جمعہ، 11 اپریل، 2014

اے ملحد اسلام !

اے ملحد اسلام !


گو احباب کو دھچکا ضرور لگے کا کہ یہ کیسا عنوان ہے لیکن کیا کیجئے معاملہ ہی کچھ ایسے ہے اب اصلی و خالص اسلام کیسے قبول کیا جاۓ اگر اصلی اسلام کی بات کی جاوے تو الحاد پسندوں کو اچھو لگ جاتا ہے اسلامی پر پھبتی کسنا کچھ مشکل تو نہیں بس کاٹ دار لہجے اور کچھ جھوٹ کی مہارت کے ساتھ آمیزش تو چاہئیے ہوتی ہے .........

آجکل ایسی شاعری کا خوب رواج ہے اور لوگوں کی طرف سے خوب پزیرائی بھی ملتی ہے ایسا ہی ایک شہکار پڑھا تھا 

جو ہم کہتے ہیں یہ بھی کیوں نہیں کہتا، یہ کافر ہے
ہمارا جبر یہ ہنس کر نہیں سہتا، یہ کافر ہے

یہ انساں کو مذاہب سے پرکھنے کا مخالف ہے
یہ نفرت کے قبیلوں میں نہیں رہتا، یہ کافرہے

بہت بے شرم ہے یہ ماں جو مزدوری کو نکلی ہے
یہ بچہ بھوک اک دن کی نہیں سہتا، یہ کافر ہے

یہ بادل ایک رستے پر نہیں چلتے یہ باغی ہیں
یہ دریا اس طرف کو کیوں نہیں بہتا، یہ کافر ہے

ہیں مشرک یہ ہوائیں روز یہ قبلہ بدلتی ہیں
گھنا جنگل انہیں کچھ بھی نہیں کہتا، یہ کافر ہے

یہ تتلی فاحشہ ہے پھول کے بستر پہ سوتی ہے
یہ جگنو شب کے پردے میں نہیں رہتا، یہ کافرہے

شریعاً تو کسی کا گنگنانا بھی نہیں جائز
یہ بھنورا کیوں بھلا پھر چپ نہیں رہتا یہ کافر ہے

پھر خیال آیا کیوں نہ ہم بھی اس میدان میں کودیں اور طبع آزمائی کریں سو کود پڑے 

تمام ملحدان اسلام کی نظر 


آؤ کے لکھیں ہم نۓ جدت کے ترانے
ڈھم ڈھم ڈھما ڈھم ڈھم ڈھما ڈھم ڈھول بجانے 

ہر شخص مسلمان ہے کوئی نہیں کافر 
اب بند کرو ہر گھڑی دوزخ کے فسانے 

لازم ہے کسی کو نہ کہو تم کبھی کافر 
ان کو بھی بنایا ہے میرے پیارے خدا نے 

ڈنڈوت کرو رام کو بھگوان کو پوجو
گاتے چلو ہر دم یونہی چاہت کے ترانے 

اسلام کو آزاد کریں قید سے نکلیں
آؤ کے چلیں دین میں الحاد ملانے 

یا رب تو ذرا بھیج دے " اکبر " کو دوبارہ 
جدت کے تقاضوں پے نیا دین بنانے

ملا و فقیہ صوفی و زاہد سے نہ ملنا
پاگل ہیں یہ مجنون ہیں عاشق ہیں دیوانے 

اس دور میں اسلام کی تبلیغ کا سودا 
اے رند جواں مرد چلو جام لنڈھانے 

گو کفر کی یلغار ہے اسلام پے ہر روز 
ترکی کے لگا دے کوئی ممنوع فسانے 

فرقوں میں ہے اسلام یا اسلام میں فرقے
چھوڑو کے چلیں میکدے ایمان بچانے 

اے ملحد اسلام ذرا سیکھ لے تو بھی 
اسلام میں الحاد کے طوفان اٹھانے 

حسیب احمد حسیب
تصویر: ‏اے     ملحد    اسلام !

گو احباب کو دھچکا ضرور لگے کا کہ یہ کیسا عنوان ہے لیکن کیا کیجئے معاملہ ہی کچھ ایسے ہے اب اصلی و خالص اسلام کیسے قبول کیا جاۓ اگر اصلی اسلام کی بات کی جاوے تو الحاد پسندوں کو اچھو لگ جاتا ہے اسلامی پر پھبتی کسنا کچھ مشکل تو نہیں بس کاٹ دار لہجے اور کچھ جھوٹ کی مہارت کے ساتھ آمیزش تو چاہئیے ہوتی ہے .........

آجکل ایسی شاعری کا خوب  رواج ہے اور لوگوں کی طرف سے خوب پزیرائی بھی ملتی ہے ایسا ہی ایک شہکار پڑھا تھا 

جو ہم کہتے ہیں یہ بھی کیوں نہیں کہتا، یہ کافر ہے
ہمارا جبر یہ ہنس کر نہیں سہتا، یہ کافر ہے

یہ انساں کو مذاہب سے پرکھنے کا مخالف ہے
یہ نفرت کے قبیلوں میں نہیں رہتا، یہ کافرہے

بہت بے شرم ہے یہ ماں جو مزدوری کو نکلی ہے
یہ بچہ بھوک اک دن کی نہیں سہتا، یہ کافر ہے

یہ بادل ایک رستے پر نہیں چلتے یہ باغی ہیں
یہ دریا اس طرف کو کیوں نہیں بہتا، یہ کافر ہے

ہیں مشرک یہ ہوائیں روز یہ قبلہ بدلتی ہیں
گھنا جنگل انہیں کچھ بھی نہیں کہتا، یہ کافر ہے

یہ تتلی فاحشہ ہے پھول کے بستر پہ سوتی ہے
یہ جگنو شب کے پردے میں نہیں رہتا، یہ کافرہے

شریعاً تو کسی کا گنگنانا بھی نہیں جائز
یہ بھنورا کیوں بھلا پھر چپ نہیں رہتا یہ کافر ہے

پھر خیال آیا کیوں نہ ہم بھی اس میدان میں کودیں اور طبع آزمائی کریں  سو کود پڑے 

 تمام ملحدان اسلام کی نظر 


آؤ     کے     لکھیں   ہم نۓ جدت کے ترانے
ڈھم ڈھم ڈھما ڈھم ڈھم ڈھما ڈھم   ڈھول بجانے    

ہر     شخص     مسلمان ہے کوئی نہیں   کافر 
اب     بند     کرو ہر گھڑی دوزخ کے فسانے  

لازم     ہے    کسی    کو نہ کہو تم کبھی  کافر 
ان    کو   بھی بنایا ہے میرے پیارے خدا  نے 

ڈنڈوت      کرو  رام    کو     بھگوان کو   پوجو
گاتے    چلو    ہر دم  یونہی چاہت  کے    ترانے   

اسلام        کو     آزاد      کریں  قید  سے  نکلیں
آؤ      کے    چلیں       دین    میں  الحاد   ملانے   

یا    رب      تو ذرا بھیج دے  " اکبر " کو دوبارہ 
جدت       کے       تقاضوں   پے   نیا دین  بنانے

ملا    و    فقیہ     صوفی    و  زاہد   سے  نہ ملنا
پاگل    ہیں   یہ    مجنون ہیں  عاشق  ہیں  دیوانے    

اس        دور    میں    اسلام   کی   تبلیغ کا  سودا  
اے       رند      جواں    مرد   چلو   جام  لنڈھانے 

گو     کفر     کی     یلغار   ہے اسلام پے ہر  روز 
 ترکی     کے    لگا   دے   کوئی  ممنوع    فسانے 

فرقوں     میں   ہے   اسلام  یا اسلام       میں فرقے
چھوڑو     کے   چلیں      میکدے   ایمان     بچانے  

اے     ملحد  اسلام      ذرا   سیکھ      لے   تو  بھی 
اسلام      میں      الحاد    کے     طوفان       اٹھانے 

حسیب احمد حسیب‏

ایک تبصرہ شائع کریں