Google+ Followers

Monday, 3 August 2015

عامر خان پیکے اور پاکستان
عامر خان پیکے اور پاکستان ....... !

پیکے ہو کیا بچے کی آواز میرے کان میں پڑی تو میں چونکا 

ارحم عمران ادھر آؤ
جی سر 

یہ تم کیا بول رہے تھے 

سر آپ نے وہ فلم نہیں دیکھی 

کون سی فلم 

سر آپ بھی نہ بالکل پیکے ہیں 

ارحم میں نے سختی سے تنبیہ کی ....

گھر آکر میں نے موویز سے متعلق سب سے بڑی ویب سائٹ (imdb) کو چیک کیا تو (8.5) ریٹنگ کی اس فلم کی کوئی کونٹینٹ ا ڈ وائس یا (parental guidance for movies) موجود نہیں تھی جب فلم دیکھی
تو معلوم ہو کہ یہ ریٹڈ آر مووی ہے جس میں انتہائی قابل اعتراض اور قبیح مواد موجود ہے ..

مغرب کے مادر پدر آزاد معاشرے میں بھی اتنی اخلاقیات موجود ہے کہ وہ اپنا سودا جھوٹ بول کر نہیں بیچتے فلموں کیلئے انہوں نے ریٹنگ کا ایک خاص نظام ترتیب دیا ہے جو یہ بتلاتا ہے کہ کون سی فلم کون سے صارفین کیلئے مناسب ہے اور کس فلم کا مواد جنسی مضامین یہ تشدد کے درجات کے اعتبار کتنا درست ہے

Rating symbol Meaning

G – General Audiences

All ages admitted. Nothing that would offend parents for viewing by children.

PG – Parental Guidance Suggested

Some material may not be suitable for children. Parents urged to give
"parental guidance". May contain some material parents might not like for
their young children.

PG­13 – Parents Strongly Cautioned

Some material may be inappropriate for children under 13. Parents are
urged to be cautious. Some material may be inappropriate for pre­
teenagers.

R – Restricted

Under 17 requires accompanying parent or adult guardian. Contains some
adult material. Parents are urged to learn more about the film before taking
their young children with them.

NC­17 – Adults Only

No One 17 and Under Admitted. Clearly adult. Children are not admitted.

ڈانسنگ کار یا جنسی عمل کے معا ونات کے حوالے کوئی ایسی کمتر چیز ہیں کہ انھیں نظر انداز کر دیا جاوے یا کھلے عام بوس و کنار اتنی چھوٹی شے ہے کہ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر والدین بخوشی دیکھ سکیں اسے کم سے کم الفاظ میں بےغیرتی کہا جا سکتا ہے جبکہ اس پر پمرا کا کوئی قانون حرکت میں نہیں آتا کیونکہ اس سے ملک کے وقار کو ٹھیس نہیں پہنچتی ..

دوسری طرف سوشل میڈیا کے دیندار خوش ہو ہو کر بغلیں بجا رہے تھے کہ شاید کوئی بہت بڑا میدان فتح ہوگیا ہے اور توحید و شرک کا کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر لیا گیا ہے چونکہ فلم کے مشھور و معروف ہیرو نے کچھ عرصے پہلے پاکستان کے ایک معروف مبلغ اور داعی مولانا طارق جمیل صاحب سے ملاقات کی تھی اسلئے اس فلم کو انکے کھاتے میں ڈالنے کی گمراہ کن کوشش بھی کی گئی ....

فلم کو اگر تحقیقی نگاہ سے دیکھ جاوے تو معلوم ہوگا کہ یہ فلم ہندو مذہب کے خلاف نہیں یا کسی بھی مذہب کی مذہبی رسومات کے خلاف نہیں بلکہ یہ فلم ایک مذہب مخالف فلم ہے چونکہ ہر مذہب کچھ عقائد عبادات رسومات اور معاملات کا مجموعہ ہوتا ہے اور اس فلم میں ہر زاوئیے سے دینی اقدار کا مذاق اڑایا گیا ہے ....
ہم یہ دیکھتے ہیں کہ فلم کی ابتدا میں فلم کے ہیرو برہنہ دکھائی دیتے ہیں چونکہ وہ ایک ایسی دنیا سے برآمد ہوے ہیں جو اس دنیا سے کہیں زیادہ جدید ترین ہے اور وہاں لباس جیسی فضولیات کی ضرورت نہیں انیسویں صدی کے اوائل میں جرمنی میں ایک تحریک شروع ہوئی جس کا نعرہ تھا لباس سے مکمل آزادی

(In the early 1900’s in Germany, a movement called Freikorperkultur (Free Body Culture) arose. This movement was the first real organization of social nudism. It was a time of the shedding of not only clothes, but also the hidebound values and thinking’s left from Victorian England. In the early 1900’s, several noted authors published papers which advocated the removal of clothing as well as an enlightened thinking about the human body. It implored citizens to quit thinking of the human body as sinful and shameful. A book entitled The Cult of the Nude written by noted German sociologist Heinrich Pudor, promoted naturist theories.)

ایک طرف فرائیڈ کے جنسی نظریات تو دوسری طرف ننگی تہذیب کی پڑتی ہوئی بنیادیں ..

چونکہ لباس کسی بھی تہذیب کی علامت ہوتا ہے اور کسی بھی خطے کے لوگوں کا لباس صدیوں میں بنتا ہے لباس سے چھٹکارا صرف لباس سے چھٹکارا نہیں بلکہ اس کا مقصود آپ کی تہذیب اور تاریخ سے برأت ہے .
دوسری طرف جدید دنیا سے آنے والے ایلین عامر خان صاحب زبان و بیان کی قیود سے بھی آزاد ہیں جیساکہ لباس تہذیب کی علامت ہے ایسے ہی زبانیں بھی صدیوں میں مختلف مدارج و مراحل طے کرکے معاشروں میں اپنا ایک خاص مقام حاصل کرتی ہیں زبانیں کسی بھی قوم کے اظہار کا واحد راستہ اور ذریعہ
ہوتی ہیں ....
دوسری طرف موصوف ہندو مسلم شادیوں میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے جناب خود ایک ہندو بیوی بھگتا کر دوسری کی زلف کے اسیر ہیں اور یہی کلچر انڈو پاک میں متعارف کروانا چاہتے ہیں 
ہندی فلموں کا یہ پرانا حربہ ہے کہ ہندو مسلم شادیوں کو پروموٹ کیا جاتا رہا ہے جبکہ یہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہے ایک مسلمان مرد کو کتابیہ سے شادی کی اجازت تو ضرور ہے لیکن کسی بت پرست سے شادی اسلام میں جائز نہیں اور یہ کوئی اختلافی فقہی مسلہ نہیں بلکہ قرآن و سنت سے ثابت شدہ ایک اجماعی معاملہ ہے جی جناب سرفراز تو دھوکہ نہیں دیگا لیکن آپ جو دھوکہ مسلم قوم کو دےرہے ہیں وہ بھی کچھ کم خطرناک نہیں ہے .

اب آتے ہیں فلم کے مندرجات کی طرف ....

ایک سین میں ایک مسیحی پادری ایک ہندو کو دین کی دعوت دے رہا ہے اور وہ ہندو کہ رہا ہے " رانگ نمبر " اگر خدا یہ چاہتا کہ میں عیسائی ہو جاؤں تو مجھے ہندو پیدہ ہی کیوں کرتا .....

لیجئے دلیل کے ساتھ کسی بھی مذہب کی دعوت کا دروازہ ہی بند اب ہمارے وہ مسلمان " کتاب رخی " مفکرین جو اس فلم کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے نہیں تھک رہے تھے کیا فرماتے ہیں کیا دین کی دعوت کا دروازہ بند کر دیا جاوے .......

دوسری طرف ایک سین میں موصوف مختلف مذاہب کی مذہبی رسومات سرنجام دیتے دکھائی دیتے ہیں چونکہ ایک سین میں وہ ایک مزار کی بےحرمتی کرنے چلے تھے اور دوسرے سین میں ماتم کرتے دکھائی دیتے ہیں سو ہمارے وہابی طبقے نے یہ خیال کیا کہ جناب یہ تو حق سچ توحید کی دعوت ہو گئی ....

لیکن غور کیجئے اندر کی تلبیس پر موصوف تمام ہی مذہبی رسومات کے خلاف ہیں اور ان میں عبادات کی کوئی تخصیص نہیں ......

دوسری طرف پی کے کا بنیادی کردار جس دنیا سے نمودار ہوتا ہے وہاں کوئی مذہب سرے سے موجود ہی نہیں ہے بلکہ اس جدید ترین دنیا میں کسی خدا کی کوئی گنجائش نہیں اسی وجہ سے پوری فلم میں پی کے صاحب ادھر ادھر یہاں وہاں بھٹکتے دکھائی دیتے ہیں یہاں واضح یہ تصور پیش کیا جا رہا ہے کہ اس بدلتی ہوئی جدید دنیا میں مذہبی کی کوئی گنجائش موجود نہیں تمام مذہبی عقائد و نظریات متروک ہو جانے والی چیز ہیں .......

خان صاحب کھل کر مذہب کی مخالفت نہیں کرتے لیکن فلم کے ہدایت کار راج کمار ہیرانی نے حقیقت کھول کر بیان فرما دی ہے .
ہیرانی صاحب فرماتے ہیں کہ فلم پی کے کی فکری بنیاد " سنت کبیر " کے افکار پر رکھی گئی ہے آج کتنے لوگ سنت کبیر سے واقف ہیں اگر نہیں واقف تو ہم بتلاتے ہیں

"Our film is inspired by the ideas of Sant Kabir and Mahatma Gandhi. It is a film, which brings to fore the thought that all humans who inhabit this planet are the same. There are no differences," he said in a statement.
آگے فرماتے ہیں " "I have the highest respect for the concept of 'Advait'- the oneness of all humans - that is central to Indian culture, thought, and religion.
Read more at: http://indiatoday.intoday.in/…/pk-aamir-khan-…/1/410616.html "

بھگت کبیر نے اسلام اور ہندوازم کا وہ ملغوبہ تیار کیا تھا جس میں مذہبی عبادات کی کوئی خاص شکل مطلوب و مقصود نہیں آپ کو ہندو یا مسلم کہلوانے کی بھی ضرورت نہیں خدا ان مذہبی حدود و قیود میں مقید نہیں بلکہ یہاں تو ہر شے خدا ہے " ہمہ اوست " کا یہ گمراہ کن نظریہ آج بھی مسلمانوں کے ایک طبقے میں موجود ہے

کبیر کا دور ١٤٤١ سے ١٥١٨ تک کا ہے جبکہ ا شہنشاہ اکبر کی پیدائش ١٥٤٢ میں ہوتی ہے یہ وہ دور تھا جب بر صغیر کو گمراہ کن صوفیت نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور اکبر کے نو رتنوں میں بیربل اور ابو الفضل جیسے گمراہ لوگ شامل تھے جنہوں نے اکبر کو اسی فلسفے کی طرف راغب کیا جو وحدت ادیان کا فلسفہ تھا

دینَ الٰہی : (فارسی : دین الهی) "Divine Faith", مغل بادشاہ، اکبر نے اپنے دور میں، ایک نئے مذہب کی شروعات کی، جس کا نام دین الٰہی رکھا۔ اس مذہب کا مقصد، تمام مذاہب والوں کو یکجا کرنا اور، ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔ اکبر کے مطابق، دین اسلام، ہندو مت، عیسائیت، سکھ مذہب، اور زرتشت مذاہب کے، عمدہ اور خالص اُصولوں کو اکھٹا کرکے ایک نیا دینی تصور قائم کرنا، جس سے رعایا میں نا اتفاقیاں دور ہوں اور، بھائی چارگی قائم ہو۔
اکبر دیگر مذاہب کے ساتھ خوش برتاؤ کرنے اور، دیگر مذاہب کی قدر کرنے کا مقصد رکھتا تھا۔ اس مذہب کے فروغ کیلیے اکبر نے فتح پور سکری شہر میں ایک عمارت کی تعمیر کی جس کا نام عبادت خانہ رکھا۔ اس عبادت خانے میں تمام مذہب کے لوگ جمع ہوتے اور، مذہبی فلسفہ پر بحث و مباحثہ کرتے۔
ان بحث و مباحثہ کے نتائج میں اکبر نے یہ فیصلہ کیا کہ، حق، کسی ایک مذہب کا ورثہ نہیں ہے، بلکہ ہر مذہب میں حق اور سچائی پائی جاتی ہی۔

دین الٰہی، اپنی مخلوط تصورات کو، اور دین کے تحت اپنے فکر و فلسفہ کو عملی صورت میں، دین الٰہی پیش کیا۔ اس نئی فکر کے مطابق، اللہ کا وجود نہیں ہے اور نبیوں کا وجود بھی نہیں ہے۔ تصوف، فلسفہ اور فطرت کی عبادت ہی عین مقصد ہے۔ اس نئے مذہب کو اپنانے والوں میں سے دم آخر تک بیربل رہا۔ اکبر کے نو رتنوں میں سے ایک راجا مان سنگ جو سپاہ سالار بھی تھا، دین الٰہی کی دعوت ملنے پر کہا کہ؛ میں مذاہب کی حیثیت سے ہندو مت اور اسلام ہی کی نشاندہی کرتا ہوں، کسی اور مذہب کو نہیں۔ مباد شاہ کی تصنیف شدہ کتاب دبستان مذاہب کے مطابق، اس دین الٰہی مذہب کے پیرو کار صرف 19 رہے۔ اور رفتہ رفتہ ان کی تعداد بھی کم ہوگئی۔

دین الٰہی ایک فطری رواجوں پر مبنی مذہب تھا، اس میں، شہوت، غرور و مکر ممنوع تھا، محبت شفقت اور رحیمیت کو زیادہ ترجیح دی گئی۔ یوں کہا جائے کہ یہ ایک روحانی فلسفہ تھا۔ اس میں روح کو زیادہ اہمیت دی گیی۔ جانوروں کو غذا کے طور پر کھانا منع تھا۔ . نہ اسکی کوئی مقدس کتاب تھی، اور نہ ہی کوئی مذہبی رہنما اور نہ اس کے کوئی وارث۔

یہی وحدت ادیان فلم پیکے کا مرکزی خیال بھی ہے

’’ جب منزل ایک ہو تو راستوں کے جدا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘‘

پیکے کہتا ہے !

کون ہندو کون مسلمان 
ٹھپا کدھر ہے دکھاؤ 
ای پھرک بھگوان نہیں تم لوگ بنایا ہے 
اور اے ہی اس گولہ کا سب سے ڈینجر رانگ نمبر ہے

یہ وہ چند جملے ہیں جو پیکے کی زبان سے پوری فلم کا مقصود بیان کر دیتے ہیں

غور کیجئے ورنہ آپ کے ساتھ ہاتھ ہوجاوے گا اور آپ کو معلوم بھی نہ ہو سکے گا .

حسیب احمد حسیب

جنید جمشید آخر مسلہ کیا ہے


گزشتہ کچھ عرصے سے جنید جمشید کے خلاف ایک عوامی تحریک کھڑی کی گئی ہے جس کی پشت پر ایک طرف تو مسلکی عصبیت کار فرما دکھائی دیتی ہے تو دوسری جانب ہماری اپنی لاتعداد غلطیاں .....

جنید جمشید کی کہانی بہت سے ایسے مسلمانوں کی کہانی ہے جو گناہوں کی زندگی سے تائب ہوکر دین کی جانب راغب ہوتے ہیں جگر مراد آبادی کا قصہ تو معروف ہے کہ وہ کس طرح خواجہ عزیز الحسن مجذوب رح کی تحریک پر مولانا اشرف علی تھانوی رح کی خدمت میں حاضر ہوۓ اور پھر دین حق سے منسلک ھوگئے ......

لیجئے یہ واقعہ سنیے

جگر کو عموماً بھارت کا سب سے بڑا شراب نوش شاعر کہا جاتا ہے۔ سستی اور گھٹیا قسم کی شراب انھوں نے اس کثرت سے پی کہ اس کی نظیر ادبیات کی تاریخ میں نہ ملے گی۔ پھر رفتہ رفتہ ان کا دل توبہ کی طرف مائل ہوا۔ طبیعت شراب سے بے زار رہنے لگی اور دل میں یہ بات آئی کہ کسی اللہ والے کے ہاتھ پر شراب خانہ خراب سے توبہ کی جائے۔ اس سلسلے میں انھوں نے خواجہ عزیز الحسن مراد آبادی سے مشورہ کیا۔ خواجہ عزیز الحسن مراد آبادی جگر کے گہرے دوست تھے۔ مشاعروں میں بھی جگر کے ساتھ شریک ہوتے۔ بڑے باکمال اور قادرالکلام شاعر تھے۔ عشقِ حقیقی کے قائل تھے اور مجاز کے پردے میں حقیقت بیان کرتے۔ خواجہ صاحب کا تخلص ’’مجذوب‘‘ تھا۔ ان کی شاعری کا مجموعہ ’’کشکولِ مجذوب‘‘ کے نام سے طبع ہو چکا۔

یہ خواجہ صاحب مولانا اشرف علی تھانوی کے مرید تھے۔ ان سے بڑی عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ انھوں نے ایک مرتبہ مولانا تھانوی کو اپنا یہ شعر سنایا۔

ہر تمنا دل سے رخصت ہوگئی
اب تو آجا اب تو خلوت ہوگئی

مولانا نے اس پر خوب داد دی اور انعام سے نوازا۔ انہی خواجہ صاحب نے جگر کو بھی مولانا تھانوی کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا مشورہ دیا۔ جگرصاحب خود تو مولاناکی خانقاہ (تھانہ بھون) حاضر نہ ہوئے۔ ایک سفید کاغذ پر اپنا یہ فارسی شعر لکھ بھیجا۔
بہ سرِ تو ساقی مستِ من آید سرورِ بے طلبی خوشم
اگرم شراب نمی دھدبہ خمارِتشنہ لبی خوشم

(’’اے میرے مدہوش ساقی! تیرے دل میں یہ بات ہے کہ میں تجھ سے کچھ نہ مانگوں۔ ٹھیک ہے اگر تو مجھے شراب نہیں دیتا تو میں اِسی تشنہ لبی کے خمار میں ہی خوش ہوں۔‘‘)
چنانچہ یہ خط مولانا کی خدمت میں پہنچایا گیا۔ مولانااشرف علی تھانوی کے لیے فارسی اجنبی نہیں تھی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مولانا نے بچپن میں قرآنِ پاک حفظ کیا۔ اس کے بعد ذاتی شوق سے فارسی پڑھی۔ اس دوران عربی تعلیم شروع ہونے سے پہلے کچھ عرصہ فارغ گزارا۔ فرصت کے اِن دنوں میں مولانا نے ایک فارسی مثنوی ’’زیروبم‘‘ کے عنوان سے تخلیق کی۔ یہ مولانا کا بچپن تھا۔ اُس زمانہ میں فارسی کا معیار بھی بہت اونچا ہوا کرتا تھا۔ (یہ انیسویں صدی کے اواخر کی بات ہے جبکہ مولانا کا انتقال ۱۹۴۳ء میں ہوا۔) مولانا تھانوی خود بھی اشعار کا نہایت عمدہ اور نفیس ذوق رکھتے تھے۔ مثالیں اُن کے ملفوظات میں بکثرت بکھری پڑی ہیں۔ مولانا کے خلفاء و مریدین میں سے بھی اکثر صاحبِ دیوان ہوئے ہیں۔

چنانچہ انھوں نے جگر کے خط کو پڑھا تو ان کی مراد سمجھ گئے۔ اس کے بعد انھوں نے کاغذ کے دوسری جانب مندرجہ ذیل شعر لکھ کر جگر کو واپس بھجوا دیا۔
نہ بہ نثرِ نا تو بے بدل، نہ بہ نظم شاعر خوش غزل
بہ غلامی شہہ عزوجل و بہ عاشقی نبیؐ خوشم

(’’اے جگر تیرا تو یہ حال ہے لیکن میرا یہ حال ہے کہ نہ میرا کسی عظیم ادیب کی تحریر میں دل لگتا ہے اور نہ ہی مجھے کسی بڑے شاعر کی شاعری خوش کرتی ہے۔ بلکہ میں تو اللہ تعالیٰ کی بندگی میں اور اپنے پیارے نبی ﷺ کی غلامی میں ہی خوش رہتا ہوں۔‘‘)
قدرت کو جب کسی ہدایت کا انتظام کرنا منظور ہو تو اس کے لیے وہ اسباب بھی خود مہیا کرتی ہے۔ یہ خط جب جگرصاحب کے پاس پہنچا تو اُن کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور وہ دیر تک روتے رہے۔
اگلے ہفتے وہ خواجہ صاحب کی معیت میں مولانا کی خانقاہ میں حاضر ہوئے۔ مولانا صاحب شاید پہلے ہی سے منتظر تھے۔ توبہ ہوئی اور بیعت بھی۔ اس کے بعد جگر نے مولانا سے چار دعائوں کی درخواست کی۔ ایک یہ کہ وہ شراب چھوڑ دیں۔ دوسرے ڈاڑھی رکھ لیں، تیسرے حج نصیب ہوجائے اور چوتھے یہ کہ ان کی مغفرت ہوجائے۔ مولانا نے جگر کے لیے یہ 4 دعائیں کیں اور حاضرینِ محفل نے آمین کہی۔ بعدازاں مولانا تھانوی نے جگر سے کچھ سنانے کی فرمائش کی۔ جگر نے محفل میں نہایت سوزوگداز سے اپنی یہ غزل سنائی۔

کسی صورت نمودِسوزِ پنہانی نہیں جاتی
بجھا جاتا ہے دل چہرے کی تابانی نہیں جاتی
صداقت ہو تو دل سینوں سے کھینچنے لگتے ہیں واعظ
حقیقت خود کو منوا لیتی ہے، مانی نہیں جاتی
چلے جاتے ہیں بڑھ بڑھ کر مِٹے جاتے ہیں گر گر کر
حضور شمعِ پروانوں کی نادانی نہیں جاتی
وہ یوں دل سے گزرتے ہیں کہ آہٹ تک نہیں ہوتی
وہ یوں آواز دیتے ہیں کہ پہچانی نہیں جاتی
محبت میں ایک ایسا وقت بھی دل پر گزرتا ہے
کہ آنسو خشک ہوجاتے ہیں طغیانی نہیں جاتی
جگر وہ بھی سرتاپا محبت ہی محبت ہیں
مگر اِن کی محبت صاف پہچانی نہیں جاتی

مولانا اشرف تھانوی جیسے عالمِ دین اور شیخ وقت کی مانگی ہوئی پہلی تین دعائوں کی قبولیت تو خدائے پاک نے جگر کو ان کی زندگی میں ہی دکھا دی۔ انہوں نے بیعت کے بعد شراب بالکل چھوڑ دی۔ چونکہ کثرتِ مے نوشی کی عادت تھی لہٰذا اسے بالکل ترک کرنے سے وہ بیمار ہوگئے اور قلب میں درد رہنے لگا۔ جگر و معدہ میں سوزش ہوگئی جس کی وجہ چہرے اور گردن کی جلد پھٹنے لگی۔

اس موقع پر ماہر ڈاکٹروں کا ایک بورڈ بیٹھا۔ اُس نے مشورہ دیا کہ تھوڑی مقدار میں اگر شراب جسم کو ملتی رہے تو جسمانی اعضا اپنا کام ٹھیک طرح سے کرتے رہیں گے ورنہ زندگی کا چراغ گُل ہونے کا اندیشہ ہے۔ جگر نے اُن سے پوچھا کہ اگر شراب پیتا رہوں تو کتنا عرصہ جی سکوں گا؟
ڈاکٹر بولے ’’چند سال مزید اور بس۔‘‘
جگر نے کہا ’’میں چند سال خدا کے غضب کے ساتھ زندہ رہوں… اس سے بہتر ہے کہ ابھی تھوڑی سی تکلیف اُٹھا کر خدا کی رحمت کے سائے میں مرجائوں۔‘‘
لیکن بھلا ہوا اخلاص کا کہ خدائے پاک نے جگر کے الفاظ کی لاج رکھ لی اور دیسی علاج سے صحت عطا فرما دی۔ اس دوران لاہور کے مشہور معالج حکیم حافظ جلیل احمد مرحوم سے بھی علاج ہوتا رہا۔

دوسری دعا یہ تھی کہ ڈاڑھی رکھ لیں۔ یہ بھی پوری ہوئی۔ انھوں نے بیعت کے بعد حلیہ سنت کے مطابق کرلیا اور لباس بھی۔ اس دوران نماز کی بھی عادت ڈال لی۔ تھوڑی دیر مسجد میں بیٹھے رہنے کو بھی اپنا شعار بنا لیا۔ غالباً اسی زمانے کی بات ہے کہ ایک مرتبہ تانگے میں سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے۔ تانگے والا باربار نہایت ترنم سے یہ شعر پڑھ رہا تھا:
چلو دیکھ کر آئیں تماشا جگر کا
سنا ہے وہ کافر مسلماں ہوگیا

تھوڑی دیر بعد تانگے والے نے پچھلی نشست سے ہچکیوں کی آواز سنی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک مولوی صاحب رو رہے تھے۔ تحقیق پر معلوم ہوا کہ یہی جگرمرادآبادی ہیں۔

(مستعار : اردو ڈائجسٹ )

ماضی قریب میں مرحوم معین اختر ، معروف انڈین اداکار قادر خان ، لہری ، سارہ چودھری اور متعدد دوسرے اس فہرست میں شامل ہیں جنہوں نے گمراہی کے راستے کو چھوڑ ہدایت کی طرف آنا قبول کیا .....

جنید نے شہرت کی انتہائی بلندی دیکھی ہے اور اسے دین کی جانب راغب کرنے والی شخصیت کوئی اور نہیں مولانا طارق جمیل صاحب جیسی صاحب دل اور بزرگ شخصیت تھی تبدیلی کا یہ عمل آسان نہ تھا بلکہ یہ ایک طویل اور تکلیف دہ راستہ تھا جس میں اپنوں کی شدید مخالفت مال و دولت کی قربانی اور بے شمار ایسی دشواریاں تھیں کہ بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگا دیں ...

جنید کا سب سے بڑا مخالف ایک ایسا شخص ہے جو پاکستان کا سب سے بڑا شو بواۓ ہے اس شخص نے جس انداز میں دین کی تضحیک و تذلیل کا بازار گرم کر رکھا ہے اس کی دوسری مثال ملنی مشکل ہے جس زمانے میں یہ جاہل آنلائن نامی پروگرام کرتا تھا اس کی کم علمی کے شاہکار صاحبان علم کی طبیعت پر شدید بوجھ تھے پھر جب اس نے جنید کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے جل کر اس کے خلاف گستاخی کی تحریک شروع کی تو دیکھنے والے حیران تھے کہ یہ تو وہ شخص ہے کہ جس نے لاتعداد کھلی گستاخیاں اصحاب رسول رض کی شان میں کر رکھی ہیں اور جس کا ماضی رافضیت کی تہمت سے داغدار ہے یہ صرف اور صرف مسلک کے نام پر لوگوں کے جذبات کو گرم کر کے اپنی دوکان چمکانے کی سازش ہے اور کچھ نہیں ......

اب تصویر کا دوسرا رخ 

جب بھی کوئی معروف شخصیت دین کی طرف راغب ہوتی ہے تو اس کو تربیت کی سخت بھٹی سے گزارا جاتا ہے کہ تاکہ اس کا تزکیہ ہو سکے شہرت پسندی ایک ایسی بیماری ہے کہ جس کے جراثیم کبھی ختم نہیں ہوتے بلکہ جب بھی اور جہاں بھی ماحول میسر آ جاوے اپنی اثرات ظاہر کرنے شروع کر دیتے ہیں .......

جنید بھائی جنید بھائی کی گردان ہر جانب سنائی دینے لگی یہاں تک کہ وہ کچھ بھی ہوا کہ جو نہیں ہونا چاہئیے تھا ......

جنید بھائی مدارس میں جاکر بیان فرما رہے ہیں 
جنید بھائی علماء کے منبر پر بیٹھے ہیں
جنید بھائی داعی دین کے طور پر معروف ہو رہے ہیں 
جنید بھائی اسلامی اسکالر کے طور پر ٹی وی پروگرامات میں شرکت فرما رہے ہیں 

موجودہ تبلیغی جماعت میں بے شمار افراد ایسے ہیں جن کی قربانیاں جنید جمشید سے کہیں زیادہ ہیں جن کے علم کے سامنے جنید طفل مکتب ہے لیکن انھیں کبھی منبر نہیں ملا .......

یہ منبر علما کا منبر ہے 
یہ نبوت کے ورثا کا منبر ہے 
یہ صاحبان معرفت کی جا ہے 

یاد رکھئے خوب یاد رکھئے 

جب آپ کسی معروف مگر جاہل شخص کو اس منبر پر بیٹھا دینگے تو ایسے ہی مغالطے جنم لینگے

میں سب سے پہلے اس وقت کھٹکا جب جنید جمشید صاحب لیز کے اشتہار میں یہ کہتے دکھائی دئیے کہ الله کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام مت کرو .......

میں نے اپنے حلقے کے تبلیغی احباب اور علما کو متوجہ کیا کہ یہ ابتداء ہے یہیں اس خرابی ک تدارک کر دیا جاوے ورنہ معاملہ ہاتھ سے نکل جاۓ گا ......

پھر نگاہوں نے وہ منظر بھی دیکھا کہ مدارس کی سالانہ تقریب میں جنید صاحب اوپر بیٹھے تقریر فرما رہے ہیں اور علوم نبوت کے طالبان نیچے بیٹھے ہیں .......

علما کی اس بے توقیری پر دل جل کر رہ گیا اپنے قریبی حلقوں کو پھر متوجہ کیا کہ صاحبان کیا ہم ایک دیوبندی عامر لیاقت بنانے جا رہے ہیں .......

آج یہ معاملے ہمارے گلے پڑا ہوا ہے جسے اگلنا بھی مشکل اور نگلنا بھی کٹھن .......

یاد رکھیے ہر شخص کا شعبہ الگ ہے اس کی استعداد الگ ہے اس کا میدان الگ ہے اور جب بھی گھوڑے کا کام گدھے سے لیا جاوے گا ایسی ہی خرابیاں پیدا ہوتی رہینگی .

شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم الله خان مدظلہ فرماتے ہیں

دارالعلوم دیوبند او راس عظیم ادارے کی طرف منسوب اکابر علمائے دیوبند کی بہت سی خصوصیات تھیں ،اخلاص وللہیت، دیانت وامانت، اسلامی علوم میں پختگی ومہارت، ان کی ترویج واشاعت،خود داری واستغناء، حق کی حمایت، باطل کی تردید ، اسلاف پر اعتماد ، اتباع سنت، یہ سب صفات ان میں بدرجہ اتم موجود تھیں ، لیکن مجھے آج ان کی جس صفت اور جس خصوصیت کو ذکر کرنا ہے وہ ” اعتدال“ ہے۔ علمائے دیوبند کے مسلک ومزاج میں ”اعتدال“ وہ بنیادی عنصرو خصوصیت ہے جو انہیں افراط وتفریط سے بچا کر ٹھیک اسی راستے تک لے جاتی ہے جو ”ماأنا علیہ وأصحابی“ کا مصداق ہے او رجس پر چلنے والے ” اہل سنت والجماعت“ کہلاتے ہیں، اعتدال کی یہ صفت ان کی زندگی کے ہر ہر شعبے میں جھلکتی ہے۔

راہ اعتدال پر چلنے والوں کے لیے ایک مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ افراط والے انہیں تفریط میں مبتلا سمجھتے ہیں اور اہل تفریط انہیں افراط کے زمرے میں شمار کرتے ہیں، علمائے دیوبند کے ساتھ بھی ایسا ہوا اور ہو رہا ہے، مثلاً علمائے دیوبند ، قرآن وحدیث پر ایمان کامل او رعمل صالح کے ساتھ اسلاف پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں اور قرآن وحدیث کی تشریح میں اپنی عقل کے گھوڑے دوڑانے کے بجائے ان کے اقوال وتشریحات کو مرکزی حیثیت دیتے ہیں، لیکن اس اعتماد اور عقیدت میں وہ اس قدر غلو نہیں کرتے کہ وہ شخصیت پرستی یا عبادت کے رتبے کو چھولے، بلکہ یہ اعتماد اور عقیدت، فرق مراتب کو ملحوظ رکھ کر ،اعتدال کی حدود کے اندر ہی اندر رہتی ہے۔

حسیب احمد حسیب

خورشید ندیم کا المیہ

تبخیر مسلسل

خورشید ندیم کا المیہ ...... !

بعض اوقات ذاتی خیالات اور اندرونی خلفشار انسان کو اتنا مجبور کر دیتا ہے کہ وہ دیکھتا تو بیرونی دنیا کو ہے لیکن دیکھتا صرف اپنی عینک سے ہی ہے ....
ناقصین کا ہمیشہ سے یہ المیہ رہا ہے کہ وہ اپنی ناقص معلومات کی بنیاد پر کاملین کے اوپر اعتراضات کھڑے کرتے چلے جاتے ہیں جس سے اس شخصیت کا تو کچھ نہیں بگڑتا لیکن ایسے لوگ ضرور اپنا اعتبار کھو بیٹھتے ہیں ........
میں سب کچھ جانتا ہوں 
میں نے سب کچھ سیکھ لیا ہے 
مجھے سب کچھ معلوم ہے 
صرف میری راۓ ہی معتبر ہے 
میری پرواز فکر کی بلندی تک کون پہنچ سکتا ہے 
میرے سامنے ہر چیر عیاں ہے 
میرا علم کامل ہے


افسوس 

کتنے عبقری اس میں میں کا شکار ہوۓ
کتنے شیر اس میں میں کے چکر میں بکری ہو گۓ ...


یہی حال جناب خورشید ندیم صاحب کا بھی ہے ہر جگہ ہر موضوع پر اور ہر چیز میں اپنی آراء کو معتبر سمجھنا ایک ایسی بیماری ہے جس سے چھٹکارا انتہائی مشکل ہے ......

ملا عمر کی سیاست کو سمجھنے کیلیے اخباری معلومات اور نامہ نگاروں کی اطلاعات سے بڑھ کر اس سیاست شرعی کا سمجھنا ضروری ہے کہ جس کا دین ہم سے تقاضہ کرتا ہے ..
کتاب الله ہماری رہنمائی کرتی ہے
يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْ‌ضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّـهُ لَكُمْ وَلَا تَرْ‌تَدُّوا عَلَىٰ أَدْبَارِ‌كُمْ فَتَنقَلِبُوا خَاسِرِ‌ينَ ﴿٢١﴾
اے میری قوم والو! اس مقدس زمین (١) میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے نام لکھ دی ہے (٢) اور اپنی پشت کے بل روگردانی نہ کرو (٣) کہ پھر نقصان میں جا پڑو۔

٢١۔١ بنو اسرائیل کے مورث اعلیٰ حضرت یعقوب علیہ السلام کا مسکن بیت المقدس تھا۔ لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کے امارات مصر کے زمانے میں یہ لوگ مصر جا کر آباد ہوگئے تھے اور پھر تب سے اس وقت مصر میں ہی رہے، جب تک کہ موسیٰ علیہ السلام انہیں راتوں رات (فرعون سے چھپ کر) مصر سے نکال نہیں لے گئے۔ اس وقت بیت المقدس پر عمالقہ کی حکمرانی تھی جو ایک بہادر قوم تھی۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر بیت المقدس جا کر آباد ہونے کا عزم کیا تو اس کے لئے وہاں قابض عمالقہ سے جہاد ضروری تھا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس ارض مقدسہ میں داخل ہونے کا حکم دیا اور نصرت الٰہی کی بشارت بھی سنائی۔ لیکن اس کے باوجود بنو اسرائیل عمالقہ سے لڑنے پر تیار نہ ہوئے (ابن کثیر)
استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب زید مجدہ نے فرمایا
کہ بنی اسرائیل کا آبائی اورا صلی وطن شام تھا، حضرت یوسف ں کے زمانہ اقتدار میں یہ مصر میں آکر بسے تھے او رملک شام میں ایک دوسری قوم عمالقہ قابض ہو گئی تھی ،فرعون کی غرقابی کے بعد انہیں عمالقہ سے جہاد کرکے اپنا ملک چھڑانے کا حکم ہوا۔ لیکن انہوں نے عمالقہ کی قوت وطاقت کے قصے سن رکھے تھے، اس لیے ہمت ہاربیٹھے او رجہاد کرنے سے صاف انکار کر دیا، الله تعالیٰ نے سزا کے طور پر وادی تیہ میں چالیس سال تک سرگرداں رکھا
قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِنَّ فِيهَا قَوْمًا جَبَّارِ‌ينَ وَإِنَّا لَن نَّدْخُلَهَا حَتَّىٰ يَخْرُ‌جُوا مِنْهَا فَإِن يَخْرُ‌جُوا مِنْهَا فَإِنَّا دَاخِلُونَ ﴿٢٢﴾
انہوں نے جواب دیا کہ اے موسیٰ وہاں تو زور آور سرکش لوگ ہیں اور جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں ہم تو ہرگز وہاں نہ جائیں گے ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں پھر تو ہم (بخوشی) چلے جائیں گے۔(۱)
یہ وہ فطری بزدلی تھی کہ جو سامنے موت دیکھ کر فرار کے راستے ڈھونڈتی ہے کہ جسے خدا کے وعدوں پر یقین نہیں ہوتا
قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِنَّا لَن نَّدْخُلَهَا أَبَدًا مَّا دَامُوا فِيهَا ۖ فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَ‌بُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ ﴿٢٤﴾
قوم نے جواب دیا کہ اے موسٰی! جب تک وہ وہاں ہیں تب تک ہم ہرگز وہاں نہ جائیں گے، اس لئے تم اور تمہارا پروردگار جا کر دونوں ہی لڑو بھڑ لو، ہم یہیں بیٹھے ہوئے ہیں (١)۔

٢٤۔١ لیکن اس کے باوجود بنی اسرائیل نے بدترین بزدلی، سوء ادبی اور سرکشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تو اور تیرا رب جا کر لڑے۔
اس کے برعکس جب جنگ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رض سے مشورہ کیا تو انہوں نے قلت تعداد و قلت وسائل کے باوجود جہاد میں حصہ لینے کے لئے بھرپور عزم کا اظہار کیا اور پھر یہ کہا کہ ' یارسول اللہ! ہم آپ کو اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح قوم موسیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کہا تھا ' (صحیح بخاری)
یہ مزاج تھا اسلام کا کہ تین سو تیرہ ایک طرف اور ہزار ایک طرف سامنے موت یقینی اور ایمان والے کہ رہے ہیں ہم بنی اسرئیل والے نہیں کہ خوف کھا جائیں
دوسری طرف تاریخ اسلامی ملاحظہ کیجئے
حجاج بن یوسف جیسا ظالم ایک بیٹی کی پکار پر اپنی جائیداد گروی رکھ دیتا ہے کہ خلیفہ وقت کے پاس مال و اسباب نہیں وہ کسی بھی قسم کی فوج بھیجنے سے قاصر ہے ...
حجاج اپنے خون کو بھیجتا ہے
افسوس کہ خورشید ندیم کی فراست ملا عمر کی ایمانی کیفیت کو حجاج سے بھی کمتر سمجھتی ہے

کالم نگار پروفیسر سید اسراربخاری
اپنے کالم عافیہ کی اسیری اور ہماری عافیت میں لکھتے ہیں


" کس قدر خوشی کا مقام ہے‘ کہ ہمارے حکمران عافیت کی زندگی گزار رہے ہیں‘ ہمارا سفیر بے پیر امریکہ کے پاکستانی سفارت خانے میں آسودہ ہے‘ اور ملک کی ایک بے خطا بیٹی کو 86 برس کی قید امریکی محبس میں گزارنا پڑ رہی ہے‘ ہم نے جس عزت و توقیر اور ہاتھ کی صفائی کے ساتھ ریمنڈ ڈیوس کو رخصت کیا‘ اس کے مقابلے میں عافیہ کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا اور وہ جس طرح دیار غیر میں سلاخوں کے پیچھے زندانی ہے‘ ہمارے وی وی آئی پیز اپنے کمی ہونے پر بھی غور کریں کہ ان کی ذمہ داری یعنی عافیہ کے ساتھ کیا ، کیا جا رہا ہے اور انہوں نے ریمنڈ دیوث کو تین پاکستانی قتل کرنے کے الزام میں کس اکرام سے نوازا‘ بڑی مہربانی ہے حسین حقانی کی کہ انہوں پاکستانی قونصل جنرل کو گونگلو سے مٹی جھاڑنے اور اپنے عرق انفعال سے محرومی کو چھپانے کیلئے عافیہ سے ملاقات کرنے کی ہدایت دی‘ پاکستان کے قونصل جنرل عقیل ندیم نے ٹیکساس جیل میں 86 سال قید کی سزا کاٹنے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کرکے ان کی خیریت دریافت کی۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ قونصل جنرل کو سفیر باتدبیر نے اس وقت عافیہ کی خیریت معلوم کرنے بھیجا جب اس کی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کی آخری تاریخ گزر چکی تھی‘ آخری تاریخ 15 اپریل تھی۔ چین کی بنسی بجانے والے حکمران عافیہ کی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں‘ یہ بے حمیتی‘ ناترسی اور بے انصافی آخر ان کی جواب دہی تو ہونی ہے‘ اس لئے کہ احکم الحاکمین نے جب ظالمین اور ان کی اعانت کرنے والوں کو ایک ہی ٹکٹکی پر کسنا ہے تو اوباما چھڑانے نہیں آئے گا بلکہ وہ سجین میں پڑا اپنی سزا بھگت رہا ہو گا‘ بھلا امریکہ کو ایسے غلامان قدر دان کہاں ملیں گے۔ اہل پاکستان اب جان چکے ہیں کہ ان کے حکمران وائٹ ہاوس کی میزیں صاف کرنے والے ویٹرز ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ سی آئی اے پاکستان کے بارے اس طرح بولتی ہے کہ گویا یہ کوئی ریاست ہی نہیں ان کے باجگزاروں کا اڈہ ہے‘ جو معاوضے اور تعیش کے عوض امریکہ کے ہاتھ اپنی بیٹی بیچ کر چین کی نیند سو رہے ہیں‘ سی آئی اے کی خرافات کا جواب آئی ایس آئی اسی لہجے میں دے کیونکہ ہمارا یہ ادارہ قابل اعتبار اور خوددار ہے اور اپنی فنی صلاحیت میں سی آئی اے سے زیادہ ہے کم نہیں‘ عافیہ کے حوالے سے بھی یہ ادارہ اپنا کردار ادا کرے تو ممکن ہے‘ وہ اپنی مظلومہ و بے گناہ بیٹی کو چھڑا لے‘ وگرنہ جو امریکہ کی زلفوں کے اسیر ہیں وہ تو وائٹ ہاوس کے کوٹھے کا طواف کرتے ہیں‘ ان سے قوم کو کیا توقع‘ پاکستان کی بے حمیتی جو بے بسی کے مترادف ہے‘ اس کے نتیجے میں وہ ڈرون گرانے کی صلاحیت رکھتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ عافیہ صدیقی کی 86 سال قید کی سزا عمرقید کی سزا سے بھی آگے گزر گئی ہے‘ تاریخ میں کبھی کسی کو اتنی لمبی سزا نہیں ہوئی‘ تو وہ خدانخواستہ قبر میں بھی امریکی قید میں ہو گی؟ مگر امریکہ کی بربریت کے سامنے تمام مہذب دینا خاموش ہے‘ یوں لگتا ہے کہ امریکی حکمران اشرف المخلوقات کے بجائے ارزل المخلوقات کے مقام پر فائز ہو چکے ہیں‘ تاریخ سزا پانے والی ایک بے بس عورت کو سرخرو اور امریکہ کو مجرم لکھے گی‘ معتصم باللہ کے زمانے میں ہندوستان سے ایک عورت نے مدد کیلئے پکارتے ہوئے کہا وامعتصماہ‘ اے معتصم میری مدد کو پہنچو تو معتصم نے خبر پاتے ہی کہا: وا اُختاہ! آیا بہن‘ آیا۔ اور لشکر کشی کرکے مسلمان خاتون کو کافروں سے چھڑا کر ان کے ملک کو تاراج کر دیا "


اور پھر یہ معاملہ تو مسلمان بیٹیوں کا تھا ہمارے اسلاف تو وہ تھے کہ دوسروں کی بیٹیوں کو اپنی بیٹیاں بیٹیاں سمجھتے تھے


" یہ اس زمانہ کی بات ہے جب اسپین میں عیسائیوں کی حکومت تھی۔ مسلمانوں کی آمد سے قبل اندلس میں یہ دستور تھا کہ امراء سلطنت اور گورنر اپنے بچوں کو شاہی آداب سیکھنے کے لئے شاہی محل بھیجا کرتے تھے۔ اندلس کا ایک اہم علاقہ سبتہ تھا جس کا گورنر کائونٹ جولین تھا۔ کائونٹ جولین نے اپنی بیٹی فلورنڈا کو طیطلہ میں شاہ راڈرک کے محل میں تعلیم و تربیت کے لئے بھیج دیا تھا۔ جب وہ جوان ہوئی تو راڈرک اس کے حسن و جمال پر فریفتہ ہوگیا اور بادشاہت کے غرور اور طاقت کے نشہ میں چور ہوکر لڑکی کے دامن عصمت کو تار تار کردیا۔
فلورنڈا نے بڑی مشکل سے یہ اطلاع اپنے باپ کائونٹ جولین کو دی۔ جولین اس بے عزتی پر بادشاہ کا دشمن ہوگیا ور اس سے انتقام اور اپنی باعفت بیٹی فلورنڈا کے حق کے لئے مسلمان والی موسیٰ بن نضیر سے امداد کی اس وقت شمالی افریقہ پر مسلمانوں کا اقتدار قائم ہوچکا تھا۔
۱۹ھ میں موسیٰ بن نضیر اور طارق بن زیاد کی کوششوں سے اندلس پر حملہ ہوا جسے مسلمانوں نے فتح کرکے رعایا کو مظالم سے نجات دلائی جن مظالم کو برداشت کرنے کی اب ان میں طاقت نہ تھی "
ملت کی بیٹیوں کے دلال
محمد اسمعیل بدایونی


خورشید ندیم صاحب کو اس بات کا غم ہے کہ اسامہ کو امریکہ کے حوالے کیوں نہ کیا گیا عجیب بات ہے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی وہاں کون سا اسامہ تھا اور صدام کو بد ترین انجام تک پہنچانے کے بعد بھی انھیں چین نہ آیا .........

شاید خورشید ندیم صاحب اپنوں کی تاریخ اور دینی مزاج سے تو انجان ہیں ہی 
غیروں کی تاریخ اور ان کی فطرت سے بھی ناواقف ہیں


جب عیسائی افواج نے اسپین کو فتح کیا تو اس وقت اسپین کی زمیں پر مسلمانوں کا اتنا خون بہا یا گیا کہ فاتح فوج کے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے تو ان کی ٹانگیں گھٹنوں تک مسلمانوں کے خون میں ڈوبی ہوتے تھیں جب قابض افواج کو یقین ہوگیا کہ اب اسپین میں کوئی بھی مسلمان زندہ نہیں بچا ہے تو انہوں نے گرفتار مسلمان فرما روا کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنے خاندان کےساتھ واپس مراکش چلا جائے جہاں سے اسکے آباؤ اجداد آئے تھے ،قابض افواج غرناطہ سے کوئی بیس کلومیٹر دور ایک پہاڑی پر اسے چھوڑ کر واپس چلی گئی جب عیسائی افواج مسلمان حکمرانوں کو اپنے ملک سے نکال چکیں تو حکومتی جاسوس گلی گلی گھومتے رہے کہ کوئی مسلمان نظر آئے تو اسے شہید کردیا جائے ، جو مسلمان زندہ بچ گئے وہ اپنے علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا بسے اور وہاں جا کر اپنے گلوں میں صلیبیں ڈال لیں اور عیسائی نام رکھ لئے، اب بظاہر اسپین میں کوئی مسلمان نظر نہیں آرہا تھا مگر اب بھی عیسائیوں کو یقین تھا کہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے کچھ چھپ کر اور اپنی شناخت چھپا کر زندہ ہیں اب مسلمانوں کو باہر نکالنے کی ترکیبیں سوچی جانے لگیں اور پھر ایک منصوبہ بنایا گیا ۔ پورے ملک میں اعلان ہوا کہ یکم اپریل کو تمام مسلمان غرناطہ میں اکٹھے ہوجائیں تاکہ انہیں انکے ممالک بھیج دیا جائے جہاں وہ جانا چاہیں۔اب چونکہ ملک میں امن قائم ہوچکا تھا اور مسلمانوں کو خود ظاہر ہونے میں کوئی خوف محسوس نہ ہوا ، مارچ کے پورے مہینے اعلانات ہوتے رہے ، الحمراء کے نزدیک بڑے بڑے میدانوں میں خیمے نصب کردیئے گئے جہاز آکر بندرگاہ پر لنگرانداز ہوتے رہے ، مسلمانوں کو ہر طریقے سے یقین دلایا گیا کہ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا جب مسلمانوں کو یقین ہوگیا کہ اب ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا تو وہ سب غرناطہ میں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے اسی طرح حکومت نے تمام مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرلیا اور انکی بڑی خاطر مدارت کی۔ یہ کوئی پانچ سو برس پہلے یکم اپریل کا دن تھا جب تمام مسلمانوں کو بحری جہاز میں بٹھا یا گیا مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑتے ہوئے تکلیف ہورہی تھی مگر اطمینان تھا کہ چلو جان تو بچ جائے گی دوسری طرف عیسائی حکمران اپنے محلات میں جشن منانے لگے ،جرنیلوں نے مسلمانوں کو الوداع کیا اور جہاز وہاں سے چلے دیئے ، ان مسلمانوں میں بوڑھے، جوان ، خواتین ، بچے اور کئی ایک مریض بھی تھے جب جہاز سمندر کے عین وسط میں پہنچے تو منصوبہ بندی کے تحت انہیں گہرے پانی میں ڈبو دیا گیا اور یوں وہ تمام مسلمان سمندر میں ابدی نیند سوگئے۔ اس کے بعد اسپین میں خوب جشن منایا گیا کہ ہم نے کس طرح اپنے دشمنوں کو بیوقوف بنایا ۔ پھر یہ دن اسپین کی سرحدوں سے نکل کر پورے یورپ میں فتح کا عظیم دن بن گیا اور اسے انگریزی میں First April Fool کا نام دیدیا گیا یعنی یکم اپریل کے بیوقوف ۔

اپریل فول
آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے


اور یہ کوئی ایک واقعہ تو نہیں کہ جو تاریخ کے صفحات پر رقم ہے مزید کریدیں تو مزید حقائق واضح ہوتے ہیں

"سقوطِ یروشلم"

لارنس آف عریبیہ ٹی ای لارنس کی سرکردگی اور حجاز مقدس میں شریف مکہ کی مدد سے عثمانی سلطنت کے خلاف عقبہ کی فتح کے بعد 1917ء میں برطانوی وزیرِ جنگ لائیڈ جارج نے مصر میں موجود برطانوی فوجی مشن کو ارض فلسطین پر قبضے کے لئے سگنل دے دیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ "یروشلم کرسمس سے پہلے ہمارے پاس ہونا چاہئے".
11 دسمبر 1917 کو جنرل ایلن بی یروشلم پر قبضہ کر چکا تها وہ تاریخی یروشلم جو مسلمانوں کا قبلہء اول تها اور سات سو سال سے مسلمانوں کے قبضے میں تھا. ایک طرف برطانیہ لارنس آف عریبیہ کی وساطت سے شریف مکہ کو وسیع تر عرب ریاست کا حکمران بننے کا جهوٹا خواب دکها چکا تها اور دوسری طرف عالمی صیہونیت کے نمائندہ یہودیوں سے ارض فلسطین میں ان کی حاکمیت کے لئے ساز باز کرچکا تها.
2 نومبر 1917ء کو برطانوی وزیرِ خارجہ آرتهر جیمز بالفور نے Bal Four Declaration جاری کیا، جو مسلم امہ پر بجلی بن کے گرا، اس میں کہا گیا تھا کہ" ہزمیجیسٹی کی حکومت ارض فلسطین میں یہودیوں کے لئے قومی وطن کے قیام کی متمنی هے اور وہ اسے رو بہ عمل لانے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی".
1918ء میں جنرل ایلن بی اپنی فوج کے ساتھ دمشق پہنچا اور سیدها سلطان صلاح الدین ایوبی کے مزار پر گیا اور کہا"صلاح الدین ہم واپس آگئے ہیں"، اس کے صرف چار ہفتوں بعد ہی سلطنتِ عثمانیہ 29 اکتوبر 1918ء کو بلادِ عرب میں اپنے چار سو سالہ طویل حکمرانی کے بعد اقتدار سے دستبردار ہوگئی.
اور پهر برطانیہ نے 24 جولائی 1922 کو لیگ آف نیشنز سے فلسطین پر مینڈیٹ حاصل کر لیا.
("حجاز ریلوے، عثمانی ترک اور شریف مکہ از قلم نسیم احمد" ناشر الفیصل پبلیکیشنز لاہور) سے ایک اقتباس.

آج ہم یہ سوال پوچھتے ہیں کہ ملا عمر نے اسامہ کو کیوں امریکہ کے حوالے نہ کیا ....... ؟
سوال دراصل یہ ہے کہ کیا امریکہ اسامہ کو لے جانے کے بعد بھی افغانستان کو چھوڑ دیتا اور اگر کوئی ایسا سوچتا ہے تو وہ تاریخ سے اندھا ہے اسے اقوام و ملل کے مزاج کا اندازہ نہیں اور وہ بے وقوفوں کی جنت میں رہتا ہے ........

ہمیں خورشید ندیم صاحب سے کوئی گلہ نہیں بلکہ انکی کم نظری پر افسوس ہے .

خورشید ندیم کا المیہحسیب احمد حسیب

Wednesday, 19 November 2014

مفتی صاحب جواب دو

مفتی صاحب جواب دو !

https://www.facebook.com/pages/%DA%86%D9%88%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C-%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81-Chorangi-Nama/1424576877789438?fref=photo


آج فیس بک پر ایک تحریر سے گزرا تحریر کیا تھی ایک دکھڑا تھا ایک شکوہ تھا ہاۓ بے چارہ کیا کہوں ......
یہ ایک ایسے صاحب کی کہانی ہے جو معاشی تنگی سے پریشان ہیں 
اجی کون نہیں ہوتا مگر کیا کیجئے ہمارا قومی مزاج 
بلکہ قومی بیماری ہے (Narcissism) نرگسیت کی ایک کیفیت یہ ہوتی ہے کہ انسان اپنی کمیوں کوتاہیوں اور غلطیوں کا الزام آسانی سے دوسروں پر دھرتا چلا جاتا ہے اس کی بنیادی وجہ لاشعور میں موجود خود پسندی اور عملی کم ہمتی ہے .
اس کہانی میں یہ صاحب مفتی صاحب سے سوال کرتے ہیں اور اپنے سوال کے لغو ہونے کو نہیں دیکھتے بلکہ مفتی صاحب سے شاکی ہیں اور انھیں مجرم گردانتے ہیں
" مفتی صاحب بت بنے اسکی باتیں سنتے رہے اس اثناء میں وہ شخص جانے کے لئیے کھڑا ہوگیا اور بولا میرے ہر سوال کا جواب آپکی مجرمانہ خاموشی میں پنہاں ہے۔ بس اب آپ سے اور آپکی علماء برادری سے آخری بات یہ ہی کہوں گا کہ اب بھی اگر آپ لوگوں نے سولہہ کروڑ عوام کے اس مسلے پر مسجد کے منبر سے آواز حق بلند نہ کی تو ثابت ہوجائے گا کے آپ اور آپکی پوری علماء برادری بھی سولہہ کروڑ عوام کی تباہی میں برابر کے شریک ہیں آپ بھی ان ہی دس پرسنٹ لٹیروں میں شامل ہیں، آپکو اور آپکی علماء برادری کو بھی سولہہ کروڑ عوام کے اس اہم اور بنیادی مسلے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے پر برابر کا حصہ مل رہا ہے۔
یاد رکھئیے گا میری بات جس دن بھی عوام کے اندر پکا ہوا یہ لاوا پھٹا اس روز ان دس پرسنٹ مراعت یافتہ لوگوں کے ساتھہ ساتھہ عوام آپکی بھی پگڑیاں نہیں، سر اچھالے گی۔ اس سے پہلے کہ مفتی صاحب مزید کچھہ کہتے وہ شخص کمرے سے جاچکا تھا۔ "
اور یہ ساری برسات اسلئے کہ کہانی کے ہیرو صاحب دو پیسے کمانے کا ہنر نہیں جانتے 
پڑھنے کے بعد میں نے سوچا
ابھی پچھلا کچھ عرصہ میرا بیروزگاری کا گزرا کتنا آسان تھا میں بھی کسی مولوی کسی مفتی کو جاکر ذلیل کرتا اور دل کا سکون پاتا .......
میں بے وقوف سی وی ڈالتا رہا انٹرویوز دیتا رہا اور میری کم نصیبی آج اچھی نوکری کر رہا ہوں 
ارے او مولوی !
یہ سب تیرا قصور کہ مجھ سے دو پیسے نہ کماۓ جا سکیں 
میں اگر نکما نکھٹو ہوں تو کیا ہوا 
اب یہ تو مجھے حرام کمانے کا لائسنس دے 
یا میری گالیاں سن
جی ہاں حرام کا کمانے کا لائسنس بس یہی تو گلا ہے مولوی سے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں 
پھر سوچا کچھ لکھوں شاید اس شکوہ بے جا کا کچھ مداوا ہو سکے
گو کہ بظاہر انتہائی خوبصورت اور دلگداز تحریر ہے لیکن اس کی مثال اس خوبصورت زہر کی سی ہے جسکو خوبصورت رنگ و خوشبو میں لپیٹ کر کسی کے سامنے پیش کر دیا جاوے کہ لیجئے نوش جاں فرمائیے اور جان سے گزر جائیے.......
دیکھئے مولوی کی نہ مان کر ساٹھ سال پہلے ہم نے مسٹر کے ہاتھ پر بیعت فرما لی تھی تو آج مولوی سے سوال کیسے ! کیا آپ کی معیشت کو سنوارنے کی ذمےداری مولوی کی ہے اگر آپ ایسا سمجھتے ہیں تو جان لیجے آپ بے وقوفوں کی جنت میں رہتے ہیں یہ ایک جمہوری ریاست ہے جو آپ نے ایک مسٹر کی قیادت میں حاصل کی ہے یہ کوئی اسلامی خلافت نہیں جناب خلافت تو آپ نے بالاکوٹ کے پہاڑوں میں دفنا دی تھی جب شہیدین رح کے خون سے سر زمین بالاکوٹ رنگی گئی تھی کیا آپ کو ١٨٥٧v کی جنگ آزادی یاد ہے یا تحریک ریشمی رومال ..........
اپنی کمزوری کا رونا ، رونا ہے اپنی بےکسی کا پیٹنا ڈالنا یا اپنی کسمپرسی کا ماتم کرنا تو خدا را مولوی پر تبرا مت بھیجئے اپنے سینے پر ماتمی ضربیں لگائیں.........
مولوی یہ مولوی وہ ...........
آپ شاید اس دور میں ابو حنیفہ ، راضی و غزالی یا ابن تیمیہ رح کی پیدائش کے خواہش مند ہیں مگر کیسے ...........؟
آپ کے گھر کا سب سے کم عقل کمزور بچہ دین کے علم کے واسطے اور آپ کے مال کا سب سے زیادہ بچا کچہ دینی درسگاہوں کے واسطے .......
جتنا پیسہ سال بھر میں ایک او لیول پڑھنے والے بچے پر خرچ ہوتا ہے اتنے میں ایک مولوی تیار ہو جاتا ہے .......
اصل میں یہ بغض یہ جلن مولوی سے نہیں شاد و آباد مساجد سے ہے علما سے نہیں بلکہ علوم دینیہ سے ہے یہ دشمنی مفتی سے نہیں دین سے ہے ......
اور جناب فقر کا اتنا ہی خوف اور اتنی ہی پریشانی تو مولوی سے کیوں نالاں ہیں مولوی تو ہے ہی بیکار مادی اسباب اختیار کیجئے آپ کی کم ہمتی اور ناقابلیت کا ذمےدار مولوی تو نہیں اور اسی خرابی میں نظام میں باہمت لوگ شکر گزاری کے ساتھ اپنی معاش حاصل کر رہے ہیں
ویسے دعوی تو ہے اس قوم کو حب رسول کا لیکن اس تقاضے کون نباہے .......
ایک اعرابی الله کے رسول سے آکر کہنے لگا !
”یارسول اللہ ! مجھے آپ سے محبت ہے- آپ نے فرمایا جو کچھ کہہ رہے ہو، سوچ سمجھ کر کہو- تو اس نے تین دفعہ کہا، خدا کی قسم مجھے آپ سے محبت ہے- آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے محبوب رکھتے ہو تو پھر فقر و فاقہ کے لئے تیار ہو جاؤ (کہ میرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے) کیونہ جو مجہ سے محبت کرتا ہے فقر و فاقہ اس کی طرف اس سے زیادہ تیزی سے آتا ہے جیسی تیزی سے پانی بلندی سے نشیب کی طرف بہتا ہے-“ (ترمذی؛۲۳۵٠)
اب کیا کریں کمی آپ سے ہوتی نہیں 
حب رسول کا آپ دعوا کرتے ہیں 
شکر کرنا آپکےلئیے مشکل 
اور صبر کرنا کار لاحاصل 
آسان کام یہ ہے مولوی کو برا بھلا کہیں اور دل کا سکون پائیں
" نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ......... نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے "
آج مفتی آپ سے پوچھتا ہے 
اسلام کے نام پر مملکت قائم کرنے والوں نے کتنی مساجد تعمیر کیں کتنی اعلی دینی درسگاہوں کا قیام ہوا دیوبند ، ندوہ ، علیگڑھ اور اعظم گڑھ تو آپ ہندوستان میں چھوڑ آۓ یہاں کون سا الاظہر آپ نے قائم فرما دیا پھر کس منہ سے آپ مولوی پر پھبتی کستے ہیں ہاں مجھے کہنے دیجئے دینی تعلیم و عبادت گاہوں کا قیام آپ کے مقاصد میں تھا ہی کب ہاں بنک کا افتتاح آپ نے ضرور کیا .......
آج مفتی آپ سے پوچھتا ہے ہاں یہ دیوبندی ہے بریلوی ہے اہل حدیث ہے لیکن یہ جو مہاجر ، پٹھان ، سندھی ، بلوچی ، پنجابی سرائیکی ، بہاری کی دیواریں ہیں یہ کس نے کھڑی کر دی ہیں آپ کے درمیان ......
آپ ذرا یہ تو بتائیں آپ کا دنیوی تعلیمی مقام کیا ہے کتنے عظیم علمی دماغ آپ نے پیدہ کر ڈالے کون سی ایجادات کا تمغہ آپ کے سینے پر سجا ہے ......
اور افسوس تو یہ کہ جو چند مولوی سیاهست میں آپ کے سامنے پیش ہوتے ہیں انھیں آپ بطور قوم دھتکار کر کن لوگوں کو چنتے ہیں 
یہ بی بی کا بیٹا ہے یہ مہاجر قوم کا اکلوتا رہنما یہ پنجاب کی شان پنجاب کی آن یہ باچا خانی پشتون ہے اور یہ رنگیلے خان کا دیوانہ دیوانی کیا حکومت کسی مولوی کے ہاتھ ہے 
مولوی کیا کرے الکشن لڑے تو حکومت کا بھوکا کہلاے 
جہاد کی بات کرے تو دہشت گرد بن جاوے 
دعوت و اصلاح کا بیڑا اٹھاۓ تو غیر فعال راہب کی پھبتی سنے 
اور انقلاب کی بات کرے تو فسادی کہلاے .......
آج آپ سے بحیثیت قوم سوال ہے 
کیا آپ پورے کے پورے دین کو قبول کرنے کیلئے تیار ہیں 
الله کے رسول صل الله علیہ وسلم نے عمر فاروق رض سے کہا تھا 
تم مجھے اپنے جان سے زیادہ عزیز رکھو 
اور فاروق ایک لمحے میں فنا فی الرسول کے مقام پر کھڑے تھے
(بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے میری جان کے سوا ہر چیز سے زیادہ پیارے ہیں ۔ تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا! قسم ہے اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! جب تک کہ میں تجھے جان سے پیارا نہ ہو جاؤں تو تیرا ایمان کامل نہیں ۔ تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا بخدا! اب آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ پیارے ہو گئے ہیں تو آپﷺ نے فرمایا: ترجمہ: ’’عمر اب تمہارا ایمان کامل ہو گیا۔ ‘‘
حوالہ کیلئے صحیح بخاری، کتاب الأیمان والنذور، باب کیف کانت یمین النبیﷺ، حدیث نمبر 6142)
مسلہ یہ نہیں کہ مولوی کیا کہتا ہے مسلہ یہ ہے کہ کیا آپ دین کو پوری طرح قبول کرنے کیلئے تیار ہیں اور کیا آپ الله کے دین پر راضی ہیں 
اگر ہاں تو ضرور سوال کیجئے 
اور اگر نہیں تو پھر آپ کو کوئی حق حاصل نہیں
قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ
آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ کے جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں، تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالٰی اپنا عذاب لے آئے اللہ تعالٰی فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا
(التوبہ : 24)
حسیب احمد حسیب

اسکے نام پے بیٹھی ہے

غزل
اسکے نام پے بیٹھی ہے 
کتنی پاگل ناری ہے


ارمانوں کا خون ہے یا
کپڑوں پر گلکاری ہے

تنہائی ، یادوں کا بوجھ
دل پر کتنا بھاری ہے


جان تمہیں ہم کہتے ہیں 
جان ہی تم پر واری ہے


تیری جدائی کا دل پر 
وار بہت ہی کاری ہے


ہونٹوں پر آتی مسکان 
دیکھو کتنی پیاری ہے


موسم بدلا ہے یا پھر 
تم نے زلف سنواری ہے


کل شب بادل برسا تھا 
آج ہماری باری ہے


آنکھوں سے اسکی تصویر 
ہم نے آج اتاری ہے


آگ بجھانے والے کے 
دامن میں چنگاری ہے


موسم سے ڈرنا کیسا 
طوفانوں سے یاری ہے


دریا میں موجوں کا حسیب 
کھیل ابھی تک جاری ہے


حسیب احمد حسیب

Friday, 29 August 2014

* استفسار *

* استفسار *

اچھا ! تو کیا میں که دوں ...........؟

یہ تم سے پوچھنا ہے
لیکن مجھے پتہ ہے 
تم نے نہیں سنا ہے 
کتنا عجیب سا یہ 
چاہت کا سلسلہ ہے 
ہونٹوں کو بند کر کے 
آنکھوں سے بولنا ہے 

اچھا ! تو کیا میں کہ دوں ........... ؟

چاہت کے سلسلوں میں 
الجھے سے راستوں پے 
چلنا ہے آبلہ پا 
رکنا نہیں کہیں بھی 
لیکن میں جانتا ہوں 
تم کو نہیں پتہ ہے 
یہ دل کا معاملہ ہے 

اچھا ! تو کیا میں کہ دوں ........ ؟

جاؤ نہیں میں کہتا 
تم سے میں کیوں کہوں وہ 
جو آرزو ہے میری 
جو جستجو ہے میری 
جو بھی میں سوچتا ہوں 
جو بھی میں دیکھتا ہوں 
اے گردش زمانہ 
روٹھی ہوئی ہوئی محبت 
کب لوٹ کر ہے آئی
پھر بھی میں پوچھتا توں 
پھر بھی میں پوچھتا ہوں 

اچھا ! تو کیا میں کہ دوں .......... ؟

حسیب احمد حسیب

فکری قبض

فکری قبض !

مولانا فرماتے ہیں
چوں کہ قبض آید تو در وے بسط بیں
تازہ باش وچیں میفگن بر جبین
چوں کہ قبضے آیدت اے راہ رو
آں صلاحِ تست آیس دل مشو
(ترجمہ:جب حالت قبض تجھ کو پیش آئے تو اس میں خوش رہ، ہشاش بشاش رہو اور پیشانی پر شکن نہ لاؤ، اے راہ سلوک کے مسافر !تجھے حالت قبض پیش آتی ہے اس سے مقصود تیری اصلاح ہے، اس حالت پر تو دل چھوٹا نہ کر۔)

اس کے بعد بسط کی کیفیت ہوتی ہے
ایک تخلیق کار پر یہ کیفیات ضرور طاری ہوتی ہیں کبھی مضامین کا ورود ہوتا ہے قلم رواں ہوتا ہے زبان پر الفاظ جاری ہوتے ہیں اور تخلیقی عمل اپنے عروج پر ہوتا ہے اور کبھی قلم روک دیا جاتا ہے زبان پر لکنت طاری ہو جاتی ہے اور تخلیقی سوتے خشک ہو جاتے ہیں یاد رہے یہ وقت تحقیق کا ہوتا ہے ہتھیار تیز کرنے کا کیونکہ طبیعت دوبارہ رواں ہونے والی ہے ......

لاروا جب بھی اپنے (cocon) میں جاتا ہے ہر مرتبہ خوبصورت رنگوں اور پروں کو ساتھ لیے پرواز کیلئے تیار نکلتا ہے یہ تخلیقی قبض پرواز کی بلندی کیلئے ہوتا ہے

قعر چہ بگزید ہر کہ عاقلست
زانکہ در خلوت صفاہائے دلست
چشم بند و لب بہ بند و گو ش بند
گر نہ بینی نور حق بر ما نجند

یعنی ہوشیار لوگ گہرائی میں جانا کیوں پسند کرتے ہیں اس لئے کہ خلوت میں دلوں کی صفائی حاصل ہوتی ہے ۔آنکھوں کو ،ہونٹوں کو اور کانوں کو کچھ عرصے کے بند کرو یعنی تخلیہ میں چلے جاؤ پھر حق کا نور نہ دیکھو تو مجھ پر ہنسو۔بعض لوگ وقتی طور پر باطن کی کچھ صفائی حاصل کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں اور اپنی حفاظت سے غافل ہوجاتے ہیں تو جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ لاکھوں جال بکھرے ہوئے ہیں اس میں کسی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔اس لئے رومی ؒ اس قسم کی اطمینان سے اس طرح منع کرتے ہیں :

اندر رہ می تراش و می خراش
تادمے آخر دمے فارغ مباش
تا دمے آخر دمے آخر بود
کہ عنایت با تو صاحب سر بود

اندر ہی اند ر تراش و خراش جاری رکو اور نفس کی اصلاح سے آخری سانس تک فارغ نہ بیٹھنا ۔آخری دم تک کام کرتے رہ یہاں تک کہ آخر وقت آجائے ممکن ہے کہ راز والا آپ کو راز آشنا کردے

(اقتباس )

میں خود سےدورنکلنےکے فن سے واقف ہوں
میں اپنے آپ میں رہتا ہوں ضم نہیں ہوتا

کبھی کبھی اپنے آپ سے دور نکلنا بھی تخلیقی عمل کے لوازمات میں سے ہوتا ہے یہ وقت ارکتاز کا وقت ہے بیٹری کو ریچارج کرنے کا وقت .........
یاد رکھئے نیند بیداری کیلئے ضروری ہے ورنہ احساس کی موت واقع ہو سکتی ہے

حسیب احمد حسیب