جمعہ، 29 اگست، 2014

* استفسار *

* استفسار *

اچھا ! تو کیا میں که دوں ...........؟

یہ تم سے پوچھنا ہے
لیکن مجھے پتہ ہے 
تم نے نہیں سنا ہے 
کتنا عجیب سا یہ 
چاہت کا سلسلہ ہے 
ہونٹوں کو بند کر کے 
آنکھوں سے بولنا ہے 

اچھا ! تو کیا میں کہ دوں ........... ؟

چاہت کے سلسلوں میں 
الجھے سے راستوں پے 
چلنا ہے آبلہ پا 
رکنا نہیں کہیں بھی 
لیکن میں جانتا ہوں 
تم کو نہیں پتہ ہے 
یہ دل کا معاملہ ہے 

اچھا ! تو کیا میں کہ دوں ........ ؟

جاؤ نہیں میں کہتا 
تم سے میں کیوں کہوں وہ 
جو آرزو ہے میری 
جو جستجو ہے میری 
جو بھی میں سوچتا ہوں 
جو بھی میں دیکھتا ہوں 
اے گردش زمانہ 
روٹھی ہوئی ہوئی محبت 
کب لوٹ کر ہے آئی
پھر بھی میں پوچھتا توں 
پھر بھی میں پوچھتا ہوں 

اچھا ! تو کیا میں کہ دوں .......... ؟

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں