بدھ، 16 اپریل، 2014

اور پانی آ گیا !

اور پانی آ گیا !


ہماری قوم کو پانی کی وقعت کا اس وقت اندازہ ہوتا ہے جب پانی کی قلت سے واسطہ پڑے خوب مزے اڑائیں روز دو بار چھے چھے بالٹیوں سے نہائیں اور پڑوس کے صحرا میں لوگ پیاس سے مرتے چلے جائیں مگر آپ کو کیا ہاں دو دن پانی غائب رہے تو پھر احساس جاگتا ہے اسراف سے متعلق روایات یاد آتی ہیں اور جیسے ہی پانی کی فراہمی شروع ہوتی ہے پھر وہی معمول ......
کبھی تو پانی کی یہ قلت حقیقی ہوتی ہے اور کبھی غیر حقیقی تاکہ منرل واٹر اور پانی کے ٹینکر والوں کا بجنس بھی چلتا رہے ورنہ کہیں واٹر بورڈ والوں کا ناطقہ بند نہ ہو جاوے یہاں نفس " ناطقہ " کا تذکرہ ہو رہا ہے .

ہمارے کراچی میں بھی پانی کی کوئی کل سیدھی نہیں سب الٹی ہی ہیں اکثر علاقوں میں اس شیطان کی آنت کی طرح پھیلے شہر میں پانی کی لائنیں ہی موجود نہیں سو دھرتی ماں کی چھاتی سے آب حیات کشید کرنا پڑتا ہے اور یہ آب حیات شیریں نہیں تلخ ہوتا ہے ....
اس کھاری پانی کے کئی مفید اثرات ہیں سب سے بڑھ کر قاتل خشکی ہے ٹنڈ نمودار ہونے میں معاون ہے اور کم استعمال کیا جاتا ہے ......
ویسے یہ شیطان کی آنت بھی بڑی مقدس ہے بڑھتی ہی جا رہی ہے جیسے پانچ دریاؤں کی سر زمین کا تقدس اور سندھ کے آقاؤں کے مقابر کا تقدس کوئی بھی انتظامی اعتبار سے تقسیم کرنے کو تیار نہیں ہاں ملی اعتبار سے سب منقسم ہیں ....

بات ہو رہی تھی پانی کی یہ پانی بھی عجیب چیز ہے کبھی آنکھوں میں آ جاتا ہے تو کبھی دیدوں سے مر جاتا ہے شرم ہو تو چلو بھر کافی ہے ورنہ سمندر بھی کم ہے اور کبھی کبھی پتے میں پانی بھر بھی آتا ہے اور پتہ مارنا بھی پڑ جاتا ہے
ویسے امید تو نہیں کہ قلندر کی باتیں کسی کو پانی پانی کر سکیں
کیونکہ نہ تن اپنا نہ من

ہمارے واٹر بورڈ والے بھی کرامتی لوگ ہیں گٹر کا بدبو دار پانی بھی آپ کو تقدس کے ساتھ پینے پر مجبور کر دیں کہ جان ایک مقدس امانت ہے اور جان تو بچانی ہے اور آجکل کون مقتل کو یہ کہتا ہوا جاتا ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے

یہاں تو لوگ آتی جاتی کو جان کہنے کے قائل ہیں
ویسے ہم نے تو یہ بھی سنا ہے ووٹ ایک مقدس امانت ہے
جو ٹکے ٹکے پر بکتا ہے
اور ہم نے تو آدھا ملک ٹکے ٹکے میں بیچ دیا

یہ پانی بھی نا ! اپنے ساتھ بہاۓ لیے چلا جاتا ہے
ہمارے ہاں زمین دوز پانی کے ٹینک رکھنے کا رواج ہے اور اس ذخیرہ اندوزی کو ہر کوئی جائز سمجھتا ہے
پھر ایک ٹنکی چھتوں پر بھی ہوتی ہے جو کسی بچے کی ناک
اور کسی محبوبہ کی آنکھ کی طرح بہتی رہتی ہے
اکثر بے چارے مظلوم و مقہور شوہروں کو بھی اپنی بیویوں سے فریاد کرتے ہوے دیکھا گیا ہے
تم تو پیسہ پانی کی طرح بہاتی ہو
اب کیا کریں یہ انکے ہاتھ کا میل جو ٹھہرا
گو آپ کا خون پسینہ اس میں شامل ہو

برا ہو اس لن ترانی کی عادت کا
چلو پانی آگیا
نہانے کو چلیں

وہ کیا کہا تھا جون نے

عشق پیچاں کی صندل پر جانے کس دن بیل چڑھے
کیاری میں پانی ٹھہرا ہے دیواروں پر کائی ہے

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں