سوموار، 7 اپریل، 2014

ایک بے روز گار کی ڈائری سے !

ایک بے روز گار کی ڈائری سے !



٢ اپریل ٢٠١٤ ،


ایک بے روز گار کی ڈائری سے !
ایک اور دن بادشاہی کا ایک اور رات بے روزگاری کی وہ کیا کہتے ہیں
ہر روز ، روز عید ہے
ہر شب ، شب برات
آج جب شام اپنا جوتا چیک کیا تو دیکھا سلائی نکل چکی ہے کوئی بات نہیں دونوں موزے بھی پنجے اور ایڑھی سے باد صباء کیلئے کھلے ہیں اب جیب میں موجود سوراخ کو سلوانے کی ضرورت نہیں کیونکہ جیب خالی ہے
آج سوچنے بیٹھا کتنے مہینے گزر چکے اس ھڈ حرامی کو پھر خیال آیا چھوڑو کیا ظن و تخمین کرنا جانے دو ........
ایک نوکری کے چھوٹنے سے دوسری کے حصول تک کا وقفہ بھی عجیب ہوتا ابتدا میں شاہی ہوتی ہے اور اپنے آپ کو سمجھا رہے ہوتے ہیں کوئی بات نہیں کچھ دن عیش کے ہی سہی
وہ کیا کہا تھا بابر نے
بابر به عیش کوش که عالم دوباره نیست
یہ بابر بھی نہ اب ہر کسی کو اپنے باوا سے میراث میں سلطنت تھوڑا ہی ملتی ہے کسی کسی کا باپ مزدور کلرک یا غریب اسکول ماسٹر بھی ہو سکتا....
ہاں بے روزگاری شروع کے دن اچھے ہوتے ہیں پھر جیسے جیسے دن گذرتے ہیں کیفیت تبدیل ہوتی جاتی ہے پچھلے سالوں کی جمع پونجی ختم ہونی شروع ہو جاتی ہے وہ گھر والے جو ابتداء میں ہمت بندھا رہے ہوتے ہیں خود ہمت ہارنا شروع کر دیتے تلاش میں شدت آتی جاتی ہے اور مزاج میں ہدت .....
ہر نیا دن ایک نئی امید سے شروع ہوتا ہے اور ایک نئی مایوسی پر ختم شروع شروع میں کاندھے پر ہاتھ مار کر ہمت بڑھانے والے دوست نظریں چرانا شروع کر دیتے ہیں کہیں قرض ہی نہ مانگ بیٹھے ....
ویسے عجیب بات ہے بیکاری میں ادبی جراثیم بڑی تیزی سے پرورش پاتے ہیں اشعار میں روانی آ جاتی ہے اور افکار میں جوانی
ویسے یہ بات کبھی سمجھ نہیں آتی کہ اتنے اونچے اونچے خیالات بے روزگاری میں ہی آخر کیوں آتے ہیں
ویسے یہ بھی سچ ہے کہ خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے
ابھی کل ہی بڑی سنجیدگی کے ساتھ یہ خیالات آ رہے تھے کہ " یہ ڈاکو بھی تو انسان ہی ہوتے ہیں ہوگی بے چاروں کی مجبوری اب اگر مال والوں سے کچھ لوٹ لیا تو کیا ظلم کیا "
لا حول ولاقوة الا بالله
ویسے نمازوں میں پختگی آتی جا رہی ہے اور خشوع و خضوع بڑھتا جا رہا ہے لیکن رخ عجیب ہے
الله معاف کرے کنوارہ ہر نیکی اس امید پر کرتا ہے کہ بیوی مل جاوے
اور بے روزگار اس امید پر کے نوکری مل جاوے
ویسے نوکری اور چھوکری کا پرانا ساتھ ہے بلکہ دونوں ہمدم دیرینہ ہیں اور آجکل لازم و ملزوم
نوکری نہیں تو چھوکری بھی نہیں
عجیب شے ہے انسان بھی اپنے دل میں شاہی کی خواہش رکھتا ہے
اور عجیب شے ہے یہ بے روزگار انسان بھی شاہی میں نوکری کی خواہش رکھتا ہے
اور عجیب شے ہے یہ بے روزگاری بھی شاہی میں فقیری کا لطف دیتی ہے
زندگی کا ڈھچرا عجیب انداز میں بدل رہا ہے پہلے کی ضروریات آج عیاشی لگنے لگی ہیں اور پہلے کی عیاشیاں آج ناقابل معافی جرائم دکھائی دیتی ہیں ......
اوہ اگر اسوقت یہ خرچہ نہ کرتا
اوہ اگر اسوقت وہ خرچہ نہ کرتا
چلو مٹی پاؤ جو ہو گیا سو ہو گیا
اب تو والد محترم بھی عجیب نگاہوں سے دیکھنے لگے ہیں جیسے دل ہی دل میں کہ رہے ہوں لڑکا آوارہ ہو گیا ہے
یہ اپنے آپ کو لڑکا کہنا بھی کتنا اچھا لگتا ہے
اب کیا کریں جب تک کنوار پنا ہے تب تک تو ہم لڑکپن میں ہی ہیں
لو جی
راتوں کو تھک کر سونا خواب ہوا
اب تو رات گۓ کسی اداس الو کی طرح کسی چورنگی پر قائم پٹھان کے ہوٹل پر چاۓ کی پیالی اور سگریٹ کے دھنویں میں اپنا غم غلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں
آج عجیب متضاد کیفیات سے گزرنا پڑا جب سڑی دھوپ میں بغل میں " سی وی " دابے جوتا گھسائی کرتے ہوے اپنے ہی پسینے کی بو سے دماغ پھٹنے لگا تو خیال آیا مجھ سے زیادہ ناکارہ شے اور اس دنیا میں کیا ہوگی پھر ایک گندے سے ٹھیلے سے میلے سے گلاس میں سکنجبین پیتے ہوے میں اپنے آپ کو اس شاہ کی طرح محسوس کر رہا تھا جسکی شاہی اسکی آزادی ہی تو ہے ......
کبھی کبھی دل کرتا ہے کچھ بھی کر لوں
ایک بار ایک کنسٹرکشن سائٹ پر نکل گیا تھا سوچا آخر ہم بھی تو اصلی و نسلی پٹھان ہیں کیوں نہ پتھر کوٹے جائیں لیکن پھر اصلی اور نسلی پٹھانوں کی مشقت دیکھ کر دل کو یہ دلاسہ دیا نہیں نہیں میں تو اردو بولنے والا ہوں یہ خان تو نام کے ساتھ ایسے ہی لگا ہے ........
تھے وہ آباء ہی ہمارے مگر ہم کیا ہیں
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر پیشہ ہیں
ویسے یہاں رشتہ بھی خوب جچے گا
میں اور میری ننھی منھی خواہشیں
بڑی دیر ہوئی فجر کی آذانیں ہوا چاہتی ہیں نماز پڑھ کر سونے کی تیاری کروں
شاید کل کی مشقت آج پھل دے جاوے دن تو سوتے ہوے گزرے مگر شام کو کہیں سے کوئی نیا سورج طلوع ہوکر دروازے پر دستک دے .......
ویسے مجھے امید ہے میری قسمت میرے سونے سے پہلے ہی جاگ جاۓ گی
صبح کا سورج طلوع ہونے سے پہلے تک
بے روزگار
حسیب احمد حسب
ایک تبصرہ شائع کریں