منگل، 7 جنوری، 2014

سخن گسترانہ بات !

سخن گسترانہ بات !

کیا خوب کہ گۓ چچا غالب 
مقطع میں آ پڑی ہے، سخن گسترانہ بات
مقصود اس سے قطعِ محبت نہیں مجھے

اجی ہمیں بھی کہاں ترک محبت مقصود ہے ہم بھی  آپ كے خرمن دانش سے خوشہ چینی کرتے ہیں اور ہمیں بھی آپ اپنے حاشیہ برداروں کی صف اول میں پائینگے لیکن کیا کیجئے 

صادق ہوں اپنے قول میں، غالبؔ! خدا گواہ
کہتا ہوں سچ کہ، جھوٹ کی عادت نہیں مجھے​

امید تو ہے کہ ہماری سخن گستری کو بھی برداشت کیا جاوے گو ہماری کیا وقعت لیکن کسی کے اعجاز نے ہم جیسے عجمیوں کو بھی عرب کر دیا امید تو یہ بھی ہے کہ ہمیں غلط نہ سمجھا جاوے گا حقیقت تو یہ ہے کہ 


استادِ شہ سے، ہو مجھے پر خاش کا خیال
یہ تاب، یہ مجال، یہ طاقت، نہیں مجھے


آج سے سات یا آٹھ سال پہلے ایک محفل میں استاد محترم سے ملاقات ہوئی سفید داڑھی سفید بال کسی نے کہا یہ اعجاز رحمانی ہیں ہم نے چونک کر محترم طاہر عبّاس اور سید فیاض علی صاحب کو دیکھا اور بول پڑے اجی ہم تو انھیں جوان سمجھتے تھے " لہو کا آبشار " (کشمیر پر استاد کی نظموں کی کتاب ) پر تو تصویر میں جوان رعنا موجود ہیں استاد مسکراۓ کسی نے کہاں حضرت یہ نوجوان بھی شاعری کا شوقین ہے استاد نے کہا کچھ سنائیں غزل سنائی استاد نے سنی اور یہاں سے ہم  حلقہ اعجاز رحمانی میں شامل ہو گۓ تو ہمیں بھی استاد کے بے قاعدہ شاگردوں میں شامل ہونے کا شرف ہے اور بے قاعدوں میں عصبیت ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے سو ہم میں بھی ہے ورنہ 
کیا کم ہے یہ شرف کہ، ظفرؔ کا غلام ہوں؟
مانا کہ، جاہ و منصب و ثروت نہیں مجھے


ہم نے ہمیشہ سینیرز کا احترام سیکھا ہے ہم تو اس مسلک و عقیدے کے ہیں کے 

ہے بزرگوں کا شرف میرا وظیفہ مرا ورد
با ادب ہوں کہ مودب کا ہوں ادنیٰ شاگرد،  ( 1938ء، مرثیۂ شہید لکھنوی، )

محترمی و مکرمی حضرت خالد عرفان صاحب اس دور کے صف اول کے مزاحیہ شاعر ہیں خوب کہتے ہیں اور ہمیشہ خوب خوب داد پاتے ہیں ہم بھی آپ کے عشاق میں سے ہیں آپ کو دیکھ کر پڑھا اور پڑھتے ہوے دیکھا ہے فیس بک کی اس دنیا میں بھی آپ کے پیروکار ہیں اور آئندہ بھی رہینگے حضرت کی ایک ہزل نگاہ سے گزری وہی روانی وہی تمکنت اشعار کی فراوانی اور الفاظ کے موتیوں میں جڑے ہوے طنز کے نشتر واہ واہ واللہ کیا کہنے سبحان الله .....

لیکن عجیب ناگوار حیرت کا سامنا جب ہوا جب مقطع سے پہلے ہی سخن گسترانہ بات آن موجود ہوئی شاید موصوف جذب کے عالم میں تھے لیکن ہم اتنے بھی وجد میں نہ تھے کہ گریبان چاک  ہونے کا احساس ہی نہ ہوتا ملاحظہ کیجئے 

جو معیاری غزل تخلیق کرنا     چاہتے ہو 
کراچی میں رہو اعجاز رحمانی سے بچنا  

تمہیں اے خالد عرفان !  میرا مشوره ہے
غزل کہنا مگر ہر جا غزل خوانی سے بچنا 

استاد قمر جلالوی کے زندہ و جاوید شاگرد کی غزل کا کیا کہنا ایک بار ناچیز کی زبان سے نکل گیا اجی جو استاد محترم اعجاز رحمانی  کا جھوٹا بھی پی لے وہ بھی شاعر بن جاتا ہے استاد کو کچھ بھی کہ  لیجئے کیا فرق پڑتا ہے کہ خود استاد نے کہا ہے 

سنگ تعصب سنگ ملامت سنگ حقارت سنگ حسد  
کیسے کیسے   پتھر میرے شیش محل تک آۓ  ہیں 

لیکن جناب کیا کیجئے 

روئے سخن کسی کی طرف ہو، تو رو سیاہ
سودا نہیں، جنوں نہیں، وحشت نہیں مجھے

ویسے حضرت کو معلوم ہوگا چاہے امریکہ ہو یا پاکستان چاند کی بلندی اتنی ہی رہتی ہے حضرت کی استاد سے متعلق ہزلیات کو پڑھ جواب آں ہزل ہو گئی گو ہم ہزلیات میں اتنے ماہر نہیں ہیں ابھی طفل مکتب ہی تو ہیں 

جواب آں ہزل !

غزل کے شہر کے سلطاں کی سلطانی سے بچنا !؟
کہاں    ممکن    ترا     اعجاز   رحمانی سے بچنا 

سخن     فہمو   تمہیں   یہ مشوره ہم دے رہے ہیں 
خدا    کے   واسطے   خالد  کی عرفانی سے بچنا

ہمیشہ   یاد       رکھ     کے    قصہ   ابلیس و آدم
سنبھلنا   ٹھہرنا     رک جانا   شیطانی   سے بچنا

یہ    بہتر    ہے   کہ    قصہ   مختصر ہو    گفتگو ہو 
چپڑ چوں چٹ چپٹ جھکجھک سے طولانی سے بچنا

رہے     ملحوظ     خاطر     سینیر کا   مرتبہ     بھی
وگرنہ     جونیر    کی     تم    سخن   دانی  سے بچنا 

پھسل کر گر پڑے انڈوں پے نازک تھے  بہت وہ 
میرے   "پیروں" کا   مشکل  ہو گیا پانی سے بچنا 

کسے سمجھاؤں کس کے پیر پکڑوں ہاتھ جوڑوں 
بڑا    مشکل    ہے    نادانوں  کا  نادانی  سے بچنا 

سخن گستر سخن پرور حسیب روسیاہ اختر
پڑے گا اب تمہیں جذبوں کی طغیانی سے بچنا 

لیکن ہمارا مقصود تنقیص نہیں کہ ہم تو حضرت کی تقدیس کے قائل ہیں اور ہمارا دین تو صلح کل ہے 


آزادہ رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلحِ کل
ہر گز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے

حسیب احمد حسیب 
ایک تبصرہ شائع کریں