جمعرات، 14 اگست، 2014

تصور جزا و سزا اور فلسفہ دین !

تصور جزا و سزا اور فلسفہ دین !

بنیادی طور پر ہر انسان کی جان قیمتی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے یہ مذہب اور انسانیت کا متفقہ اصول ہے لیکن کیا ہر انسان کی جان یکساں قیمتی ہے یہاں مختلف پیمانے ہیں اسکو کسی بھی علمی عملی اور عقلی اعتبار سے ثابت کرنا امر محال ہے ....

ایک ایسا شیر خوار بچہ جو سننے بولنے اور دیکھنے کی صلاحیت سے قاصر ہو اسکی جان اور ایک ایسا شخص جو اپنے کنبے کا واحد کفیل ہو اسکی جان کیا یکساں اہمیت کی حامل ہوگی ...

اگر یہ سوال ایک ماں سے کیا جاوے تو وہ ہر حال میں فوقیت اپنی اولاد کو دے گی لیکن اگر یہ سوال عموم سے کیا جاوے تو انکے نزدیک وہ شخص زیادہ اہم ہے جو اپنے کنبے کا واحد کفیل ہے .....

ایسے ہی ایک شخص مظبوط جسامت کا مالک ہے اعلی ذہنی صلاحیتیں رکھتا ہے اچھی تعلیم بھی اس کے پاس ہے دوسری طرف ایک ایسا شخص ہے جو معذور ہے اب کامن سینس کے مطابق پہلا شخص زیادہ اہمیت کا حامل ہے لیکن اگر یہ معلوم ہو کہ وہ پہلا شخص قاتل ہے اشتہاری ہے تو قانونی اعتبار سے دوسرے شخص کی زندگی زیادہ اہم ہوگی ......

قانون فطرت قانون ریاست اور قانون مودت الگ الگ فیصلے صادر کرینگے اور اس معاملے میں انسانی ذہن کوئی بھی ١٠٠ فیصد مقبول ترین کلیہ بنانے سے ہمیشہ قاصر ہی رہے گا.

اب اگر ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اصول الگ الگ ہیں تو منطقی اعتبار سے ہر جان کسی نہ کسی اصول کے مطابق کوئی نہ کوئی قیمت ضرور رکھے گی .....

پھر اگر مذہبی نکتہ نظر سے ہی دیکھیں تو کیا خالق نے تخلیق لایعنی کی ہے اور اگر ایسا نہیں ہے اور بیشک ایسا نہیں ہے تو پھر خالق کی ہر تخلیق ضرور اہم ہے ہاں اب اگر کوئی احسن تقویم سے اسفل سافلین میں جا گرے تو اور بات ہے لیکن وہ خالق کی نگاہوں سے گرے گا مگر اسکی عمومی حیثیت ختم نہیں ہوگی خالق نے ہمیں یہ اختیار نہیں دیا کہ ہم کسی کے متعلق فیصلہ سنا کر اسکو لا شے قرار دے ڈالیں

جہاں بات قانونی معاملات کی ہے وہاں ایک گونگے بہرے اندھے شخص کی جان کا قصاص ایک تندرست و توانا کی جان کے قصاص کے برابر ہی ہوگا اور ہر دو میں کوئی فرق نہیں کیا جاوے گا یعنی قانون کی نگاہ میں دونوں ایک ہی ہیں ......

لیکن منطق دونوں میں تفریق کرے گی اشکالات اٹھاۓ گی سوالات پیدہ کرے گی قانونی اصول اپنے الگ پیمانے رکھتے ہیں اور منطقی اصول الگ ہیں

جہاں معاملہ ہے رجال کی یا رجل کی اہمیت کا تو ہر دو میں فرق ہے کسی بھی شخصیت کا دائرہ کار جتنا وسیع ہے اسکی اہمیت اتنی ہی زیادہ ہے کوئی قومی مفاد کیلئے کام کرتا ہے تو کوئی گروہی مفاد کیلئے کوئی انسانی مفاد کیلئے تو کوئی الہی مفاد کیلئے ہر کسی کی اہمیت اسکے کام کے اعتبار سے ہے ایک ایسی شخصیت جسکی وجہ سے پوری قوم راہ لگ رہی ہے اسکی حفاظت کیلئے آپ ہزاروں افراد کو آسانی سے قربان کر دینگے لیکن ایک عامی کی حفاظت کے لیے شاید ایک شخص بھی کھڑا نہ ہو ......

لیکن اگر ایسی کسی شخصیت سے کوئی جرم سر زد ہوگا تو پھر وہ عامی اور وہ شخصیت دونوں قانون کی نگاہ میں برابر شمار ہونگے.....

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں