جمعرات، 14 اگست، 2014

اسلام ایک متواتر دین

اسلام ایک متواتر دین !

تواتر ایک فطری امر ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں دکھائی دیتا ہے ہم کسی بھی چیز کے متواتر ہونے سے اسکی حقیقت پر اعتبار حاصل کرتے ہیں اب اپنے ارد گرد موجود مظاہر فطرت پر نگاہ ڈالیے سورج کا روز نکلنا اور غروب ہونا چاند کا نمودار ہونا موسموں کا تبدیل ہونا اور دوسرے کائناتی تغیرات ایک تواتر (pattern) کو ظاہر کرتے ہیں پھر انسان کے اپنے معاملات جن سے وہ اپنی کیفیات کو پہچانتا ہے متواتر ہیں بچوں کی ولادت مرد و زن کے باہمی تعلقات انسانی جذبات و احساسات سب ایک تواتر پر موجود ہیں یا متواتر ہیں .......
غور کیجئے اگر یہ تواتر موجود نہ ہوتا تو کسی بھی چیز کو بدیہی حقیقت یا حقائق میں کیسے شمار کیا جا سکتا تھا سورج کبھی نکلتا اور کبھی نہ نکلتا کبھی پورا سال موسم سرما جاری رہتا اور کبھی گرمی کا موسم ....

ہم اپنے ماحول حالات واقعات کی پہچان تواتر سے ہی کرتے ہیں یہ ایک (Natural phenomenon) ہے اور یہ کسی مذہبی مولوی کی ذہنی اختراع نہیں بلکہ جدید دنیا کے محققین بھی اسی نتیجے تک پہنچے ہیں ...

پھل پھول نباتات جمادات غرض کائنات کی ہر شے میں ایک عظیم تواتر موجود ہے .پچھلی صدی کا ایک عظیم دماغ آئین سٹائن کہتا ہے (The basic laws of the universe are simple, but because our senses are limited, we can’t grasp them. There is a pattern in creation.

If we look at this tree outside whose roots search beneath the pavement for water, or a flower which sends its sweet smell to the pollinating bees, or even our own selves and the inner forces that drive us to act, we can see that we all dance to a mysterious tune, and the piper who plays this melody from an inscrutable distance—whatever name we give him—Creative Force, or God—escapes all book knowledge.)

سچ ہے اگر اس کائنات سے متواترات کو ختم کر دیں تو اس کی کیا حقیقت باقی رہتی ہے .
ہماری مذہبی سوچ کا مسلہ یہ بھی ہے کہ وہ قدیم مذہبی نظریات سے چھٹکارا حاصل کرتا ہے تو جدید مذہبی بندش میں پھنس جاتا ہے لیکن کائناتی اسرار و رموز اسپر نہیں کھلتے اور وہ انھیں سمجھنے سے قاصر رہتا ہے ..

اگر کتاب الله تواتر سے ثابت نہیں یا دینی اعتقادات کا ثبوت تواتر میں نہیں یا وہ اپنی اصل میں متواتر نہیں تو پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ خلاف فطرت ہیں اور خلاف فطرت چیز خالق کی عطا کردہ نہیں ہو سکتی کیونکہ فطرت اپنی حقیقت میں خالق کی منشاء ہی تو ہے ......

تواتر کے انکار میں آپ اتنا بڑھے کہ آپ نے کتاب الله کو بھی غیر متواتر ثابت کر دیا ...
معاملہ یہ ہے کہ حقائق (reaction philosophy) سے ثابت نہیں ہوتے (conspiracy theories) کے شائق دماغ ہر شے میں چھپے ہوے کیڑے نکال کر بلکہ یہ کہیں کہ کیڑے ڈال کر اپنی عقل سے کچھ نیا ثابت کرنا چاہتے ہیں اس کو آسان زبان میں خود نمائی کہا جاتا ہے .

جبتک کہ پچھلی عمارت نہ ڈھا دی جاوے نئی کھڑی نہیں کی جا سکتی چاہے پچھلی کتنی ہی مظبوط بنیادوں پر کیوں نہ کھڑی ہو (demolish and construct) کا اصول ہر جگہ لاگو نہیں ہوتی بلکہ اکثر اوقات تخریب کرنے والے کچھ نیا تعمیر کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے .

انکار حدیث والے حضرات کا بنیادی مسلہ یہی ہے .

آپ نے فرمایا تواتر اپنی حقیقت میں کچھ نہیں اور کسی بھی چیز کو ثابت کرنے کیلئے تواتر کی کوئی ضرورت نہیں یہاں آپ نے کدال تو حدیث پر چلائی لیکن اسکی ضرب سیدھی دین پر پڑی.

ایک جدید ذہن اسی رویہ کی وجہ سے الحاد و دہریت کی جانب متوجہ ہوتا ہے اب سوال یہ پیدہ ہوتا ہے کہ آپ سو دوسو تین سو سال پیچھے چلے جائیں آپ یہ کیسے ثابت کر سکتے ہیں کہ یہ کتاب جو آپ کے ہاتھ میں ہے یہی کتاب الله ہے ہمیں معلوم ہے کہ پچھلی دینی کتب میں تحریفات ہو چکی ہے نہ تو تورات محفوظ رہی نہ انجیل اور نہ ہی زبور تو پھر قرآن کی حفاظت کا سب سے بڑا معجزہ اسکا تواتر سے ثابت ہونا ہی تو ہے .......
آپ تواتر کہ بغیر یہ کیسے (Establish) کر سکتے ہیں کہ جو کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے یہ اسی شکل میں اتنے ہی پاروں میں انہی الفاظ کے ساتھ الله کے رسول صل الله علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی.

پھر آپ نے ایک اور لطیفہ بیان کیا کہ قرآن کی حقانیت کا ثبوت اسکی اندرونی شہادت ہے عجیب بات ہے جناب پھر تو دنیا کے تمام مقدمات ایک لمحے میں ختم ہو سکتے ہیں کیونکہ ہر شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ میں حق پر ہوں مجھے حیرت ہے کہ قول رسول کو اپنی خود ساختہ حق کی کسوٹی پر پرکھنے والوں کے پاس اتنے بودے دلائل بی ہو سکتے ہیں جو (common sense) کے بھی خلاف ہوں .

اگر قرآن کی اندرونی شہادت ہی کافی ہوتی تو نبی یا رسول بھیجنے کی کوئی حقیقی ضرورت موجود نہیں تھی یہ کافی تھا کہ فرشتے کتاب کسی اونچی پہاڑی پر رکھ جاتے پھر کتاب الله کو بتدریج نازل کرنے کی عقلی توجیہ ہی کیا ہے .
پہلے نبی کا کردار منوانا اکو صادق و امین کہلوانا اس بات کا متقاضی تھا کہ اندرونی شہادت کے ساتھ خارجی شواہد بھی پیش کئے جاویں تاکہ جیتے جاگتے زندہ معاشرے میں کسی چیز کا وجود ثابت ہو سکے اسلام عملی دنیا کا دین ہے کوئی فکری یا کتابی چیز نہیں کہ جو امور دنیا سے مستغنی ہو یا صرف لوگوں کے علمی گفتگو کیلئے موجود رہے اندرونی شہادت اسی وقت پایہ تکمیل تک پہنچتی ہے جب وہ عملی دنیا میں جیتی جاگتی حقیقت بن کر کھڑی ہو .....

پھر آپ اپنے مقدمے کو یوں تام کرتے ہیں کہ قرآن از خود اپنی شہادت کیسے ہے یا اسے شہادت کیوں تسلیم کریں تو اسکی بنیاد اعتقاد ہے .

جناب من اگر اعتقاد پر ہی بحث ختم کرنا تھی اور دین کو یونہی لٹکتا چھوڑ دینا تھا تو پھر جان لیجئے کہ ہر کسی کا اعتقاد الگ الگ ہے اور وہ اسپر اتنا ہی یقین رکھتا ہے جتنا آپ اپنے معتقدات پر میرے محترم اعتقاد یا ایمان کوئی علمی دلیل نہیں یہ ایک روحانی کیفیت ہے جو دوسروں سے منوائی نہیں جا سکتی .

الله اپنی حقیقت میں حق ہے قرآن اپنی اصل میں حق ہے اور الله کے رسول صل الله علیہ اپنی حقیقت میں سچ ہیں لیکن ان کی حقانیت کو دنیا میں ثابت کرنے کیلئے دعوت کے میدان میں دلائل کی قوت درکار ہے ورنہ یہ حقائق دنیا سے پوشیدہ ہی یہ جاتے اور دلائل میں سے ایک عظیم الشان دلیل امور دینیہ کا تواتر سے ثابت ہونا بھی ہے .

فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
پس آپ اپنا رخ اﷲ کی اطاعت کے لئے کامل یک سُوئی کے ساتھ قائم رکھیں۔ اﷲ کی (بنائی ہوئی) فطرت (اسلام) ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا فرمایا ہے (اسے اختیار کر لو)، اﷲ کی پیدا کردہ (سرِشت) میں تبدیلی نہیں ہوگی، یہ دین مستقیم ہے لیکن اکثر لوگ (ان حقیقتوں کو) نہیں جانتے

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں