جمعرات، 14 اگست، 2014

قدرت الله شہاب...... جواب دو .....................؟

قدرت الله شہاب...... جواب دو .....................؟

بچپن سے جوانی تک دینی علوم سے ہٹ کر جو کتاب پڑھی وہ " شہاب نامہ " ہے جسکو پڑھ کر مصنف کے بارے میں تصور ابھرتا ہے کہ وہ ایک سچا پکا ٹھیک محب وطن پاکستانی مسلمان ہے آج جب میں شہاب نامہ کے اقتباسات یاد کرتا ہوں تو جی چاہتا ہے شہاب صاحب سے کچھ سوالات کروں

وہ کہتے تھے .....قومی سطح پر ہماری ہماری سیاسی قیادت کا ایک بڑا حصہ اپنی طبعی یا ہنگامی زندگی گزار کر دنیا سے اٹھ چکا ہے یا جمود کا شکار ہوکر غیر فعال ہو چکا ہے کچھ سیاسی پارٹیوں کے رہنما پیر تسمہ پا بن کر اپنی اپنی جماعتوں کی گردن پر زبردستی چڑھے بیٹھے ہیں ان میں سے چند نے کھلم کھلا یا درپردہ مارشل لا سے آکسیجن لیکر سسک سسک کر زندگی گزاری ہے ان نیم جان سیاسی ڈھانچوں میں نہ تو کوئی تعمیری سکت باقی ہے اور نہ ہی ان کو عوام کا پورا اعتماد حاصل ہے پرانی سیاست کی بساط الٹ چکی ہے ....

......... بہت سے لوگوں کے نزدیک پاکستان کی سلامتی اور استحکام کا راز فقط اس بات میں مضمر ہے کہ حالات کے اتار چڑھاؤ میں انکی ذاتی اور سراسر انفرادی مفاد کا پیمانہ کس شرح سے گھٹتا اور بڑھتا ہے۔۔۔ ایسے لوگ قابلِ رحم ھیں ۔۔۔وہ بنیادی طور پر نہ تو وطن دشمن ھوتے ھیں نہ ہی ان پر وطن غداری کا الزام لگانا چاھیے ۔۔۔۔مریضانہ ذہنیت کے یہ لوگ ہرص و ہوس کی آگ میں سلگ سلگ کر اندر ہی اندر بذدلی کی راکھ کا ڈھیر بن جانتے ھیں۔۔۔۔

حوادثِ دنیا کا ہلکہ سا جھونکا اس راکھ کو اڑا کر تتر بتر کر دیتے ہیں۔۔ انکا اپنا کوئی وطن نہیں ھوتا۔۔۔ان کا اصلی وطن محض ان کا نفس ھوتا ھے۔۔۔ اسکے علاوہ جو سر زمین بھی انکی خود غرضی ، خود پسندی، خود فروشی اور منافقت کو راس آئے، وہ وھیں کے ھو رھتے ھیں۔۔۔پاکستان میں اسطرح کے افراد کا ایک طبقہ موجود تو ھے لیکن خوش قسمتی سے ان کی تعداد محدود ھے۔۔۔........

.........١٩٦٩ میں جب میں یونیسکو کے ایگزیکٹو بورڈ کا ممبر تھا-تو ایک صاحب سے میرے نہایت اچھے مراسم ہو گے،جو مشرقی یورپ کے باشندے تھے اور ان کا ملک اپنی مرضی کے خلاف روس کے حلقہ اردات میں میں جڑا ہوا تھا -وہ اپنے وطن میں بعض کلیدی آسامیوں پر رہ چکے تھے-اور روس کی پالیسیوں اور حکمت عملی سے بڑی حد تک واقف اور نالاں تھے - ایک روز باتوں باتوں میں انہوں نے کہا :اگرچہ روس اور امریکا ایک دوسرے کے حریف ہیں لیکن بعض امور میں اپنے اپنے مفاد کی خاطر دونوں کی پالیسیاں اور منصوبے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت اختیار کر لیتے ہیں - مثلا ؟...میں نے پوچھا "مثلا پاکستان " وہ بولے -

میری درخواست پر انہوں نے وضاحت کی " یہ ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج کا شمار دنیا کی اعلیٰ افواج میں ہوتا ہے یہ حقیقت نہ روس کو پسند ہے اور نہ امریکا کو - روس کی نظر افغانستان کے علاوہ بحر عرب کی جانب بھی ہے اس کے علاوہ روس کو بھارت کی خوشنودی حاصل رکھنا بھی مرغوب خاطر ہے -ان تینوں مقاصد کی راہ میں جو چیز حائل ہے وہ پاکستان کی فوج ہے امریکا کا مقصد مختلف ہے امریکا کی اصلی اور بنیادی وفاداری اسرائیل کے ساتھ ہے -یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر کسی وقت اسلامی سطح پر جہاد کا فتویٰ جاری ہو گیا تو پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جہاں کی مسلح افواج اور نہتی آبادی کسی مزید حکم کا انتظار کیے بغیر جذبہ جہاد سے سرشار ہو کر بسوے اسرائیل اٹھ کھڑی ہو گی -عالم اسلام میں اپنی تمام کامیاب ریشہ دوانیوں کے باوجود امریکا یہ خطرہ مول نہیں لینا چاہتا اس کے علاوہ روس کی مانند امریکا بھی بھارت کی خیر سگالی اور خوشنودی حاصل کرنے اور بڑھانے کا آرزومند ہے-پاکستان کی مسلح افواج روس ،امریکا اور بھارت کی آنکھ میں برابر کھٹکتی ہے -اس لیے تمہاری فوج کو نکما اور کمزور کرنا تینوں کا مشترکہ نصب العین ہے..........

( پاکستان کا مستقبل: شہاب نامہ )

آج دل میں آتی ہے ان سے پوچھوں شہاب صاحب جواب دیجئے کیا یہ وہی پاکستان ہے جسکا خواب ہمارے بڑوں نے دیکھا تھا جسکےلئیے ہمارے پرکھوں نے اپنی جانیں اپنے اموال اور اپنی عزتیں قربان کیں کیا اسی پاکستان کی خواہش اقبال نے کی تھی اسی کیلئے محمد علی جناح نے اپنی زندگی کھپا دی اور اسی کیلئے تاریخ انسانی کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی .

آج جب ایک طرف جاہ و حشمت اور کرسی کے پجاری اپنی اپنی دکانیں چمکانے سر بازار چلے آۓ ہیں اور عوام کی اس منڈی میں اسی عوام کو بیچ رہے ہیں تو میرا دل چاہتا ہے پوچھوں

قدرت الله شہاب جواب دیجئے
ہماری بہادر سپاہ کو اقتدار کی غلام گردشوں کی ہوا لگ چکی آج فلسطین خون خون ہے اور غزہ لہو لہو ہے آج حرم سے کوئی فتویٰ صادر نہیں ہوتا آج خیر و شر کی ساز باز ہو چکی ہے آج ہماری سنگینیں ہمارے ہی خون سے سرخ ہیں ....

شہاب صاحب آج ہم کشمیریوں کا خون بیچ کر دشمن سے تجارتی پینگیں بڑھا رہے ہیں آج مغرب سے درآمد شدہ علامے وطن کی مٹی کو روندنے کے درپے ہیں آج قومی ہیرو دکھائی دینے والے قوم کو ہی رسوا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں ..

شہاب صاحب اس پاکستان میں قتل ہے خون ہے دہشت گردی ہے ناانصافی ہے اس میں جاگیر دار ہیں جو معصوم بچوں کے ہاتھ کٹوا دیتے ہیں مخالفوں کی عورتوں کی برہنہ پریڈ کرواتے ہیں ..
یہاں سرمایہ دار ہیں جو عالمی استعماری نظام کے پروردہ ہیں جو دین تہذیب معاشرت اور معیشت کی جڑیں کھود رہے ہیں ......

یہاں جھوٹے ہیرو ہیں جو عوام کو جھوٹے خواب دکھا کر ذلت کی ان گہرائیوں میں گرا دینا چاہتے ہیں جہاں سے ابھرنا ممکن ہی نہیں ........

یہاں جرنیل ہیں کرنیل ہیں جو اس ملک کی حفاظت کیلئے اس ملک کے ہی لوگوں کے خون سے اس ملک کو رنگ رہے ہیں ....

یہاں دھوکے باز مولوی ہیں جو اندروں خانہ بیرونی امداد لیکر دین کی بنیادیں ہی کھود دینے کے چکر میں ہیں ......

اور جب میں یہ سوالات پوچھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہیں دور سے قدرت الله شہاب کی آواز آ رہی ہے اور وہ کہ رہے ہیں ....

" ہم پاکستانی صرف اس وجہ سے بنے کہ ہم مسلمان تھے۔اگر افغانستان،ایران، مصر، عراق اور ترکی اسلام کو خیر باد کہہ دیں تو پھر بھی وہ افغانی، ایرانی، مصری، عراقی اور ترک ہی رہتے ہیں۔ لیکن ہم اسلام کے نام سے راہ فرار اختیار کریں تو پاکستان کا اپنا کوئی الگ وجود نہیں قائم نہیں رہتا۔۔"

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں