بدھ، 19 نومبر، 2014

اسکے نام پے بیٹھی ہے

غزل
اسکے نام پے بیٹھی ہے 
کتنی پاگل ناری ہے


ارمانوں کا خون ہے یا
کپڑوں پر گلکاری ہے

تنہائی ، یادوں کا بوجھ
دل پر کتنا بھاری ہے


جان تمہیں ہم کہتے ہیں 
جان ہی تم پر واری ہے


تیری جدائی کا دل پر 
وار بہت ہی کاری ہے


ہونٹوں پر آتی مسکان 
دیکھو کتنی پیاری ہے


موسم بدلا ہے یا پھر 
تم نے زلف سنواری ہے


کل شب بادل برسا تھا 
آج ہماری باری ہے


آنکھوں سے اسکی تصویر 
ہم نے آج اتاری ہے


آگ بجھانے والے کے 
دامن میں چنگاری ہے


موسم سے ڈرنا کیسا 
طوفانوں سے یاری ہے


دریا میں موجوں کا حسیب 
کھیل ابھی تک جاری ہے


حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں