منگل، 29 اپریل، 2014

و ے " لا " چورنگیا

و ے " لا " چورنگیا
پنجابی کا " وے " معروف ہے یہ ایک ایسا صوتی تاثر ہے ہے جو پکارنے والے کی آواز کے ساتھ اپنے معانی تبدیل کرتا ہے جیسے
رج گلاں نہ کیتیاں میں ماھی تیرے نال وے
دیویں نہ وچھوڑا مینوں، کریں نہ بے حال وے
پیندے نیں وچھوڑے جدوں، دل ٹٹ جاندے
اکھیاں دے ہنجو ڈھلے، ہتھ نہیوں آندے
چھڈ کے نہ جاویں ڈولا، لے جاویں نال وے
یا
پچھے پچھے اوندا میری چال وے نا آئی
چیرے والیا ویکھدا آئی وے میرا لونگ گواچا
نگاہ ماردا آئی وے میرا لونگ گواچا
ویسے پچھلے دنوں موٹر وے کا غلغلہ بھی رہا ہم کراچی والے راہ تکتے رہ گۓ مگر موٹر وے یہاں تک نہ آ سکی .....
سو جیسے پنجابی کا " وے " عجیب ہے
ایسے ہی عربی کا " لا " بھی عجیب ہے
اس لا سے اثبات کے در بھی وا ہوتے ہیں اور یہ لا ہر اثبات کی نفی بھی کر سکتا ہے اور اگر کوئی زیادہ گلے پڑے تو
لاحول ولا قوه الله بالله
کہ کر اٹھ آنا بھی کافی کار آمد ثابت ہوتا ہے
اب اگر پنجابی کا وے اور عربی کا لا باہم متصل ہو جاویں تو بنتا ہے
ویلا
اس بیچارے ویلے پر کبھی اچھا ویلہ نہیں آتا
ویلے کی تو نماز کا بھی اعتبار نہیں
وہ کیا کہتے ہیں
" ویلے دی نماز، کویلے دیاں ٹکراں "
اب چورنگی کی سنیے
ایک ایسی جگہ جہاں چہار اطراف سے لوگ نمور دار ہوکر گزر جائیں اور یہ معلوم نہ ہو سکے کہ
درد کچھ معلوم ہے يہ لوگ سب
کس طرف سے آئے تھے کدھر چلے
اب چونکہ آپ لوگ " وے "
لا
ویلے اور چورنگی کے تعلق سے کماحقہ واقف ہو چکے ہونگے سو
چورنگی کے ویلے کی کہانی سنیے....
یہ چورنگی کا ویلا ہے
اور اس ویلے کا کوئی حال نہیں
بلکہ اسکا کوئی ماضی و مستقبل بھی نہیں
یہ رہتا زمین پر ہے لیکن باتیں آسمان کی کرتا ہے
سارے زمانے کے غم اسنے اپنے سر لے رکھے ہیں اور خود کسی چیز کا غم نہیں کرتا
دوسروں کے معاملات میں تانگ پھنسانا اور ناک گھسانا اسکا محبوب مشغلہ
یہ کسی کی بات نہیں سنتا اور اگر سنتا ہے تو سمجھتا نہیں اور اگر غلطی سے سمجھ جاۓ
تو ہمیشہ غلط سمجھتا ہے
دوسروں کو .......
اسکی شخصیت بہت اہم ہے اسلئے اسے کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں
اسکا ویلا پن ہی اسکی مصروفیت ہے اور یہ اپنی مصروفیات کے ویلے میں ہمیشہ ویلا بیٹھا نظر آۓ گا
اسکی زندگی چورنگی ہے
اور اسکی فطرت دو رنگی ہے
لیکن مزاج کا یہ پورا فرنگی ہے
یہ گوشت کچہ کھانا پسند کرتا ہے
اور دال گلی ہوئی
لیکن اسکی دال کبھی اور کہیں نہیں گلتی
لوگوں کی دال میں کچھ کالا ہوتا ہے اور اسکی پوری دال ہی کالی ہے
یہ چورنگی کا چوکیدار ہے
اور مسلسل بیمار ہے
لیکن پورا فنکار ہے
امید ہے چورنگی کے باسی اسے پہچان جائینگے
تو جو پہچان گۓ ہیں
وہ جان لیں
وہ بھی نہیں پہچانے
اور جو نہیں پہچانے
وہ جانتے ضرور ہونگے
مگر جو جانتے ہیں
وہ کبھی بھی نہیں کہینگے
کہ ہم پہچانتے ہیں
کیا آپ پہچانے ............؟
حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں