جمعرات، 14 اگست، 2014

دہریت کا بنیادی مرض

" میں آزاد ہوں "
دہریت کا بنیادی مرض !

" میں آزاد ہوں "

کلی آزادی یہ ہمیشہ انسان کی خواہش رہی ہے مگر کیا کیجئے انسان مقید ہے آپ لاکھ انکار کیجئے حیلے بہانے تراشیں لیکن آپ مجبور ہیں ....

انسان مقید ہے انسان کا
انسان مقید ہے اپنے مادی وجود کا
انسان مقید ہے اپنے جذبات و احساسات کا
انسان مقید ہے اپنے ماحول کا
انسان مقید ہے اپنے افکار کا

کہیں خونی رشتے آپ کے پیر کی دیوار ہیں تو کہیں ریاستی قوانین آپ کے راستے کی رکاوٹ کہیں آپ کا کمزور وجود آپ کی خواہشات کو پورا کرنے میں ناکام تو کہیں آپ کے جذبات آپ کی فکری پرواز میں مزاحم .....
کیا خوب کہا ہے شاعر نے

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

خدا کا آپ سے ایک ہی مطالبہ ہے دیکھو میری غلامی میں آجاؤ اور آپ کی یہی رٹ میں ناں مانوں..

غور کیجئے کیا آپ اپنے ارد گرد موجود مادی حدود و قیود کو توڑ سکتے ہیں اس لا محدود پھیلی ہوئی کائنات میں آپ کی پرواز کہاں تک ہے پھر آپ کی جسمانی کمزوریاں کیا آپ ہمیشہ جاگ سکتے ہیں یا ہمیشہ سو سکتے ہیں کیا آپ غم خوشی دکھ تکلیف سے مبراء ہو سکتے .....

پھر آپ پر زمینی حدود کی پابندیاں یہ پاکستان ہے یہ ہندوستان یہ امریکہ یہ انگلستان یہ کوریا یہ جاپان .....
کبھی کسی ملحد نے اس پر اعتراض کیوں نہیں کیا ہاں جہاں مذاہب کی حدود کی بات آئی پھر میں ناں مانوں کی تکرار .....

آپ کی مرضی مت مانئے آپ کے ماننے یا نہ ماننے سے حقائق تبدیل نہیں ہوتے .....

پھر ہر شخص دوسرے شخص کا قیدی میری آزادی وہاں ختم ہوتی ہے جہاں آپ کی ناک شروع ہوتی ہے ایسا کیوں جناب آپ کی آزادی وہاں کیوں ختم نہیں ہوتی جہاں مذھب کی حد شروع ہوتی ہے ......

کبھی آپ بچے تھے تو آپ کے ماں باپ نے آپ کی پرورش کی استادوں نے آپ کو پڑھایا کتابوں میں لکھے نے آپ کو سکھایا دنیا کے مشاہدے نے آپ کو سمجھایا ......
تو سوال یہ ہے کہ آپ کہاں ہیں آپ کون ہیں آپ کی اپنی حیثیت کیا ہے
ایک عظیم الشان فطری کارخانے کے ایک کارندے جو اس مشین میں چل رہا ہے اور اس کا اس مشین سے نکلنا ممکن ہی نہیں .

آپ لاکھ کہیں میں آزاد ہوں لیکن کیا کیجئے
آپ صرف ایک غلام ہیں فطرت کے غلام
اب فیصلہ آپ کا ہے کہ آپ کو کس کا غلام بننا ہے
اپنی بےلگام خواہشات کا یا پھر
ایک سچے حقیقی رب کا

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں