ہفتہ، 22 فروری، 2014

مولوی ...........

مولوی ...........

کہاں سے آتا ہے یہ مولوی کیا یہ آسمان سے اترتا ہے یا زمین سے اگتا ہے ہمارے سامنے کا دیکھا بھالا پروان چڑھا بچہ اچانک مولوی بن جاتا ہے اسے تقدس کی چادر میں لپیٹ کر منبر پر بٹھا دیا جاتا ہے یا پھر .

ذلت برے نام لعنت ملامت مولوی کا مقدر ہوتی ہے
کسی کے نزدیک مولوی شیطان تو کسی کے نزدیک فرشتوں سے بھی اونچا انسان
یہ مولوی کیا ہے
کوئی لقب، نام ، پھبتی ، گالی ، دشنام ، اعزاز ، علامت ، سند یا اور کچھ
مولوی فتویٰ دیتا ہے مولوی حلوہ کھاتا ہے
مولوی دین بتاتا ہے مولوی چندہ لیتا ہے
مولوی یہ مولوی وہ
دشمنوں کی دشمنی اور اپنوں کی سنگدلی کا شکار
مولوی اس ذلیل معاشرے کی ایک ایسی پراڈکٹ ہے جو اپنی ذلت کا طوق مولوی کے گلے میں ڈال کر بری الزمہ ہونا چاہتا ہے .......
مدرسوں میں ٹاٹ پر بیٹھ کر دین پڑھنے پڑھانے والا مولوی
چندے کے چند ٹکڑوں پر بمشکل گزر اوقات کرنے والا مولوی
دو کمروں کے گھر میں اپنے خاندان کے ساتھ کم تنخواہ میں زندگی گزارنے والا مولوی

یا مسند و منبر پر بیٹھنے والا مولوی
بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومنے والا مولوی
مرغ مسلم کھانے والا مولوی

فرشتہ یا عفریت
اسے ہم ہی نے تخلیق کیا ہے
ہم برے تو ہمارا مولوی برا
ہم اچھے تو ہمارا مولوی اچھا
ہم جھوٹے تو ہمارے مولوی جھوٹا
ہم سچے تو ہمارا مولوی سچا

مولوی کون
غریب کا وہ بچہ جو اچھی تعلیم حاصل نہ کر سکے
یا امیر کا وہ بچہ جو تعلیم حاصل کرنے کے لائق نہ ہو

مساجد و مدارس میں قال الله و قال الرسول کرنے والی یہ مخلوق
اپنوں کی بے توجہی
اور غیروں کی نشتر زنی کا شکار

یہ مرا مٹا ٹوٹا پھوٹا دین ان بوریہ نشینوں کے دم سے ہی زندہ ہے
ہاں ایسا وقت اآنے والا ہے
ہاں ہاں ایسا وقت آ چکا ہے
جب یہ زمین ان مولویوں کے خون سے سرخ ہے
اور اپنے اور غیر
کوئی انکا پوچھنے ولا نہیں
کوئی انکی آڑ بننے کو تیار نہیں
کوئی انکا بازو نہیں کوئی سہارا نہیں

مولوی کو تقدس کے منبر پر مت بٹھاؤ
مولوی کے گلے میں ذلت کا طوق مت پہناؤ
مولوی تمہارا اپنا ہے غیر نہیں
اسے تمہاری ضرورت ہے

اے متذبذب قوم
مولوی کو اپنا لو یا چھوڑ دو
دین کو اپنا لو یا چھوڑ دو

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں