سوموار، 5 مئی، 2014

تاریخ اسلامی اور جدید فکری مغالطے !

تاریخ اسلامی اور جدید فکری مغالطے !

اعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

کسی بھی قوم کا رابطہ اگر اپنے ماضی سے ٹوٹ جاۓ تو اس قوم کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی گناہ کے نتیجے میں پیدہ ہونے والے بچے کو کوئی کچرے کے ڈھیر پر پھینک جاۓ اور وہ اپنے حقیقی نام و نسب کی تلاش میں ہمیشہ سر گرداں رہے .....

جن لوگوں کا اپنے ماضی سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے انکے اندر نفسیاتی مسائل پیدہ ہوتے ہیں یہ نفسیاتی مسائل مختلف انداز سے شخصیات افراد اور اقوام پر اثر انداز ہوتے ہیں
ایسے لوگ جھوٹے سہاروں کو تلاش کرتے ہیں جیسے جدید استعماری دنیا کا بے تاج بادشاہ امریکہ یہ لوگ کبھی مصر کے اہراموں میں تو کبھی روم و یونان کے مقابر میں اور کبھی دفن شدہ مایا تہذیب میں اپنی اصل کھوجتے پھرتے ہیں اور صرف کھوجتے ہی نہیں بلکہ اسکو پوری دنیا پر رائج کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں یہ جدید استعماری پھندے پوری کی پوری تہذیبوں کو کسی بھوکے عفریت کی طرح نگل رہے ہیں ...

دوسرا اثر ایسی اقوام پر یہ پڑتا ہے کہ اپنی تاریخی برتری کو ثابت کرنے کیلئے دوسروں کی تاریخ کو بھی مسخ کر دیا جاۓ اسکو استشراق کہتے ہیں

ڈاکٹر احمد عبدالحمید غراب کے نزدیک استشراق کی تعریف اس طرح سے ہے :

الاستشراق: ھو دراسات ’’اکادیمیۃ‘‘یقوم بھاغربیون کافرون من اھل الکتاب بوجہ خاص، لاسلام والمسلمین، من شتی الجوانب:عقیدۃ وشریعۃ، وثقافۃ، وحضارۃ، وتاریخا، و نظما، وثروات و امکانات۔۔۔۔ھدف تشویۃ الاسلام
ومحاولۃ تشکیک المسلمین فیہ، و تضلیلھم عنہ وفرض التبعیۃللغرب علیھم ومحاولۃ تبریر ھذہ التبعیۃ بدراسات و نظریات تدعی العلمیۃ والموضوعیۃ، تزعم التفوق العنصری والثقافی للغرب المسیحی علی الشرق الاسلامی۔‘‘
"الاستشراق، ۱۔ڈاکٹر مازن بن صلاح مطبقانی، ، قسم الاستشراق کلیہ الدعوہ مدینہ، س ن، ص۳۔"

’’استشراق، کفار اہل کتاب کی طرف سے ، اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے ، مختلف موضوعات مثلاً عقائد و شریعت، ثقافت، تہذیب، تاریخ، اور نظام حکومت سے متعلق کی گئی تحقیق اور مطالعات کا نام ہے جس کا مقصد اسلامی مشرق پر اپنی نسلی اور ثقافتی برتری کے زعم میں ، مسلمانوں پر اہل مغرب کا تسلط قائم قائم کرنے کے لیے ان کو اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات اور گمراہی میں مبتلا کرنا اور اسلام کو مسخ شدہ صورت میں پیش کرنا ہے۔‘‘

اس استشراقی فکر کے پیچھے موجود فتنے کو عالم اسلام کے ایک عبقری نے کچھ اس طرح کھولا ہے

یہ حقیقت ہے کہ مستشرقین کی ایک بڑی تعداد نے قرآن مجید، سیرت، تاریخ، تمدن اسلام اور اسلامی معاشرہ کی تاریخ اور پھر اس کے بعد اسلامی حکومتوں کی تاریخ کا مطالعہ ایک خاص مقصد کے تحت کیا اور مطالعہ میں ان کی دور بیں نگاہیں وہ چیزیں تلاش کرتی رہیں، جن کو جمع کر کے قرآن، شریعت اسلامی،سیرت نبوی ﷺ، قانون اسلامی، تمدن اسلامی اوراسلامی حکومتوں کی ایک ایسی تصویر پیش کرسکیں، جسے دیکھ کر لوگ آنکھوں پر پٹی باندھ لیں، مستشر قین نے اپنی آنکھوں پر خورد بین لگا کر تاریخ اسلام اور تمدن اسلا می اور یہ کہ آگے بڑھ کر (خاکم بدہن )قرآن مجید اور سیرت نبوی ﷺ میں وہ ذرے وہ ریزے تلاش کر نے شروع کئے جن سے کوئی انسا نی جماعت، کوئی انسا نی شخصیت خالی نہیں ہو سکتی ہے اور ان کو جمع کر کے ایسا مجموعہ تیار کرنا چاہا جو ایک نہایت تاریک تصور ہی نہیں بل کہ تاریک تاثر اور تاریک جذبہ پیش کرتا ہے اور انہوں نے اس کام کو انجام دیا جو ایک بلدیہ کا ایک انسپکٹر انجام دیتا ہے کہ وہ شہر کے گندے علاقوں کی رپورٹ پیش کرے۔ (حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ)

یہ استشراقی غلاظت صرف مغربی مستشرقین تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ اسنے اپنی فکر و تہذیب اور تاریخ پر شرمندہ مسلمانوں کو بھی متاثر کیا

عالم عرب میں طہٰ حسین اور بر صغیر میں سر سید اس فکر کے شدید متاثرین میں شمار کیے جا سکتے ہیں

اول الذکر کی کتاب فی الشعر الجاہلی: یہ مشہور زمانہ کتاب ۱۹۲۶ء میں شائع ہوئی اور مذہبی واسلامی حلقوں میں موصوف کی بدنامی کا باعث بنی جس میں زمانہ جاہلیت کے عربی ادب کے متعلق بحث کرتے ہوئے موصوف کج راستوں پررواں ہوئے اور اپنے تئیں مخالف کتاب وسنت باتیں لکھ کر بعض اسلامی نظریات وافکار کو گڑھی ہوئی بے بنیاد باتیں قرار دے بیٹھے۔ دراصل موصوف کے قلبی تاثرات اور اسلام مخالف افکار وخیالات اس کتاب سے آشکارا ہوئے تھے یہ ناپاک اثرات پروفیسر گائیڈی اور پروفیسر نللنیو کی صحبت تلمذ اور ان سے محبت کا نتیجہ اور لادینی افکار کے حامل مستشرقین سے تعلق کا ثمرہ وحاصل تھا

موخر الذکر ان سے بھی دو ہاتھ آگے نکلے

سر سید کی خود سپردگی کا یہ عالم تھا کہ ایک طرف تو انہوں نے اسلامی عقائد و افکار کو ناقابل مدافعت سمجھتے ہوے انمیں باطل تاویلات کا درواز کھولا تو دوسری طرف ملک میں اٹھنے والی ہر حربی و فکری تحریک کی بنیادیں کھودنے کا کام کیا موصوف فرماتے ہیں !

" جن مسلمانوں نے ہماری سرکار کی نمک حرامی اور بدخواہی کی، میں ان کا طرف دار نہیں۔ میں ان سے بہت ذیادہ ناراض ہوں اور حد سے ذیادہ برا جانتا ہوں، کیونکہ یہ ہنگامہ ایسا تھا کہ مسلمانوں کو اپنے مذہب کے بموجب عیسائیوں کے ساتھ رہنا تھا، جو اہل کتاب اور ہمارے مذہبی بھائی بند ہیں، نبیوں پر ایمان لائے ہوں ہیں ، خدا کے دیے ہوئے احکام اور خدا کی دی ہوئی کتاب اپنے پاس رکھتے ہیں، جس کا تصدیق کرنا اور جس پر ایمان لانا ہمارا عین ایمان ہے۔ پھر اس ہنگامے میں جہاں عیسائیوں کا خون گرتا، وہیں مسلمانوں کا خون گرنا چاہیے تھا۔ پھر جس نے ایسا نہیں کیا، اس نے علاوہ نمک حرامی اور گورنمنٹ کی ناشکری جو کہ ہر ایک رعیت پر واجب ہے ’کی ، اپنے مذہب کے بھی خلاف کیا۔ پھر بلاشبہ وہ اس لائق ہیں کہ ذیادہ تر ان سے ناراض ہواجائے:

"مقالات سرسید، صفحہ 41"

یہ اس طویل غلامی کا شاخسانہ تھا جسنے قومی غیرت و حمیت کا جنازہ نکال دیا اور خودداری اور انا کے پرخچے اڑا دئیے

دور غلامی نے مسلمانوں میں تین مختلف طبقات پیدہ کے

١ پہلا طبقہ علما قدیم کا تھا جنہوں نے اس دور فترت میں اپنے مذہبی تشخص عقائد و افکار کو محفوظ رکھنے کیلئے مدارس و خانقاہوں میں پناہ لی اور ایک طرح کے (cocon) میں چلے گۓ تاکہ لاروا تتلی بننے کے ارتقائی مراحل تے کر سکے .

٢ دوسرا طبقہ وہ تھا جس نے تاویلات باطل سے اسلام کا چہرہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا اور جو کچھ باقی رہا وہ اسلام نہیں کچھ اور تھا
یہ لارڈ تھامس بیمنگٹن میکالے کی فکری ذریت تھی لارڈ اپنا مقصود ان الفاظ میں بیان کرتا ہے

ایک ممورینڈم کی شکل میں ۳؍فروری ۱۸۳۵ء کو بیرک پور کلکتہ کے مقام پر گورنر جنرل ہند لارڈ ولیم بینٹنگ کو پیش کی۔ جس پر مباحثہ کے لئے جنرل کمیٹی برائے پبلک انسٹرکشن کا اجلاس ۷؍مارچ ۱۸۳۵ء کو منعقد ہوا۔ وہ کہتے ہیں، ”ہمارے پاس ایک رقم ایک لاکھ روپیہ ہے۔ جسے سرکار کے حسب ہدایت اس ملک کے لوگوں کی ذہنی تعلیم وتربیت پر صرف کیا جاتا ہے۔ یہ ایک سادہ سا سوال ہے کہ اس کا مفید ترین مصرف کیا ہے؟ کمیٹی کے پچاس فیصداراکین مصر ہیں کہ یہ زبان انگریزی ہے۔ باقی نصف اراکین نے اس مقصد کے لئے کوئی ایسا شخص نہیں پایا ہے جو اس حقیقت سے انکار کرسکے کہ یورپ کی کسی اچھی لائبریری کی الماری میں ایک تختے پر رکھی ہوئی کتابیں ہندوستان اور عرب کے مجموعی علمی سرمایہ پر بھاری ہے۔ پھر مغربی تخلیقات ادب کی منفرد عظمت کے کما حقہ معترف تو کمیٹی کے وہ اراکین بھی ہیں جو مشرقی زبانوں میں تعلیم کے منصوبے کی حمایت میں گرم گفتار ہیں․․․․۔ ہمیں ایک ایسی قوم کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہے جسے فی الحال انکی مادری زبان میں تعلیم نہیں دی جاسکتی ہے۔ ہمیں انہیں لازماً کسی غیر ملکی زبان میں تعلیم دینا ہوگا۔ اس میں ہماری اپنی مادری زبان کے استحقاق کا اعادہ تحصیل حاصل ہے۔ ہماری زبان تو یورپ بھر کی زبانوں میں ممتاز حیثیت کی حامل ہے۔ یہ زبان قوت متخیلہ کے گراں بہا خزانوں کی امین ہے․․․۔ انگریزی زبان سے جسے بھی واقفیت ہے اسے اس وسیع فکری اثاثے تک ہمہ وقت رسائی حاصل ہے جسے روئے زمین کی دانشور ترین قوموں نے باہم مل کرتخلیق کیا ہے اور گزشتہ نوّے سال سے بکمال خوبی محفوظ کیا ہے۔ یہ بات پورے اعتماد سے کہی جاسکتی ہے کہ اس زبان میں موجود ادب اس تمام سرمایہ ادبیات سے کہیں گراں تر ہے جو آج سے تین سوسال پہلے دنیا کی تمام زبانوں میں مجموعی طور پر مہیا تھا“ ۔ ذریعہ تعلیم کے سلسلہ میں میکالے نے کہا، ”اب ہمارے سامنے ایک سیدھا سادا سوال ہے کہ جب ہمیں انگریزی زبان پڑھنے کا اختیار ہے تو پھر بھی ہم ان زبانوں کی تدریس کی ذمہ داری قبول کریں گے جن کے بارے میں یہ امر مسلمہ ہے کہ ان میں سے کسی موضوع پر بھی کوئی کتاب اس معیار کی نہیں ہوگی کہ اس کا ہماری کتابوں سے موازنہ کیا جاسکے۔ آیا جب ہم یورپئین سائنس کی تدریس کا انتظام کرسکتے ہیں تو کیا ہم ان علوم کی بھی تعلیم دیں جن کے بارے عمومی اعتراف ہے کہ جہاں ان علوم میں اور ہمارے علوم میں فرق ہے تو اس صورت میں ان علوم ہی کا پایہ ثقاہت پست ہوتا ہے اور پھر یہ بھی کہ آیا جب ہم پختہ فکر، فلسفہ اور مستند تاریخ کی سرپرستی کرسکتے ہیں تو پھر بھی ہم سرکاری خرچ پر ان طبی اصولوں کی تدریس کا ذمہ لیں جنہیں پڑھانے میں ایک انگریز سلوتری بھی خفت محسوس کرے․․․․۔ ایسا علم فلکیات پڑھائیں جن کا انگریزی اقامتی اداروں کی چھوٹی چھوٹی بچیاں بھی مذاق اڑائیں“۔

یہ وہ سوچ تھی جسکے تحت آج بھی ہمارا تعلیمی نظام انگریز کے فکری بچے پیدہ کر رہا ہے

٣ تیسرا گروہ گو اسلام سے مخلص تھا اور اس میں ایسے عبقری موجود تھے جو اسلام کو دنیا میں غالب کرنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتے تھے اس سلسلے کی سب سے بڑی اور عظیم شخصیت بلکہ اس سلسلے کے سرخیل علامہ محمد اقبال رح تھے جنہوں نے تصور خودی پیش کیا

" خودی وہ بحر ہے جس کوئی کنارہ نہیں
تو آبِ جُو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں "

اقبال کی تعلیمی اٹھان ایسی تھی کہ جہاں وہ قدامت سے واقف تھے وہیں جدید استعمار کو بھی اچھی طرح جانتے تھے

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ اقوام مغرب اپنی فطری موت آپ مر جاتیں اور اقوام کے عروج و زوال کے لازوال قانون کا ازخود شکار ہو جاتیں لیکن اس تیسرے طبقے سے متعلق ایک گروہ نے پورے خلوص اور دین سے محبت رکھنے کے باوجود ایسے راستہ کو اختیار کیا جو انے والے دور کی اسللامی تحاریک کو اس راستے پر لے گیا جسکی کوئی منزل نہیں تھی ...

سید مودودی رح نے ایک مرتبہ کہا تھا
" غلطیاں بانجھ نہیں ہوتیں یہ بچے جنتی ہیں "

ہم کہتے ہیں کہ

" غلطیوں کے یہ بچے شیر مادر پر نہیں خون ملت پر پروان چڑھتے ہیں "

اسلامی ترقی کا معیار اسلامی معاشرت میں مضمر تھا
سید قطب شہید رح ایک جگہ لکھتے " اسلامی حکومت اسلامی معاشرت کا عطر "

اسلامی معاشرت جن امور کی بنیاد پر تشکیل دی جا سکتی ہے وہ ہیں
١ تزکیہ
٢ تعلم
٣ دعوت
٤ جہاد

ان کے علاوہ جو بھی راستہ اختیار کیا گیا وہ ایک ایسی بدعت بنا جسکا تریاق سنت کی طرف مکمل طور پر پلٹنے کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا

ہم سے غلطی یہ ہوئی کہ ہم نے وہ ہتھیار جو مغرب کا تھا خود استعمال کیا مگر ہم اس سے ناواقف تھے کہ کہ ہم اپنی ہی گردن کاٹنے جا رہے ہیں یہ ہتھیار تھا " مغربی جمہوریت "

اسی لیے اقبال نے اس جدید استعماری نظام پر بھرپور چوٹ کی ہے دور جدید کے ایک محقق اسکالر اپنے تحقیقی مقالے میں اسکی تفصیل کچھ یوں بیان فرماتے ہیں

" مسلمانوں کی عصری تاریخ میں اقبال جمہوریت پر گفتگو کرنے والی سب سے اہم شخصیت ہیں۔ اگرچہ اقبال کی اردو کلیات میں جمہوریت پر نو دس شعر ہی موجود ہیں، مگر ان نو دس شعروں میں بھی اقبال نے جمہوریت کی مبادیات کو سمیٹ لیا ہے۔ اقبال نے اپنے شعروں میں جمہوریت پر چار بڑے اعتراضات کیے ہیں۔

ان کا پہلا اعتراض مغربی دانش ور اسٹینڈل کے حوالے سے یہ ہے:

جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

اقبال کے اس شعر کا مفہوم یہ ہے کہ جمہوریت ایک معیاری یا Qualitative نظام نہیں ہے بلکہ ایک مقداری Quantitative نظام ہے۔ اس طرح گویا جمہوریت نے انسان کی پوری فکری تاریخ کی نفی کردی ہے۔ انسان کی پوری فکری تاریخ معیاری نظام بندی کی تاریخ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی کی معنویت، اس کا حسن و جمال، اس کی پائیداری، اس کی افادیت معیار سے ہے مقدار سے نہیں۔ چنانچہ جمہوریت نے گاڑی کے آگے گھوڑا باندھنے کے بجائے گھوڑے کے آگے گاڑی باندھ دی ہے۔ جمہوریت کے مقداری پہلو کے اطلاق سے امام غزالیؒ اور ایک جاہل برابر ہوجاتا ہے۔ جمہوریت کا مزید غضب یہ ہے کہ وہ ’’کمتر‘‘ سے ’’برتر‘‘ کا انتخاب کراتی ہے۔ حالانکہ اصولی، اخلاقی اور علمی اعتبار سے کمتر، برتر کے انتخاب کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اقبال نے جمہوریت پر دوسرا بنیادی اعتراض یہ کیا ہے ؎

ہے وہی سازِ کہن مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردے میں غیراز نوائے قیصری

اقبال کے اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ جمہوریت کا ’’نیا نظام‘‘ ہونے کا دعویٰ فریب کے سوا کچھ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’بادشاہت‘‘ جمہوریت کا لباس پہن کر آگئی ہے۔ فی زمانہ اس کی سب سے بڑی مثال امریکہ ہے۔ کہنے کو امریکہ دنیا کی سب سے مضبوط جمہوریت ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے اکثر فیصلے امریکہ کے عوام نہیں امریکی سی آئی اے، پینٹاگون، امریکہ کے ایوانِ صنعت و تجارت، ملٹی نیشنلز اور امریکہ کے ذرائع ابلاغ کرتے ہیں۔ یہ ادارے ’’خواص الخواص‘‘ کی علامت ہیں۔ یہ الگ بات کہ ان کی آراء کو عوام کی آراء اور ان کے فیصلوں کو کسی نہ کسی حوالے سے عوام کے فیصلے قرار دے دیا جاتا ہے۔ بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہا جاتا ہے، لیکن بھارت کے حکمرانوں کی تاریخ کا نصف حصہ نہرو خاندان کی ’’میراث‘‘ ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کہنے کو عوامی جماعت ہے لیکن اس پر اعلیٰ ذات کے ہندوئوں کا قبضہ ہے۔ باقی ماندہ بھارتی سیاست پر جرائم پیشہ عناصر کا قبضہ ہے۔ اقبال نے جمہوریت پر

تیسرا بنیادی اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے ؎

تُونے کیا دیکھا نہیں یورپ کا جمہوری نظام
چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر

چنگیز خان جارحیت اور خون آشامی کی بڑی علامت ہے۔ لیکن چنگیز خان نے کبھی نہیں کہا کہ وہ انسانی آزادی کا عَلم بردار ہے۔ اس نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ وہ انسانی حقوق کا چیمپئن ہے۔ اس نے کبھی نہیں کہا کہ وہ مساوات اور بھائی چارے کے تصورات پر ایمان رکھتا ہے۔ لیکن مغربی جمہوریت نے آزادی کا نعرہ لگاکر درجنوں اقوام کی آزادی سلب کی۔ اس نے انسانی حقوق کا نعرہ بلند کرکے انسانی حقوق کی پامالی کی تاریخ رقم کی۔ اس نے مساوات کا پرچم اٹھاکر عدم مساوات، اور بھائی چارے کی مالا جپتے ہوئے انسانی تعلقات کو روندا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو چنگیز خان کی پوزیشن جمہوریت اور اس کے عَلم برداروں سے بہتر ہے۔ اس لیے کہ کم از کم چنگیز خان کے قول اور فعل میں ہولناک تضاد تو موجود نہیں۔ اقبال کا جمہوریت پر چوتھا بنیادی اعتراض یہ ہے ؎

دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تُو سمجھتا ہے کہ آزادی کی ہے نیلم پری

مغربی جمہوریت عہدِ حاضر میں انسانی آزادی کی سب سے بڑی علامت ہے، لیکن ایک سطح پر وہ عوام کی پست خواہشات کی خدائی کا اعلان ہے۔ دوسری سطح پر وہ اکثریت کے جبر کا مظہر ہے۔ اور یہ دونوں استبداد کی دو مختلف صورتیں ہیں۔ اسلامی اصطلاحوں میں گفتگو کی جائے تو مغربی جمہوریت ’’نفسِ امارہ‘‘ کی علامت ہے اور اسلامی نظام ’’نفسِ مطمئنہ‘‘ کی علامت۔ جمہوریت نفسِ امارہ سے آغاز کرتی ہے، اسی میں سفر کرتی ہے اور اسی کے دائرے میں اس کا سفر تمام ہوجاتا ہے۔ دوسری جانب اسلامی نظام کے دائرے میں حکمران خود بھی نفسِ مطمئنہ کی علامت ہیں اور وہ مسلم عوام کو بھی نفسِ امارہ کے چنگل سے نجات دلاکر انہیں نفسِ لوامہ اور نفس مطمئنہ، اور پھر نفسِ مطمئنہ کی مزید برتر صورتوں کی طرف لانا چاہتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اسلامی نظام فرد کو ’’بندگی‘‘ کی سطح پر پہنچاتا ہے اور وہ اس کی بندگی کو کامل تر بناکر اسے اس کے خالق و مالک اور تمام انسانوں کے قریب تر کرتا ہے۔
اس کے برعکس جمہوریت فرد کو اس کی پست خواہشات اور ادنیٰ مطالبات کی سطح پر پہنچاتی ہے، اور وہ پست خواہشات اور ادنیٰ مطالبات کی نفسیات کو ایک نظام بنادیتی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اسلامی نظام کا بنیادی تصور لاالہٰ الا اللہ ہے، اور جمہوریت کا بنیادی تصور لاالہٰ الا انسان ہے۔ جمہوریت کی تعریف ’’عوام کا نظام، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے‘‘ کا اصل پیغام یہی ہے۔ عصر جدید میں علماء کی عظیم اکثریت نے جمہوریت کی اس فلسفیانہ بنیاد کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ مسلم معاشرے میں حاکمیت صرف اللہ کی ہوگی اور قرآن و سنت کے خلاف کسی قانون کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اس پوزیشن کا سب سے بڑا مظہر پاکستان اور اس کا ’’اسلامی آئین‘‘ ہے، لیکن گزشتہ چالیس سال کا تلخ تجربہ یہ ہے کہ پاکستان کے حکمران طبقے نے اسلام کو کبھی آئین کی قید سے نکلنے نہیں دیا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان کا آئین اسلام کا سب سے بڑا زنداں ہے، اور یہ صورت جمہوریت کے مجموعی کلچر اور مزاج کے عین مطابق ہے"

(جمہوریت اور انسانی تاریخ ---- شاہنواز فاروقی)

اسلامی نظام اپنی شکست و ریخت کے باوجود کبھی اس درجے پستی میں نہیں پہنچا کہ کھلی جاہلیت کو قبول کر لے جب تک کہ اسے اسلامی رنگ نہ دیا جاۓ....

سید مودودی رح تجدید و احیاء دین میں لکھتے ہیں

جاہلیت کا حملہ

" سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ جاہلیت بے نقاب ہوکر سامنے نہ آئ تھی بلکہ مسلمان بن کر آئ تھی کھلے دہریے یا مشرکین و کفار سامنے ہوتے تو مقابلہ آسان تھا مگر وہاں تو آگے آگے توحید کا اقرار رسالت کا اقرار صوم و صلات پر عمل قرآن و حدیث سے استشہاد تھا اور پیچھے پیچھے جاہلیت اپنا کام کر رہی تھی ایک ہی وجود میں اسلام و جاہلیت کا اجتماع ایسی سخت پیچیدگی پیدہ کر دیتا ہے کہ عہدہ بر آ ہونا ہمیشہ جاہلیت صریحہ کے مقابلے میں مشکل ہوتا ہے "

یہ جاہلیت ہمیشہ اسلام کے لبادے میں ہی حملہ اور ہوتی ہے اور اکثر اسکا نشانہ اسلام کا سیاسی نظام ہوتا ہے یہ مغالطہ جمہوریت کو اسلامائز کرنے والے احباب سے ہوا جب ایک نظریہ کیلئے دلائل قرآن و سنت سے
فراہم کے جائیں تو اسکی حیثیت ایک ٹول کی سی نہیں رہتی بلکہ اسکی حیثیت دین کی ہو جاتی ہے اور یہ ایک ایسی " بدعت " ہے جو اسلام کے متعارض ایک نظام کو اسلام قرار دلوا دیتی ہے .....

مولانا یوسف لدھیانوی شہید رح اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں

بعض غلط نظریات قبولیتِ عامہ کی ایسی سند حاصل کرلیتے ہیں کہ بڑے بڑے عقلاء اس قبولیتِ عامہ کے آگے سر ڈال دیتے ہیں، وہ یا تو ان غلطیوں کا ادراک ہی نہیں کرپاتے یا اگر ان کو غلطی کا احساس ہو بھی جائے تو اس کے خلاف لب کشائی کی جرأت نہیں کرسکتے۔ دُنیا میں جو بڑی بڑی غلطیاں رائج ہیں ان کے بارے میں اہلِ عقل اسی المیے کا شکار ہیں۔ مثلاً “بت پرستی” کو لیجئے! خدائے وحدہ لا شریک کو چھوڑ کر خود تراشیدہ پتھروں اور مورتیوں کے آگے سر بسجود ہونا کس قدر غلط اور باطل ہے، انسانیت کی اس سے بڑھ کر توہین و تذلیل کیا ہوگی کہ انسان کو - جو اَشرف المخلوقات ہے- بے جان مورتیوں کے سامنے سرنگوں کردیا جائے اور اس سے بڑھ کر ظلم کیا ہوگا کہ حق تعالیٰ شانہ کے ساتھ مخلوق کو شریکِ عبادت کیا جائے۔ لیکن مشرک برادری کے عقلاء کو دیکھو کہ وہ خود تراشیدہ پتھروں، درختوں، جانوروں وغیرہ کے آگے سجدہ کرتے ہیں۔ تمام تر عقل و دانش کے باوجود ان کا ضمیر اس کے خلاف احتجاج نہیں کرتا اور نہ وہ اس میں کوئی قباحت محسوس کرتے ہیں۔

اسی غلط قبولیتِ عامہ کا سکہ آج “جمہوریت” میں چل رہا ہے، جمہوریت دورِ جدید کا وہ “صنمِ اکبر” ہے جس کی پرستش اوّل اوّل دانایانِ مغرب نے شروع کی، چونکہ وہ آسمانی ہدایت سے محروم تھے اس لئے ان کی عقلِ نارسا نے دیگر نظام ہائے حکومت کے مقابلے میں جمہوریت کا بت تراش لیا اور پھر اس کو مثالی طرزِ حکومت قرار دے کر اس کا صور اس بلند آہنگی سے پھونکا کہ پوری دُنیا میں اس کا غلغلہ بلند ہوا یہاں تک کہ مسلمانوں نے بھی تقلیدِ مغرب میں جمہوریت کی مالا جپنی شروع کردی۔ کبھی یہ نعرہ بلند کیا گیا کہ “اسلام جمہوریت کا عَلم بردار ہے” اور کبھی “اسلامی جمہوریت” کی اصطلاح وضع کی گئی، حالانکہ مغرب “جمہوریت” کے جس بت کا پجاری ہے اس کا نہ صرف یہ کہ اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ اسلام کے سیاسی نظریہ کی ضد ہے.

جمہوریت” اس دور کا صنمِ اکبر "

جب بھی کبھی نظریات میں خرابی پیدہ ہوئی ہے اسکا اثر دور رس ہوتا ہے اور اگر صاحب نظریہ اپنے پیچھے پیرووں کی ایک بڑی تعداد رکھتا ہو تو یہ اثر دو چند بلکہ دگنی رفتار سے ضرب ہوتا چلا جاتا ہے جو امت کو تقسیم کرنے کا سبب بنتا ہے

مولانا مناظر احسن گیلانی مرحوم اپنی کتاب " مسلمانوں کی فرقہ بندیوں کا افسانہ "
میں پہلی وجہ سیاسیات میں غلو بیان کرتے ہیں

گو اس بات سے اختلاف نہیں کہ سیاسیات مدن اسلام کے چند بنیادی امور میں سے ایک ہے لیکن اس بات کا انکار کرنا بھی مشکل ہے کہ ان سیاسی اختلافت کی وجہ سے ہی مسلمانوں میں فرقہ بندی کی ابتداء ہوئی

امت مسلمہ میں ابھر کر آنے والے پہلے تین گروہ

١ اہل سنت
٢ روافض
٣ خوارج

ان سیاسی اختلافت کی وجہ سے ہی وجود پزیر ہوے اور پھر اسکی بنیاد پر انہوں نے اپنے اپنے نظریہ پر دین کی ایک نئی شکل دریافت کی اور اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ یہ فرق اپنے اندر بھی تقسیم در تقسیم کا شکار ہوتے ہیں اور آج انکی کئی برانچز اور سب برانچز موجود ہیں..

ان فکری مغالطوں سے دین کا جو شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے وہ " تاریخ اسلامی " ہے

قرآن محفوظ ہے اور اسکے ساتھ متصل سنت بھی محفوظ ہے گو اس پر فتن دور میں ان بنیادوں پر بھی ظالموں نے ہاتھ ڈال دیا ہے ...

تاریخ اسلامی ایک ایسا شجر سایہ دار ہے جسکی چھاؤں میں بیٹھ کر ہم اپنے ماضی کا جائزہ اپنے حال کی فکر اور اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں "

تاریخ اسلامی سے اعتماد کا اٹھ جانا ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ سے اعتماد اٹھ جاۓ دوسری طرف چونکہ اسلامی تاریخ دوسری تمام اقوام کی تواریخ سے زیادہ منضبط اور مستند ہونے کے باوجود اسلامی علوم میں ابتدائی اہمیت کی حامل نہیں .........

تاریخی روایات سے استفادے کیلئے جو نظام تشکیل دیا گیا ہے اسے " جرح و تعدیل " کے نام سے پہچانا جاتا ہے جسکی بنیاد اس نص قرآنی پر ہے

ارشاد باری تعالی ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْماً بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ.
اے اہل ایمان! اگر آپ لوگوں کے پاس کوئی فاسق خبر لے آئے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کسی گروہ کو جہالت میں نقصان پہنچا بیٹھیں اور پھر اپنے فعل پر نادم ہوں۔ (الحجرات 49:6)

اس جرح و تعدیل کے ماہر حضرات مورخین و محدثین ہیں اسکی نص بھی قرآن سے بیان ہوتی ہے

وَإِذا جاءَهُم أَمرٌ مِنَ الأَمنِ أَوِ الخَوفِ أَذاعوا بِهِ ۖ وَلَو رَدّوهُ إِلَى الرَّسولِ وَإِلىٰ أُولِى الأَمرِ مِنهُم لَعَلِمَهُ الَّذينَ يَستَنبِطونَهُ مِنهُم ۗ وَلَولا فَضلُ اللَّهِ عَلَيكُم وَرَحمَتُهُ لَاتَّبَعتُمُ الشَّيطٰنَ إِلّا قَليلًا. {4:83} ؛
ترجمہ : اور جب ان کے پاس پہنچتی ہے کوئی خبر امن یا خوف کی تو اس کو مشہور کرديتے ہیں اور اگر اس کو پہنچا ديتے رسولؐ تک اور اپنے اولو الامر (علماء و حکام) تک تو جان لیتے اس (کی حقیقت) کو جو ان میں قوتِ استنباط (حقیقت نکالنے کی اہلیت) رکھتے ہیں اس کی اور اگر نہ ہوتا فضل ﷲ کا تم پر اور اس کی مہربانی تو البتہ تم پيچھے ہو ليتے شیطان کے سواۓ چند (اشخاص) کے۔(النساء/83)؛

استنباط عربی کا لفظ ہے اس کے معنی ہیں کہ اللہ تعالٰی نے جو پانی زمین کی تہ میں پیدا کرکے عوام کی نظروں سے چھپا رکھا ہے اس پانی کو کنواں وغیرہ بنا کر نکال لینا ہے۔

مورخین اسلام ابن جریر طبری رح . تاریخ طبری
ابن کثیر رح . البدیہ و النھایہ
ابن خلدون رح . مقدمہ و تاریخ ابن خلدون
سیوطی رح . تاریخ الخلفاء
ابن سعد رح . طبقات ابن سعد
علامہ واقدی رح . تاریخ و فتوح الشام

میں جہاں اسلامی تاریخ کو مجتمع کیا ہے وہیں تاریخ کے متنازعہ واقعات پر جرح کی ہے اور انکی تاویلات کی ہیں اسی طرح علما امت نے مستقل تاریخ اسلامی سے متعلق ایسی کتب بھی لکھی ہیں جن میں تاریخی روایت کے نتیجے میں پیدہ ہونے والے اشکالات کا حل موجود ہے

ابن تیمیہ رح . منہاج السنہ
ابن العربی رح . العواصم من القواصم
حضرت شاہ ولی الله دھلوی رح . ازالة الخفاء عن خلافت الخلفاء

تاریخ کو مجرد اخبار و آحاد کی بنیاد پر فہم سلف سے ہٹ کر سمجھنا ایسے علمی مغالطوں میں مبتلاء ہے کرتا ہے کہ فکر و نظر کا رخ ہی تبدیل ہو کر رہ جاتا ہے

جب ہماری میزان ہی ٹیڑھی ہوگی اور ہمارے ماپنے کے آلات ہی غلط ہونگے تو مطالعہ تاریخ کا مقصود ہی فوت ہو جاۓ گا ....
تاریخ جسکا مقصود ہمیں ہمارے اسلاف کے کارناموں سے آگاہی دلانا ہے
تاریخ جسکا مقصود ہمارا تعلق اپنی علمی سیاسی فکری اخلاقی اقدار سے جوڑنا ہے
تاریخ جسکا مقصود اپنی اصلاح اور اپنے مستقبل کی بنیادیں اپنی جڑوں پر استوار کرنا ہے اگر یہ تاریخ سلف کی فکر و نظر سے ہٹ کر دیکھی جاۓ تو نری جاہلیت دکھائی دیگی ...

آپ اپنے باطل پیمانوں کو لیکر پہنچ جائیے اور اسلامی تاریخ کو ماپنا شروع کیجئے نتیجہ ہمیشہ منفی ہی آۓ گا کیونکہ آپکے پیمانوں میں شدید کھوٹ ہے وہ باٹ جو آپ نے ترازو کے دوسرے پلڑے میں رکھے ہیں گھسے ہوے ہیں ......

یہ باطل پیمانے ہمیں اپنی تاریخ کے معروف کرداروں کو باطل دکھاتے ہیں جو ظلم کے خلاف کھڑا ہو وہی ظالم دکھائی دیتا

یہ وہ عینک ہے جسے پہن کر محمود غزنوی ڈاکو دکھائی دیتا ہے شہاب الدین غوری غاصب نظر آتا ہے عالمگیر جیسا درویش صفت حاکم منافق دکھائی دیتا ابدالی شر پسند ہوجاتا ہے ایوبی و زنگی ملوک بیبرس مطلق العنان حاکم غرض یہ سلسلہ یہیں رکتا دکھائی نہیں دیتا بلکہ دامن صحابہ رض تک کو تار تار کرنے کی کوشش کرتا ہے اب جو بھی راستے کی دیوار بننے کی کوشش کرے وہ اسلاف پرست وکیل صفائی ناقابل قبول و غیر مقبول ہوگا ..

یہ فکری مغالطے دو دھاری تلوار ہیں ایک طرف تو یہ اسلامی تاریخ کا وہ چہرہ پیش کرتے ہیں کہ سر شرم سے جھک جاۓ تو دوسری طرف اپنے ہی اسلاف پر بد اعتمادی کی فضاء قائم کر دیتے ہیں اور دعوا ہوتا ہے بے لاگ تحقیق .....

پہلے تو مجددین اسلام پر سے اعتماد اٹھایا جاتا ہے اسلام کا سب سے بڑا امر حکومت اسلامی کے قیام کو قرار دیا جاتا ہے اور پھر یہ سوال ہوتا ہے یہ فقہاء ، محدثین ، مورخین ، مجددین کیا کرتے رہے یہاں تک کہ شیخ السلام ابن تیمیہ رح جیسے مجدد کے تمام تجدیدی و احیائی کام پر بھی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے کہ وہ بھی ایسی کوئی تحریک بپا کرنے میں ناکام رہے کہ اقتدار جاہلیت کے ہاتھوں سے نکل کر اسلام کے ہاتھوں میں آ جاتا .....

تو دوسری طرف ......

یہ فکر ہمیں بتاتی ہے کہ اسلامی کی عظیم الشان سیاسی قوت صرف تیس سال میں پارہ پارہ ہو گئی اسکے بعد جو اسلام نے دنیا پر حکومت کی وہ نری جاہلیت تھی یعنی اسلامی غالب ہوکر بھی مغلوب تھا حاکم ہوکر بھی محکوم تھا احسن ہوکر بھی اسفل تھا اعلیٰ ہوکر بھی ادنی تھا ......

یہ فکر کتنی تباہ کن ہے اسکا اندازہ اس بات سے کیجئے کہ ایک طرف تو اسکی کدال اسلامی سیاست کی عظیم الشان عمارت کی جڑیں کھودتی دکھائی دیتی ہے تو دوسری طرف اسلاف کی شخصیات پر مکمل بد اعتمادی پیدہ کر دیتی ہے یہ ایک ایسی روشن خیالی ہے جو اپنی حقیقت میں اندھیرا نہیں اندھیر ہے .....

اس فکر کے اثرات ان نفوس قدسی پر پڑتے ہیں جنہوں نے مکتب نبوت سے براہ راست فیض حاصل کیا تھا

سید ابو الحسن علی ندوی رح ایک جگہ لکھتے ہیں !

لوگ یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ جب اسلامی دعوت اپنے سب سے بڑے داعی کے ہاتھوں اپنے دور عروج میں کوئی دیر پا اور گہرے نقوش مرتسم نہ کر سکی اور جب اس دعوت پر ایمان لانے والے اپنے نبی علیہ سلام کی آنکھ بند ہوتے ہی اسلام کے وفادار اور امین نہ رہ سکے اور رسول الله صل الله علیہ وسلم نے انھیں جس صراط مستقیم پر چھوڑا تھا ان میں سے معدودے چند آدمی ہی اسپر گامزن رہے تو ہم یہ کیسے تسلیم کر سکتے ہیں کہ ان کے اندر نفوس کے تزکیہ کی صلاحیت ہے وہ انسان کو حیوانیت کی پستی سے نکال کر انسانیت کی بلند چوٹی تک پہنچا سکتی ہے اور ہم کس امید پر اس وقت دنیا کی قوموں اور غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دے سکتے ہیں "

ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے کیا اسلام کا نظام عالی شان صرف تیس سال چل سکا اس روایت کے راویوں کی چھان پھٹک سلف کی آراء پر بحث تو ایک طرف ذرا عقل ہی استعمال کیجئے اپنی فطرت سلیم کو آواز دیجئے آج دنیا میں اسلام کے غلبے کی بات کرنے والے جب اپنی بنیادوں میں یہ عقیدہ لیے بیٹھے ہونگے کہ امت کی سیاسی عمارت اسلام کے ابتدائی تین ادوار میں ہی ڈھے گئی وہ تین ادوار جنکی تعریف خود زبان نبوی سے ہوئی ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ‘‘([23]) (بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں پھر جو ان کے بعد آئيں پھر جو ان کے بعد آئيں)۔

یہی وہ لوگ تھے بے شک یہی وہ لوگ تھے جنکے ہاتھوں فریضہ اقامت دین تکمیل کو پہنچا

امام قاضی احمد القلشانیؒ المتوفی سن 863ھ" فرماتے ہیں :

"والسلف الصالح وهو الصدر الأول الراسخون في العلم المهتدون بهدي النبي ﷺ الحافظون لسنته , اختارهم الله لصحبة نبيه وانتخبهم لإقامة دينه....."

سلف صالحین سے مراد وہ پہلی نسل ہے کہ جو راسخون فی العلم تھے، ہدایت نبوی کے ساتھ ہدایت یافتہ تھے۔ جو سنت کے محافظ تھے۔ انہیں اللہ تعالی نے اپنے دین کو قائم کرنے کے لیے چن لیا تھا اور ان سے راضی ہوا تھا کہ وہ اس امت میں دین کے امام بنیں۔ انہوں نے امت کی نصیحت چاہنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی اور انہوں نے رب کی رضا کے لیے اپنے آپ کو قربان کردیا۔

اور یہاں یہ سوال کہ ان اقامت دین کے معماروں نے ہی وہ عمارت ڈھا دی جسکی بنیادوں میں انکا خوں شامل ہے

افسوس صد افسوس

خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

لیکن ہمیں کتاب الله کی گواہی کافی ہے

وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَ‌سُولَ اللَّـهِ ۚ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ‌ مِّنَ الْأَمْرِ‌ لَعَنِتُّمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّ‌هَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ‌ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الرَّ‌اشِدُونَ ﴿٧﴾

اور جان رکھو کہ تم میں اللہ کے رسول موجود ہیں، اگر وه تمہارا کہا کرتے رہے بہت امور میں، تو تم مشکل میں پڑجاؤ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایمان کو تمہارے لئے محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں زینت دے رکھی ہے اور کفر کو اور گناه کو اور نافرمانی کو تمہارے نگاہوں میں ناپسندیده بنا دیا ہے، یہی لوگ راه یافتہ ہیں .

لیجئے جائیں تو جائیں کہاں اور کہیں تو کہیں کیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی تاریخ سے اپنی مرضی کا گند چننے کے بجاۓ سلف کے مستقیم راستہ پر چلا جاۓ کیونکہ یہی راستہ ہمیں منزل مقصود کی طرف لے جا سکتا ہے .....

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں