Google+ Followers

Sunday, 10 January 2016

مولانا ابو الکلام آزاد رح کا سوانحی خاکہ اور تفسیری منہج

تدوین و تحقیق : حسیب احمد حسیب
تمہید
بر صغیر پاک و ہند کے اہل علم کی ایک طویل فہرست ہے کہ جو مروجہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیوی علوم کا بھی خاص درک رکھتے تھے اور انہوں نے علوم دینیہ کے حوالے سے جدید انداز میں کام بھی کیا گو کہ ایسے احباب کی تفردات بھی بے شمار ہیں لیکن انکے علمی کام سے انکار بھی ممکن نہیں .
اسی فہرست کا ایک درخشندہ ستارہ مولانا ابو الکلام آزاد رح بھی تھے لیکن افسوس کے آپ کے علمی کمالات آپ کی سیاسی فکر کے پیچھے پوشیدہ ہو گۓ اور خاص کر پاکستان کی سیاسی فضاء اور تقسیم کے قضیے کے تناظر میں مولانا آزاد رح کی علمی حیثیت کے ساتھ جو تعصب برتا گیا وہ انتہائی قابل افسوس ہے اسی حوالے سے مولانا اصلاحی مرحوم رح کو ایک تحریر بھی لکھنا پڑی .
مولانا پر بے جا تنقید
پاکستان اور ہندوستان کے متعدد مخلصین نے ہمیں کراچی کے ایک معاصر کے ایک مضمون کی طرف توجہ دلائی ہے جو معاصر مذکور کی مارچ کی اشاعت میں ’’پردہ اٹھنے کے بعد‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ یہ مضمون مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ پورا مضمون نہایت ہی توہین آمیز اور حد درجہ دل آزار ہے۔ یہ معاصر مولانا مرحوم کے متعلق اسی قسم کا ایک دل آزار مضمون اس سے پہلے بھی شائع کر چکا ہے۔ مولانا آزاد معاصر مذکور کی نظر میں جیسے کچھ بھی ہوں، لیکن اب وہ اپنے رب کے پاس جا پہنچے! وفات پا جانے والوں سے متعلق ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت یہ ہے کہ اگر ان کی کچھ بھلائیاں ہمارے علم میں ہوں تو ان کا ذکر کریں، ورنہ کم از کم ان کی لغزشوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کریں۔ جو لوگ مولانا کے وفات پا چکنے کے بعد ان کا پردہ اٹھانے کی سعی میں سرگرم ہیں، ان کے سینے ہمارے نزدیک خوف خدا سے بالکل خالی ہیں۔ وہ اپنے اس رویہ سے اللہ تعالیٰ کو چیلنج کر رہے ہیں کہ وہ اسی دنیا میں ان کے پردے چاک کرے۔
مولانا آزاد مکہ میں نہیں پیدا ہوئے کھیم کرن میں پیدا ہوئے۔ ان کے باپ کوئی بڑے عالم نہیں تھے، بلکہ مسجد کو رہن رکھنے والے اور بدعتی آدمی تھے۔ سوال یہ ہے کہ ان تحقیقات سے اقامت دین کے اس نصب العین کو کیا تقویت پہنچ رہی ہے جس کے یہ حضرات کل تک علم اٹھائے پھر رہے تھے! مولانا آزاد میں جو بڑائیاں اور خوبیاں تھیں، وہ یہ نہیں تھیں کہ وہ بہت بڑے باپ کے بیٹے یا کسی بہت بڑی درس گاہ سے نسبت رکھنے والے تھے، بلکہ یہ ساری خوبیاں ان کی ذاتی خوبیاں تھیں اور وہ اتنی شان دار تھیں کہ ان کے بدتر سے بدتر حاسد بھی ان کا انکار کرنے کی جرأت نہیں کر سکتے۔ مولانا آزاد نے دوسروں کی نسبت سے خود شرف حاصل نہیں کیا، بلکہ اپنی نسبت سے دوسروں کو شرف بخشا۔
مولانا کی عربی دانی کی بحث بھی ایک غیر ضروری اور غیر مفید بحث ہے۔ اور اگر یہ بحث کچھ مفید بھی ہے تو بہرحال ان لوگوں کے اٹھانے کی نہیں ہے جو خود عربی، فارسی، انگریزی، ہر چیز سے بے بہرہ ہیں۔
مولانا پر یہ طنز بھی ہمارے نزدیک ابھی قبل ازوقت ہے کہ ’بھارت میں گائے کے ذبیحہ کی ممانعت سے لے کر توہین رسول تک کے اندوہناک واقعات رونما ہو گئے، مگر حزب اللہ کے موسس امام الاحرار مولانا محی الدین المکنی بابی الکلام الدہلوی دم سادھے بیٹھے رہے!‘
مولانا پر یہ طنز اس وقت موزوں رہے گا جب یہ حضرات بھارت کے کفرستان میں نہیں، بلکہ پاکستان کے اسلامستان میں، جو سو فی صد مسلمانوں کا ملک ہے اور اسلام ہی کے نام پر حاصل کیا گیا ہے، کچھ کر کے دکھا سکیں۔ ابھی تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ جن حضرات کو اپنے ناخن تدبیر کی جولانیوں پر بڑا ناز تھا، رشتہ میں ایک ہی گرہ پڑ جانے سے، وہ اس طرح چکرا گئے ہیں کہ گرہ کھولنے کے بجاے سر کھجانے میں مصروف ہیں :
اس بے بسی میں یارو، کچھ بن پڑے تو جانیں
جب رشتہ بے گرہ تھا ناخن گرہ کشا تھا
بہرحال، مولانا مرحوم کے متعلق اس طرح کی بحثیں جو لوگ چھیڑ رہے ہیں، ان کے ظرف کے متعلق کوئی اچھی راے نہیں قائم کی جا سکتی۔ مولانا آزاد ان حضرات کے نزدیک واقدی کی طرح کذاب ہیں۔ لیکن ان کی یہی ایک خوبی ان حضرات کی تمام خوبیوں پر بھاری ہے کہ ان کی ذات پر جب بھی اس قسم کے شریفانہ حملے کیے گئے تو انھوں نے ان کا نوٹس نہیں لیا، بلکہ اس سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ اپنے اس قسم کے کرم فرماؤں کے ساتھ ان کی مشکلات میں انھوں نے نہایت اچھا سلوک کیا۔ ان کی طبیعت میں بڑی بلندی تھی اور اس بلندی کی وجہ سے وہ لوگوں کی حاسدانہ باتوں کی کبھی پروا نہیں کرتے تھے۔ پھر یہ بات بھی تھی کہ ابتدا ہی سے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی عظمت و شہرت عطا فرما دی تھی کہ ان کو اپنی شہرت و عظمت کی تعمیر کے لیے دوسروں کی شہرت پر حملہ کرنے کی ضرورت کبھی پیش نہیں آئی۔
مولانا آزاد جیسے لوگوں پر اگر کسی کو بحث کرنی ہو تو ان کے افکار و نظریات پر کرے۔ اس لیے کہ اس طرح کے لوگوں کے افکار و نظریات سے ہزاروں انسانوں کی زندگیاں بنتی اور بگڑتی ہیں۔ مولانا آزاد کے بعض افکار و نظریات سے ہمیں بھی اختلاف ہوا ہے اور ہم نے اپنے اس اختلاف کا اپنی تحریروں میں اظہار بھی کیا ہے، لیکن اس اختلاف کے باوجود ہماری نظروں میں ا ن کی عزت و عظمت کبھی کم نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگذر فرمائے اور ان کی ذات پر اس قسم کے ’شریفانہ‘ حملے کرنے والوں کو توفیق دے کہ یہ اپنے زبان و قلم کی صلاحیتیں کسی مفید مقصد کے لیے استعمال کریں اور دوسروں کا پردہ اٹھانے کے بجاے اپنا پردہ قائم رکھنے کی کوشش کریں!
معاصر موصوف نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ مولانا مرحوم کے سارے تربیت یافتہ ملحد اور بے دین ہیں اور اس سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ مولانا بھی ایک ملحد و بے دین تھے۔ یہ نکتہ اگر صحیح ہے تو کیا یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اسی نکتہ کی روشنی میں ان بزرگوں کے متعلق کیا راے قائم کی جائے جن کے فیض تربیت کا یہ مظاہرہ معاصر موصوف نے کیا ہے اور جن کو اپنے صفحات میں وہ ہم رتبۂ ابن تیمیہ و شاہ ولی اللہ قرار دیتا رہا ہے۔
(مقالات اصلاحی ۲/ ۴۰۸، بہ حوالہ ماہنامہ میثاق لاہور۔ اپریل ۱۹۶۰ء)
مولانا آزاد سوانحی خاکہ
ابوالکلام محی الدین احمد آزاد : (پیدائش 11 نومبر 1888ء - وفات 22 فروری 1958ء)
مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا ان کے والد بزرگوار محمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ مولانا 1888ء میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔
1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپنمکہ معظمہ اور مدینہ میں گزرا ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہر(مصر) چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔ مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ ترقی پسند سیاسی تخیلات اور عقل پر پوری اترنے والی مذہبی ہدایت کا گہوارہ اور بلند پایہ سنجیدہ ادب کا نمونہ تھا۔
مولانا بیک وقت عمدہ انشا پرداز، جادو بیان خطیب، بے مثال صحافی اور ایک بہترین مفسر تھے۔ اگرچہ مولانا سیاسی مسلک میں کانگرس کے ہمنوا تھے لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کا درد ضرور تھا۔ یہی وجہ تھی کہ تقسیم کے بعد جب مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے وقار کو صدمہ پہنچنے کا اندیشہ ہوا تو مولانا آگے بڑھے اور اس کے وقار کو ٹھیس پہنچانے سے بچا لیا۔ آپ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم تھے۔ 22 فروری 1958ء کو انتقال ہوا۔
مولانا کی سیاسی فکر
فروری ۱۹۲۰ء ؁ مین بنگال کی صوبائی خلافت کانفرس کے صدر کی حیثیت سے مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے خطبۂ صدارت میں مسلۂ خلافت کی شرعی حیثیت بر بحث کرتے ہوئے کہا تھا۔
’’اسلام کا قانون شرعی یہ ہے کہ ہر زمانے میں مسلمانوں کا ایک خلیفہ و امام ہونا چاہئے ۔ خلیفہ سے مقصود ایسا خود مختار مسلمان بادشاہ اور صاحب حکومت و مملکت ہے جو مسلمانوں اور ان کی آبادیوں کی حفاظت اور شریعت کے اجراء و نفاذ کی پوری قدرت رکھتا ہو۔ اور دشمنوں سے مقابلہ کے لئے پوری طرح طاقتور ہو۔ صدیوں سے اسلامی خلافت کا منصب سلاطین عثمانیہ کو حاصل ہے اور اس وقت ازروئے شرع تمام مسلمانانِ عالم کے خلیفہ و امام وہی ہیں۔ پس ان کی اطاعت اور اعانت تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ اسلام کا حکم شرعی ہے کہ جزیرۃ العرب کو غیر مسلم اثر سے محفوظ رکھا جائے اس میں عراق کا ایک حصہ بغداد بھی داخل ہے۔ پس اگر کوئی غیر مسلم حکومت اس پر قابض ہونا چاہے یا اس کو خلیفہ اسلام کی حکومت سے نکال کر اپنے زیر اثر لانا چاہے تو یہ صرف ایک اسلامی ملک سے نکل جانے کا مسئلہ نہ ہوگا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایک مخصوص سنگین حالت پیدا ہو جائے گی۔ یعنی اسلام کی مرکزی زمین پر کفر چھا جائے گا۔ پس ایسی حالت میں تمام مسلمانِ عالم کا اولین فرض ہوگا کہ وہ اس قبضہ کو ہٹانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ اسلام کے مقامامت مقدسہ میں بیت المقدس اسی طرح محترم ہے جس طرح حرمین شریف اسکے لئے لاکھوں مسلمان اپنی جان کی قربانیاں او یورپ کے آٹھ صلیبی جہادوں کا مقابلہ کر چکے ہیں۔ پس تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس مقام کو دوبارہ غیر مسلموں کے قبضے میں نہ جانے دیں۔ خاص طور سے مسیحی حکومتوں کے قبضہ واقتدار میں۔ اور اگر ایسا ہورہا ہے تو اس کے خلاف دفاع کرنا صرف وہاں کی مسلمان آبادی ہی کا فرض نہ ہوگا بلکہ بیک وقت وبیک دفعہ تمام مسلمانانِ عالم کا فرض ہوگا‘‘
مولانا ابوالکلام آزاد نے ائمہ کے اقوال کی روشنی میں نظامِ خلافت کی تعریف کی ہے:
''مسلمانوں کی ایسی حکومت جو ارکانِ اسلام کو قائم رکھے، جہاد کا سلسلہ و نظام درست کرے، اسلامی ملکوں کو دشمنوں کے حملہ سے بچائے اور ان کاموں کے لیے فوجی قوت کی ترتیب اور لڑائی کا سامان وغیرہ جوکچھ مطلوب ہو، اُس کاانتظام کرے، مختصر یہ کہ اسلام کا خلیفہ وہ حکمران ہوسکتاہے جواسلام و ملت کے لیے دفاع و جہاد کی خدمت انجام دے سکے۔''12
مسئلہ خلافت: ص126
ابوالکلام آزاد تحریر کرتے ہیں :
''عثمانی ترک نہ تو عرب پرقانع ہوئے نہ ایران و عراق پر، نہ شام و فلسطین کی حکومت اُن کو خوش کرسکی، نہ وسط ایشیاکی بلکہ تمام مشرق سے بے پروا ہوکر یورپ کی طرف بڑھے۔ اُس کے عین قلب (قسطنطنیہ) کو مسخر کرلیا اور اور اس کی اندورنی آبادیوں تک میں سمندر کی موجوں کی طرح در آئے حتیٰ کہ دارالحکومت آسٹریا کی دیوار اُن کے جولانِ قدم کی ترکتازیوں سے بارہا گرتے گرتے بچ گئی۔ ترکوں کا یہ وہ جرم ہے جو یورپ کبھی معاف نہیں کرسکتا۔ مسلمانوں کاکوئی موجودہ حکمران خاندان اس جرم (فتح یورپ) میں اُن کا شریک نہیں ہے۔ اس لیے ہرحکمران مسلمان اچھا تھا جو یورپ کی طرف متوجہ نہ ہوسکا مگر یہ ترک وحشی و خونخوار ہے اس لیے کہ یورپ کا طلسم سطوت اُس کی شمشیر بے پناہ سے ٹوٹ گیا۔''13
مسئلہ خلافت، ص116
مولانا کا تصور قومیت
مولانا نے رام گڑھ کے کانگریس کے ایک اہم اجلاس میں جو وقیع خطبہ دیا تھا آئیے ذرا اس کے ایک پیراگراف پر نظر ڈالتے ہیں:
”میں مسلمان ہو ں اور فخر کے ساتھ محسوس کرتاہوں کہ مسلمان ہوں، اسلام کے تیرہ سو برس کی شان دارر وایتیں میرے وِرثے میں آئی ہیں ، میں تیار نہیں ہوں کہ اس کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی ضائع ہونے دوں، اسلام کی تعلیم ،اسلام کی تاریخ ،اسلام کے علوم و فنون،اسلام کی تہذیب میری دولت کا سرمایہ ہے اور میرا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کروں،بہ حیثیت مسلمان ہونے کے میں مذہبی اور کلچرل دائرے میں اپنی خاص ہستی رکھتاہوں اور میں برداشت نہیں کر سکتا کہ اس میں کوئی مداخلت کرے ،لیکن ان تمام احساسات کے ساتھ میں ایک اور احساس بھی رکھتاہوں جسے میری زندگی کی حقیقتوں نے پیدا کیا،اسلام کی روح مجھے اس سے نہیں روکتی،بلکہ وہ اس راہ میں میری رہنمائی کرتی ہے ،میں فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ میں ہندوستانی ہوں،میں ہندوستان کی ایک ناقابل تقسیم متحدہ قومیت کا ایک عنصر ہوں،میں اس متحدہ قومیت کا ایک ایسا عنصر ہوں جس کے بغیر اس کی عظمت کا ہیکل ادھورا رہ جاتا ہے ،میں اس کی تکوین کا ایک ناگزیر عامل فیکٹر ہوں ،میں اس دعوے سے کبھی دست بردار نہیں ہو سکتا۔ ہم تو اپنے ساتھ کچھ ذخیرے لائے تھے ،اور یہ سر زمین بھی ذخیروں سے مالا مال تھی، ہم نے اپنی دولت اس کے حوالے کردی اور اس نے اپنے خزانوں کے دروازے ہم پر کھول دیے ،ہم نے اسے اسلام کے ذخیرے کی وہ سب سے زیادہ قیمتی چیز دے دی جس کی اسے سب سے زیادہ ضرورت تھی،ہم نے اسے جمہوریت اور انسانی مساوات کا پیام پہنچادیا۔“
ترجمان القرآن
انتساب
غالباً دسمبر ١٩١٨ کا واقعہ ہے کہ میں رانچی میں نظر بند تھا، عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر مسجد سے نکلا تو مجھے محسوس ہوا کہ کوئی شخص پیچھے آ رہا ہے، مڑ کر دیکھا تو ایک شخص کل اوڑھے کھڑا تھا۔
آپ مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں؟
ہاں جناب! میں بہت دور سے آیا ہوں۔
کہاں سے؟
سرحد پار سے۔۔
یہاں کب پہنچے؟
آج شام کو پہنچا میں بہت غریب آدمی ہوں، قندھار سے پیدل چل کر کوئٹہ پہنچا، وہاں چند ہم وطن سوداگر مل گئے تھے، انہوں نے نوکر رکھ لیا اور آگرہ پہنچا دیا۔ آگرے سے یہاں تک پیدل چل کر آیا ہوں۔
افسوس تم نے اتنی مصیبت کیوں برداشت کی؟
اس لیے کہ آپ سے قرآن کے بعض مقامات سمجھ لوں۔ میں نے الہلال اور البلاغ کا ایک ایک لفظ پڑھا ہے۔ یہ شخص چند دنوں تک ٹھہرا اور پھر یکایک واپس چلا گیا۔ وہ چلتے وقت اس لیے نہیں ملا کہ اسے اندیشہ تھاکہ میں اسے واپسی کے مصارف کے لیے روپیہ دوں گا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا بار مجھ پر ڈالے۔ اس نے واپسی میں بھی مسافت کا بڑا حصہ پیدل طے کیا ہوگا۔
مجھے اس کا نام یاد نہیں، مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ زندہ ہے یا نہیں، لیکن اگر میرے حافظے نے کوتاہی نہ کی ہوتی تو میں یہ کتاب اس کے نام سے منسوب کرتا۔
١٢ ستمبر سنہ ١٩٣١ء کلکتہ
آغا شورش کاشمیری "ابوالکلام آزاد" جو مولانا کی سوانح عمری ہے کہ صفحہ نمبر 482 میں رقمطراز ہیں
"مولانا محمد علی جوہر سے تو راقم شخصی نیاز نہیں رہا کہ ان کی رحلت کے وقت راقم ساتویں یا آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا لیکن مولانا ظفر علی خاں سے شرفِ تلمذ حاصل کیا، خیبر سے مانڈلے تک ان کے ساتھ شریکِ سفر رہا۔ ہندوستان کی سیاست اور مختلف شخصیتوں کے بارے میں جب بھی اُن سے بات چیت ہوتی تو ان نجی محفلوں میں قلم و زبان کی تیزی سے پرہیز کرتے۔ ان کے تبصرے نہایت نپے تُلے اور لگے بندھے ہوتے۔ کئی دفعہ مولانا آزادؒ کا ذکر آیا تو ان کے متعلق نہایت وقیع رائے ظاہر کی۔ ایک دفعہ کہیں سفر پر جا رہے تھے عملہ نے اصرار کیا تو جاتے جاتے ایک طویل نظم بالبداہت ارشاد فرمائی، مطلع تھا
؎
مجھے بھی انتساب ہے ادب کے اس مقام سے
ملی ہوئی ہے جس کی حد قدم گہ نظام سے
دسواں یا گیارھواں شعر تھا؎
جہاں اجتہاد میں سلف کی راہ گم ہوئی
ہے تجھ کو جستجو تو پوچھ ابوالکلام سے
راقم ہمراہ تھا۔ استفسار کیا۔
"مولانا ابوالکلام آزاد کے متعلق آپ نے جو شعر کہا ہے وہ محض قافیہ کی بندش ہے یا فی الواقعہ آپ ایسا ہی سمجھتے ہیں":
فرمایا:
"جو کچھ میں کہا ، وہ لفظاََ ہی نہیں منعاََ بھی درست ہے"
عرض کیا"
"کیا مولانا ابوالکلام تفسیرِ قرآن میں اسلاف کے پیرو اور اس عہد کے مجتہد ہیں"؟
فرمایا:
"بالکل، اللہ تعالیٰ نے قرآن فہمی کے باب میں انہیں خاص ملکہ عطا کیا ہے ، وہ زمانہ کی فکری تحریکوں کو بخوبی سمجھتے اور قرآن کو ہر زمانے کی پچیدگیوں کا حل قرار دے کر انسانی معاشرے کو اس کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں ۔ وہ قرآن کی ابدی دعوت پر نظامِ کائنات کی اساس رکھتے ہیں۔ ان پر بفضلِ ایزدی علم القرآن کے اس طرح کھلے ہیں کہ ان کے لیے کوئی سی راہ مسدود و منقطع نہیں۔ اُن کی آواز قرآن کی آواز ہے۔"
راقم:"مولانا کے ترجمہ و تفسیر میں بڑی خوبی کیا ہے؟ اور کونسا پہلو ہے جو دوسرے تراجم او تفاسیر کے مقابلے میں منفرد ہے؟"
مولانا:
"اُن کے ترجمہ و تفسیر کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ قرآن ہی کی زبان میں خطاب کرتے ہیں معلوم ہوتا ہے ان کے الفاظ الوہیت اور نبوت کا جامہ پہنے ہوئے ہیں اور یہ صرف اللہ کی دین ہے۔ دوسرے تراجم جو اب تک ہندوستان میں ہوئے ہیں وہ قرآن کے الفاظ میں لغوی ترجمہ ہیں، ان میں قرآن کے شکوہ کو ملحوظ نہیں رکھا گیا ۔ عربی الفاظ کا ترجمہ اردو الفاظ میں کیا گیا ہے ، مطالب کی طاقت و پہنائی اوجھل ہو گئی ہے۔ آزادؔ کی تفسیر محض مقامی و محض اسلامی نہیں، بین الاقوامی و بین الملی ہے۔ وہ الہیاتی زبان میں کائنات کو خطاب کرتے ہیں۔"
راقم: "ادب میں اُن کا مقام کیا ہے؟"
مولانا:
"فی الواقعہ وہ ایک سحر طراز ادیب ہیں، ان کا قلم تلوار ہے، وہ قرنِ اول کے غزوات کی چہرہ کشائی کرتے، اور عصرِ حاضر کی رزم گاہوں میں مسلمانوں کی فتح مندیاں ڈھونڈتے ہیں۔
ان کا اسلوبِ بیان بے مثال ہے آدمی ان کے الفاظ سے مسحور ہوتا اور مطالب میں ڈوب جاتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ نکتہ آفرینی کے اعتبار سے اس وقت ہندوستان بھر میں اپنی نظیر نہیں رکھتے ۔ قلم کی نزاکت اور قلم کی طاقت مبدء فیاض نے ان کے لیے ارزاں کر دی ہے"
راقم: اُن کی زبان عوام کے لیے مشکل ہے:؟
مولانا:
"کوئی زبان مشکل نہیں ہوتی، سوال ہمارے علم کا ہے کہ ہم کس حد تک اس سے بہرہ یاب ہیں۔ ان کی زبان قرآن کی زبان ہے، جو قرآن نہیں جانتے یا اس کی زبان سے نا بلد ہیں ان کے لیے ان کی زبان فی الواقعہ مشکل ہے، ورنہ وہ آبشار کی طرح بہتی ہوئی اور چاندی کی طرح کھلی ہوئی زبان لکھتے ہیں، وہ ہمارے عظیم ماضی کی زبان و بیان کے وارث ہیں۔"
راقم:
"اُن کے عوام سے کٹ کے رہنے کی وجہ کیا ہے؟
"ہر طبیعت کا ایک اسلوب ہوتا ہے ان کی طبیعت عوام گریز واقع ہوئی ہے"
۔
مولانا لکھتے ہیں ۔
' خدا کی سچائی ، اس کی ساری باتوں کی طرح ، اس کی عالمگیر بخشش ہے ۔ وہ نہ تو کسی خاص زمانے سے وابستہ کی جاسکتی ہے ، نہ کسی خاص نسل و قوم سے ، اور نہ کسی خاص مذہبی گروہ بندی سے ۔تم نے اپنے لیے طرح طرح کی قومیتیں اور اور جغرافیائی اور نسلی حد بندیاں بنالی ہیں ، لیکن تم خدا کی سچائی کے لیے کوئی ایسا امتیاز نہیں گھڑ سکتے ، اس کی نہ تو کوئی قومیت ہے ، نہ نسل ہے ، نہ جغرافیائی حد بندی ،نہ جماعتی حلقہ بندی ۔وہ خدا کے سورج کی طرح ہر جگہ چمکتی اورنوع انسانی کے ہر فرد کو روشنی بخشتی ہے ۔ اگر تم خدا کی سچائی کی ڈھونڈھ میں ہو تو اسے کسی ایک ہی گوشے میں نہ ڈھونڈھو ۔ وہ ہر جگہ نمودار ہوئی ہے اور ہر عہد میں اپنا ظہور رکھتی ہے ۔ تمہیں زمانوں کا ،قوموں کا ، وطنوں کا ، زبانوں کا اور طرح طرح کی گروہ بندیوں کا پرستار نہیں ہونا چاہیے۔صرف خدا کا اور اس کی عالمگیر سچائی کا پرستار ہونا چاہیے اس کی سچائی جہاں کہیں بھی آئی ہو اور جس بھیس میں بھی آئی ہو ، تمہاری متاع ہے اور تم اس کے وارث ہو ۔
(ترجمان القرآن جلد اول ص 411 )۔
مالک رام ترجمان القرآن میں پیش کیے گئے ترجمہ پر اپنی کتاب ' کچھ ابوالکلام کے بارے میں ' میں اپنے خیالات کا یوں اظہار کرتے ہیں :
' یہ ترجمہ ادبی لحاظ سے بھی اتنا حسین اور برجستہ ہے کہ اسے ادبی تخلیق کا درجہ دیا جانا چاہیے تھا ۔افسوس کہ اس پہلو سے کوئی توجہ نہیں کی گئی ۔ مثال کے طور پر صرف سورہ فاتحہ کا ترجمہ ملاحظہ ہو :
اللہ کے نام سے جو الرحمان الرحیم ہے ۔
ہر طرح کی ستائش اللہ ہی کے لیے جوتمام کائنات خلقت کا پروردگار ہے ۔ جورحمت والاہے ، اور جس کی رحمت تمام مخلوقات کو اپنی بخششوں سے مالا مال کررہی ہے ، جو اس دن کا مالک ہے ، جس دن کاموں کابدلہ لوگوں کے حصے میں آئیگا۔ (خدایا!) ہم صرف تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور صرف تو ہی ہے ، جس سے (اپنی ساری احتیاجوں میں ) مدد مانگتے ہیں ۔ (خدایا !) ہم پر سعادت کی سیدھی راہ کھول دے ، وہ راہ جو ان لوگوں کی راہ ہوئی جن پر تونے انعام کیا ۔ ان کی نہیں جو پھٹکارے گئے ۔ اور نہ ان کی جو راہ سے بھٹک گئے ۔
اس پر ترجمہ کا گمان ہی نہیں ہوتا ۔ بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کسی مصنف نے اپنا ما فی الضمیر بیان کرنے کے لیے اسے اصل میں لکھا ہی اس طرح ہو ۔'(ص83 )
ترجمان القرآن کی تحریر کا مقصود
مولانا ابوالکلام آزاد (م ۱۹۵۸ء) نے جب قرآن مجید کو اپنے غوروفکر کا موضوع بنایا تو ان کے پیش نظر تین طرح کے کام تھے:
۱۔ مقدمۂ تفسیر، البصائر
۲۔ البیان فی مقاصد القرآن
۳۔ ترجمان القرآن
مقدمۂ تفسیر کے تحت مولانا قرآن حکیم کے مقاصد و مطالب پر اصول و مباحث کا مجموعہ مرتب کرنا چاہتے تھے ۔ اس کے کم از کم بارہ ابواب، نہ صرف لکھے جا چکے تھے، بلکہ چھپ بھی گئے تھے۔ ان بارہ ابواب کے صفحات کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔۲؂ مولانا نے ’’تذکرہ‘‘ میں ایک مقام پر لکھا ہے:
’’شرح حقیقت تحریف شریعت علی الخصوص فتنتین عظمتین یونانیت و عجمیت کے لیے مقدمہ تفسیر باب بست ویکم اور تفسیر فاتحہ الکتاب کو دیکھنا چاہیے۔‘‘(ابوالکلام آزاد، تذکرہ۱۹۵)
’’البیان‘‘ کے نام سے مولانا آزاد قرآن مجید کی ایک مکمل تفسیر لکھنا چاہتے تھے۔ ’’البلاغ‘‘ میں جب اس کا اشتہار شائع ہوا تو اس کے الفاظ یہ تھے:
’’اس تفسیر کے متعلق صرف اس قدر ظاہر کر دینا کافی ہے کہ قرآن حکیم کے حقائق و معارف اور اس کی محیط الکل معلمانہ دعوت کا موجودہ دور جس قلم کے فیضان سے پیدا ہوا ہے، یہ اسی قلم سے نکلی ہوئی مفصل اور مکمل تفسیر القرآن ہے۔‘‘۳؂
مولانا نے ایک اور مقام پر بھی ’’البیان‘‘ اور ’’البصائر‘‘ کا ذکر کیا ہے۔ ’’تذکرہ‘‘ میں سورۂ نور (۲۴) کی آیت ۳۵ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’یہ مقام منجملہ روح الروح معارف کتاب و سنت، وحقیقت الحقائق قرآن و شریعت کے ہے جس کی طرف بہت کم توجہ کی گئی ہے۔ تفسیر البیان میں ایک سے زیادہ مواقع پر اس کی تشریح و توضیح ملے گی اور اس سے بھی زیادہ مقدمہ تفسیر موسوم بہ ’’البصائر‘‘ میں بہ عنوان حقیقت ایمان و کفر۔‘‘(ابوالکلام آزاد، تذکرہ ۷۶۔۱۷۵)
مولانا نے ہفتے کے سات دنوں کی تقسیم اس طرح کر رکھی تھی کہ تین دن ’’البلاغ‘‘ کی تدوین و ادارت کے لیے وقف تھے، دو دن ترجمے کے لیے اور دو دن تفسیر کے لیے۔ اپنی گرفتاری کے باعث مولانا جس طرح اپنے مسودات سے محروم ہوئے، اس کی تفصیل انھوں نے ’’ترجمان القرآن‘‘ کے دیباچے میں بیان کر دی ہے۔ اسی وجہ سے یہ شاہکار مکمل صورت میں ہمارے سامنے نہ آسکے۔
خدمت قرآن کے حوالے سے جو چیز مولانا کا تعارف بنی، وہ ’’ترجمان القرآن‘‘ ہے۔ مولانا نے اپنے الفاظ میں ’’ترجمان القرآن‘‘کا تعارف کراتے ہوئے ’’البیان‘‘ اور ’’البصائر‘‘ سے اس کا فرق واضح کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ترجمان القرآن کی ترتیب سے مقصود یہ تھا کہ قرآن کے عام مطالعہ و تعلیم کے لیے ایک درمیانی ضخامت کی کتاب مہیا ہو جائے، مجرد ترجمے سے وضاحت میں زیادہ، مطول تفاسیر سے مقدار میں کم۔ چنانچہ اس غرض سے یہ اسلوب اختیار کیا گیا کہ پہلے ترجمہ میں زیادہ سے زیادہ وضاحت کی کوشش کی جائے پھر جابجا نوٹ بڑھا دیے جائیں۔ اس سے زیادہ بحث و تفصیل کو دخل نہ دیا جائے۔ باقی رہا اصول اور تفسیری مباحث کا معاملہ تو اس کے لیے دو الگ الگ کتابیں ’’مقدمہ‘‘ اور ’’البیان‘‘ زیر ترتیب ہیں۔‘‘(ابوالکلام آزاد، ترجمان القرآن، جلد۳)
تاہم جیسے جیسے یہ کام آگے بڑھا اور مولانا کی سیاسی سرگرمیاں ان کے علمی کاموں میں حائل ہوتی گئیں، اس کام کا نقشہ بھی تبدیل ہوتا گیا۔ ’’البیان‘‘ جب سامنے نہ آ سکی تو ’’ترجمان القرآن‘‘ ہی میں بعض مقامات پر اس کمی کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ پہلی جلد میں جن مقامات پر محض مختصر حواشی لکھے گئے تھے، دوسری جلد میں انھی مقامات کی تفصیل بیان کر دی گئی۔ اس ترمیم کے باوجود مولانا کے نزدیک ’’ترجمان القرآن‘‘ کا اصل امتیاز اس کا ترجمہ ہے، مولانا لکھتے ہیں:
’’ترجمان القرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اس کی تمام خصوصیات کا اصل محل اس کا ترجمہ اور ترجمہ کا اسلوب ہے۔ اگر اس پر نظر رہے گی تو پوری کتاب پر نظر رہے گی۔ وہ اوجھل ہو گئی تو پوری کتاب نظر سے اوجھل ہو جائے گی۔‘‘(ابوالکلام آزاد، ترجمان القرآن، جلد۳)
ترجمے کے بعد ’’ترجمان القرآن‘‘ کی دوسری خوبی، مولانا کے نزدیک اس کے نوٹ ہیں۔ ’’ان کی ہر سطرتفسیر کا ایک پورا صفحہ، بلکہ بعض حالتوں میں ایک پورے مقالے کی قائم مقام ہے۔‘‘
’’ترجمان القرآن‘‘ کی وجہ تالیف خود مؤلف کے الفاظ میں یہ ہے:
’’ترجمان القرآن تفسیری مباحث کے ردوکد میں نہیں پڑتا صرف یہ کرتا ہے کہ اپنے پیش نظر اصول و قواعد کے ماتحت قرآن کے تمام مطالب ایک مرتب و منظم شکل میں پیش کر دے۔‘‘(ابوالکلام آزاد، ترجمان القرآن، جلد۳)
’’ترجمان القرآن‘‘ کا ایک اور امتیاز یہ ہے کہ ہر سورت کے ساتھ مطالب کی ایک فہرست دی گئی ہے جس سے اس کے مضامین کا اجمالی تعارف ہو جاتا ہے۔
مولانا آزاد چونکہ ایک صاحب طرز ادیب تھے، اس بنا پر’’ ترجمان القرآن‘‘ ان کے انشا کا بھرپور مظہر ہے، تاہم جہاں تک اصول تفسیر کا تعلق ہے تو وہ ائمۂ تفسیر ہی کی تتبع کرتے نظر آتے ہیں اور بہت کم کوئی ایسی راے قائم کرتے ہیں جو اسلاف کی راے کے برخلاف ہو۔ مولانا کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے قرآن کو اپنے عہد میں ایک زندہ کتاب کے طور پر پیش کیا ہے جو مسلمانوں کے لیے واحد راہنما ہو سکتی ہے۔ سید سلیمان ندوی نے ’’ترجمان القرآن‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’مصنف ترجمان القرآن کی یہ دیدہ وری داد کے قابل ہے کہ انھوں نے وقت کی روح کو پہچانا اور اس فتنۂ فرنگ کے عہد میں اسی طرزوروش کی پیروی کی جس کو ابن تیمیہ اور ابن قیم نے پسند کیا تھا اور جس طرح انھوں نے اس عہد کے مسلمانوں کی تباہی کا راز فلسفۂ یونان کی دماغی پیروی کو قرار دیا، اسی طرح اس عہد کے مسلمانوں کی بربادی کا سبب ترجمان القرآن کے مصنف نے فلسفۂ یونان و فرنگ کی ذہنی غلامی کو قرار دیا اور نسخۂ علاج وہی تجویز کیا کہ کلام الٰہی کو رسول کی زبان و اصطلاح اور فطرت کی عقل و فلسفہ سے سمجھنا چاہیے۔‘‘(ابوسلمان شاہجہانپوری، ابوالکلام آزاد(بحیثیت مفسر و محدث)۲۱۔۲۲)
ترجمان القرآن کے نمایاں اوصاف
تفسیر سوره فاتحہ
مولانا کی ترجمان القرآن کا خاصہ سوره فاتحہ کی مفصل تفسیر ہے کہ جو ٢٠٣ صفحات کی ضخیم جلد پر مشتمل ہے مولانا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے تحت لکھتے ہیں ہدایت کے چار درجات ہیں
١. وجدانی ہدایت
٢. حواسی ہدایت
٣. عقلی ہدایت
٤. وحی الہی سے مستنبط ہدایت
اور پھر اس بحث میں پہلی تین ہدایتوں کو ناکافی قرار دے کر وحی الہی کی فوقیت کو مظبوط دلائل سے ثابت کرتے ہیں (٧٢)
خلافت کی بحث
مولانا کی خاص بحث مسلمانوں میں احیائی روح کو بیدار کرنا ہے اور اس حوالے سے خلافت کی بحث انکی تفسیر قرآنی میں جا باجہ ملتی ہے مولانا جہاد کی تعریف کرتے ہوے اس کے دو درجات متعیّن فرماتے ہیں
١. اقدامی جہاد
٢. دفاعی جہاد
اقدامی جہاد کو مولانا فرض کفایہ قرار دیتے ہیں (١٠٤)
اور دفاعی جہاد انکے نزدیک فرض عین ہے (١٠٥)
خلافت میں قرشیت کی شرط
علماء امت کا موقف خلافت میں قرشیت لازم ہونے کا ہے
ائمہ قریش میں سے ہوں گے جب تک کہ وہ تین باتوں پر عمل کرتے رہیں گے ۔ حکم کریں تو عدل کے ساتھ، جب ان سے رحم طلب کیا جائے تو رحم کریں، جب عہد کریں تو وفا کریں۔ پھر جو ان میں سے ایسا نہ کرے اس پر اللہ، فرشتوں اور انسانوں کی لعنت: مسند احمد، مسند ابو داؤد
مات قریش کے معاملے میں علمائے امت کا مسلک:
"اور وہ سب (مکتبہ ہائے فکر)اس بات کے قائل ہیں کہ امامت کے لیے قریشی النسل ہونا لازمی ہے: الفارق بین الفرق از عبدالقاہر بغدادی (429ہجری)
"اہل سنت اور تمام شیعہ اور بعض معتزلہ اور جمہور مرجئیہ کا مذہب یہ ہے کہ امات جائز نہیں ہے مگر خصوصیت کے ساتھ قریش میں۔ ۔ ۔ ۔ اور تمام خوارج اور جمہور معتزلہ اور بعض مرجئہ کا مذہب یہ ہے کہ یہ منصب ہو اس شخس کے لیے جائز ہے جو کتاب و سنت پر قائم ہو خواہ وہ قریشی ہو یا عام عرب یا کوئی غلام زادہ ۔: الفصل فی املل و انحل از (452ہجری)ابن خرم
تمام امت اس امر پر متفق ہے کہ امامت قریش کے سوا کسی کے لیے درست نہیںہے" عبدالکریم شہرستانی (548 ہجری)
ضروری ہے کہ امام قریش میں سے ہوں اور ان کے سوا کسی دوسرے کو امام بنانا جائز نہیں: امام نسفی (537 ہجری)
امامت کے لیے قرشیت کا شرط ہونا تمام علما کا مذہب ہے اور علما نے اسکو اجماعی مسائل میں شمار کیا ہے" قاضی عیاض (544 ہجری)
مولانا آزاد اور سید مودودی رح نے اس مسلے سے اختلاف کیا ہے مولانا اپنی معروف کتاب " مسلہ خلافت"
میں بھی “ شرط قرشیت “ کے عنوان کے تحت اس سے اختلاف کرتے نظر آتے ہیں .
ذولقرنین کی تاریخی تحقیق :-
مولانا نے جدید جغرافیائی تحقیق اور تاریخی حوالوں سے ذولقرنین کی حقیقت کو واضح کیا ہے اور انکے بعد کے زیادہ تر مفسرین نے اس مسلے میں انہی کا اتباع کیا ہے .
مولانا کی تحقیق کے مطابق ذولقرنین فارس کا شہنشاہ " سائرس " ہے
(ترجمان القرآن ، مولانا آزاد ، سوره البقرہ)
دوسری جانب مولانا یاجوج و ماجوج کے حوالے سے پڑی گرد کو بھی صاف کرتے ہیں اور منطقی دلائل سے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ یاجوج ماجوج در اصل قدیم کاکیشین منگول قبائل ہیں .
(ترجمان القرآن ، مولانا آزاد ، سوره البقرہ)
ناسخ منسوخ کی بحث اور مولانا آزاد کا علمی استدلال : -
ناسخ و منسوخ ایک ایسا مسلہ ہے کہ جس پر متعدد مستشرقین اور دور جدید میں انکے پیروکاروں کی جانب سے تنقید آتی رہی ہے مولانا نے اس مسلے کو اتنی خوبی سے صاف کیا ہے کہ کسی ابہام و اشکال کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی .
مولانا تفسیری نوٹ میں اس کی تشریح یوں کرتے ہیں ...
ایک شریعت کے بعد دوسری شریعت کا ظہور یوں ہوا کہ یا تو " نسخ " کی حالت طاری ہوئی یا " نسیان "
" نسخ " یہ ہے کہ یب بات پہلے سے موجود تھی لیکن موقوف ہو گئی اور اس کی جگہ دوسری بات آ گئی ،
" نسیان " کے معنی بھول جانے کے ہیں ،
پس بعض حالتوں میں ایسا ہوا کہ پچھلی شہریت کسی نہ کسی شک میں موجود تھی لیکن احوال و ظروف بدل گۓ تھے یا اس کے پیروؤں کی عمل کی روح معدوم ہو گئی اسلیے ضروری ہوا کہ نئی شریعت ظہور میں آۓ -
بعض حالتوں میں ایسا ہوا کہ امتداد وقت سے پچھلی تعلیم بلکل فراموش ہو گئی اور اصلیت میں سے کچھ باقی نہ رہا پس لا محالہ تجدید ہدایت ناگزیر ہوئی سنت الہی یہ ہے کہ نسخ شریعت ہو نسیان شریعت ہر نئی تعلیم پچھلی ے بہتر ہوتی ہے یا کم از کم اسی مانند ہوتی ہے ایسا نہیں ہوتا کہ کمتر ہو کیونکہ اصل تکمیل و ارتقاء ہے ناکہ تنزل و تشکل
(ترجمان القرآن ، مولانا آزاد ، سوره البقرہ)
مولانا کے افکار پر اعتراضات
١، سید مودودی رح کا اعتراض :-
۰۳ مارچ ۲۶۹۱ ء کو مولانا ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ نے مریم جمیلہ کے نام اپنے ایک مکتوب میں لکھا:
”۰۲۹۱ ء ۔ ا۲۹۱ ء کے زمانے تک مولانا ابوالکلام آزاد احیائے اسلام اور تحریک خلافت کے پرجوش حمایتیوں میں شامل تھے مگر اس کے بعد مولانا اپنے اس موقف کے متضاد قول فعل کی تکرار کرتے ہیں ۔ اس یک لخت تبدیلی پر بعض افراد کو یقین ہی نہیں آتا کہ یہ وہی ابوالکلام ہیں ،ایسے لوگ آنکھیں ملتے ہوئے انہیں دیکھتے کہ یہ وہی ابوالکلام ہیں یا کوئی بالکل نئی شخصیت ! اب ابوالکلام سو فی صد ایک ہندوستانی قوم پرست کا روپ اختیار کرلیتے ہیں جو ہندوﺅں مسلمانوں کو ایک قوم کی شکل دینا چاہتا ہے۔ اب ابوالکلام بعض ہندو فلسفیوں کے پیش کردہ ”وحدت ادیان“ اور ڈارون کے نظریہ ارتقاءکو پوری طرح اپنی فکر کا حصہ بنالیتے ہیں ۔ ابوالکلام کے ان افکار تازہ کا نقش ان کی تفسیر قرآن میں صاف صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ “
مولانا یوسف بنوری رح کا اعتراض :-
سوره فاتحہ کے متعلق ان کی تفسیر خوب مفصل و مبسوط شایع ہوئی میں نے بھی اس کو خوب شوق سے لیا اور پڑھنا شروع کیا اور سوره فاتحہ کی مکمل تفسیر پڑھی اور پھر مختلف آیات کی تفسیر دیکھی تب اس شدت اشتیاق کی لو جو میرے دل میں جل رہی تھی وہ بجھ گئی اور میں انگشت بدنداں رہ گیا اور افسوس کرتا یہ سوچنے لگا کہ اگر یہ تفسیر نہ طبع ہوتی تو زیادہ بہتر تھا اسلئے کہ اس کے مطالعے سے قبل ان کی قدر و منزلت میرے قلب میں جاگزیں تھی اس مطالعے سے میں نے بھانپ لیا کہ خواہشات اور محض عقل کی کارفرمائی ان کو مختلف وادیوں میں لے گئی ہے اور اس اوہام پرستی نے موصوف کو کہیں کا نہ چھوڑا اور میں نے جانچ لیا کہ اس خود رائی اور اعجاب نے موصوف کو تقلید سے بے بہرہ کیا اور اور آخر صراط مستقیم سے ورے ورے شاہراہ باطل پہ گامزن کر دیا -
وكلّ يدّعي وصلا بليلى
وليلى لا تقرّ لهم بذاك
اصول تفسیر و علوم القرآن ، مصنف مولانا یوسف بنوری رح ، مکتبہ البینات ، صفحہ : ١١٢
مولانا کے حوالے سے تحریر کا اختتام علامہ شورش کاشمیری کے ان اشعار کے ساتھ جو انھوں نے 10 مارچ 1858 مولانا آزاد کے مزار پر لکھے تھے:
کئی دماغوں کا ایک انساں میں سوچتا ہوں کہاں گیا ہے
قلم کی عظمت اجڑ گئی ہے زباں سے زور بیاں گیا ہے
اتر گئے منزلوں کے چہرے، امیر کیا؟ کارواں گیا ہے
مگر تیری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے
یہ کون اٹھا کہ دیر وکعبہ شکستہ دل، خستہ گام پہنچے
جھکا کے اپنے دلوں کے پرچم خواص پہنچے عوام پہنچے
تیری لحد پہ ہو رب کی رحمت،تیری لحد کو سلام پہنچے
مگر تیری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے 

Wednesday, 6 January 2016

"شاعری کی ایک جدید صنعت "

"شاعری کی ایک جدید صنعت "

"شاعری کی ایک جدید صنعت "
شاعری میں صنعتوں کا استعمال ہو یا صنعتوں میں شاعری کا استعمال 
بہر صورت معاملہ پیچیدہ ضرور ہو جاتا ہے ....

پہلے پہل جب شاعری کی صنعتوں سے اور صنعتی شاعری سے کچھ واقفیت ہوئی تو اپنی نا واقفیت کا علم ہوا ایک جغادری قسم کے استاد کے پاس پہنچے انہوں نے خشمگیں نگاہوں سے ہمیں دیکھا ایک آہ بھری اور گویا ہوے ....

میاں 

کیوں آے ہو 

ہم نے کہا 

یا استاد "کچھ صنعتیں " سکھا دیں

بولے کچھ ابتدائی تعرف ہے

ہم نے کہا جی ہاں

انہوں نے استفسار کیا

صنعت حسن تعلیل کو جانتے ہو

جی جی

ہم نے سر ہلایا

کیا ہے ادھر سے سوال آیا ........؟

وہ حسین جو حالات سے مجبور ہوکر کسی صنعت میں ملازمت اختیار کرے اور علیل ہو جاوے ......

پھر وہاں سے جو کچھ آیا اس سے نا ہمیں کوئی دلچسپی ہے اور نا آپ کو ہونی چاہئیے .

اسکے بعد

"صنعتِ لزوم مالایلزم " جسے ہم عادی ملزم سمجھتے رہے

"صنعتِ طباق" جسنے ہمارے چودہ طبق روشن کر دئیے

"صنعتِ ذوقافیتین و ذو القوافی" اور ہماری زبان میں معمر قذافی

کی بابت سوال ہوا ......

لیکن "صنعتِ سیاقۃ اعداد" پر ہماری بس ہوگئی اور ہم نے توبہ کی

اس سے پہلے کہ مزید مشقت اٹھانی پڑتی ہم نے استاد بننے کا فیصلہ کر لیا 

لیکن جناب چونکہ صنعتی ترقی کا دور ہے اور صنعتوں سے چھٹکارا ممکن نہیں یہ بڑی ڈھیٹ واقع ہوئی ہیں بجلی کے بحران کے باوجود بھی قائم و دائم ہیں ہمیں ایک جدید "صنعت " سے واسطہ پڑا اور ایسا سبق حاصل ہوا کہ اگر شاعری سے ہٹ کر بھی اس صنعت کا استعمال ہو تو تمام مسائل حل ہوجائیں ...

گو اب ہم اپنے آپ کو استاد نما سمجھنے لگے ہیں اور لوگ ہماری شکل دیکھ کر ہی کہتے ہیں "میاں بڑے استاد ہو

ایک لٹکو قسم کے نوجوان شاعر سے ملاقات ہوئی جو سادہ کاغذ پر اصلاح لینے کے قائل تھے ان سے ہمارا معاہدہ ہو گیا

جب تک ہماری سگریٹ کی ڈبیا اور چائے کی پیالی بھری رہے گی ان کو کورے کاغذ پر اصلاح ملتی رہے گی ...

پہلے پہل شاگرد تھے اور نئی نئی استادی تھی کچھ زیادہ سکھا دیا چند ہی دنوں میں موصوف اس مقام پر آ گئے کہ ہم اپنے آپ کو استاد سے زیادہ شاگرد سمجھنے لگے دوریاں بڑھنے لگیں اور سگریٹ کی ڈبیا اور چائے کی پیالی خالی رہنے لگی ...

قصہ مختصر مرغا حلال ہونے سے پہلے ہی حرامی نکلا بعد میں معلوم ہوا کسی اور مخنچو کے ہتھے چڑھ گئے ہیں جناب ...

تو ہماری گفتگو شروع ہوئی تھی "شاعری کی ایک جدید صنعت " کے حوالے سے
ایک دن موصوف سے ایک مشاعرے میں ملاقات ہو گئی مسکرا کر ملے ہم بھی کچھ ہچکچا کر ملے
پوچھا...

کیوں جی شاعری ہو رہی ہے

بولے جی حضور "ٹاپوں ٹاپ" جاری ہے

ہم نے پوچھا کچھ تازہ کہا

کہنے لگے جی جی کئی غزلیں کہ ڈالی ہیں

ہمارے منہ سے نکلا ،اوہ

وہ بولے اوہو

ہم نے کہا کچھ سنائیے

انہوں نے ایک عجیب و غریب "شتر گربہ" قسم کی چیز سنائی جو بحور و اوزان کی حدود و قیود سے یکسر آزاد تھی ...

ہم نے پوچھا یہ کیا

بولے الله کا کرم ہے بس

ہم نے کہا میاں کس کے ہتھے چڑھ گئے یہ کوئی شاعری ہے

کہنے لگے ہمارے استاد بہت پہنچی ہوئی شے ہیں آپ ابھی ناواقف ہیں یہ "شاعری کی جدید صنعت " ہے

ہم نے کہا ہیں جی

وہ بولے ہاں جی

ہم پوچھا وہ کیا

وہ بولے استاد جی نے سکھلایا ہے کوئی یہ سوال پوچھے تو کہو .. 

"پونکا "

حسیب احمد حسیب

Tuesday, 5 January 2016

مولانا عبید الله سندھی ایک تعارف

مولانا عبید الله سندھی ایک تعارف
مولانا عبید الله سندھی ایک تعارف

مولانا سندھی رح کی داستان زندگی کسی الف لیلیٰ سے کم نہیں ہے انکے کمالات بے شمار ہیں اور انکی شخصیت طلسماتی ٢٨ مارچ ١٩٧٢ کو ایک سکھ گھرانے میں جنم لیا لیکن ہدایت آپ کے نصیب میں رب کائنات نے لکھ رکھی تھی اور ایک سکھ بچے سے دین اسلام کی ایک بڑی خدمت کا لیا جانا مقدر ہو چکا تھا..مڈل کی تعلیم کے دوران مولانا عبید الله پائلی کی کتاب " تحفتہ الہند " پڑھی اور انکے کے قلب میں ایمان کی شمع روشن ہوئی رہی سہی کثر شاہ اسمعیل شہید رح " کی تقویت الایمان " نے پوری کردی ..
آپ نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام اس کتاب کے مولف کے نام پر رکھنا مناسب سمجھا کہ جن کی کتاب پڑھ کر آپ کے دل میں ایمان نے گھر کیا تھا ....مولانا سندھی کی تحریکی زندگی کا اصل رخ اس وقت سے شروع ہوتا ہے کہ جب دیوبند میں آپ کو شیخ الہند مولانا محمود الحسن رح کی صحبت حاصل ہوئی ..مولانا سندھی کا شمار تحریک ریشمی رومال کے مجاہدین اول میں سے ہوتا ہے آپ کے ذمے شیخ الہند رح کی جانب سے محاز افغانستان لگایا گیا تھا ١٩١٥ میں آپ شیخ الہند رح کے کہنے پر ہجرت کرکے افغانستان چلے گئے امیر امان الله خان کو انگریزوں کے خلاف جہاد کیلیے تیار کرنے کا سہرا مولانا سندھی رح کے سر ہے .......افغانستان سے آپ نے روس نقل مکانی کی اور پھر وہاں سے ترکی کی جانب مسافرت اختیار کی ........

مولانا سندھی رح کی عظیم ترین خدمات میں سے

١. جہاد افغانستان کی آبیاری .

٢. جمیعت الانصار کا قیام .

٣.علوم قرآنی کی ترویج

٤. فکر ولی الہی کا احیاء
شامل ہیں

مولانا سندھی کے تلامذہ میں موسیٰ جار الله اور مولانا احمد علی لاہوری رح جیسی عظیم شخصیات کا نام شامل ہے ....... ٢٢ اگست ١٩٤٤ کو آپ نے دین پور میں رحلت فرمائی اور آپ کا جسد خاکی وہیں مدفون ہے .. ) حوالہ : اکابر علماء دیوبند رح ، ١٢٧/١٢٦، ادارہ اسلامیات لاہور ، حافظ محمد اکبر شاہ بخاری .(
مولانا کی تفسیر " الہام الرحمان " کا منہج اصلی ..
مولانا سندھی رح فرماتے ہیں " قرآنی معارف و مطالب میں مجھے شاہ ولی الله دھلوی رح کے علاوہ کسی اور حکیم کے افکار سے مدد لینے کی ضرورت نہیں پڑی -
میں نے قرآن سے جو کچھ اخذ کیا ہے اور جو بھی معانی مضامین قرآن سے مستنبط کیے ہیں مجھے انکی تعین اور تائید کیلیے شاہ صاحب کی حکمت سے باہر جانے کی ضرورت پیش نہیں آئی .
((شاہ ولی الله اور انکا فلسفہ ، مولانا سندھی ، ٢٢ ))

گو کہ مولانا سندھی رح کی " الہام الرحمان " مکمل تفسیر نہیں اور یہ سورہ فاتحہ سے سورہ بقرہ تک کل ٣٢٠ صفحات پر محیط ہے لیکن اس کے کمالات بے شمار ہیں ..

١. تفسیر کا اسلوب اہل علم کے معیار کے مطابق ہے .

٢. تصوف کا رنگ واضح دکھائی دیتا ہے .

٣. ربط آیات کا خاص خیال رکھا گیا ہے

٤.تقابل ادیان کے حوالے سے کچھ مباحث ملتے ہیں

٥.اصول ولی الہی اپنی پوری شان کے ساتھ نمایاں ہے .

مولانا سندھی رح کی تفسیر پر تنقید ..

حیات مسیح علیہ سلام مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے اور یہ قرآن و سنت کی براہ راست تعلیمات سے مستنبط ہے لیکن مولانا سندھی رح کی اس تفسیر میں اس حوالے سے مختلف نکات ملتے ہیں کہ جنکی وجہ سے انپر تنقید بھی ہوتی رہی ہے اور " احمدی " گروہ اس سے اپنے موقف کی تائید میں استدلال کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے.
مولانا سندھی اور نزول مسیح کے حوالے سے ایک تحقیق :-
حضرت صوفی عبد الحمید خان سواتی ؒ لکھتے ہیں کہ:
’’مولانا عبید اللہ سندھی کی طرف منسوب اکثر تحریریں وہ ہیں وہ ہیں جو املائی شکل میں ان کے تلامذہ نے جمع کی ہیں ۔مولانا کے اپنے قلم سے لکھی ہوئی تحریرات اور بعض کتب نہایت دقیق و عمیق اور فکر انگیز ہیں اور وہ مستند بھی ہیں۔لیکن املائی تحریروں پر پورا اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔اور بعض باتیں ان میں غلط بھی ہیں جن کو ہم املا کرنے والوں کی غلطی پر محمول کرتے ہیں مولانا کی طرف ان کی نسبت درست نہ ہوگی‘‘۔

(مولانا عبید اللہ سندھی ؒ کے علوم و افکار :ص ۷۸)

حضرت سواتی ؒ مزید لکھتے ہیں کہ:
’’پوری کتاب من و عن مولانا سندھی ؒ کی طرف منسوب کرنا بڑی زیادتی ہوگی۔ اور اس کو اگر علمی خیانت کہا جائے تو بجا ہوگا کچھ باتیں اس کی مشتبہ اور غلط بھی ہیں جن کے مولانا سندھی ؒ قائل نہیں تھے۔اور نہ وہ باتیں فلسفہ ولی اللہی سے مطابقت رکھتی ہیں‘‘۔(عبید اللہ سندھی ؒ کے علوم و افکار :ص۶۸)
۔حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
’’حیات مسیح کے بارے میں مولانا عبید اللہ سندھی وہی عقیدہ رکھتے تھے جو دوسرے علماء دیوبند کا ہے ۔مگر افسوس کہ موسی جار اللہ اپنی بات مولانا سندھی کے نام سے کہہ کر لوگوں کو مغالطہ دے رہا ہے ۔مولانا سندھی کے نظریات و عقائد وہی ہیں جو میں نے حاشیہ قرآن میں لکھ دئے ہیں‘‘۔

(خدام الدین کا احمد علی لاہوری ؒ نمبر :ص ۲۰۶)

اس حاشیہ تفسیر کا کیا مقام ہے علامہ خالد محمود صاحب کی زبانی سنئے :

’’مولانا احمد علی صاحب ؒ نے حضرت شاہ ولی اللہ اور مولانا عبید اللہ سندھی کی تعلیمات کی روشنی میں قرآن پاک کا ایک مختصر اور جامع حاشیہ تحریر فرمایا آپ نے اس میں سورت سورت اور رکوع رکوع کے عنوان خلاصے اور مقاصد نہایت ایجاز اور سادہ زبان میں ترتیب دئے جہاں جہاں مضمون ایک موضوع پر جمع دکھائے دئے ان کو موضوع دار اور طویل اور مفصل فہرست اپنے حاشیہ قرآن سے بطور مقدمہ شامل فرمائی عصری تقاضہ تھا کہ اختلاف سے ہر ممکن پرہیز کیا جائے اس لئے آپ نے ترجمہ قرآن پر ہر مسلک کے علماء کی تائید حاصل کی آپ کی پوری کوشش تھی کہ قرآن پاک کا ایک مجموعہ حاصل قوم کے سامنے رکھ سکیں۔ آپ جب یہ مسودے تیار کرچکے تو انہیں لیکر دیوبند پہنچے۔دیوبند میں ان دنوں محدث کبیر حضرت مولانا سید انور شاہ شیخ التفسیر حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی اورشیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی کا دور دورہ تھا۔آپ نے یہ سب مسودات ان حضرات کے سامنے رکھ دئے اور بتایا کہ انہوں نے یہ قرآنی محنت مولانا عبید اللہ سندھی ؒ کی تعلیمات کی روشنی میں سر انجام دی ہے مولانا سندھی ؒ پرچونکہ سیاسی افکار غالب تھے اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ خالص دینی نقطہ نظر سے بھی اس قرآنی خدمت کا جائزہ لیا جائے اگر اکابر دیوبنداس کی تصدیق فرمادیں تو وہ اسے شائع کردیں گے وگرنہ وہ یہ مسودات یہی چھو ڑ جائیں گے پھر ان کی انہیں کوئی حاجت نہیں ہوگی۔
اکابر نے ان کی تصدیق کی اور حضرت شیخ التفسیر مرکز دیوبند سے تصدیق لے کر لاہور واپس ہوئے اس ترجمے اور تحشئے کی نہ صرف اشاعت کی بلکہ درس و تدریس میں بھی قرآن کریم کا ذوق ہزاروں مسلمانوں کے دل و دماغ میں اتاردیا‘‘۔

(خدام الدین کاشیخ التفسیر امام احمد علی لاہوری نمبر :ص ۲۰۶)

حیات عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت سندھی ؒ کی اپنی تصریح:
’’فائدہ دوم!امام ولی اللہ وہلوی ؒ ’’تفہیمات الٰہیہ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ تعالی نے بذیعہ الہام سمجھایا ہے کہ تجھ پر دو جامع اسموں کا نور منعکس ہوا ہے ۔اسم مصطفوی اور اسم عیسوی علیہما الصلوت والتسلیمات تو عنقریب کمال کے افق کا سردا ربن جائے گا اور قرب الٰہی کی اقلیم پر حاوی ہوجائے گا ۔تیرے بعد کوئی مقرب الٰہی ایسا نہیں ہوسکتا جسکی ظاہری و باطنی تربیت میں تیرا ہاتھ نہ ہو۔یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں‘‘۔

(رسالہ عبیدیہ اردو ترجمہ محمودیہ:ص۲۷)

یہاں حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے واضح طور پر نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ لکھایہ تالیف ان کے آخری ایام ۱۳۳۹ھ کی ہے لہٰذا ان کی اپنی اس تحریر کے ہوتے ہوئے کسی غیر معتبر املائی تفسیر کی کوئی حیثیت نہیں۔


تمام شد

تحقیق و تدوین : حسیب احمد حسیب
 

Friday, 25 December 2015

http://urduvilla.com/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%9F/

پاکستان کا مطلب کیا ... ؟
آج قائد اعظم محمد علی جناح صاحب کا یوم پیدائش ہے اورہمیشہ کی طرح قائد کی شخصیت کو لیکر سیکولر حلقے یہ بحث دوبارہ سامنے لائے ہیں کہ پاکستان کے تناظر میں بابائے قوم کی دینی فکر کیا تھی اور کیا انکا مقصود ایک اسلامی ریاست کا قیام تھا یا کہ وطنی و قومی سیکولر ریاست کا قیام .....


اس سے پہلے کہ اس حوالے سے مزید بات کی جاوے اگر ہم تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ تحریک پاکستان میں سب سے بڑا عنوان ہی اسلام کو بنایا گیا تھا اور اس بات کا اندازہ ان نعروں سے ہو جاتا ہے کہ جو اس وقت لگائے گئے ........
اس دور کا ایک لازوال نعرہ تھا "پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔ لا الہٰ الا اللہ"
یہ نعرہ در اصل تحریک پاکستان کے مجاہد پروفیصور اصغر سودائی مرحوم کی معروف نظم کا حصہ تھا
. اصغر سودائی جب مرے کالج میں زیر تعلیم تھے تو 1944 میں ایک جلسہ عام مین اپنی نظم پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ سنائی یہ نظم اس قدر مقبول ہوئی کہ مرے کالج کے در و دیوار سے نکل کر پورے ہندوستاں کے گلی کوچوں میں زباں زد عام ہو گئی
تحریک پاکستان کے زمانہ عروج میں جب نیشنل کانگریس اور ان کے حواری نیشنلسٹ مسلمانوں سے تضحیک کے انداز میں پوچھا کرتے تھے کہ پاکستان کا مطلب کیا تو اس کے جواب میں 1944 کی نظم سنا کر دیتے تھے کہ
پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ
لیجئے وہ نظم ملاحظہ کیجیے
پاکستان کا مطلب کیا؟
لا الہ الا اللہ
شب ظلمت میں گزاری ہے
اٹھ وقت بیداری ہے
جنگ شجاعت جاری ہے
آتش و آہن سے لڑ جا
پاکستان کا مطلب کیا؟
لا الہ الا اللہ
ہادی و رہبر سرور دیں
صاحب علم و عزم و یقیں
قرآن کی مانند حسیں
احمد مرسل صلی علی
پاکستان کا مطلب کیا؟
لا الہ الا اللہ
چھوڑ تعلق داری چھوڑ
اٹھ محمود بتوں کو توڑ
جاگ اللہ سے رشتہ جوڑ
غیر اللہ کا نام مٹا
پاکستان کا مطلب کیا؟
لا الہ الا اللہ
جرات کی تصویر ہے تو
ہمت عالمگیر ہے تو
دنیا کی تقدیر ہے تو
آپ اپنی تقدیر بنا
پاکستان کا مطلب کیا؟
لا الہ الا اللہ
نغموں کا اعجاز یہی
دل کا سوز و ساز یہی
وقت کی ہے آواز یہی
وقت کی یہ آواز سنا
پاکستان کا مطلب کیا؟
لا الہ الا اللہ
ہنجابی ہو یا افغان
مل جانا شرط ایمان
ایک ہی جسم ہے ایک ہی جان
ایک رسول اور ایک خدا
پاکستان کا مطلب کیا؟
لا الہ الا اللہ
تجھ میں ہے خالد کا لہو
تجھ میں ہے طارق کی نمو
شیر کے بیٹے شیر ہے تو
شیر بن اور میدان میں آ
پاکستان کا مطلب کیا؟
لا الہ الا اللہ
مذہب ہو تہذیب کہ فن
تیرا جداگانہ ہے چلن
اپنا وطن ہے اپنا وطن
غیر کی باتوں میں مت آ
پاکستان کا مطلب کیا؟
لا الہ الا اللہ
اے اصغر اللہ کرے
ننھی کلی پروان چڑھے
چھول بنے خوشبو مہکے
وقت دعا ہے ہاتھ اٹھا
پاکستان کا مطلب کیا؟
لا الہ الا اللہ
از اصغر سودائی مرحوم
ایک قول جو کہ جناح صحاب مرحوم سے منسلک کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ
" یہ نعرہ ہندوستان کے طول و عرض میں اتنا مقبول ہوا کہ تحریک پاکستان اور یہ نعرہ لازم و ملزوم ہو گئے اور اسی لیے قائد اعظم نے کہا تھا کہ: ”تحریکِ پاکستان میں پچیس فیصد حصہ اصغر سودائی کا ہے۔“
گو کہ یہ بات تحقیق طلب ہے
اسی طرح جب لیگی حضرت کا کانگریسی مسلمانوں سے سامنا ہوتا تو وہ پھبتی کستے
مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ ... !
مسلمانوں میں مسلم لیگ کی مقبولیت کی وجہ ایک شاعر افضل ہاپوڑی کے شعر کا یہ مصرعہ بنا ’’مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ‘‘۔افضل ہاپوڑی صوبہ اترپردیش کے شہر میرٹھ کے قریب ایک قصبہ ہاپوڑی کے رہنے والے تھے۔ انھوں نے تحریک ِخلافت اور تحریکِ پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے تمام جلسوں میں شریک ہوئے اور اپنی نظموں سے حاضرین میں جوش اور ولولہ پیدا کرتے ’’مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ‘‘ اُن کی نظم کا ایک مصرعہ ہے، جو اُنھوں نے مسلم لیگ کے ایک جلسے میں پڑھا ،تو دیکھتے ہی دیکھتے یہ مصرعہ نعرہ بن کر برصغیر کے کونے کونے میں پھیل گیا۔ اس نعرے کی وجہ سے مسلمانوں کی بڑی تعداد نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ اس سے قبل اس جماعت میں مخصوص طبقے کے لوگ ہی شامل تھے۔ بعد ازاں یہ عوامی جماعت بن گئی، افضل ہاپوڑی کی یہ نظم کچھ یوں ہے:
باطل سے نہ ڈر تیرا ہے خدا پردے سے نکل کر سامنے آ
ایمان کی قوت دل میں بڑھا مرکز سے سرک کر دُور نہ جا
مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ ...
پاکستان کوئی سولو فلائٹ نہیں تھا بلکہ تشکیل پاکستان میں جتنا کچھ جناح صاحب کی قیادت کا کمال تھا تو اس سے بڑھ کر فکر اقبال اس کے پس منظر میں کار فرما تھی
جاوید اقبال مرحوم اقبال کی اسلامی سیاسی فکر کو کچھ اس انداز میں بیان کرتے ہیں
اقبال کا تصور اسلامی ریاست .... (۱)
اقبال کا تصور اسلام کیا ہے؟ اگر وہ پاکستان میں ”اسلامی ریاست“ قائم کرنا چاہتے تھے تو وہ کس نوعیت کی ریاست ہے؟ ان سوالوں کا جواب دینے سے پیشتر اقبال کے چند ایسے مقولوں کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے جن سے ان کے تصور اسلام کی وضاحت ہوتی ہے۔ مثلاً فرماتے ہیں ”زمانہ قدیم میں مذہب ”علاقائی“ تھا۔ یہودیت نے واضح کیا کہ مذہب ”نسلی“ ہے، مسیحیت نے تعلیم دی کہ مذہب ”ذاتی“ ہے مگر اسلام کا فرمان ہے کہ مذہب نہ علاقائی ہے نہ نسلی نہ ذاتی بلکہ خالصتاً ”انسانی“ ہے“۔ پھر فرماتے ہیں :”توحید“ کا مطلب ہے انسانی اتحاد، انسانی مساوات اور انسانی آزادی“ پھر ارشاد ہوتا ہے ”بطور عقیدہ اسلام کی نہ کوئی زبان ہے نہ رسم الخط اور نہ لباس“ پھر فرماتے ہیں”اسلام کا مقصد روحانی جمہوریت کا قیام ہے“ اقبال نے ”روحانی جمہوریت“ کی تعریف بیان نہیں کی لیکن معلوم ہوتا ہے ان کا اشارہ رسول اللہ کے وضع کردہ تحریری دستور ”میثاق مدینہ“ کی طرف ہے۔ آنحضور نے مدینہ میں مکہ کے مہاجرین اور مدینہ کے انصار کو باہم ملا کر ملت یا امت قائم کی۔ اسی بنا پر مسلم قومیت کے بارے میں اقبال کا قول ہے ”اگر انسانوں کا گروہ علاقہ، نسل یا زبان کے اشتراک پر ایک قوم بن سکتا ہے تو عقیدہ کے اشتراک کی بنیاد پر بھی وہ ایک قوم بن سکتا ہے۔ ہند کے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی سے اقبال کے اختلاف کا سبب یہی تھا کہ مولانائے دیوبند مسلمانوں کو قوم کے اعتبار سے ہندوستانی اور ملت کے اعتبار سے مسلمان سمجھتے تھے لیکن اقبال کے نزدیک قوم و ملت کے جو معنی ہمیں آنحضورﷺ نے بتائے ہیں ان دونوں میں کوئی فرق نہیں بلکہ ایک ہی معنی ہیں یعنی مسلمانوں کی ”قومیت“ اسلام ہے۔
پھر اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جاوے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بر صغیر کا مسلمان کبھی سیکولر نہیں رہا اور اگر جناح صاحب کسی سیکولر ریاست کے طالب ہوتے تو انہیں وہ پزیرائی ملنا نا ممکن تھی کہ جو ملی دوسری جانب تحریک پاکستان کا بنیاد مطالبہ ہی فاسد ہو جاتا کہ ہندوستان ایک ایسی بڑی جمہوریہ ہی بننے جا رہا تھے کہ جس کا مزاج سیکولر ہوتا ........
پھر اگر جناح صاحب کے مزاج کی ہی بات کی جاوے تو اسے کسی بھی طرح سیکولر ثابت نہیں کیا جا سکتا انکی زندگی کا ہی ایک بڑا واقعہ اس بات کو روز روشن کی طرح واضح کر دیتا ہے .....
ڈاکٹر صفدر محمود ایک جگہ لکھتے ہیں
یہ ایک حیرت انگیز حقیقت اور دلچسپ اتفاق ہے کہ قائداعظم ؒ کی واحد اولاد یعنی انکی بیٹی دینا جناح نے 14 اور15 اگست 1919ءکی درمیانی شب کو جنم لیا۔ایک مورخ کے بقول انکی دوسری ”اولاد“ اسکے صحیح اٹھائیس برس بعد 14 اور 15 اگست 1947ءکی درمیانی شب کو معرض وجود میں آئی اور اسکا نام پاکستان رکھا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم ؒ اپنی اولاد کو دل و جان سے چاہتے تھے اور خاص طور پر دینا جناح انکی زندگی کی پہلی محبت کی آخری نشانی تھی لیکن اسکے باوجود جب دینا نے کسی مسلمان نوجوان کی بجائے ایک پارسی نوجوان نیوائل وادیا سے شادی کا فیصلہ کیا تو قائداعظمؒ نے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اس سے تعلق توڑ لیا۔ دینا ا کے جگر کا ٹکڑا تھی، اس سے بیٹی کی حیثیت سے تعلقات رکھے جا سکتے تھے۔ ہمارے ہاں اس قسم کی لاتعداد مثالیں ہیں کہ لبرل قسم کے مسلمان مذہبی رشتہ ٹوٹنے کے باوجود اولاد سے سماجی تعلقات نبھاتے رہے لیکن تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ قائداعظم ؒ نے بیٹی سے مذہب کا رشتہ منقطع ہونے کے بعد اس سے ہر قسم کے رشتے توڑ لئے۔ دوستوں سے کبھی دینا کا ذکر تک نہ کیاجیسے ان کی کوئی اولاد ہی نہ تھی اور پھر مرتے دم تک دینا کی شکل نہ دیکھی۔ شادی کے بعد دینا نے چند ایک بار اپنے والد گرامی کو خطوط لکھے۔ قائداعظم ؒ نے ایک مہذب انسان کی مانند ان خطوط کے جوابات دیئے لیکن ہمیشہ اپنی بیٹی کو ڈیئر دینا“ یا پیاری بیٹی کہہ کر مخاطب کرنے کی بجائے مسز وادیا کے نام سے مختصر جواب دیئے۔ (بحوالہ سٹینلے والپرٹ، جناح آف پاکستان صفحہ 370)
دوسری جانب مولانا اشرف علی تھانوی رح ایسے بزرگان دین کی جناح صاحب کی جانب توجہ بھی انتہائی قابل غور ہے
۔۲۳ تا ۲۶ اپریل ۱۹۴۳ ؁ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کا دہلی میں اجلاس شروع ہونے والا تھا۔اس تاریخی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے مسلم لیگ کے ارکان نے حضرت تھانوی ؒ کو ہدایات دینے کے لیے دعوت نامہ بھیجا۔یہ حضرت تھانوی ؒ کی وفات سے تین ماہ قبل کا واقعہ ہے۔بامر مجبوری آپ نے اجلاس میں شرکت سے معذوری ظاہر کرتے ہوئےاپنی ہدایات ایک تاریخی خط میں لکھ کر روانہ فرمادیںجس میں اپنی دو کتابوں ’’حیاۃ المسلمین اور صیانۃ المسلمین ‘‘کی طرف رہنمائی فرمائی : پہلی کتاب شخصی اصلاح اور اور دوسری کتاب معاشرتی نظام کی اصلاح کے لیے تھیں۔ جب مسلم لیگ ۱۹۳۹ ؁ء میں اپنے تنظیمی منصوبے کے تحت صوبوں اور ضلعوں میں از سرِ نو شاخیں قائم کررہی تھی تب حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ اور بعض دیگر اکابر علمائے دیوبندکے مشورہ سے مسلمانانِ ہند کو مسلم لیگ کی حمایت و مدد کرنے کافتویٰ دیا۔ صف علماء سے یہ پہلی آواز تھی جو مسلم لیگ کی حمایت میں بلند ہوئی جس سے مخالفین کی صفوں میں سراسیمگی پھیل گئی کیوں کہ وہ مسلمانانِ ہند میں مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کا اثر و رسوخ اچھی طرح جانتے تھے۔ان کے ہزاروں متوسلین خلفاءجگہ جگہ پھیلے ہوئے تھے۔عین اسی موقع پر جماعت اسلامی نے گانگریس کی حمایت کرکے تحریکِ پاکستان کی تائید کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ’’جب کونسلوں، میونسپلٹیوں میں ہندؤوں سے اشتراکِ عمل جائز ہےتو دوسرے معاملات میں کیوں نہیں؟‘‘۔ دارالعلوم دیوبند کی سیاسی جماعت جمعیت علمائےہند دو حصوں میں تقسیم ہوگئی :ایک جماعت کانگریس کی حامی ہوگئی جس کی سربراہی مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ فرمارہے تھےاور دوسری مسلم لیگ کی حمایت میں کھڑی ہوگئی جس کی صدارت علامہ شبیر احمد عثمانی فرمارہے تھے۔ ان دنوں مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ دارالعلوم دیوبند کے صدر مفتی تھے، حضرت تھانوی ؒ کے خلیفہ مجاز ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ اور پاکستان کی حمایت میں تھے۔ اس مسئلے پر دونوں فریقین کے مابین آراء کا اختلاف ہوا، بحث و مباحثہ کی نوبت آئی۔ بالآخر دارالعلوم دیوبند کو اس اختلاف کے اثرات سے دور رکھنے کے لیےعلامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ، مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ اور چند دیگر علمائے کرام نے دارالعلوم سے باضابطہ استعفیٰ دے دیا اور پاکستان کی حمایت میں اپنے اوقات کو آزادانہ وقف کردیا۔بعض مخالفین اس اختلاف کو بیان کرکے اکابر دیوبندکو متہم کرتے اور لوگوں کو علمائے دیوبند اور پاکستان کی حامی جمعیت علمائے اسلام کو پاکستان دشمن قرار دے کر لوگوں کے اذہان پراگندہ کرتے ہیں، یہ سلسلہ تاہنوز جاری ہے جو تعصب کی علامت ہے دونوں اکابر کا اختلاف اخلاص پر مبنی تھا۔ تحریکِ پاکستان کی کامیابی کے لیے یہ بات کافی ہے کہ سب سے پہلے پاکستان کی تائید کرنے والے مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ ہیں۔
اقتباس : تحریکِ پاکستان اور علمائے دیوبند ……?
مصنف : مولانا محمد مبشر بدر
پھر اگر جناح صاحب کے ساتھ موجود قیادت پر نگاہ ڈالی جاوے تو ان میں کوئی بھی معروف سیکولر دکھائی نہیں دیتا .........
حقیت تو یہ ہے کہ پاکستان کا سیکولر طبقہ ایک ایسے جھوٹ کو سچائی بنانے پر مصر ہے کہ جس کی کوئی حقیقی بنیاد نہوں ........
دوسری جانب آج بھی پوری پاکستانی قوم پر یہ امر فرض ہے کہ وہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں اصلی پاکستان بنائیں ورنہ الله کی پکڑ ہم سے دور نہیں ..
حسیب احمد حسیب