جمعرات، 14 اگست، 2014

صابن !

صابن !

قدیم پرتگیزی کا صباو (sabão) فارسی کے صیغہ ساختن پر تخفیف ہوکر صابن بنا جو ہماری اردو میں بھی مستعمل ہے یہ صابن ہے کیا صفائی کا ایک آلہ ایک ایسی شے جو ظاہری میل کچیل کو صاف کردے لیکن جب بھی صابن کے فلسفے پر غور کیا جی ہاں صابن کا فلسفہ ......

دنیا کی ہر شے اپپنے اندر ایک فلسفہ رکھتی ہے اور وہ فلسفہ انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتا اگر سوچ و فکر کے سوتے خشک نہ ہو چکے ہوں ....

یہ صابن ہے رنگ برنگی شکلوں خوشبوں مختلف سانچوں میں ڈھلا الگ الگ برانڈز کے ساتھ لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتا ......

کیا ہے یہ صابن جو ہمیں بھی دھوتا ہے اور ہمارے میلے کپڑے بھی دھوتا ہے اور خود گھلتا ہے جی ہاں یہ گھلتا ہے .

صابن کا فلسفہ اسکا گھلنا ہے .......

چاہے غریب کا صابن ہو یا امیر کا سستہ ہو یا مہنگا یہ گھلتا ہے
یہ کیوں گھلتا ہے کیونکہ ہمارا گند صاف ہو سکے

ہر وہ شخص گھلتا ہے جو دوسروں کا گند صاف کر سکے دعوت و اصلاح کی بنیاد گھلنا ہی تو ہے گھلنا کڑھنا تاکہ لوگوں کے قلوب صاف ہو سکیں چاہے اپنی ہستی فنا ہی کیوں نہ ہو جاوے

رب العزت اپنے محبوب کو کہتے ہیں

اے نبی آپ کیوں گھلتے ہیں

لَقَدْ جَاءكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ[ (سورة التوبة:128)

’’(مسلمانو!) تمہارے لئے تم ہی میں سے ایک رسول آئے ہیں,جن پرہروہ بات شاق گزرتی ہے,جس سے تمہیں تکلیف ہوتی ہے,تمہاری ہدایت کے بہت خواہش مند ہیں ,مومنوں کے لئے نہایت شفیق ومہربان ہیں

اور پھر یہ معاملہ یہاں تک بڑھتا ہے کہ

فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلٰٓی اٰثَارِهِمْ إِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ أَسَفًا(۶)
تو شاید آپ ان کے پیچھے اپنی جان کو ہلاک کرنے والے ہیں، اگر وہ ایمان نہ لائے اس بات پر، غم کے مارے۔(۶)

بَاخِعٌ عربی میں کہتے ہیں اپنے آپ کو غم میں گھلا دینا اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال دینا کے یہ امت ہدایت پر آجاوے

نبوی صفت کو صابن سے سمجھیں جی ہاں صابن

جو دوسروں کا میل صاف کرتا ہے انکو پاک کرتا ہے انکا گند دھو دیتا ہے لیکن خود گھلتا کڑھتا اسکا دل دکھتا ہے ...

اگر ہر کوئی صابن بن جاوے تو اس دنیا میں گندگی کا وجود ہی نہ رہے اور یہ دنیا حقیقت میں پاکیزہ ہو جاوے لیکن اسکیلئے خود گھلنا ضروری ہے .

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں