ہفتہ، 22 فروری، 2014

ہزل ! سبزی کی ڈھیریوں میں چقندر تلاش کر

ہزل !


سبزی کی ڈھیریوں میں چقندر تلاش کر 
چڑھ جا کس درخت پے بندر تلاش کر

گھرمیں نہیں ہےروشنی اتنی نہیں ہےعقل 
اندر جو کھو گیا ہے وہ باہر تلاش کر

خالی ہے اسکی اوپری منزل ابھی تلک 
اسکے دماغ میں تو اتر کر تلاش کر


اپنے تخیلات کی دنیا بنا نئی
لانڈھی کے آس پاس تو بھکر تلاش کر

الجھا دیا گیا ہے تو دنیا کے پھیر میں
اس پھیر کا تو آخری چکر تلاش کر

ہلچل مچی فضاءمیں ہےتھپڑ کےشورسے
اسکے نشان تو کسی منہ پر تلاش کر

دکھتی نہیں ہے شان قلندر کہیں حسیب
پھر گردش حیات کی ٹھوکر تلاش کر 

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں