ہفتہ، 1 فروری، 2014

" صنم خانہ یورپ "

" صنم خانہ یورپ " 

(Idols) برطانوی ٹی وی نے ٢٠٠١ میں (Pop Idol) کے نام سے موسیقی کی ایک سیریز شروع کی جو بعد ازاں آئ ڈول فرنچائز کے بینر تلے پوری دنیا میں معروف ہوا اس پروگرام کا سب سے آخری شکار پاکستان بنا ..
" پاکستانی بت " شاید اس سیریز  کا سب سے بھونڈا ورژن ہے جسنے ناکامی کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے اس پروگرام کے ججز میں ایک پرانی ادکارہ جو میکپ کی تہوں میں اپنا بڑھاپا چھپانے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں پاکستانی پاپ موسیقی کا ایک چلا ہوا کارتوس جو گلوکار سے زیادہ کامیڈین دکھائی دیتا ہے اور ایک ایسی گلوکارہ جسکا کوئی ذاتی گانا آج تک معروف نہ ہو سکا اس پروگرام کو پاکستان کا ایک معروف میڈیائی مگرمچھ پروموٹ کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے ..

جدید استعماری میڈیا ثقافتی بت تیار کرنے میں ماہر ہے گو ہمارے پڑوس میں موجود بت پرست قوم نے مختلف اداکاروں کھلاڑیوں اور گلوکاروں کے مندر تک بنا رکھے ہیں جنکی باقائدہ پوجا تک ہوتی ہے 
جنوبی ہند میں رجنی کانت مندر ہے جہاں انکے پرستار انکی پوجا کرتے ہیں پاکستان کے ایک گلوکار کے گلے میں بھی پڑوسیوں نے بھگوان ڈھونڈا تھا لیکن ہماری قوم ابھی اتنی " بت پرست " بھی نہیں ہوئی .

یہ بیماری صرف مشرق میں ہی نہیں بلکہ مغرب میں بھی موجود ہے مائیکل جیکسن ، مڈونا اور لیڈی گا گا کے باقائدہ پرستار موجود ہیں 
ایسے ہی ایک گروپ کے خیالات کچھ یوں ہیں (We believe that Michael Jackson is an Angel trapped inside a human flesh. A Precious Treasure that God (or any high power you choose to believe in) gave us.) 
(The International Group of The Anointed Michael Followers )

معروف گلوکارہ مڈونا خود کو شیطان کی پجارن سمجھتی ہیں اور انکی سٹیج پرفارمنسس میں شیطان کی پوجا بھی ہوتی ہے کہا جاتا ہے کہ انکا تعلق خفیہ گروپ الو منا ٹی سے ہے حوالہ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے 
(http://occultpopagenda.blogspot.com/2012/02/superb-owl-worship-high-priestess.html)

ایسے ہی کچھ مظاہرے ہم نے اس شو کے دوران بھی دیکھے ہیں جب انسانی بت کی توصیف کیلئے ججز کھڑے ہوکر اپنے دونوں ہاتھوں کو ملا کر گھٹنوں کے بل جھکتے اور اس تازہ خدا کو پرنام کرتے دکھائی دیتے ہیں .

ان تمام باتوں سے قطع نظر کیا کسی بھی قوم کی سب سے زیادہ آئڈیل شخصیت یا (idol) کوئی گلوکار ہی ہو سکتا ہے کیا ٹیلنٹ صرف یہ ہی ہے کوئی ڈاکٹر ، انجینیر ، سائنسدان ، سوشل ورکر یا کوئی مذہبی اسکالر ہمارا آئڈیل کیوں نہیں ہو سکتا ہمارا پیسہ ہمارا  پروپگنڈہ اس مصرف میں کیوں استعمال نہیں ہوتا کیا ایک اسلامی معاشرے کا مزاج یہ ہی ہونا چاہئیے 
اور کیا ہم صرف نقالی ہی کر سکتے ہیں ہماری کوئی سوچ نہیں ہم میں کوئی تخلیقی صلاحیت موجود نہیں اور کیا صرف مغرب کے رنگ میں رنگ جانا ہی ترقی کی علامت ہے 

جدید میڈیا کے نا خدا ہمیں ایسے راستے پر ڈال رہے ہیں جس سے واپسی شاید ہمارے لیے ممکن نہ ہو سکے 

میں تجھ کو بتاتا ہوں ، تقدیر امم کیا ہے 
شمشیر و سناں اول ، طاؤس و رباب آخر 
میخانہ یورپ کے دستور نرالے ہیں 
لاتے ہیں سرور اول ، دیتے ہیں شراب آخر 
کیا دبدبہ نادر ، کیا شوکت تیموری 
ہو جاتے ہیں سب دفتر غرق مے ناب آخر 
خلوت کی گھڑی گزری ، جلوت کی گھڑی آئی 
چھٹنے کو ہے بجلی سے آغوش سحاب آخر 
تھا ضبط بہت مشکل اس سیل معانی کا 
کہہ ڈالے قلندر نے اسرار کتاب آخر

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں