Google+ Followers

Friday, 29 August 2014

* استفسار *

* استفسار *

اچھا ! تو کیا میں که دوں ...........؟

یہ تم سے پوچھنا ہے
لیکن مجھے پتہ ہے 
تم نے نہیں سنا ہے 
کتنا عجیب سا یہ 
چاہت کا سلسلہ ہے 
ہونٹوں کو بند کر کے 
آنکھوں سے بولنا ہے 

اچھا ! تو کیا میں کہ دوں ........... ؟

چاہت کے سلسلوں میں 
الجھے سے راستوں پے 
چلنا ہے آبلہ پا 
رکنا نہیں کہیں بھی 
لیکن میں جانتا ہوں 
تم کو نہیں پتہ ہے 
یہ دل کا معاملہ ہے 

اچھا ! تو کیا میں کہ دوں ........ ؟

جاؤ نہیں میں کہتا 
تم سے میں کیوں کہوں وہ 
جو آرزو ہے میری 
جو جستجو ہے میری 
جو بھی میں سوچتا ہوں 
جو بھی میں دیکھتا ہوں 
اے گردش زمانہ 
روٹھی ہوئی ہوئی محبت 
کب لوٹ کر ہے آئی
پھر بھی میں پوچھتا توں 
پھر بھی میں پوچھتا ہوں 

اچھا ! تو کیا میں کہ دوں .......... ؟

حسیب احمد حسیب

فکری قبض

فکری قبض !

مولانا فرماتے ہیں
چوں کہ قبض آید تو در وے بسط بیں
تازہ باش وچیں میفگن بر جبین
چوں کہ قبضے آیدت اے راہ رو
آں صلاحِ تست آیس دل مشو
(ترجمہ:جب حالت قبض تجھ کو پیش آئے تو اس میں خوش رہ، ہشاش بشاش رہو اور پیشانی پر شکن نہ لاؤ، اے راہ سلوک کے مسافر !تجھے حالت قبض پیش آتی ہے اس سے مقصود تیری اصلاح ہے، اس حالت پر تو دل چھوٹا نہ کر۔)

اس کے بعد بسط کی کیفیت ہوتی ہے
ایک تخلیق کار پر یہ کیفیات ضرور طاری ہوتی ہیں کبھی مضامین کا ورود ہوتا ہے قلم رواں ہوتا ہے زبان پر الفاظ جاری ہوتے ہیں اور تخلیقی عمل اپنے عروج پر ہوتا ہے اور کبھی قلم روک دیا جاتا ہے زبان پر لکنت طاری ہو جاتی ہے اور تخلیقی سوتے خشک ہو جاتے ہیں یاد رہے یہ وقت تحقیق کا ہوتا ہے ہتھیار تیز کرنے کا کیونکہ طبیعت دوبارہ رواں ہونے والی ہے ......

لاروا جب بھی اپنے (cocon) میں جاتا ہے ہر مرتبہ خوبصورت رنگوں اور پروں کو ساتھ لیے پرواز کیلئے تیار نکلتا ہے یہ تخلیقی قبض پرواز کی بلندی کیلئے ہوتا ہے

قعر چہ بگزید ہر کہ عاقلست
زانکہ در خلوت صفاہائے دلست
چشم بند و لب بہ بند و گو ش بند
گر نہ بینی نور حق بر ما نجند

یعنی ہوشیار لوگ گہرائی میں جانا کیوں پسند کرتے ہیں اس لئے کہ خلوت میں دلوں کی صفائی حاصل ہوتی ہے ۔آنکھوں کو ،ہونٹوں کو اور کانوں کو کچھ عرصے کے بند کرو یعنی تخلیہ میں چلے جاؤ پھر حق کا نور نہ دیکھو تو مجھ پر ہنسو۔بعض لوگ وقتی طور پر باطن کی کچھ صفائی حاصل کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں اور اپنی حفاظت سے غافل ہوجاتے ہیں تو جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ لاکھوں جال بکھرے ہوئے ہیں اس میں کسی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔اس لئے رومی ؒ اس قسم کی اطمینان سے اس طرح منع کرتے ہیں :

اندر رہ می تراش و می خراش
تادمے آخر دمے فارغ مباش
تا دمے آخر دمے آخر بود
کہ عنایت با تو صاحب سر بود

اندر ہی اند ر تراش و خراش جاری رکو اور نفس کی اصلاح سے آخری سانس تک فارغ نہ بیٹھنا ۔آخری دم تک کام کرتے رہ یہاں تک کہ آخر وقت آجائے ممکن ہے کہ راز والا آپ کو راز آشنا کردے

(اقتباس )

میں خود سےدورنکلنےکے فن سے واقف ہوں
میں اپنے آپ میں رہتا ہوں ضم نہیں ہوتا

کبھی کبھی اپنے آپ سے دور نکلنا بھی تخلیقی عمل کے لوازمات میں سے ہوتا ہے یہ وقت ارکتاز کا وقت ہے بیٹری کو ریچارج کرنے کا وقت .........
یاد رکھئے نیند بیداری کیلئے ضروری ہے ورنہ احساس کی موت واقع ہو سکتی ہے

حسیب احمد حسیب

میرے مزاج کے رنگوں کو ظاہر کرتی

میرے مزاج کے رنگوں کو ظاہر کرتی 

تازہ غزل !

دیوار میں در رکھنا 
دیوار مگر رکھنا 

پرواز کے موسم تک 
ٹوٹے ہوے پر رکھنا

شیشے کی عمارت ہے 
پتھر کا جگر رکھنا 

حق میرا مجھے دے دو
پھر دار پہ سر رکھنا

جانا ہے عدم بستی 
کیا زاد سفر رکھنا 

پندار بھلے ٹوٹے 
کردار مگر رکھنا

کٹ جاۓ بھلے گردن
دستار میں سر رکھنا 

لمبی ہے شب فرقت
آنکھوں میں سحر رکھنا

سورج سے نہیں خطرہ 
جگنو پے نظر رکھنا

تہذیب کے لاشے کو 
مت لا کے ادھر رکھا 

باطن ہے منور تو 
کیا شمس و قمر رکھنا 

مشکل ہے بہت مشکل 
دل میں تیرے گھر رکھنا 

شعروں میں حسیب اپنے 
کچھ لعل و گہر رکھنا 

حسیب احمد حسیب

پھر نگاہوں نے وہ منظر دیکھا

پھر نگاہوں نے وہ منظر دیکھا !

لال مسجد کا گھیراؤ کیا جا چکا ہے خون کی ہولی کھیلنے کا وقت قریب ہے بے گناہ بچیوں کو قتل کیا جانا ہے مسجد کی بےحرمتی ہونی ہے مقدس اوراق کو بوٹوں تلے روندا جانا ہے .......

نگاہوں نے وہ منظر دیکھا .......

ملک گیر احتجاج ہوا پارلیمنٹ ہاؤس کا گھیراؤ کر لیا گیا قاتل مشرف کے خلاف انقلابی تحریک شروع ہوئی تمام دیوبند مدارس میں تعلیمی عمل بند کر دیا گیا اکابرین وفاق نکل کھڑے ہوے پورا دیوبند مسلک ہم آواز ہو گیا ......
یہاں صرف دیوبندی نہیں اہل حدیث بھی جو تمام مسلکی تعصبات کو بالاۓ طاق رکھ کر اپنے مواحد بھائیوں کا ساتھ دینے میدان میں آ چکے ہیں یہیں کہیں جماعتی احباب اپنی منظم قوت کے ساتھ موجود ہیں اور ہراول دستے کا کام دے رہے ہیں .....
جہادی حلقوں کی اسلام آباد آمد شروع ہو چکی تمام جہادی حلقوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایسا کوئی ظلم نہیں ہونے دینگے .....

پھر نگاہوں نے وہ منظر دیکھا 

وہ منظر دیکھا وہ منظر دیکھا وہ منظر دیکھا وہ منظردیکھا 

مگر نگاہوں نے وہ منظر نہیں دیکھا 
کبھی نہیں دیکھا 

سلام عمران خان سلام طاہر القادری 

خوش رہو آج معلوم ہوا اہل سنت حلقوں کی فکری موت واقع ہو چکی ہے .

حسیب احمد حسیب

تم بھی دیکھو گے ہم بھی دیکھیںگے

تم بھی دیکھو گے ہم بھی دیکھیںگے


 تم بھی دیکھو گے ہم بھی دیکھیںگ

بے لباسی لباس والوں کی

 

میری دھرتی میں ہے پزیرائی


تن کے گوروں کی من کے کالوں کی 

حسیب احمد حسیب

حدیث اور فرقہ واریت

حدیث اور فرقہ واریت !

مجھے اس مغالطے کی وجہ کبھی سمجھ نہیں ای کہ اسلام میں فرقہ واریت کی وجہ حدیث ہے .................
غور کیجئے حدیث میں جرح و تعدیل کے اصول ہیں روایت و درایت کا اہتمام کیا جاتا ہے اگر کوئی فرقہ اپنی دلیل میں کوئی حدیث پیش کرتا ہے تو اسکی جانچ ہوتی ہے اسکو روایت و درایت کے اصولوں سے گزارا جاتا ہے دوسری احادیث سے اسکی تطبیق کی جاتی ہے یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ قرآن سے تو متصادم نہیں سو حدیث کی بنیاد پر فرقہ گری کا امکان ہی نہیں .......

دوسری طرف جب کوئی فرقہ اپنی دلیل میں قرآن کو پیش کرتا ہے تو آپ اس میں صحیح و ضعیف کا سوال ہی نہیں اٹھا سکتے یہاں راویوں کو دیکھنے کی بات ہی نہیں ہو سکتی یہ قرآن ہے اسکا ماننا لازم ہے ....
سو جدید و قدیم ہر فرقہ اپنے فرقے کی حقانیت کیلئے قرآن ہی کو دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے ابتداء میں بننے والے دو بڑے فرقوں روافض و خوارج نے قرآن کو ہی دلیل بنایا تھا.....

اور میں فرقوں کی کتب سے قرآنی دلائل کی بے شمار امثال پیش کر سکتا ہوں
تو کیا آپ کے اصول کے مطابق قرآن کو بھی چھوڑ دیا جاۓ......

حسیب احمد حسیب

Thursday, 14 August 2014

غریب کا بچہ

" غریب کا بچہ "
غریب کا بچہ !

جی یہ وہ غریب کا بچہ نہیں جو واقعی غریب کا بچہ ہوتا ہے کیونکہ غریب کے بچے کا تذکرہ آخر کون کرے گا اور اسکا فائدہ بھی کیا بلکہ غریب کا بھی کیا فائدہ بجز اسکے کہ وہ کسی ہنگامے ، طوفان اور فساد کی نظر ہو جاوے یا بیچارہ عید کی خوشی میں سمندر پر نہاتے ہوے انتظامی بدحالی کی وجہ سے سمندر کا رزق ہو جاوے اور الزام اسکی جہالت پر ڈال دیا جاۓ ........ ہنہ غریب کا بچہ "
ہاں ہمارے لوگ غریب کی بچیوں کی طرف ضرور راغب ہوتے ہیں نرم دل انسانیت پسند جو ٹھہرے ویسے غریب کی بچی کی پرواز ہوتی بہت اونچی ہے اب اپنی لالہ کو ہی لےلیجے جسکا ملال پوری دنیا کو ہے .......

یہ وہ غریب کا بچہ ہے جسے یہ لقب دوستوں کی طرف سے دیا جاتا ہے ...
آپ کسی ہوٹل میں جائیں اور کسی ایک ساتھی کے پاس کم پیسے نکل آئیں تو اسکے دوست اسے پانچ انگلیاں دکھاتے ہوے کہتے ہیں ہنہ غریب کا بچہ...
اگر آپ کے حلقہ احباب میں کوئی بیروزگار ہے اور دوستوں کی عیاشیوں کے ساتھ قدم ملا کر چلنا اسکیلئے ممکن نہیں تو پھر وہی پھبتی چل غریب کا بچہ....

کسی دیندار آدمی کی شادی ہو اور سادی ہو تو خاندان کے دوستوں کی طرف سے پھبتی ابے غریب کے بچے کچھ خرچہ ہی کر لیتا اور اس غریب کے بچے کی کھسیانی ہنسی .....

کبھی کبھی یہ لقب کسی خسیس کو شرم دلانے کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے جو ہمیشہ دوستوں سے دعوتیں اڑا کر اپنی خالی جیب دکھا دے اور دوست کہیں " ابے غریب کے بچے "

ایک مسلہ بلکہ قومی مسلہ یہ بھی ہے کہ ان غریبوں کے بچے ہوتے بھی بہت ہیں یہ بچے دو ہی اچھے کے مقولے کو مانتے تو ہیں لیکن دس میں سے دو کو چن کر .....

بلکہ ایسا لگتا ہے کہ یہ بھی کوئی یہودی سازش ہے کہ غریب کی غربت اور اسکے بچے کو تضحیک کی علامت بنا دیا گیا کبھی یہ کسی نے نہیں کہا ارے او " امیر کے بچے "

لیکن اگر غور کیا جاوے تو یقین کیجئے اس غریب کے بچے کے بغیر ہماری قوم ہماری قومیت اور ہماری قوت کا بھٹہ ہی بیٹھ جاوے کیونکہ یہی غریب کا بچہ قوم ہے یہ قومیت کا مارا ہے اور یہی ہماری قوت کی بھٹیوں کا ایندھن بھی ہے .....

ہر جگہ غریب کا بچہ ہے یہ مسجد کا موزن ہو یا اگلی صفوں پر لڑنے والا سپاہی یہ مجاہد فی سبیل الله ہو یا مل کا مزدور یا پھر کوئی لنڈورا سڑک چھاپ روڈ ماسٹری کرنے والا یہ ہر جگہ ہے اور یہ ہر طرح ہے ....
کیونکہ یہ ہے ایک

" غریب کا بچہ "

حسیب احمد حسیب