے سے انکار کردیا. آخر ان ہی کو کہنا پڑا کہ یہ ٹھیک ہے . جب شرک سے ممانعت مردوں کو ہے تو عورتوں کو کیوں نہ ہوگی؟ حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا لیکن آپۖ نے کچھ نہ فرمایا پھر حضرت عمر سے کہا ان سے کہہ دو کہ دوسری بات یہ ہے کہ چوری نہ کریں. اس پر ہندہ نے کہا میں ابوسفیان کی معمولی سی چیز کبھی کبھی لے کر لیا کرتی ہوں کیا خبر یہ بھی چوری میں داخل ہے یا نہیں ؟ اور میرے لئے یہ حلال بھی ہے یا نہیں ؟ حضرت ابوسفیان بھی اسی مجلس میں موجود تھے. یہ سنتے ہی کہنے لگے میرے گھر میں سے جو کچھ بھی تو نے لیا ہو خواہ وہ خرچ میں آگیا ہو یا اب بھی باقی ہو وہ سب میں تیرے لئے حلال کرتا ہوں. اب تو نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم نے صاف پہچان لیا کہ یہ میرے چچا حضرت حمزہ رضی ﷲ عنہ کی قاتلہ اور ان کے کلیجے کو چیرنے والی اور پھر اسے چبانے والی عورت ہندہ ہے. آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے انہیں پہچان کر اور ان کی یہ گفتگو سن کر اور یہ حالت دیکھ کر مسکرا دئیے اور انہیں اپنے پاس بلا لیا. انہوں نے آکر حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کا تھام کر معافی مانگی تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تم وہی ہندہ ہو؟ ہندہ جی ہاں. فرمایا جاؤ آج میں نے تجھے معاف کیا.
( ابن کثیر ، جلد5 )
( ''صحیح اسلامی واقعات ''، صفحہ نمبر 60-58)

حضرت ہند رضی اللہ عنہا مسلمان ہوکر گھر گئیں تواب وہ ہند نہ تھیں، ابن سعد نے لکھا ہے کہ انہوں نے گھرجاکر بت توڑڈالا اور کہا کہ ہم تیری طرف سے دھوکے میں تھے۔
(اصابہ:۸/۲۰۶)

اسدالغابہ میں ان کے حسنِ اسلام کے متعلق لکھا ہے کہ: أُسَلمَت يَوْم الْفَتْحِ وَحَسُنَ إِسْلَامِهَا۔
(اسدالغابہ،كتاب النساء،هِنْد بِنْت عُتْبَة:۳/۴۲۴، شاملہ،موقع الوراق)

غزوات
فتح مکہ کے بعد اگرچہ اسلام کوعلانیہ غلبہ حاصل ہوگیا تھا اور اس لیے عورتوں کوغزوات میں شریک ہونے کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی؛ تاہم جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں روم وفارس کی مہم پیش آئی توبعض مقامات میں اس شدت کا رن پڑا کہ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کوبھی تیغ وخنجر سے کام لینا پڑا؛ چنانچہ شام کی لڑائیوں میں جنگ یرموک ایک یادگار جنگ تھی، اس میں حضرت ہندرضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ دونوں نے شرکت کی اور فوج میں رومیوں کے مقابلہ کا جوش پیدا کیا۔
وفات
حضرت ہندہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں انتقال کیا، اسی دن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد ابوقحافہ نے بھی وفات پائی تھی ابن سعد کی روایت ہے کہ ان کی وفات حضرت عمررضی اللہ عنہ کے زمانہ میں نہیں بلکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہوئی، کتاب الامثال سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے؛ چنانچہ اس میں مذکور ہے کہ جب حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے وفات پائی (ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں وفات پائی) توکسی نے حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھ سے ہند رضی اللہ عنہا کا نکاح کردو؛ انہوں نے نہایت متانت سے جواب دیا کہ اب ان کونکاح کرنے کی ضرورت نہیں۔
(اصابہ:۸/۲۰۶)

اولاد
اولاد میں حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ زیادہ مشہور ہیں۔
اخلاق
حضرت ہند رضی اللہ عنہا میں وہ تمام اوصاف موجود تھے جوایک عرب عورت کے مابہ الامتیاز ہوسکتے ہیں، صاحب اسدالغابہ نے لکھا ہے: وَكَانَتْ إِمْرَأَةٌ لَهَا نَفْسٌ وَأَنَفَةٌ، وَرَأي وَعَقل۔
(اسدالغابہ،كتاب النساء،هِنْد بِنْت عُتْبَة:۳/۴۲۴، شاملہ،موقع الوراق)

ترجمہ: ان میں عزتِ نفس، غیرت رائے وتدبیر اور دانشمندی پائی جاتی تھی۔
فیاض تھیں، حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ ان کوان کے حوصلہ کے مطابق خرچ نہیں دیتے تھے، اسلام لانے کے وقت جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے عہد لیا کہ چوری نہ کریں توانہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! ابوسفیان رضی اللہ عنہ مجھے پورا خرچ نہیں دیتے اگران سے چھپاکرلوں توجائز ہے؟ آپ نے اجازت دی۔
(صحیح بخاری)

صحابی رض مظلوم !

صحابی رض مظلوم !

حضرت امیر معاویہ رض کی شخصیت وہ ہے کہ جن پر تاریخ میں سب سے زیادہ گند اچھالا گیا ہے مختار بن عبید ثقفی جیسے مدعی نبوت جسکو حضرت عبدللہ ابن زبیر رض نے جہنم واصل کیا تھا کی یاد تو بطور ہیرو اور رہنما منائی جاتی ہے لیکن حضرت امیر معاویہ رض پر دل کھول کر کیچڑ اچھالی جاتی ہے انکے اسلام کو مشکوک قرار دیا جاتا ہے اور ہر وہ برائی انکی شخصیت میں تلاش کی جاتی ہے جو انکے کردار کو اسلام کے منافی ثابت کر سکے لیکن ان مذموم کوششوں سے نہ تو ماضی میں انکی شخصیت و کردار کو گہنایا جا سکا ہے اور نہ ہی دور جدید میں یہ کوششیں رنگ لائینگی مندرجہ ذیل سطور میں کچھ جھلکیاں پیش کی جا رہی ہیں تاکہ حقائق واضح ہو سکیں ......

حضرت علی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:

اے لوگو! تم معاويہ رضی اﷲ عنہ کی گورنری اور امارت کو نا پسند مت کرو، کیونکہ اگر تم نے انہیں (معاويہ رضی اﷲعنہ) گم کر دیا تو ديکھو گے کہ سر اپنے شانوں سے اس طرح کٹ کٹ کر گریں گے، جس طرح ہنظل کا پھل اپنے درخت سے ٹو ٹ کر گر تا ہے۔(البدايہ والنہايہ حافظ ابن کثیر ص130)

بَاب قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ إِنَّ ابْنِي هٰذَا لَسَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللہَ أَنْ يُصْلِحَ بِهٖ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے متعلق ہے کہ ’’میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور شائد اللہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائے‘‘۔
صحیح بخاری۔ جلد:۲/ انتیسواں پارہ/ حدیث نمبر:۶۶۴۳/ حدیث مرفوع
۶۶۴۳۔ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللہِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ أَبُو مُوسٰی وَلَقِيتُهٗ بِالْکُوفَةِ وَجَآءَ إِلَی ابْنِ شُبْرُمَةَ فَقَالَ أَدْخِلْنِي عَلٰی عِيسٰی فَأَعِظَهٗ فَکَأَنَّ ابْنَ شُبْرُمَةَ خَافَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَفْعَلْ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ لَمَّا سَارَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللہُ عَنْهُمَا إِلٰی مُعَاوِيَةَ بِالْکَتَائِبِ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِمُعَاوِيَةَ أَرٰی کَتِيبَةً لَا تُوَلِّي حَتّٰی تُدْبِرَ أُخْرَاهَا قَالَ مُعَاوِيَةُ مَنْ لِذَرَارِيِّ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ أَنَا فَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَامِرٍ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ سَمُرَةَ نَلْقَاهُ فَنَقُولُ لَهُ الصُّلْحَ قَالَ الْحَسَنُ وَلَقَدْ سَمِعْتُ أَبَا بَکْرَةَ قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ جَآءَ الْحَسَنُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنِي هٰذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللہَ أَنْ يُصْلِحَ بِهٖ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔
۶۶۴۳۔ علی بن عبد اللہ ، سفیان، اسرائیل، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں ان سے کوفہ میں ملا تھا، وہ ابن شبرمہ کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے عیسٰی (منصور کے بھائی اور کوفہ کے والی) کے پاس لے چلو تاکہ میں انہیں نصیحت کروں، لیکن ابن شبرمہ کو خوف ہوا، اس لئے اس نے ایسا نہ کیا، اسرائیل نے اس پر کہا کہ ہم سے حسن نے بیان کیا کہ جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابلہ کے لئے لشکر لے چلے، تو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے ایک ایسا لشکر دیکھا ہے جو واپس نہ ہوگا جب تک کہ مقابل کی فوج کو بھگا نہ لے، پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: (مقتول) مسلمانوں کے اہل و عیال کا کفیل کون کرے گا؟ پھر جواب دیا: میں! پھر حضرت عبد اللہ بن عامر اور حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم ان سے ملیں گے اور صلح کے لئے گفتگو کریں گے، حضرت حسن بصری نے کہا کہ میں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ آئے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا یہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالی اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کر ادے گا۔

جس شخصیت کی تعریف خود حضرت علی رض نے فرمائی ہو جس گروہ کو خود الله کے رسول صل الله علیہ وسلم نے مسلمانوں کے گروہ میں شامل کیا ہو اور جن لوگوں سے خود حضرت امام حسن رض نے صلح کی ہو آج انکے نام لیوا کس منہ سے حضرت امیر پر کیچڑ اچھالتے ہیں " شرم انکو مگر نہیں آتی "

اب خالص شیعہ مراجع سے حضرت امیر معاویہ رض کی شخصیت پر کچھ روشنی ڈالتے ہیں ملاحظہ کیجئے .

قیس ابن ابی خازم کہتے ہیں کہ ایک شخص معاویہ کے پاس آیا اور اُس سے کوئی مسئلہ پوچھا۔ معاویہ نے جواب دیا کہ جاؤ علی علیہ السلام سے پوچھ لو، وہ سب سے بڑا عالم ہے۔ اُس شخص نے کہا کہ میں نے مسئلہ آپ سے پوچھا ہے اور آپ ہی سے جواب چاہتا ہوں۔

معاویہ نے فوراً جواب دیا: افسوس ہے تم پر! کیا تم اس پر خوش نہیں کہ تمہارے سوال کا جواب تمہیں وہ دے جس کو پیغمبر خدا نے خود اپنی زبان سے علم کی غذا دی ہو اور جس کے بارے میں پیغمبر نے یہ بھی کہا ہو کہ اے علی ! تیری نسبت میرے نزدیک وہی ہے جو ہارون کی موسیٰ کے ساتھ نسبت تھی۔جس سے خلیفہ دوم حضرتِ عمر ابن خطاب متعدد بار سوال پوچھتے رہے ہوں اور جب بھی مشکل آتی تو حضرتِ عمر یہ پوچھتے کہ کیا علی علیہ السلام یہاں ہیں؟

اس کے بعدمعاویہ نے غصے سے اُس شخص کو کہا کہ چلا جا۔ خدا تجھے اس زمین پر پاؤں نہ پھیلانے دے۔ اس کے بعد اُس کا نام بیت المال کی فہرست سے خارج کردیا۔

حوالہ

1۔ کتاب”بوستانِ معرفت“،صفحہ305،نقل از حموئی کی کتاب فرائد السمطین،جلد1،

باب68صفحہ371،حدیث302۔

2۔ ابن عساکر، کتاب تاریخ امیر الموٴمنین ،ج1،ص369،370،حدیث410،411

3۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب، صفحہ34،حدیث54۔

ماہِ رمضان میں ایک دن احنف بن قیس معاویہ کے دسترخوان پر افطاری کے وقت بیٹھا تھا۔ قسم قسم کی غذا دستر خوان پر چن دی گئی۔ احنف بن قیس یہ دیکھ کر سخت حیران ہوا اور بے اختیار اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ معاویہ نے رونے کا سبب پوچھا۔ اُس نے کہا کہ مجھے علی کے دسترخوان کی افطاری یاد آگئی۔ کس قدر سادہ تھی۔

معاویہ نے جواب دیا:”علی علیہ السلام کی بات نہ کرو کیونکہ اُن جیسا کوئی نہیں“۔

حوالہ کتاب”علی علیہ السلام معیارِ کمال“، تالیف:ڈاکٹر مظلومی۔

وہ سوالات جن کا معاویہ کو جواب معلوم نہ ہوتا تھا ،وہ لکھ کر اپنے کسی آدمی کو دیتا تھا اور کہتا تھا کہ جاؤ ان سوالات کا جواب علی علیہ السلام سے پوچھ کر آؤ۔ شہادتِ علی علیہ السلام کی خبر جب معاویہ کو ملی تو کہنے لگا کہ علی علیہ السلام کے مرنے کے ساتھ فقہ و علم کا در بھی بند ہوگیا۔ اس پر اُس کے بھائی عتبہ نے کہا کہ اے معاویہ! تمہاری اس بات کو اہلِ شام نہ سنیں۔ معاویہ نے جواب دیا:”مجھے( میرے حال پر )چھوڑ دو“۔

حوالہ کتاب”بوستانِ معرفت“، صفحہ659،نقل از ابوعمر کی کتاب استیعاب، جلد3،صفحہ45

شرح حالِ علی علیہ السلام سے۔

معاویہ نے ابوہریرہ سے کہا کہ میں گمان نہیں کرتا کہ زمام داریٴ حکومت کیلئے میں حضرت علی علیہ السلام سے زیادہ مستحق ہوں۔

حوالہ

کتاب”بررسی مسائل کلی امامت“، تالیف: آیۃ اللہ ابراہیم امینی،صفحہ74،نقل از کتاب”الامامۃ والسیاسۃ“، جلد1،صفحہ28۔

معاویہ کا خط علی علیہ السلام کے نام

وَفِیْ کِتَابِ معاویۃَ اِلٰی علیٍّ علیہ السلام وَأمَافَضْلُکَ فِی

الْاِسْلٰامِ وَ قَرَابَتُکَ مِنَ النَّبیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّمْ فَلَعُمْرِی مٰااَدْفَعُہُ وَلاٰ اُنْکِرُ۔

”معاویہ نے اپنے خط بنام علی علیہ السلام میں لکھا کہ میں اپنی جان کی قسم کھا کرکہتا ہوں کہ آپ کے فضائلِ اسلامی اور رسولِ خدا کے ساتھ قرابت داری کا منکر نہیں ہوں“۔

علی علیہ السلام کی تعریف معاویہ کی زبان سے

جب محصن ضبی معاویہ کے پاس پہنچا تو معاویہ نے اُس سے پوچھا کہ تم کہاں سے آرہے ہو؟اُس نے جواب دیا کہ میں(معاذاللہ) کنجوس ترین شخص علی ابن ابی طالب کے پاس سے آرہا ہوں۔ یہ سن کر معاویہ اُس پر چلّایا اور کہا :کیا تم اُس کو بخیل ترین شخص کہہ رہے ہو جس کے پاس اگر ایک گھر سونے(طلاء) سے بھرا ہوا ہو اور دوسرا گھر چاندی سے بھرا ہوا ہو تو وہ بیکسوں کو زیادہ سونا بانٹ دے گا اور پھر طلاء اور چاندی کو مخاطب کرکے کہے گا کہ:

یٰاصَفْرٰاءُ وَیٰا بَیْضٰاءُ غُرِّی غَیْرِی أَبِی تَعَرَّضْتِ اَمْ اِلیَّ

تَشَوَّقْتِ؟ھَیھٰاتَ ھَیھٰاتَ قَدْ طَلَّقْتُکِ ثَلٰثاً لاٰ رَجْعَةَ فِیْکَ۔

”اے طلاءِ زرد اور سفید چاندی! میرے کسی غیر کو دھوکہ دو، کیا اس طرح تم میری مخالفت کررہی ہو یا مجھے حوصلہ دے رہی ہو۔ افسوس ہے، افسوس ہے، میں نے تجھے تین مرتبہ طلاق دے دی ہے جس کے بعد رجوع ممکن نہیں“۔

حوالہ کتاب”چراشیعہ شدم“،صفحہ227۔

مغیرہ نے کہا: جب علی علیہ السلام کی شہادت کی خبر معاویہ تک پہنچی ،وہ گرمیوں کے دن تھے اور معاویہ اپنی بیوی فاختہ دختر قرظہ کے ساتھ تھا۔ معاویہ اپنی جگہ سے اٹھا اور کہا:

”اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ راجِعُوْن“

”ہم اللہ ہی کیلئے ہیں اور اُسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں“۔

پھر کہنے لگا کہ کیا عقل و دانش اور خیر کا منبع چلاگیا؟

معاویہ کی بیوی نے اُس سے کہا کہ کل تک تو تم علی کی طرف نیزے پھینک رہے تھے اور آج اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ راجِعُوْنپڑھ رہے ہو؟ معاویہ نے اُسے جواب میں کہا کہ تم نہیں جانتیں کہ کیا علم و فضیلت اور تجربہ ہاتھ سے چلا گیا۔

حوالہ

کتاب”بوستانِ معرفت“،صفحہ660۔یہ نقل کیا گیا ہے ابن عساکر کی کتاب”تاریخ

امیر الموٴمنین علیہ السلام،جلد3،صفحہ405،409،حدیث1505،1507اور کتاب مناقب ِخوارزمی سے باب 26،صفحہ283اور ابن کثیر کتاب البدایہ والنہایہ،جلد8،صفحہ15،آخر ِ وقایع،سال چہل، ہجری و دیگران۔

جاحظ کتاب المحاسن والاضداد میں لکھتا ہے کہ ایک دن حضرتِ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام معاویہ کی محفل میں گئے۔ اس محفل میں عمروعاص، مروان بن حکم اور مغیرہ بن شعبہ اور دوسرے افراد پہلے سے موجود تھے۔جس وقت امام حسن علیہ السلام وہاں پہنچے تو معاویہ نے اُن کا استقبال کیا اور اُن کو منبر پر جگہ دی۔ مروان بن حکم نے جب یہ منظر دیکھا تو حسد سے جل گیا۔ اُس نے اپنی تقریر کے دوران امام حسن علیہ السلام کی توہین کی ۔ امام حسن علیہ السلام نے فوراً اُس خبیث انسان کو منہ توڑ جواب دیا۔ ان حالات کو دیکھ کر معاویہ اپنی جگہ سے بلند ہوا اور مروان بن حکم کو مخاطب کرکے کہنے لگا:

”قَدْ نَھَیْتُکَ عَنْ ھٰذا الرَّجُل۔۔۔۔۔فَلَیْسَ اَ بُوْہُ کَاَبِیْکَ وَلَا ھُوَ مِثْلُکَ۔اَنْتَ اِبْنُ الطَّرِیْد الشَرِیْد،وَھُوَ اِبْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ الکریم۔

”میں نے تجھے اس مرد(کی توہین) کے بارے میں منع کیا تھا کیونکہ نہ اُس کا باپ تمہارے باپ جیسا ہے اور نہ وہ خود تمہارے جیسا ہے۔ تم ایک مردود و مفرور باپ کے بیٹے ہو جبکہ وہ رسولِ خدا کا بیٹا ہے“۔

حوالہ کتاب”المحاسن والاضداد“،تالیف:جاحظ(از علمای اہلِ سنت)،صفحہ181۔

گزارش ہے کہ اہل بیت کی محبت کا دم بھرنے والے اصحاب رسول سے مخاصمت چھوڑ دیں کہ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جاۓ گا ہاں یہ ضرور ہے کہ انکی عاقبت کی سیاہی میں مزید اضافہ ضرور ہوگا اس تبرائی فکر نے اب تک تو اسلام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا بجز انتشار کے ایسا نہ ہو کہ سال میں ایک بار ہونے والی سینہ کوبی مستقل مسلط ہو جاوے.....

یہ دور سینوں کی غلاظت کو اگلنے کا نہیں بلکہ افہام و تفہیم کا تقاضہ کرتا ہے ......

حسیب احمد حسیب

Sunday, 6 July 2014

مالک کی مدد آئی......!

مالک کی مدد آئی......!

گزشتہ تین ہفتے آزمائش تکلیف اور الله سے تعلق کی مضبوطی کے تھے کئی بار پیمانہ صبر چھلکنے کو بیتاب ہوا لیکن الله کی نصرت و مدد کے شواہد بھی بے شمار نظر آۓ....

والد محترم کو آفس سے واپسی پر ایک تیز رفتار رکشے نے سروس روڈ پر ہٹ کیا سیدھے پہلو اور ناک پر شدید چوٹ آئی ادھر ادھر ڈاکٹرز و اسپتالوں کے چکر کاٹنے کے بعد معلوم ہوا کہ پلوس بون سے منسلک فیومر نیک فریکچر ہے اور اسکا واحد علاج آپریشن ہے پہلے ایک ہسپتال میں کچھ دن گزرے اور وہاں کے ڈاکٹرز کے رویہ اور مہنگے داموں کی وجہ سے دوسری جگہ جانا پڑا الله کی مدد ایسے آئی کہ والد محترم کی کمپنی نے آپریشن کے اخراجات اٹھانے کی حامی بھری ایک اوسط درجے کے ہسپتال میں ایک اعلی درجے کے ڈاکٹر نے کامیاب " بائی پولر ھیمی آرتھو پلاسٹی " کی مدد سے والد صاحب کی ٹوٹی ہوئی پلوس بال کو آپریٹ کیا اسکے بعد اب الله کے کرم سے والد صاحب گھر آ چکے ہیں کچھ طویل اور کچھ عارضی احتیاطوں کے ساتھ مکمل صحت یابی تک کی مشکل چوٹی سر کرنی باقی ہے ....

اس دوران کچھ کمزور لمحات میں ایک فریاد مالک الملک کی خدمت میں دل سے نکلی جو احباب کی نظر ہے گزارش ہے کہ اس میں شعریت تلاش نہ کی جاوے بلکہ اسکو دل کی آواز سمجھ کر دل کی آنکھوں سے پڑھا جاۓ....

بیٹھے تھے پریشاں ہم ، مالک کی مدد آئی
آساں ہوے سارے غم ، مالک کی مدد آئی

ہر گام پے آقا نے رستے ہمیں دکھلاۓ
محتاج تھے ہم ہر دم ، مالک کی مدد آئی

اک سایہ رحمت تھا جلتے ہوے صحراء میں
پیاسا تھا بہت موسم ، مالک کی مدد آئی

اک نور سا ابھرا پھر ظلمت کے اندھیروں سے
پرنور ہوا عالم ، مالک کی مدد آئی

اک بوجھ سا تھا دل پر خدشات کی یورش تھی
آنکھیں تھیں میری پرنم ، مالک کی مدد آئی

میں شکر کروں کیسے مالک کی عطاؤں کا
جب درد ہوے پیہم ، مالک کی مدد آئی

آنکھوں سے میری ٹپکے کچھ درد میرے دل کے
جس وقت گری شبنم ، مالک کی مدد آئی

فریاد تو ہونٹوں تک تاخیر سے پہنچی تھی
سینے سے اٹھی سرگم ، مالک کی مدد آئی

اظہار سے عاجز میں سجدوں میں خدا وندا
کہتا تھا نمی دانم ، مالک کی مدد آئی

حسیب احمد حسیب  

مدارس پر " زکوٰۃ " کے پیسوں کے استعمال کی پھبتی .....؟

مدارس پر " زکوٰۃ " کے پیسوں کے استعمال کی پھبتی .....؟

اکثر جدت پسند مدارس پر پھبتی کستے ہیں کہ یہ زکوٰۃ کے پیسوں کو مدرسے کے مصارف میں استعمال میں لاتے ہیں جس کیلئے یہ حیلہ کیا جاتا ہے کہ رقم مدرسے کے بچوں کے نام کر کے ارباب مدارس کو انکا کفیل بنا دیا جاتا ہے اور اس الزام کو لیکر خوب دھول اڑائ جاتی ہے کہ دیکھو ان مولوی لوگوں نے اپنے مالی مفاد کیلئے دین کو بدل دیا ......
اس سے پہلے کہ اس غلط فہمی کی تصحیح ہو عجیب لطیفہ یہ بیان کر دیا جاوے کہ پھبتی کسنے والے مصارف زکوٰۃ میں ان امور کو بھی شامل کر دیتے ہیں جنکا کوئی تعلق بھی زکوٰۃ کی مدوں سے نہیں ہوتا ......

پہلے یہ معلوم کرتے ہیں کہ مصارف زکوٰۃ ہیں کیا .

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اﷲِ وَابْنِ السَّبِيْلِط فَرِيْضَةً مِّنَ اﷲِط وَاﷲُ عَلِيْمٌ حَکِيْمٌo (التوبة، 9 : 60)

’’بے شک صدقات (زکوٰۃ) محض غریبوں اور محتاجوں اور ان کی وصولی پر مقرر کیے گئے کارکنوں اور ایسے لوگوں کے لیے ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو اور (مزید یہ کہ) انسانی گردنوں کو (غلامی کی زندگی سے) آزاد کرانے میں اور قرضداروں کے بوجھ اتارنے میں اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں پر (زکوٰۃ کا خرچ کیا جانا حق ہے)۔ یہ (سب) اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے‘‘۔

یہ زکوٰۃ کے معلوم و منصوص مصارف ہیں

اب غامدی لطائف ملاحظہ کیجئے

''ریاست اگر چاہے تو حالات کی رعایت سے کسی چیز کو زکوٰۃ سے مستثنیٰ قرار دے سکتی اور جن چیزوں سے زکوٰۃ وصول کرے، ان کے لیے عام دستور کے مطابق کوئی نصاب بھی وضع کرسکتی ہے۔'' (میزان 351:)

یعنی یہاں ریاست کو شریعت میں مداخلت کا کھلا حق دیا جا رہا ہے اور چونکہ موصوف کے نزدیک موجودہ جدید ریاستیں بھی اسلامی ریاستیں ہیں بلکہ جناب نے اسلامی و غیر اسلامی ریاست کی تخصیص ہی نہیں فرمائی اسلئے کھلی چھٹی جو چاہے کیجئے .....

پھر یہاں پر مزید نکتہ آفرینیاں فرماتے ہیں

اس آیت میں جو مصارف بیان کیے گئے ہیں، اُن کی تفصیل یہ ہے :
فقرا ومساکین کے لیے ۔
'العاملین علیھا' ، یعنی ریاست کے تمام ملازمین کی خدمات کے معاوضے میں ۔
'المؤلفة قلوبھم' ، یعنی اسلام اور مسلمانوں کے مفادمیں تمام سیاسی اخراجات کے لیے ۔
'فی الرقاب' ، یعنی ہر قسم کی غلامی سے نجات کے لیے ۔
'الغارمین' ، یعنی کسی نقصان ، تاوان یا قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے لوگوں کی مدد کے لیے۔
'فی سبیل الله' ، یعنی دین کی خدمت اورلوگوں کی بہبود کے کاموں میں ۔
'ابن السبیل' ، یعنی مسافروں کی مد داوراُن کے لیے سڑکوں ، پلوں ، سراؤں وغیرہ کی تعمیر کے لیے۔
... زکوٰۃ کے مصارف پر تملیک ذاتی کی جو شرط ہمارے فقہانے عائد کی ہے ، اُس کے لیے کوئی ماخذ قرآن وسنت میں موجود نہیں ہے ، اِس وجہ سے زکوٰۃ جس طرح فرد کے ہاتھ میں دی جا سکتی، اُسی طرح اُس کی بہبود کے کاموں میں بھی خرچ کی جاسکتی ہے ۔'' (میزان 351۔352)

اس سے قطع نظر کہ یہ موشگافیاں اسلام کی تعلیمات کے کتنے خلاف ہیں مدارس اور اہل مدارس پر پھبتی کسنا کہاں کا انصاف ہے ......

مدارس معلوم دنیا کی سب سے بڑی این جی اوز ہیں جہاں دینی طالب علموں کو علم ، لباس ، غذاء ، تربیت و رہائش کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جن میں کوئی ریاستی پیسہ شامل نہیں ہوتا اور یہ تمام مدات ان جدت پسندوں کے اصولوں کے بھی مطابق ہیں لیکن پھر بھی پھبتیاں کسنا خبث باطن نہیں تو اور کیا ہے ...

تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو میرے نامہِ سیاہ میں ہے

اب ذرا علمی دلائل پر غور کیجئے

اس وقت ریاست اسلامی کا وجود نہیں اور دینداروں کی اکثریت ریاستی اداروں پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں سو " مدارس " کی حیثیت وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا کی ہے جو لوگوں سے اموال زکوٰۃ جمع کرنے کا فریضہ بھی سر انجام دیتے ہیں سو اپنے مصارف پر اسکا استعمال انکا حق دکھائی دیتا .....
ریاست کو یہ اختیار اس وقت ہی حاصل ہو سکتا ہے جب وہ اسلامی ہو ....

دینی مدارس کوزکوٰۃ کی ادائیگی

دینی مدارس کی حیثیت دراصل دین کے مضبوط قلعوں اور الحاد ودہریت کے سمندر میں محفوظ جزیروں کی ہے، مسلمانوں کے سیاسی زوال اور اس کے بعد سے اسلام کومٹانے کی پیہم کوششوں کے باوجود ہمارے ملک میں اسلام کا محفوظ رہنا بلکہ یہاں کی مذہبی حالت کا عالمِ اسلام سے بھی بہتر ہونا بڑی حد تک ان ہی مدارس کا فیض ہے، اللہ تعالیٰ اس نظام کوجاری وساری رکھے، اسلام نے زکوٰۃ کے جومصارف بتائے ہیں ان پرغور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کا مقصد صرف غرباء اور مستحقین کی مدد ہی نہیں ہے؛ بلکہ اسلام کا تحفظ بھی ہے؛ چنانچہ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ (التوبۃ:۶۰) سے اکثر فقہاء کے نزدیک مجاہدین کی مدد مراد ہے جواسلامی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں اور مُؤلِّفَۃِ الْقُلُوْب سےنومسلموں یاان غیرمسلموں کا تعاون مراد ہے، جن سے شرکا اندیشہ ہو، ظاہر ہے زکوٰۃ کے یہ دونوں مصارف اسلام کی حفاظت ہی کا ایک حصہ ہیں، تعلیمی اداروں کی اور اہلِ علم کی مدد بھی دراصل دین ہی کی مدد کا ایک حصہ ہے۔

(جدید فقہی مسائل:۱/۲۲۴)

وصولی زکوٰۃ میں نظماءِ مدارس کی حیثیت

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہندوپاک میں دینی مدارس کا ایک غیرمعمولی نظام قائم ہے اور اس خطہ میں اسلام کا بقاء اور مسلمانوں کا دینی وملی وجود اسی نظام کا رہینِ منت ہے، یہ نظم کسی مستقل سرکاری یاغیرسرکاری امداد پرمبنی نہیں ہے؛ بلکہ عام مسلمانوں کی اعانتوں اور نصرتوں سے ان اخراجات کی تکمیل ہوتی ہے، ظاہر ہے کہ ان اعانتوں کا بڑا حصہ زکوٰۃ وصدقاتِ واجبہ کی رقم ہے، مدارس کے نظماء وسفرا زکوٰۃ وصول کرتے ہیں؛ پھرمدرسہ ان کوطلبہ کے اخراجات پرخرچ کرتا ہے؛ اس سلسلے میں بہتر ہے کہ نظماءِ مدارس کوطلبہ اور زکوٰۃ دہندگان دونوں کا وکیل تصور کیا جائے، طلبہ کا وکیل ہونے کی وجہ سے اس کے زکوٰۃ وصول کرتے ہی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی اور زکوٰۃ دہندگان کے وکیل ہونے کی حیثیت سے ان پریہ پابندی ہوگی کہ اس رقم کومصارفِ زکوٰۃ ہی میں صرف کریں، آج کل دینی درسگاہوں میں پرشکوہ تعمیرات اور دوسری زوائد وتحسینیات پرکثیر صرفہ کاجورحجان پیدا ہوگیا ہے، ان میں زکوٰۃ کی رقم صرف نہ کی جائے کہ ان مدات میں توخود زکوٰۃ دہندگان بھی اپنی رقم خرچ نہیں کرسکتے، علماء ہند میں بعضوں نے نظماء کوطلبہ کا، بعضوں نے زکوٰۃ ادا کرنے والوں کا اور بعضوں نے دونوں کا وکیل تسلیم کیا ہے، اس عاجز کا خیال ہے کہ یہی تیسری رائے زیادہ صحیح، قرینِ صواب اور مبنی براحتیاط ہے۔

(جدید فقہی مسائل:۱/۲۲۶)

یہاں ایک اور دینی نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیا کفیل کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس کی کفالت کر رہا ہے اسکے اموال میں سے کچھ استعمال کر لے ....
یہاں قرآنی اصول ملاحظہ کیجئے

وَابْتَلُوا الْيَتَامٰى حَتّٰى إِذَا بَلَغُوا النِّکَاحَ فَإِنْ اٰنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَأْكُلُوْهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَنْ يَّكْبَرُوْاۚ وَمَنْ کَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَنْ کَانَ فَقِيْرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوْا عَلَيْهِمْ ۚ وَکَفٰى بِاللّٰہِ حَسِيْبًا(۶)

اوریتیموں کو آزماتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں پھر اگر تم ان میں صلاحیت (حسن تدبیر) پاؤ توان کے مال ان کے حوالے کردو اوران کا مال نہ کھاؤضرورت سے زیادہ اورجلدی(اس خیال سے)کہ وہ بڑے ہوجائیں گے اورجو غنی ہو وہ (مال یتیم سے)بچتا رہے اورجوحاجت مند ہو وہ دستور کے مطابق کھائے پھر جب ان کے مال ان کے حوالے کروتوان پر گواہ کرلو اوراللہ کافی ہے حساب لینے والا (۶)

فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ کا کلیہ قرآن نے ہی دیا ہے سو اہل مدارس پر پھبتیاں اور الزامات کی بوچھاڑ کرنے والے اگر قرآن سنت سے رجوع کریں تو ضرور حق پا جویں مگر وہ جو حق کے متلاشی ہوں ......

فَمَن يُرِدِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ ۖ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْعَلُ اللَّـهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿١٢٥﴾ وَهَـٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيمًا ۗ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ : الانعام

حسیب احمد حسیب 

Sunday, 15 June 2014

بریدہ دست تھے پرچم بلند کیا کرتے

٧، ٢ ، ٢٠١٤
غزل 

بریدہ دست تھے پرچم بلند کیا کرتے 
شکستہ روح تیرے ارجمند کیا کرتے 

وہیں مقیم تھےواعظ بھی شیخ بھی کل شب
تو میکدے کو سر شام بند کیا کرتے

لہو میں جن کے ہے لتھڑی ہوئی زبان انکی
وہ گرگ پرورش گوسفند کیا کرتے

وہ پیر تسمہ پا چمٹے ہوے تھے گردن سے
زمیں کے بوجھ تھے جو ، وہ ز قند کیا کرتے

جو مال و زر کے پجاری تھےمرتبوں کےغلام
کسی غریب کی بیٹی پسند کیا کرتے

بروج عشق فلک پر بلند تھے اتنے
کہ ہم زمین سے ان پر کمند کیا کرتے

بس انکی دید سے آنکھوں میں روشنی بھرتے
کہ مہتاب کو مٹھی میں بند کیا کرتے

شکست وریخت کےمارے ہوےتھےوہ خودبھی
تو ہم پے وار پھر انکے گزند کیا کرتے

تیری گلی سے گذرتے تجھے نہیں ملتے
اذیت غم ہجراں دو چند کیا کرتے

عجیب شعر کہے ہیں غزل میں تم نے حسیب
خیال خام کو اس سے بلند کیا کرتے

حسیب احمد حسیب