اتوار، 16 مارچ، 2014

قطعہ!

قطعہ! 

محتسب کی خیر ہو انصاف کچھ ایسے کیا 
اس نے میرے قتل کا الزام مجھ پر رکھ دیا 

قید میں بھی بادشاہی کا مزہ مجھ کو دیا
تاج کانٹوں کا بنا کر میرے سر پر رکھ دیا

حسیب احمد حسیب

تصویر: ‏قطعہ!  

محتسب کی خیر ہو انصاف کچھ ایسے کیا 
اس نے میرے قتل کا الزام مجھ پر رکھ دیا 

قید  میں  بھی بادشاہی کا مزہ مجھ   کو  دیا
تاج کانٹوں کا بنا کر میرے سر پر رکھ دیا

حسیب احمد حسیب‏
ایک تبصرہ شائع کریں