بدھ، 29 جنوری، 2014

مقدمہ دہریت !

مقدمہ دہریت !

دہریت مغالطوں کا نام ہے اور ایسے مغالطوں کی بنیادی وجہ کم فہمی کم عقلی اور معلومات کا صحیح اور مکمل نہ ہونا ہے 
دہریت کہتی ہے 
" مذہبی لوگوں کا خدا یا خالق یہ کلیم کرتا ہے کہ وہ بہت منصف اور رحمدل ہے اور اپنی مخلوق سے بہت محبت کرتا ہے - اس پوسٹ میں اصل میں تخلیق کار کے اس دعوے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی گی ہے کہ ایسا نہیں ہے - یہ کائناتی نظام ظلم ، بربریت اور ناانصافی کی وجہ سے قائم ہے اگر ظلم اور ناانصافی نہ ہو تو یہ نظام قائم نہیں رہ سکتا - مذہبی کا نقطۂ نظر یہ ماننا ہے کہ تخلیق کار انصاف پسند اور رحم کرنے والا ہے اور ملحد اس نظام کو ایک بےرحم اور سنگدلانہ نظام سمجھتا ہے مثال کے طور پر ایک انسان کو خدا نبی سلیکٹ کر لیتا ہے اور ایک کو طوائف کے گھر میں دلال بنا دیتا ہے وغیرہ وغیرہ - اس بغیر کسی مشقت کے بناے ہوے نبی کو حوض کوثر کا ساقی بنا دیتا ہے یا ایک انسان کو جنت کے نوجوانوں کا سردار بنا دیتا ہے - جس طرح کی قربانی حسین نے دی تھی اس سے زیادہ قربانی تو اور مسلم لوگوں نے فلسطین ، کشمیر یا بوسنیا وغیرہ میں دی ہوگی - حسین کی اہل بیت عورتوں کی تو عزت محفوظ رہی مگر اور لوگوں کی عورتوں کی تو عزت بھی محفوظ نہ رہی - پھر حسین کو سردار ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

آپ کا بنیادی مقدمہ جو کسی اور مقدمے کا ابتدایۂ ہے یعنی اسکی حیثت کسی بنیادی گفتگو کی تمہید سے زیادہ کچھ نہیں ہے اب اسکو اور اختصار سے پیش کرتے ہیں ....
" اہل مذہب کا خدا اپنے دعویٰ کے مطابق منصف و عادل نہیں ہے "

ایک الحادی دعویٰ.....

اب اگر یہ دعویٰ ثابت ہوجاوے تو پھر اس مقدمے کی بنیاد رکھنا آسان ہوگی کہ اصل میں سرے سے کوئی خدا موجود ہی نہیں ہے .....

اب یہاں ایک پیراڈوکس پیدا ہوگا
یعنی اگر یہ تسلیم کر لیا جاوے کہ کوئی خدا نہیں ہے تو پھر اس غیر مبدل حقیقت جو ہمارے مابین تسلیم شدہ ہے کہ یہ کائنات تضادات کا مجموعہ ہے اسکی کیا توجیہ ممکن ہوگی......؟
یعنی کائنات میں تضادات ہونا ایک مستقل حقیقت ہے مذہب کہتا ہے یہ خالق کی منشاء ہے لیکن الحاد اسکی کوئی بھی توجیہ کرنے سے قاصر ہے یعنی بلکل لاجواب ...

ایک اور لطیفہ اسوقت پیدہ ہوگا کہ اگر آپ یہ تسلیم کرلیں کہ خدا ہے تو مگر منصف نہیں ہے ....

لیجئے اب جب آپ نے یہ تسلیم کرلیا کہ خدا ہے تو منصف یا غیر منصف کی بحث ہی ختم ....
اب انصاف کی وضاحت ہو کیونکہ خالق و مخلوق کا ہونا بھی انصاف نہیں یعنی ایک رب اور دوسرا بندہ اور اگر رب دوسرا رب تخلیق کر کرلے تو پھر وہ رب ہی کہاں رہا وہاں تو شراکت ہو گئی ......

یہاں اگر بنیادی تصور انصاف کی وضاحت ہو جاۓ تو حقیقت کھل کر سامنے آ جاۓ گی ..

اب " انصاف " کس چیز کو کہا جاۓ گا یعنی وہ بنیادی مصدر جو انصاف کو بیان کر سکے اور جس پر ہم اور آپ ایک پیج پر آ سکیں .
١ مذہب
٢ فلسفہ
٣ مشاہدہ
٤ تجربہ (سائنس )
٥ عقل محض

انصاف تو ایک طرف رہا انسان کے لیے مصیبت یہ ہے کہ وہ کسی بھی ایک لفظ کی تعریف کرنے سے قاصر ہے - ہم کسی بھی واقعہ کو علحیدہ سے اس کے تناظر میں دیکھ سکتے ہیں کہ یہ انصاف ہے کہ نہیں مگر اور دوسرے لفظوں کی طرح انصاف کی بھی ایک جامع تعریف کرنے سے قاصر ہیں اور یہی حقیقت ہے - مثال کے طور پر اگر ایک آدمی ڈکیتی کرتے ہوے کسی آدمی کو قتل کر دیتا ہے تو ہم کہ دیتے ہیں کہ یہ بے انصافی ہے لیکن ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ قتل کرنا بے انصافی ہے کیونکہ جب ایک قاتل کو قانون کے رکھوالے قتل کرتا ہیں تو وہ انصاف ہوتا ہے - میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایک جیسا فعل انصاف بھی ہو سکتا ہے اور بے انصافی بھی - اس لیے ہم ہر ایک واقعہ کو اس کے اپنے تناظر میں دیکھ کر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ واقعہ انصاف ہے یا نہیں - اس سلسلے میں آپ سے گزارش کروں گا کہ ہو سکے تو آئین سٹائن کی theory of relativity کو پڑھ لیں

جب انصاف و نہ انصافی کی کسی بھی مصدر سے جامع تعریف ممکن ہی نہیں تو پھر کسی کے منصف و غیر منصف ہونے کا مقدمہ ہی کیسے قائم کیا جا سکتا ہے .......

ہر شے کو اس کائنات میں یکساں مواقع فراہم کر دینا انصاف نہیں ہو سکتا بلکہ انصاف تو یہ ہوگا کہ لوگوں سے انکے دئیے گۓ اختیارات کے مطابق سوال ہو ....

خدا نے کہیں بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں نے کائنات میں سب کو یکساں مواقع فراہم کئے ہیں بلکہ ہر کسی سے اسکو فراہم کردہ مواقع کے مطابق سوال ہوگا اس بات کا اعلان کیا ہے .

ایک عجیب واقعہ ملاحظہ کیجئے
أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم
عَبَسَ وَتَوَلَّى ::: ماتھے پر بل ڈالے اور منہ ُ پھیرا (1)
أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمَى :::کہ ان کے پاس اندھا آگیا (2)
وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى :::اور تُم کیا جانو کہ شاید وہ پاکیزگی حاصل کر لے (3)
أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرَى :::یا وہ نصیحت پر توجہ کرے اور نصیحت اُسے فائدہ دے (4)
أَمَّا مَنِ اسْتَغْنَى ::: اور وہ جو لا پرواہی کرتا ہے (5)
فَأَنْتَ لَهُ تَصَدَّى ::: تو تُم اُس کے لیے پوری طرح سےمتوجہ ہوتے ہو (6)
وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّى ::: اور اگر وہ نصیحت نہ پائے تو یہ تمہاری ذمہ داری نہیں (7)
وَأَمَّا مَنْ جَاءَكَ يَسْعَى::: اور جو تُمہاری طرف مشقت کے ساتھ آیا ( 8 )
وَهُوَ يَخْشَى ::: اور وہ ڈرتا ہے (9)
فَأَنْتَ عَنْهُ تَلَهَّى ::: تو تُم اُس سے دوسری طرف مشغول ہوتے ہو (10)

ایک بچے نے دہریہ انکل سے سوال کیا انکل یہ ہاتھی اتنا بڑا اور چوہا اتنا چھوٹا کیوں ہوتا ہے
انکل نے متانت سے جواب دیا : دیکھو بیٹا یہ فطری نظام ہے کچھ چیزیں بڑی اور کچھ چیزیں چھوٹی ہوتی ہیں

لیکن انکل چوہا بڑا اور ہاتھی چھوٹا کیوں نہیں ہوتا ہاتھی اتنا سارا کھانا کھا جاتا ہے اور چوہے کو تھوڑا سا ہی ملتا ہے یہ فطرت کون بناتا ہے

انکل تھوڑا جھنجلاۓ دیکھو فطرت کوئی نہیں بناتا یہ تو بس ہوتی ہے اور اسمیں چوہا چھوٹا ہی ہوتا ہے اور ہاتھی بڑا ہی ہوتا ہے ہاتھی کو زیادہ کھانے کی ضرورت ہوتی ہے اور چوہے کو کم .....
بچے نے کچھ سمجھنے اور نہ سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا پھر اسکی آنکھوں میں شرارت ابھری اور اس نے سوال کیا انکل ایک بات تو بتائیں
کیا ؟ دہریہ انکل نے تحمل سے پوچھا
آپ کی دم کیوں نہیں ہے .............؟
دہریہ انکل خاموشی سے دیکھتے رہ گۓ....

کیونکہ یہ مسلہ فلسفیانہ ہے اسلئے اسکا جواب طریق فلسفہ پر ہی فراہم کیا جا سکتا ہے ....

اس کائنات کا مرکز اگر سورج کو تصور کیا جاوے تو لا محالہ اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ سورج کو دوسرے اجسام سماوی پر فوقیت حاصل ہے اب اگر انتظامی اعتبار سے یہ سوال اٹھایا جاۓ کہ سورج ہی سورج کیوں ہے سورج چاند کیوں نہیں یا سورج زمین کیوں نہیں تو یہ سوال اپنی اصل میں ہی لغو ہے کیونکہ کسی بھی دائرہ میں مرکز صرف ایک ہو سکتا ہے دو نہیں ورنہ مرکز کو ہی توڑنا پڑے گا اگر ایک نظام شمشی میں دو سورج داخل کر دئیے جاویں تو نتیجہ مکمل تباہی ہوگا ........

جب بھی نظام زندگی کی بات ہوگی طبقاتی مدارج کا قائم ہونا امر لازم ہے ورنہ امور دنیوی کا قائم رہنا چلنا ممکن نہیں یہ ایسا ہی ہے کہ آپ اس گروپ میں رہتے ہوے یہ سوال اٹھائیں کہ اسکا ہر ممبر اڈمن کیوں نہیں یہ تو نہ انصافی ہے تو جناب کیا کوئی گروپ ممبر یا اڈمنز آپکے موقف کو تسلیم کرتے ہوے اپنی اڈمن شپ سے دستبردار ہوکر تمام ممبران کو یکساں اختیارات فراہم کر دینگے ہو سکتا ہے ایسے کسی سوال کی پاداش میں آپکو گروپ بدری کا پروانہ فراہم کر دیا جاوے ........

غور کیجئے سوچیے کسی بھی معاشرتی نظم کو چلانے کے لیے ناظمین اور کارکنان کی اختیاراتی تخصیص لازم ہے جسے کسی کی نفسیاتی گرہ کشائی کیلئے پس پشت نہں ڈالا جا سکتا

یہ عجیب بات ہے چلیے آپ کہتے ہیں کوئی خدا نہیں ہے تو پھر بھی دنیا میں موجود غیر متوازن و متعارض اشیاء تو موجود ہیں ....
اب اگر یہ سوال ہو درد زہ عورت کو کیوں ہوتا ہے مرد کو کیوں نہیں عورت بچے کیوں دیتی ہے انڈے کیوں نہیں سانپ کے پاؤں کیوں نہیں ہوتے آدمی پانی میں سانس کیوں نہیں لے سکتا انسان مر کیوں جاتا ہے ..............
کیا جواب ہے ان تمام باتوں کے عقل کے پاس .....

اشیاء کی پہچان انکے تضاد میں ہے رات کی پہچان دن سے ہے ہر دو میں سے ایک کو ختم کر دیجئے دوسرا اپنی پہچان کھو بیٹھے گا ٹھنڈا گرم سے ہے سخت نرم سے کالا گورے سے غم خوشی سے دولت غربت سے .....
اگر دنیا کی ہر چیز کو یکساں کر دیا جاوے تو دنیا مشین بن جاۓ گی اسی لیے خالق نے تضادات سے تخلیق کی خوبی کو واضح کیا کیونکہ وہ حقیقی آرٹسٹ ہے .....

ویسے عجیب تو یہ ہے ذرا غور کیجئے دنیا کے تمام افراد کا ایک سانچہ (module) بنایا جاتا اب ہر شخص ایک ہی رنگ قد کاٹھ عمر صلاحیت کا مالک ہو یعنی ہر ایک دوسرے کی یکساں نقل ہو تو کیا کوئی بھی معاشرتی یا انسانی نظام قائم رہ سکے گا ......

اگر ایک موڈل انسان بنایا جاۓ جسکی آنکھ ناک کان ہر چیز پرفکٹ ہو جسکی رنگت جسمانی ساخت زبردست ہو اور جسمیں کوئی کمی موجود نہ ہو وہ ایک مکمل سپر مین ہو ....

اب تمام انسانوں کو اسی سانچے پر ڈھال دیا جاوے جیسے ہم کوپی پیسٹ کرتے ہیں لیجئے کنٹرول سی کنٹرول وی .........
اب یہ ہی اصول کائنات کی ہر شے پر لاگو کردیجئے ہر شے دوسرے کی ڈیٹو کوپی
اس شدید بیزار کن یکسانیت کا کائنات پر کیا اثر ہوگا
عشق ،محبت ،نفرت، دوستی، پہچان، رشتے ، تعلقات ، ہمدردی ، سچ ، جھوٹ ، اچھائی ، برائی ، برتری ، محرومی
ہر انسانی رنگ و جذبے کا کلی خاتمہ کیونکہ چیزیں اپنے تضادات سے پہچانی جاتی ہیں جب انکی زد کو ختم کر دیا جاوے تو انکی اپنی اصل بھی ختم ہو جاۓ گی .....
خیر کو دنیا سے مکمل ختم کر دیجئے اب شر ہی موجود ہوگا لیکن شر کو پہچانئے گا کیسے جب خیر کا وجود ہی نہ ہوگا .......

اس کائنات کی سب سے عظیم خوبی ہی یکسانیت کا نہ ہونا ہے کوئی امیر ہے اور کوئی غریب اب انسان کا معلوم ہوگا کہ وہ کتنا انسان ہے ...
اپنی زندگی پر ہی غور کیجئے آپ کبھی امیر ہیں کبھی غریب کبھی خوش اور کبھی دکھی اب اپنی زندگی کے ہر متضاد جذبے کو ختم کر دیں تو زندگی کا لطف ہی کہاں باقی رہے گا .......

آپ کا اشکال حقیقت میں علمی سے زیادہ نفسیاتی ہے یہ ایک خاص سنڈروم ہے جس میں انسان اپنی موجودہ کیفیت سے فراری ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ انکار کے راستے پر چلتا ہوا اپنی ذات کا بھی انکاری ہو جاتا ہے میں ہمیشہ ایک سوال اٹھا تا ہوں .....

مذہبیت کو ایک طرف رکھ دیجئے اپ کائنات میں موجود تضادات کی کوئی علمی توجیہ بیان کیجئے ایسا کیوں ہے ایک عورت ، عورت کیوں پیدہ ہوئی مرد کیوں نہیں ایک بچا کمزور تو دوسرا صحت مند کیوں ہے دنیا کا ہر شخص آئین سٹائن یا نیوٹن کیوں نہیں ہر آدمی بل گیٹس کیوں نہیں بن سکا کیا اس سوال کا کوئی معقول جواب ہے آپ کے پاس ....
ہر شخص شاعری کیوں نہں کر سکتا مصنف کیوں نہیں ہو سکتا ہر آدمی گویٹے، دانتے ، ڈکنز ، ٹیگور ، منٹو ، غالب ، اقبال کیوں نہیں ہو سکتا .....
ہر بندہ خوبصورت آواز کا مالک کیوں نہیں میاں نواز شریف مہدی حسن کی طرح کیوں سروں سے نہیں بلکہ سروں سے کھیلتے ہیں .....
میں بطور شاعر بغیر سیکھے ہوے الفاظ کو ابتداء سے اسطرح جانتا ہوں جو کسی نہ کسی بحر وزن ردیف قافیہ کے ماتحت دکھائی دیتے ہیں ایک غیر شاعر انکو ایسا کیوں نہیں دیکھتا ........

لا مذہبوں کے پاس ان باتوں کی کیا توجیہ ہے

سیدھا کہ دیجئے لا ادری بہت آسان ہے بات کو گھما پھرا کر کہنے سے ......

ابتداء آفرینش سے اب تک کی انسانی تاریخ میں انسانی معلومات ہمیشہ ڈیڈ اینڈ پر کھڑی دکھائی دیتی ہیں اور پھر وہ کہتا ہے لا ادری ..

مذہب ہمیشہ ان سوالوں کا جواب فراہم کرتا ہے جنکو الا ہیات کہا جاتا ہے فلسفہ جو سائنس کی ماں ہے اسنے اپنی سی کوشش ضرور کی ہے ان سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کی لیکن قاصر رہا ہے.....

وہ بنیادی موضوعات جن کی تحقیق میں انسان صدیوں سے سرگرداں وہ یہ ہیں
١ ۔ خدا و صفات خدا
٢ ۔ ٹائم اور سپیس کی حقیقت
٣۔ کائنات کی ابتدا
٤۔ کائنات کی ماہیت
٥۔ خیر و شر
٦۔ غم اور خوشی
٧۔ روح
٨۔ عقل
٩۔ حیات و ممات
١٠۔ مقصد حیات

اور ان تمام کی توجیہ کرنے سے سائنس کلی طور پر قاصر رہی ہے اگر کچھ جواب انکا فراہم کیا ہے تو مذہب نے ہی کیا ہے ....

دور جدید کا ایک فلسفہ ہے (Diversity ) یہ وہ مضمون ہے جسے قرآن بہت پہلے بیان کر آیا ہے

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌo
اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو، بیشک اﷲ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہےؤ

لِتَعَارَفُوا پہچان سکو لِتَعَارَفُوا پہچان سکو

غور کیجئے لوگوں کا مختلف ہونا ذریعہ ہے پہچان کا اسی کو آج (Diversity) کے نام سے تسلیم کیا جا رہا ہے ملاحظہ کیجئے
(The concept of diversity encompasses acceptance and respect.
It means understanding that each individual is unique,
and recognizing our individual differences. These can be along
the dimensions of race, ethnicity, gender, sexual orientation, socio-economic status, age, physical abilities, religious beliefs,
political beliefs, or other ideologies. It is the exploration
of these differences in a safe, positive, and nurturing environment.
It is about understanding each other and moving beyond
simple tolerance to embracing and celebrating the
rich dimensions of diversity contained within each individual.

)

اب اپنے اذہان کو کھولیے اور بڑی تصویر دیکھئے آپ کی ذاتی محرومیاں کچھ ہونے کی خواہش اور کچھ نہ ہو سکنے کی کڑ ہن سے بالا تر ہوکر......
(Diversity is difference. It is a natural phenomenon, intimately related to uniqueness and identity. There is a rich world of discovery awaiting us when we are ready to fully encounter our diversity. But first we have to lift our heads above the bustle around us and look at the big picture)

اسی کو اقبال نے کہا ہے

کھول آنکھ زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ
مشرق سےاُبھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
اِس جلوہ بے پردہ کو، پردوں میں چھپا دیکھ
آیامِِ جدائی کے ستم دیکھ، جفا دیکھ
بے تاب نہ ہو معرکہءِ بیم و رجا دیکھ

ہیں تیرے تصرف میں یہ بادل یہ گھٹائیں
یہ گنبدِ افلاک، یہ خاموش فضائیں
یہ کوہ، یہ صحرا، یہ سمندر، یہ ہوائیں
تھیں پیشِ نظر کل تو فرشتوں کی ادائیں
آئینہءِ ایّام میں آج اپنی ادا دیکھ

سمجھے گا زمانہ تِری آنکھوں کے اشارے
دیکھیں گے تجھے دور سے گردوں کے ستارے
ناپید تِرے بحرِ تخیّل کے کنارے
پہنچیں گے فلک تک تِری آہوں کے شرارے
تعمیرِ خودی کر، اثَرِ آہِ رسا دیکھ

خورشیدِ جہاں تاب کی ضو تیرے شرر میں
آباد ہے اِک تازہ جہاں تیرے ہنر میں
جچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میں
جنت تِری پنہاں ہے تِرے خونِ جگر میں
اے پیکرِ گل کوشِشِ پیہم کی جزا دیکھ

نالندہ ترے عود کا ہر تار ازل سے
تو جنسِ محبت کا خریدار ازل سے
تو پیرِ صنم خانہِ اسرار ازل سے
محنت کش و خوں ریز و کم آزار ازل سے
ہے راکبِ تقدیر جہاں تیری رضا دیکھ

علامہ اقبال
بال جبرئیل

(Diversity is a fundamental property of the universe, along with matter, energy, space, time, relationship, unity, and many other phenomena that are present everywhere. Everything that you see (or don't see) that is different from anything else -- and every difference between them -- is an aspect of diversity.

So diversity exists. Everywhere. It is a fact of life.)

اصل میں اس مختلف ہونے اور متضاد ہونے کی وجہ سے ہی انسان کے اندر موجود تحقیق جستجو اور مشکلات کے ہمالیہ سر کرنے کی خواہش کی تسکین ہوتی ہے جسکو (explore) کہا جاتا ہے

اقبال نے اس طویل مضمون کو ایک شعر میں باندھ دیا ہے

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دما دم صدائے "کن فیکوں"

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں