Google+ Followers

Thursday, 14 August 2014

غریب کا بچہ

" غریب کا بچہ "
غریب کا بچہ !

جی یہ وہ غریب کا بچہ نہیں جو واقعی غریب کا بچہ ہوتا ہے کیونکہ غریب کے بچے کا تذکرہ آخر کون کرے گا اور اسکا فائدہ بھی کیا بلکہ غریب کا بھی کیا فائدہ بجز اسکے کہ وہ کسی ہنگامے ، طوفان اور فساد کی نظر ہو جاوے یا بیچارہ عید کی خوشی میں سمندر پر نہاتے ہوے انتظامی بدحالی کی وجہ سے سمندر کا رزق ہو جاوے اور الزام اسکی جہالت پر ڈال دیا جاۓ ........ ہنہ غریب کا بچہ "
ہاں ہمارے لوگ غریب کی بچیوں کی طرف ضرور راغب ہوتے ہیں نرم دل انسانیت پسند جو ٹھہرے ویسے غریب کی بچی کی پرواز ہوتی بہت اونچی ہے اب اپنی لالہ کو ہی لےلیجے جسکا ملال پوری دنیا کو ہے .......

یہ وہ غریب کا بچہ ہے جسے یہ لقب دوستوں کی طرف سے دیا جاتا ہے ...
آپ کسی ہوٹل میں جائیں اور کسی ایک ساتھی کے پاس کم پیسے نکل آئیں تو اسکے دوست اسے پانچ انگلیاں دکھاتے ہوے کہتے ہیں ہنہ غریب کا بچہ...
اگر آپ کے حلقہ احباب میں کوئی بیروزگار ہے اور دوستوں کی عیاشیوں کے ساتھ قدم ملا کر چلنا اسکیلئے ممکن نہیں تو پھر وہی پھبتی چل غریب کا بچہ....

کسی دیندار آدمی کی شادی ہو اور سادی ہو تو خاندان کے دوستوں کی طرف سے پھبتی ابے غریب کے بچے کچھ خرچہ ہی کر لیتا اور اس غریب کے بچے کی کھسیانی ہنسی .....

کبھی کبھی یہ لقب کسی خسیس کو شرم دلانے کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے جو ہمیشہ دوستوں سے دعوتیں اڑا کر اپنی خالی جیب دکھا دے اور دوست کہیں " ابے غریب کے بچے "

ایک مسلہ بلکہ قومی مسلہ یہ بھی ہے کہ ان غریبوں کے بچے ہوتے بھی بہت ہیں یہ بچے دو ہی اچھے کے مقولے کو مانتے تو ہیں لیکن دس میں سے دو کو چن کر .....

بلکہ ایسا لگتا ہے کہ یہ بھی کوئی یہودی سازش ہے کہ غریب کی غربت اور اسکے بچے کو تضحیک کی علامت بنا دیا گیا کبھی یہ کسی نے نہیں کہا ارے او " امیر کے بچے "

لیکن اگر غور کیا جاوے تو یقین کیجئے اس غریب کے بچے کے بغیر ہماری قوم ہماری قومیت اور ہماری قوت کا بھٹہ ہی بیٹھ جاوے کیونکہ یہی غریب کا بچہ قوم ہے یہ قومیت کا مارا ہے اور یہی ہماری قوت کی بھٹیوں کا ایندھن بھی ہے .....

ہر جگہ غریب کا بچہ ہے یہ مسجد کا موزن ہو یا اگلی صفوں پر لڑنے والا سپاہی یہ مجاہد فی سبیل الله ہو یا مل کا مزدور یا پھر کوئی لنڈورا سڑک چھاپ روڈ ماسٹری کرنے والا یہ ہر جگہ ہے اور یہ ہر طرح ہے ....
کیونکہ یہ ہے ایک

" غریب کا بچہ "

حسیب احمد حسیب

دہریت کا بنیادی مرض

" میں آزاد ہوں "
دہریت کا بنیادی مرض !

" میں آزاد ہوں "

کلی آزادی یہ ہمیشہ انسان کی خواہش رہی ہے مگر کیا کیجئے انسان مقید ہے آپ لاکھ انکار کیجئے حیلے بہانے تراشیں لیکن آپ مجبور ہیں ....

انسان مقید ہے انسان کا
انسان مقید ہے اپنے مادی وجود کا
انسان مقید ہے اپنے جذبات و احساسات کا
انسان مقید ہے اپنے ماحول کا
انسان مقید ہے اپنے افکار کا

کہیں خونی رشتے آپ کے پیر کی دیوار ہیں تو کہیں ریاستی قوانین آپ کے راستے کی رکاوٹ کہیں آپ کا کمزور وجود آپ کی خواہشات کو پورا کرنے میں ناکام تو کہیں آپ کے جذبات آپ کی فکری پرواز میں مزاحم .....
کیا خوب کہا ہے شاعر نے

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

خدا کا آپ سے ایک ہی مطالبہ ہے دیکھو میری غلامی میں آجاؤ اور آپ کی یہی رٹ میں ناں مانوں..

غور کیجئے کیا آپ اپنے ارد گرد موجود مادی حدود و قیود کو توڑ سکتے ہیں اس لا محدود پھیلی ہوئی کائنات میں آپ کی پرواز کہاں تک ہے پھر آپ کی جسمانی کمزوریاں کیا آپ ہمیشہ جاگ سکتے ہیں یا ہمیشہ سو سکتے ہیں کیا آپ غم خوشی دکھ تکلیف سے مبراء ہو سکتے .....

پھر آپ پر زمینی حدود کی پابندیاں یہ پاکستان ہے یہ ہندوستان یہ امریکہ یہ انگلستان یہ کوریا یہ جاپان .....
کبھی کسی ملحد نے اس پر اعتراض کیوں نہیں کیا ہاں جہاں مذاہب کی حدود کی بات آئی پھر میں ناں مانوں کی تکرار .....

آپ کی مرضی مت مانئے آپ کے ماننے یا نہ ماننے سے حقائق تبدیل نہیں ہوتے .....

پھر ہر شخص دوسرے شخص کا قیدی میری آزادی وہاں ختم ہوتی ہے جہاں آپ کی ناک شروع ہوتی ہے ایسا کیوں جناب آپ کی آزادی وہاں کیوں ختم نہیں ہوتی جہاں مذھب کی حد شروع ہوتی ہے ......

کبھی آپ بچے تھے تو آپ کے ماں باپ نے آپ کی پرورش کی استادوں نے آپ کو پڑھایا کتابوں میں لکھے نے آپ کو سکھایا دنیا کے مشاہدے نے آپ کو سمجھایا ......
تو سوال یہ ہے کہ آپ کہاں ہیں آپ کون ہیں آپ کی اپنی حیثیت کیا ہے
ایک عظیم الشان فطری کارخانے کے ایک کارندے جو اس مشین میں چل رہا ہے اور اس کا اس مشین سے نکلنا ممکن ہی نہیں .

آپ لاکھ کہیں میں آزاد ہوں لیکن کیا کیجئے
آپ صرف ایک غلام ہیں فطرت کے غلام
اب فیصلہ آپ کا ہے کہ آپ کو کس کا غلام بننا ہے
اپنی بےلگام خواہشات کا یا پھر
ایک سچے حقیقی رب کا

حسیب احمد حسیب

اسلام ایک متواتر دین

اسلام ایک متواتر دین !

تواتر ایک فطری امر ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں دکھائی دیتا ہے ہم کسی بھی چیز کے متواتر ہونے سے اسکی حقیقت پر اعتبار حاصل کرتے ہیں اب اپنے ارد گرد موجود مظاہر فطرت پر نگاہ ڈالیے سورج کا روز نکلنا اور غروب ہونا چاند کا نمودار ہونا موسموں کا تبدیل ہونا اور دوسرے کائناتی تغیرات ایک تواتر (pattern) کو ظاہر کرتے ہیں پھر انسان کے اپنے معاملات جن سے وہ اپنی کیفیات کو پہچانتا ہے متواتر ہیں بچوں کی ولادت مرد و زن کے باہمی تعلقات انسانی جذبات و احساسات سب ایک تواتر پر موجود ہیں یا متواتر ہیں .......
غور کیجئے اگر یہ تواتر موجود نہ ہوتا تو کسی بھی چیز کو بدیہی حقیقت یا حقائق میں کیسے شمار کیا جا سکتا تھا سورج کبھی نکلتا اور کبھی نہ نکلتا کبھی پورا سال موسم سرما جاری رہتا اور کبھی گرمی کا موسم ....

ہم اپنے ماحول حالات واقعات کی پہچان تواتر سے ہی کرتے ہیں یہ ایک (Natural phenomenon) ہے اور یہ کسی مذہبی مولوی کی ذہنی اختراع نہیں بلکہ جدید دنیا کے محققین بھی اسی نتیجے تک پہنچے ہیں ...

پھل پھول نباتات جمادات غرض کائنات کی ہر شے میں ایک عظیم تواتر موجود ہے .پچھلی صدی کا ایک عظیم دماغ آئین سٹائن کہتا ہے (The basic laws of the universe are simple, but because our senses are limited, we can’t grasp them. There is a pattern in creation.

If we look at this tree outside whose roots search beneath the pavement for water, or a flower which sends its sweet smell to the pollinating bees, or even our own selves and the inner forces that drive us to act, we can see that we all dance to a mysterious tune, and the piper who plays this melody from an inscrutable distance—whatever name we give him—Creative Force, or God—escapes all book knowledge.)

سچ ہے اگر اس کائنات سے متواترات کو ختم کر دیں تو اس کی کیا حقیقت باقی رہتی ہے .
ہماری مذہبی سوچ کا مسلہ یہ بھی ہے کہ وہ قدیم مذہبی نظریات سے چھٹکارا حاصل کرتا ہے تو جدید مذہبی بندش میں پھنس جاتا ہے لیکن کائناتی اسرار و رموز اسپر نہیں کھلتے اور وہ انھیں سمجھنے سے قاصر رہتا ہے ..

اگر کتاب الله تواتر سے ثابت نہیں یا دینی اعتقادات کا ثبوت تواتر میں نہیں یا وہ اپنی اصل میں متواتر نہیں تو پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ خلاف فطرت ہیں اور خلاف فطرت چیز خالق کی عطا کردہ نہیں ہو سکتی کیونکہ فطرت اپنی حقیقت میں خالق کی منشاء ہی تو ہے ......

تواتر کے انکار میں آپ اتنا بڑھے کہ آپ نے کتاب الله کو بھی غیر متواتر ثابت کر دیا ...
معاملہ یہ ہے کہ حقائق (reaction philosophy) سے ثابت نہیں ہوتے (conspiracy theories) کے شائق دماغ ہر شے میں چھپے ہوے کیڑے نکال کر بلکہ یہ کہیں کہ کیڑے ڈال کر اپنی عقل سے کچھ نیا ثابت کرنا چاہتے ہیں اس کو آسان زبان میں خود نمائی کہا جاتا ہے .

جبتک کہ پچھلی عمارت نہ ڈھا دی جاوے نئی کھڑی نہیں کی جا سکتی چاہے پچھلی کتنی ہی مظبوط بنیادوں پر کیوں نہ کھڑی ہو (demolish and construct) کا اصول ہر جگہ لاگو نہیں ہوتی بلکہ اکثر اوقات تخریب کرنے والے کچھ نیا تعمیر کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے .

انکار حدیث والے حضرات کا بنیادی مسلہ یہی ہے .

آپ نے فرمایا تواتر اپنی حقیقت میں کچھ نہیں اور کسی بھی چیز کو ثابت کرنے کیلئے تواتر کی کوئی ضرورت نہیں یہاں آپ نے کدال تو حدیث پر چلائی لیکن اسکی ضرب سیدھی دین پر پڑی.

ایک جدید ذہن اسی رویہ کی وجہ سے الحاد و دہریت کی جانب متوجہ ہوتا ہے اب سوال یہ پیدہ ہوتا ہے کہ آپ سو دوسو تین سو سال پیچھے چلے جائیں آپ یہ کیسے ثابت کر سکتے ہیں کہ یہ کتاب جو آپ کے ہاتھ میں ہے یہی کتاب الله ہے ہمیں معلوم ہے کہ پچھلی دینی کتب میں تحریفات ہو چکی ہے نہ تو تورات محفوظ رہی نہ انجیل اور نہ ہی زبور تو پھر قرآن کی حفاظت کا سب سے بڑا معجزہ اسکا تواتر سے ثابت ہونا ہی تو ہے .......
آپ تواتر کہ بغیر یہ کیسے (Establish) کر سکتے ہیں کہ جو کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے یہ اسی شکل میں اتنے ہی پاروں میں انہی الفاظ کے ساتھ الله کے رسول صل الله علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی.

پھر آپ نے ایک اور لطیفہ بیان کیا کہ قرآن کی حقانیت کا ثبوت اسکی اندرونی شہادت ہے عجیب بات ہے جناب پھر تو دنیا کے تمام مقدمات ایک لمحے میں ختم ہو سکتے ہیں کیونکہ ہر شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ میں حق پر ہوں مجھے حیرت ہے کہ قول رسول کو اپنی خود ساختہ حق کی کسوٹی پر پرکھنے والوں کے پاس اتنے بودے دلائل بی ہو سکتے ہیں جو (common sense) کے بھی خلاف ہوں .

اگر قرآن کی اندرونی شہادت ہی کافی ہوتی تو نبی یا رسول بھیجنے کی کوئی حقیقی ضرورت موجود نہیں تھی یہ کافی تھا کہ فرشتے کتاب کسی اونچی پہاڑی پر رکھ جاتے پھر کتاب الله کو بتدریج نازل کرنے کی عقلی توجیہ ہی کیا ہے .
پہلے نبی کا کردار منوانا اکو صادق و امین کہلوانا اس بات کا متقاضی تھا کہ اندرونی شہادت کے ساتھ خارجی شواہد بھی پیش کئے جاویں تاکہ جیتے جاگتے زندہ معاشرے میں کسی چیز کا وجود ثابت ہو سکے اسلام عملی دنیا کا دین ہے کوئی فکری یا کتابی چیز نہیں کہ جو امور دنیا سے مستغنی ہو یا صرف لوگوں کے علمی گفتگو کیلئے موجود رہے اندرونی شہادت اسی وقت پایہ تکمیل تک پہنچتی ہے جب وہ عملی دنیا میں جیتی جاگتی حقیقت بن کر کھڑی ہو .....

پھر آپ اپنے مقدمے کو یوں تام کرتے ہیں کہ قرآن از خود اپنی شہادت کیسے ہے یا اسے شہادت کیوں تسلیم کریں تو اسکی بنیاد اعتقاد ہے .

جناب من اگر اعتقاد پر ہی بحث ختم کرنا تھی اور دین کو یونہی لٹکتا چھوڑ دینا تھا تو پھر جان لیجئے کہ ہر کسی کا اعتقاد الگ الگ ہے اور وہ اسپر اتنا ہی یقین رکھتا ہے جتنا آپ اپنے معتقدات پر میرے محترم اعتقاد یا ایمان کوئی علمی دلیل نہیں یہ ایک روحانی کیفیت ہے جو دوسروں سے منوائی نہیں جا سکتی .

الله اپنی حقیقت میں حق ہے قرآن اپنی اصل میں حق ہے اور الله کے رسول صل الله علیہ اپنی حقیقت میں سچ ہیں لیکن ان کی حقانیت کو دنیا میں ثابت کرنے کیلئے دعوت کے میدان میں دلائل کی قوت درکار ہے ورنہ یہ حقائق دنیا سے پوشیدہ ہی یہ جاتے اور دلائل میں سے ایک عظیم الشان دلیل امور دینیہ کا تواتر سے ثابت ہونا بھی ہے .

فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
پس آپ اپنا رخ اﷲ کی اطاعت کے لئے کامل یک سُوئی کے ساتھ قائم رکھیں۔ اﷲ کی (بنائی ہوئی) فطرت (اسلام) ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا فرمایا ہے (اسے اختیار کر لو)، اﷲ کی پیدا کردہ (سرِشت) میں تبدیلی نہیں ہوگی، یہ دین مستقیم ہے لیکن اکثر لوگ (ان حقیقتوں کو) نہیں جانتے

حسیب احمد حسیب

صابن !

صابن !

قدیم پرتگیزی کا صباو (sabão) فارسی کے صیغہ ساختن پر تخفیف ہوکر صابن بنا جو ہماری اردو میں بھی مستعمل ہے یہ صابن ہے کیا صفائی کا ایک آلہ ایک ایسی شے جو ظاہری میل کچیل کو صاف کردے لیکن جب بھی صابن کے فلسفے پر غور کیا جی ہاں صابن کا فلسفہ ......

دنیا کی ہر شے اپپنے اندر ایک فلسفہ رکھتی ہے اور وہ فلسفہ انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتا اگر سوچ و فکر کے سوتے خشک نہ ہو چکے ہوں ....

یہ صابن ہے رنگ برنگی شکلوں خوشبوں مختلف سانچوں میں ڈھلا الگ الگ برانڈز کے ساتھ لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتا ......

کیا ہے یہ صابن جو ہمیں بھی دھوتا ہے اور ہمارے میلے کپڑے بھی دھوتا ہے اور خود گھلتا ہے جی ہاں یہ گھلتا ہے .

صابن کا فلسفہ اسکا گھلنا ہے .......

چاہے غریب کا صابن ہو یا امیر کا سستہ ہو یا مہنگا یہ گھلتا ہے
یہ کیوں گھلتا ہے کیونکہ ہمارا گند صاف ہو سکے

ہر وہ شخص گھلتا ہے جو دوسروں کا گند صاف کر سکے دعوت و اصلاح کی بنیاد گھلنا ہی تو ہے گھلنا کڑھنا تاکہ لوگوں کے قلوب صاف ہو سکیں چاہے اپنی ہستی فنا ہی کیوں نہ ہو جاوے

رب العزت اپنے محبوب کو کہتے ہیں

اے نبی آپ کیوں گھلتے ہیں

لَقَدْ جَاءكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ[ (سورة التوبة:128)

’’(مسلمانو!) تمہارے لئے تم ہی میں سے ایک رسول آئے ہیں,جن پرہروہ بات شاق گزرتی ہے,جس سے تمہیں تکلیف ہوتی ہے,تمہاری ہدایت کے بہت خواہش مند ہیں ,مومنوں کے لئے نہایت شفیق ومہربان ہیں

اور پھر یہ معاملہ یہاں تک بڑھتا ہے کہ

فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلٰٓی اٰثَارِهِمْ إِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ أَسَفًا(۶)
تو شاید آپ ان کے پیچھے اپنی جان کو ہلاک کرنے والے ہیں، اگر وہ ایمان نہ لائے اس بات پر، غم کے مارے۔(۶)

بَاخِعٌ عربی میں کہتے ہیں اپنے آپ کو غم میں گھلا دینا اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال دینا کے یہ امت ہدایت پر آجاوے

نبوی صفت کو صابن سے سمجھیں جی ہاں صابن

جو دوسروں کا میل صاف کرتا ہے انکو پاک کرتا ہے انکا گند دھو دیتا ہے لیکن خود گھلتا کڑھتا اسکا دل دکھتا ہے ...

اگر ہر کوئی صابن بن جاوے تو اس دنیا میں گندگی کا وجود ہی نہ رہے اور یہ دنیا حقیقت میں پاکیزہ ہو جاوے لیکن اسکیلئے خود گھلنا ضروری ہے .

حسیب احمد حسیب

کن کٹی ماں !

کن کٹی ماں !

کہتے ہیں ایک شخص کو اسکے جرائم کی وجہ سے پھانسی کی سزا ہوئی اسنے آخری خواہش اپنی ماں سے ملنے کی ظاہر کی جب ماں اس سے ملنے آئی تو اس نے کہا اے ماں اپنا کان میرے پاس لا تجھے ایک راز کی بات کہنی ہے ماں بیچاری سمجھی کہ مرنے سے پہلے کسی چھپی ہوئی دولت کی خبر دینا چاہتا ہے کہ میرا بڑھاپا سکون سے کٹے لیکن عجیب ماجرا ہوا اسکی ماں جب اپنا کان اسکے منہ کے پاس لے گئی تو اس نے اپنی ماں کا کان کاٹ لیا .....
لوگوں کو بڑی حیرت ہوئی اور ماں بھی روتی پیٹتی زخمی کان لیے وہاں سے رخصت ہوئی کسی نے پوچھا ارے او ناہنجار نابکار جہنم کے ایندھن تو نے یہ کیا کیا ......؟
تو اس نے کہا ماں ہی جنت ماں ہی دوزخ اگر یہ ماں میری اچھی تربیت کرتی تو آج میرا مقدر پھانسی کا پھندہ نہ ہوتا.........

یہ کہاوت یوں یاد آئی کہ ہمارے گھر کام کرنے والی ماسی رونی صورت بناۓ روتی پیٹتی آئی یہ چاند رات کی بات ہے امی نے پوچھا کیا ہوا تو اس نے اپنا دکھڑا سنایا ......

جس گھر میں وہ کام کرتی ہے اسکے نچلی منزل میں ایک فیملی رہتی ہے سیڑھیوں کی صفائی کرتے وقت اس نے اپنا بٹوہ وہاں رکھ دیا جو اسکی آنکھوں کے سامنے نچلی منزل والی فیملی کا بچہ لیکر چمپت ہوگیا بچے کی عمر دس بارہ سال ہوگی جب اس نے واویلا کیا تو بچے کی ماں نے اپنے بچے کی طرفداری شروع کر دی اور اسے جھٹلا دیا وہ بیچاری خوب روئی پیٹی بہت واویلا کیا لوگ جمع ہوے سب نے ماسی کی ایمانداری اور سچے ہوانے کی گواہی دی ایک موقع پر جب بچے نے قبول بھی لیا تو اسکی ماں نے اسے آنکھیں دکھا کر خاموش کروا دیا .......

ماسی کے بٹوے میں اسکی کل کمائی تھی جس سے اس نے اپنی بچوں کیلئے عید کی خریداری کرنی تھی اسکا شناختی کارڈ اور دوسرے ضروری کاغذات قصہ مختصر لوگوں کے زور دینے پر وہ عورت مان تو گئی لیکن الزام اپنے بوڑھے سسر پر دھر دیا کہ وہ چوری کے عادی ہیں ماسی کو خوب رو رلا کر اپنی جمع پونجی واپس ملی بوڑھے باریش سسر کی عزت خاک میں ملی لیکن ایک ماں اپنے بچے کے جرم پر پردہ ڈالنے میں کامیاب رہی ..........

لیکن میں سوچتا ہو یہ بچہ جوان ہوکر کیا بنے گا یہ کتنے گھر اجاڑے کتنوں کا مال لوٹے گا اور پھر مجھے پھانسی کا پھندہ اور ایک " کن کٹی ماں " دکھائی دیتی ہے .

حسیب احمد حسیب

غامدی صاحب کے ایک بڑے ناقد

غامدی صاحب کے ایک بڑے ناقد

ایک طرف مدرسہ فراہی کا نظم قرآن ہے جو امین احسن اصلاحی سے ہوتا ہوا ہم تک پہنچتا ہے تو دوسری طرف سید مودودی کا تحریکی مزاج جو اقامت دین کا متقاضی ہے ...

دور جدید میں ہمیں ہر دو مذکورہ بالا فکر سے متعلق دو افراد ملتے ہیں جنکی بابت خود ان کی طرف سے اور ان کے متبعین کی طرف سے یہ دعویٰ ہے کہ وہ فکر مودودی اور اصلاحی کے امین ہیں ..

یہ دو افراد کون ہیں
ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم اور جاوید احمد غامدی
کچھ تذکرہ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کا بچپن سے انکا ذکر سنا ایک اپنے نانا مرحوم ظہور احمد خان کے حوالے سے اور اپنے دادا کے بڑے بھائی مولانا برکات احمد خان رح کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب اور میرے نانا مرحوم ہم مکتب تھے ضلع کنج پورہ حصار میں وہ نانا مرحوم کو ظہور بھائی کہا کرتے تھے ....

جب ڈاکٹر صاحب مرحوم اپنی ڈاکٹری کی پریکٹس کے دوران جو منٹگمری ساہیوال میں تھی علوم دینیہ کی جانب متوجہ ہوے تو پہلا علمی استفادہ عربی اور فارسی کے حوالے سے مولانا برکات احمد خان رح سے کیا پھر آپ نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات گولڈ میڈل کیا ڈاکٹر صاحب مرحوم سے انکی وفات سے کچھ سال پھر قبل جب ملاقات ہوئی تو مختلف موضوعات پر سوالات کیے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر صاحب مرحوم نے کہا کے مولانا محمود الحسن مجدد کبیر تھے اور اپنی تحریک کو تحریک ریشمی رومال کا تسلسل قرار دیا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب تک میں جماعت میں تھا میرے نزدیک اصحاب رسول کے بعد سب سے عظیم شخصیت سید مودودی مرحوم کی تھی جماعت سے نکلا تو دوسرے اہل علم سے تعارف ہوا غامدی صاحب کے تذکرے پر سخت الفاظ ادا فرماۓ اور محترم حامد کمال الدین صاحب کا ذکر آنے پر انکی توصیف کی ..

ڈاکٹر صاحب مرحوم وہ شخصیت تھے جنہوں نے ایک طرف تو امین احسن اصلاحی کی قرآنی فکر کو آگے بڑھایا تو دوسری طرف سید مودودی کی تحریک اقامت دین کو اپنے انداز سے پروان چڑھایا ہم کہ سکتے ہیں کہ آپ قرآنی فکر اصلاحی اور تحریکی فکر مودودی کے امین تھے ..

دوسری طرف آپ کو اہل علم کی جانب سے پذیرائی ملی ایک طرف ڈاکٹر حمید الله خان مرحوم تو دوسری طرف ابو الحسن علی ندوی رح کے توصیفی کلمات پھر آپ کو فکر اقبال کا سب سے بڑا شارح کہا جاوے تو غلط نہ ہوگا اور آپ میں نری ظاہریت ہی نہیں تھی بلکہ تصوف کا گہرا رنگ بھی موجود تھا جو مولانا داوود غزنوی رح سے تعلق کی بنیاد پر تھا.

دوسری طرف غامدی صاحب کی شخصیت ہے جنھیں معتبر علمی حلقوں میں چاہے وہ قدیمی ہوں یا جدید علوم سے وابستہ جیسے ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم کی شخصیت پذیرائی نہیں مل سکی بلکہ ہر دو گروہ کے نزدیک انکی شخصیت متنازعہ ہی رہی ہے ڈاکٹر ذاکر عبدالکریم نائیک ڈاکٹر اسرار مرحوم کو تو اپنا استاد کہتے ہیں لیکن غامدی صاحب کی طرف ذرا بھی التفات نہیں....

عجیب معاملہ یہ ہے کہ ایک ہی استاد کے دو شاگردوں یا شاگردی کا دعویٰ کرنے والوں میں شدید منافرت رہی ہے اور معاملہ یہاں تک پہنچا کہ ڈاکٹر اسرار مرحوم نے غامدی صاحب کو اپنی مسجد تک سے نکال دیا اور یہ وہ وقت تھا جب مدارس کے علما کو غامدی فکر سے واقفیت تک حاصل نہ تھی کیونکہ غامدی صاحب کو مشرف دور میں ہائپ ملی جیسے احمد جاوید ، عامر لیاقت ، زید زمان کو ملی .....

سوال یہ ہے کہ ہر دو حضرات جنکا تعلق ایک طرف تو تحریکی اعتبار سے سید مودودی سے تھا تو دوسری طرف فکری اعتبار سے امین احسن اصلاحی سے تھا اتنے مخالف کیوں کہ ڈاکٹر اسرار مرحوم برملا غامدی صاحب کو گمراہ کہتے انکے ادارے سے غامدی صاحب کے خلاف کتب تصنیف ہوتی ہیں اور انکی مسجد سے غامدی صاحب کو نکال دیا جاتا ہے کیا وجہ سے کہ ایک ہی فکر سے منسلک ہونے کا دعویٰ رکھنے والوں میں اتنا اختلاف .

دوسری طرف معاملہ یہ ہے کہ ڈاکٹر اسرار مرحوم کے درس قرآن اور سلسلہ تراویح کو وہ مقبولیت ملی جسکی نظیر ملنا مشکل ہے اور انکی تحریک عالمی سطح پر منظم ہوئی اور عموم کے قلوب میں انکی مقبولیت انکے جنازے میں دکھائی دی ....

کیا وجہ ہے کہ علما فکر غامدی سے نالاں ہیں کیا اس کو صرف تعصب کا نام دیکر نظر انداز کیا جا سکتا ہے اور کیا وجہ ہے کہ فکر غامدی کے سب سے بڑے ناقد اصلاحی فکر قرآنی اور مودودی فکر اقامت دین کے امین ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم ہی تھے .

حسیب احمد حسیب

حقیقی انقلاب یا کاسمیٹک انقلاب

حقیقی انقلاب یا کاسمیٹک انقلاب !

لفظ انقلاب عربی زبان سے سے اردو میں آیا ہے جسکا مصدر قلب ہے قلب درمیان کو بھی کہتے ہیں علم الابدان کے ماہرین کے نزدیک یہ ایک آلہ ہے جو جسم میں خون کی گردش کو رواں رکھنے اور گندے خون کو صاف کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے لیکن اسکے لغوی معنی تبدیلی یا پلٹ دینے یا ایک کیفیت سے دوسری کیفیت کی طرف منتقل ہونے کے ہیں ......

اسلامی فکر کے مطابق انقلاب صرف ظاہری حالات و واقعات کی تبدیلی کا نام نہیں بلکہ ماہیت قلب کا نام ہے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے

یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ عَلٰی دِیْنِکَ
اے دِلوں کو پھیرنے والے !میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ (ترمذی)

یا ایک جگہ آتا ہے

یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ عَلٰی دِیْنِکَ
اے دِلوں کو پھیرنے والے !میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ (ترمذی)

اگر دین قلب میں جاگزیں ہو تو اس کے انقلاب سے پناہ مانگی گئی ہے

کیا خوب کہا ہے شاعر نے

باطن میں ابھر کر ضبط فغاں لے اپنی نظر سے کار زیاں
دل جوش میں لا فریاد نہ کر تاثیر دکھا تقریر نہ کر

اسلام مسلمان سے مکمل تبدیلی کا تقاضہ کرتا

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّةً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ

اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

اسلامی انقلاب صرف سیاسی تبدیلیوں کا نام نہیں بلکہ اسکی ابتداء عقائد سے ہوتی ہے اور انتہا ایک مکمل اسلامی معاشرت کا ظہور ہے اسی کو خلافت اسلامی ریاست یا حکومت الہیہ کہا جاتا ہے .

اسلامی انقلاب کا مکمل منشور جو اس کے اطراف و جوانب کا احاطہ کرتا ہے الله کے رسول صل الله علیہ وسلم کا آخری خطبہ ہے

یہ ایک عجیب خطبہ ہے

آپﷺ نے اس کے لئے عجیب بلیغ انداز اختیار فرمایا، لوگوں سے مخاطب ہو کر پوچھا … کچھ معلوم ہے کہ آج کونسا دن ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ خدا اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے، آپﷺ دیر تک خاموش رہے ، لوگ سمجھے کہ شاید آپﷺ اس دن کا کوئی اور نام رکھیں گے، دیر تک سکوت اختیار فرمایا اور پھرکہا ! کیا آج قربانی کا دن نہیں ہے ؟ لوگوں نے کہا: ہاں بے شک ہے، پھر ارشاد ہوا : یہ کونسا مہینہ ہے؟ لوگوں نے پھر اسی طریقہ سے جواب دیا ، آپ ﷺ نے دیر تک سکوت اختیار کیا اور پھر فرمایا: کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں بے شک ہے ، پھر پوچھا : یہ کونسا شہر ہے؟ لوگوں نے بدستور جواب دیا، آپﷺ نے دیر تک سکوت کے بعد فرمایا : کیا یہ بلدۃ الحرام نہیں ہے ؟ لوگوں نے کہا ہاں بے شک ہے ، تب لوگوں کے دل میں یہ خیال پوری طرح جا گزیں ہو چکا کہ آج کا دن بھی ‘ مہینہ بھی اور خود شہر بھی محترم ہے یعنی اس دن اور اس مقام میں خوں ریزی جائز نہیں ، تب فرمایا :
" تو تمہارا خون ، تمہارا مال اور تمہاری آبرو ( تاقیامت) اس طرح محترم ہے جس طرح یہ دن اس مہینہ میں اور شہر میں محترم ہے، " قوموں کی بربادی ہمیشہ آپس کے جنگ و جدال اور باہمی خوں ریزیوں کا نتیجہ رہی ہے ، وہ پیغمبر جو ایک لازوال قومیت کا بانی بن کر آیا تھا اس نے اپنے پیروؤں سے بہ آواز بلند کہا :
" ہاں میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ خود ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو ، تم کو خدا کے سامنے حاضر ہونا پڑے گا اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس کرے گا "

" ہاں مجرم اپنے جرم کا آپ ذمہ دار ہے ، باپ کے جرم کا ذمہ دار بیٹا نہیں اور بیٹے کے جرم کا جواب دہ باپ نہیں"
عرب کی بد امنی اور نظام ملک کی بے ترتیبی کا ایک بڑا سبب یہ تھا کہ ہر شخص اپنی خداوندی کا آپ مدعی تھا اور دوسرے کی ماتحتی او فرمانبرداری کو اپنے لئے ننگ و عار جانتا تھا، آپﷺ نے ارشاد فرمایا : " اگر کوئی حبشی بریدہ غلام بھی تمہارا امیر ہواور وہ تم کو خدا کی کتاب کے مطابق لے چلے تو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو"

ہاں شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا تھا کہ اب تمہارے اس شہر میں اس کی پرستش قیامت تک نہ کی جائے گی، لیکن البتہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں اس کی پیروی کروگے اور وہ اس پر خوش ہو گا"

اپنے پرودگار کو پوجو ، پانچوں وقت کی نماز پڑھو، ماہ رمضان کے روزے رکھو اور میرے احکام کی اطاعت کرو، خدا کی جنت میں داخل ہو جاؤگے "
یہ فرما کر آپﷺ نے مجمع کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : " کیوں میں نے پیغام خداوندی سنادیا" سب بول اٹھے ، بے شک بے شک آپﷺ نے اللہ کا پیغام ہم تک پہنچادیا، آپﷺ نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور لوگوں کی طرف جھکا کر تین بار فرمایا : " ائے اللہ تو بھی گواہ رہیو ، گواہ رہیو ، گواہ رہیو"
(سیرت النبی جلد اول)

اسلام کا مزاج خیر ہے دین کا مزاج سلامتی ہے الله کی زمین میں فساد الله کو پسند نہیں

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لاَ تُفْسِدُواْ فِي الأَرْضِ قَالُواْ إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد بپا نہ کرو، تو کہتے ہیں: ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں

قریب کی انسانی تاریخ کا ایک عظیم انقلاب انقلاب فرانس تھا اس کی ایک تصویر ملاحظہ کیجئے

یہ انقلابی تحریک ۱۷۸۹ء میں شروع ہوئی اور یورپ پر غیر معمولی طور پر اثر انداز ہوئی۔ اس وقت رعایا کی حالت بالخصوص زرعی اضلاع میں بہت خراب تھی۔ نظام حکومت میں رشوت ستانی کا دور دورہ تھا۔ اقتدار بادشاہ اور امراء کے ہاتھوں میں مرکوز ہو گیا تھا اور اس پر کوئی مؤثر پابندیاں نہیںتھیں۔ اونچے طبقوں کے لوگ کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتے تھے۔ نتیجتاً اس کا بار بڑی سختی کے ساتھ غریبوں پر پڑتا تھا۔ ملک کا مالیہ مایوس کن انتشار کا شکار تھا۔ اسی زمانہ میں والٹیر (Voltaire)روسو (Rousseau) اور دوسرے فلسفیوں نے عوام کو نئے خیالات سے روشناس کرایا جنہیں خاص مقبولیت شہروں میں حاصل ہوئی۔ والٹیر نے مذہبی اور دیگر روایتوں کو جن کی وجہ سے عوام اپنی زبوں حالی کو چپ چاپ مان لینے کے عادی ہو گئے تھے قابل تحقیر قرار دیا۔ روسو نے انسان کے فطری حقوق کی نشاندہی کی اور ایک ایسی سلھنت کا تصور پیش کیا جس میں عوام کی مرضی کو بالادستی حاصل ہو ۔ لوگوں نے یہ محسوس کرنا شروع کیا کہ عدم مساوات ہر طرف پھیلی ہوئی تھی اس کا نہ تو کوئی خدائی جواز تھا اور نہ انسانی۔ ایک طویل وقفہ کے بعد فرانس کی نمائندہ مجلس ۱۷۸۹ء میں اسٹیٹس جنرل (The States General)کو طلب کیاگیا۔ اس مجلس کے اجلاس میں عوامی نمائندوں نے قومی اسمبلی کو بلانے پر اصرار کیا۔ اس اثناء میں ۱۴؍ جولائی ۱۷۸۹ء کو لوگوں کے ایک ہجوم نے حملہ کرکے پیرس کے پرانے قلعہ باسٹیل (Bastille)کو جس میں شاہی مجرم قید کیے جاتے تھے مسمار کر دیا ۔ اور پورے ملک میں بغاوتیں پھوٹ پڑیں۔ سرخ سفید اور نیلے رنگ پر مشتمل ایک ترنگا (Tri Colour)جھنڈا انقلاب اور جمہوریت کی علامت بن گیا ۔ قومی اسمبلی نے ہی کیا کہ تمام طبقاتی مراعات ختم کردی جائیں۔ اسمبلی نے اپنے آپ کو مجلس قانون ساز میں تبدیل کر لیا۔ امراء کی بڑی تعداد انگلستان اور دوسرے ملکوں کی طرف بھاگ نکلی لیکن اب بھی بہت سے لوگ بادشاہ کے طرف دار تھے حالانکہ اس کی حیثیت ایک قیدی سے زیادہ نہ تھی۔ جون ۱۷۹۱ء میں بادشاہ نے پیرس سے راہ فرار اختیار کی لیکن وارن نس (Varennes)کے پاس اس کو روک کر واپس لایا گیا۔ مجلس نے یہ فیصلہ کیا کہ فرانس کو دستوری بادشاہت بنایا جائے ۔لیکن متعدد اسباب کی وجہ سے یہ منصوبہ پایۂ تکمیل کو پہنچ نہ سکا۔فرانس میں واقعات کی یہ رفتار دیکھ کر یورپ کے اکثر حکمراں اور ان کی رعایا بری طرح خوف زدہ ہو گئے۔ جلا وطن فرانسیسی امیروں نے یورپ کے حکمران کو فرانس میں مداخلت کرنے کے لیے اکسایا۔ ان حکمرانوں میں نمایاں مقام شہنشاہ آسٹریا کو حاصل تھا جو فرانسیسی بادشاہ لوئی شش دہم (Louis XVI)کی بیوی میری آنتوانت (Marie Antoinette)کا بھائی تھا۔ پرشیا (Prussia)کے بادشاہ کے ساتھ مل کر اس نے ایک اعلان جاری کیا اور مطالبہ کیا کہ فرانس لوئی شش دہم کو اس کے اصل رتبہ پر بحال کردیؤ انقلابی جماعت مضبوط ہوتی گئی۔ بیرونی مداخلت حاصل کرنے کی کوشش نے اس جماعت کے اثرورسوخ میں مزید اضافہ کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مارچ ۱۷۹۲ء میں فرانس نے آسٹریا کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ پرشیا نے آسٹریا کا ساتھ دیا۔ لیکن بغاوتوں اور بد نظمیوں کے باوجود فرانسیسی سپاہیوں نے والمی (Valmy)کے مقام پر پرشیائیوں (Prussians)کوشکست دے دی۔ اب ایک قومی مجلس (National Convention)نے معاملات کی باگ ڈور سنبھالی اور اس کے ساتھ ہی انقلاب کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ انتہا پسند پورے طور پر برسر اقتدار آ گئے۔ دانتان (Danton)رابس پیر (Robespierre)اور مارا (Marat)ان کے لیڈر تھے۔ ۲۱ جنوری ۱۷۹۳ء کو ایک جمہوریہ قائم کی گئی اور ابدشاہ پر مقدمہ چلا کر اس کی گردن مار دی گئی۔ بیرونی ممالک سے جو معاہدے ہوئے تھے وہ ختم کر دیے گئے۔ فرانس نے اعلان کر دیا کہ وہ یورپ کے عوام کو ان کے موروثی حکمرانوں کو خاتمہ کرنے میں مدد دے گا۔ ہزاروں لوگوں کو قید میں ڈال دیاگیا۔ اس دوران فرانسیسی فوجیں بین الاقوامی جنگوں میںکامیابی پر کامیابی حاصل کرتی جا رہی تھیں۔ ۱۷۹۳ء میں تحفظ عامہ کی کمیٹی (Committee of Public)کا قیام عمل میں آیا۔ رابس پری اس کمیٹی کا روح رواں تھا اس کمیٹی کے قیام کے ساتھ ہی دہشت کا دور (Reign of Terror)شروع ہوا سیکڑوں امراء اور سیاست دانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیاگیا۔ ۱۶ ؍اکتوبر ۱۷۹۳ء کو فرانس کی ملکہ کی گردن اڑا دی گئی اور پھر یہ لوگ آپس میں لڑ پڑے۔ ۵ ؍ اپریل ۱۷۹۴ء کو رابس پیر نے دان تان کو قتل کروا دیا اور ۲۸ جولائی کو خود رابس پیر کا یہی حشر ہوا۔ دہشت کا یہ دور جلد ہی ختم ہو گیا۔ اکتوبر ۱۷۹۵ء میں ڈائریکٹری (The Directory)قائم ہوئی اور ساتھ ہی اس دور کا خاتمہ ہو گیا جس کو فرانسیسی انقلاب کہاجاتاہے۔

جدید استعماری دنیا جو اسلامی حکومتوں کے مقابر پر کھڑی ہے اور اس کا بنیادی مقصود دنیا میں حقیقی اسلامی انقلاب کو ابھرنے سے روکنا ہے ہر کبھی اسلامی دنیا میں کاسمیٹک انقلابات کھڑے کرتی رہتی ہے جسکی سب سے قریبی مثال عرب سپرنگ ہے

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے مسلمان ملکوں میں طویل شخصی آمریتوں اور بادشاہتوں کے خلاف مقبول عوامی احتجاج کی لہر سے خطے کو پچاس ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔
جیو پولیسیٹی نامی ادارے نے مغرب میں ’عرب سپرنگ‘ کے نام سے مشہور ہونے والی اس عوامی تحریک کے بارے میں تحقیق کی ہے۔
تحقیق کے مطابق عوامی شورش کی سب سے زیادہ قیمت مصر، شام اور لیبیا کو ادا کرنا پڑی ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ خطے کے استحکام کے لیے عرب ریاستوں کی سربراہی میں اگر کوئی بین الاقوامی پروگرام نہیں بنا تو عرب سپرنگ کا الٹا اثر بھی ہوسکتا ہے۔
اقتصادی نقصان کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن موجود اعداد و شمار کے مطابق لیبیا کو چودہ اعشاریہ دو ارب ڈالر، شام کو ستائیس اعشاریہ تین اور مصر کو نو اعشاریہ سات نو ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

ان انقلابات کو باسی کڑھی میں ابال کہا جا سکتا ہے اور ان کو اٹھانے کا مقصود عوام کو مصروف رکھنا ہے تاکہ حقیقی تبدیلی کا دوازہ بند کیا جا سکے .

یہ ایک اصولی حقیقت ہے کہ اسلامی ممالک میں کوئی بھی ایسا انقلاب جسکا راستہ اسلام کی ترقی کی طرف نہیں جاتا صرف اور صرف ایک دھوکے اور فریب سے زیادہ کچھ نہیں ہے ....

قدرت الله شہاب نے ٨٠ کی دھائی میں " شہاب نامہ " میں ایک باب پاکستان کا مستقبل میں لکھا تھا.

قومی سطح پر ہماری ہماری سیاسی قیادت کا ایک بڑا حصہ اپنی طبعی یا ہنگامی زندگی گزار کر دنیا سے اٹھ چکا ہے یا جمود کا شکار ہوکر غیر فعال ہو چکا ہے کچھ سیاسی پارٹیوں کے رہنما پیر تسمہ پا بن کر اپنی اپنی جماعتوں کی گردن پر زبردستی چڑھے بیٹھے ہیں ان میں سے چند نے کھلم کھلا یا درپردہ مارشل لا سے آکسیجن لیکر سسک سسک کر زندگی گزاری ہے ان نیم جان سیاسی ڈھانچوں میں نہ تو کوئی تعمیری سکت باقی ہے اور نہ ہی ان کو عوام کا پورا اعتماد حاصل ہے پرانی سیاست کی بساط الٹ چکی ہے ....

ایک اور جگہ لکھتے ہیں .

بہت سے لوگوں کے نزدیک پاکستان کی سلامتی و استحکام کا راز صرف اس بات میں مضمر ہے کہ حالات کے اتار چڑھاؤ میں انکے ذاتی اور انفرادی مفادات کا پیمانہ کس شرح سے گھٹتا و بڑھتا ہے . "

اصل کام یہ ہے کہ اس حنوط شدہ قومی لاشے میں کیسے جان ڈالی جاۓ کہ ایک جیتا جاگتا اسلامی وجود بیدار ہو سکے .

حسیب احمد حسیب