جمعرات، 30 جنوری، 2014

پاکستانی " بت "

پاکستانی " بت "

گزشتہ روز ایک دوست کے ہاں جانا ہوا جس کمرے میں گفتگو ہو رہی تھی وہیں بچے ٹی وی سے بھی لطف اندوز ہو رہے تھے دوست کے بار بار منع کرنے پر بھی آواز بڑھ جاتی اور پھر وہ چلاتا 
ارے آواز کم کر دو انکل سے بات کرنے دو . تھوڑی دیر کا اثر اور پھر وہی معاملہ 

اچانک کانوں میں موسیقی کی آواز پڑی اور وہ بھی اسطرف متوجہ ہو گیا 
واہ کیا پروگرام ہے وہ کام کی تمام باتوں کو جیسے بھول چکا تھا 
میں ٹی وی نہیں دیکھتا میرا جواب تھا 
ارے مولوی تم بھی نا اس نے تاسف سے سر ہلایا 
ضرور دیکھنا اس نے پروگرام کا نام لیا 
کیا کیا ........
میں چونکا کیا نام بتایا تم نے 
اس نے نام دہرایا 
" پاکستانی بت " مجھے اپنی آواز بھی اجنبی سی لگی 
ارے نہیں نہیں کیا ہو گیا ہے مولوی " پاکستانی بت" نہیں (pakistan idol) 
شاید اسکی آنکھوں پر وہ پٹی بندھ چکی تھی جو الفاظ و معانی کی پہچان بی ختم کرا دیتی ہے 

اسکے بعد وہاں میرا دل نہیں لگا اور میں گھر چلا آیا 
پاکستانی بت  پاکستانی بت
میں شاید بڑبڑا رہا تھا 
اسکے بعد کئی لوگوں سے گفتگو ہوئی اور سب نے میری بات کو دیوانے کی بڑ سے زیادہ اہمیت نہ دی
شاید الفاظ اپنے معانی اتنے بدل دیتے ہیں ( idol) بت نہیں رہتا کچھ اور ہو جاتا ہے 
اندر ہی اندر ایک جنگ چلتی  رہی 
یہ لفظ ہے کیا  آیا کہاں سے ہے کس طرح معروف ہوا ہے تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں تک اپنی بات پہنچائی جا سکے 
فرانسیسی میں اسے (idole) کہا جاتا تھا 
لاطینی اسے (idolum) کے نام سے جانتے تھے 
قدیم یونان میں یہ (eidolon) تھا
اگر ان تمام کے مفاہیم کو کھنگالا جاۓ تو مطلب یہ بنتا
" انسانی ہاتھوں سے تراشا ہوا جھوٹا خدا"

چونکہ یہ انگریزی کے توسط سے ہم تک پہنچا ہے تو یہ بھی دیکھ لیا جاۓ کہ انگریزی زبان و بیان میں اسکا کیا مطلب لیا جاتا ہے 
(appearance, reflection in water or a mirror," later "mental image, apparition, phantom," also "material image, statue," from eidos "form" (see -oid). Figurative sense of "something idolized" is first recorded 1560s (in Middle English the figurative sense was "someone who is false or untrustworthy"). Meaning "a person so adored" is from 1590s.)

انسانی ہاتھوں سے تراشیدہ انسانی ذہن کا بنایا ہوا جھوٹا خدا 
(idol)

اردو میں اسے " بت " اور فارسی میں صنم کہتے ہیں 

گو مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ باقائدہ ایک فرنچائز ہے (Idols) کے نام سے اور دنیا میں شخصی بت پرستی کو ترویج دینے کی مہم چلا رہی ہے ہاں سب سے آخر میں اپنانے والی ہماری قوم ہے لیکن کیا کیجئے یہ قوم تو بت پرستی بھی ڈھنگ سے کرنا نہیں جانتی 
شاعر نے کیا خوب کہا ہے 

صنم تراش پر آدابِ        کافرانہ سمجھ
ہر ایک سنگِ سرِ راہ کو خدا نہ سمجھ

حسیب احمد حسیب 

نوٹ : یہ مضمون تین اقساط پر مشتمل ہے اگلی قسط " میوسس" کا جادو " کے نام سے پیش کی جاۓ گی .
ایک تبصرہ شائع کریں