اتوار، 26 جنوری، 2014

" احقاق حق کا صحیح وقت "

" احقاق حق کا صحیح وقت "

دین کا پھیلاؤ دعوت کے ذریعہ ہی ممکن ہے اور دعوت کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو جہاد کے ذریعہ رفع کیا جاتا ہے دعوت و جہاد دو بازو ہیں دین کے جو باہم معاون مددگار ہیں ....

لوگوں کو حق کی طرف متوجہ کرنے کے کچھ اصول ہیں اور اگر ان اصولوں کی پاسداری نہ کی جاۓ تو خرابی کا اندیشہ ہوگا جس سے خیر کا شر میں تبدیل ہو جانا لازم اے گا ...

ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ

دینی جماعتوں کی ایک تاریخ ہے اور امت کا احیائی عمل صدیوں پر پھیلا ہوا ہے دعوت و عزیمت کی یہ تاریخ بہت قدیم ہے جو تاریخ کے صفحات پر رقم ہے .
اس احیائی عمل میں زمانے کے اعتبار سے اجتہادات کئے جاتے ہیں ان میں غلطیاں بھی لگتی ہیں اور ان غلطیوں میں خلوص بھی شامل ہوتا ہے حالات و واقعات کے اعتبار سے کئے جانے والے فیصلے کبھی نفع اور کبھی کبھی نقصان بھی دے جاتے ہیں .
جماعتوں کو شخصیات کھڑا کرتی ہیں اور یہ شخصیات اپنی اپنی افتاد طبع اور مزاج کے تحت راستے چنتی ہیں ان شخصیات کی صلاحیتوں ،خلوص اور محنت کی وجہ سے الله لوگوں کے قلوب کو انکی طرف متوجہ کر دیتے ہیں افراد کا یہ مجموعہ جماعت بنتا ہے .....

بہت سمجھ لینے کی بات یہ ہے جماعتیں جب خلوص کے ساتھ ایک راستے پر چلتی ہیں اور قربانیاں دیتی ہیں اور اپنی بہترین صلاحیتیں صرف کرتی ہیں تو انھیں اس راستے سے پلٹ دینا ممکن نہیں ہوتا ..
مولانا امین احسن اصلاحی رح کا ایک جملہ یاد آ رہا ہے " جماعتیں مقاصد کے لیے وجود میں آتی ہیں لیکن جب مقاصد پیچھے رہ جائیں اور جماعت خود مقصود بن جاۓ تو سمجھ لیں خرابی ہے "

دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ کسی میں حق کی مقدار کتنی ہے اور اسکی نیت میں خلوص کتنا ہے کیا مقصود ایک ہی ہے اور صرف راستہ مختلف ہے .....
اگر خلوص ثابت ہو
نیت کا یقین ہو
اور مقصود مشترک ہو
تو راستے کے محتلف ہونے کی غلطی کو واضح کرنا مشکل نہیں لیکن شرط طریق دعوت اور حکمت میں پنہاں ہے ..
حق کا احقاق نصرت سے منسلک ہے اپنے مسلمان بھائی کی مصیبت میں اسکی نصرت اور اسکے دل کے قریب آکر اسکو حکمت کے ساتھ حق کی دعوت یہ طریق نبوی صل الله علیہ وسلم ہے.

قرآن کریم ایک مقام پر اس مطلب کی طرف اشارہ کرتا ہے:
فبما رحمة من اللہ لنت لھم ولو کنت فظا غلیظ القلب لانفضو امن حولک فاعف عنھم و استغفرلھم و شاورھم فی الامر واذاعزمت فتوکل علی اللہ
(سورئہ آل عمران آیت ۱۵۹)
”اے حبیب! اس شفقت کی وجہ سے جو خدا نے آپ کے دل میں پیدا کی ہے آپ اپنے اصحاب کے ساتھ نرمی کا برتاؤ رکھتے ہیں اگر آپ سخت مزاج اور تندخو ہوتے تو یہ لوگ آپ سے دور ہی رہتے اور منتشر ہو جاتے پس آپ ان کے ساتھ عفو و درگذر ہی سے کام لیں اور ان کے لئے طلب مغفرت کرتے رہیں اور اپنے کاموں میں ان سے مشورہ کر لیا کریں اور جب کسی کام کا پختہ عزم و ارادہ کر لیں تو پھر بس خدا پر بھروسہ کریں۔“

رحمت بنیادی امر ہے
سختی اور تند خوئی انتشار کا سبب ہے
اور اصول دعوت کیا ہیں
فاعف عنھم " آپ ان کے ساتھ عفو و درگذر ہی سے کام لیں"
و استغفرلھم "ان کے لئے طلب مغفرت کرتے رہیں"
و شاورھم فی الامر " اور اپنے کاموں میں ان سے مشورہ کر لیا کریں "

دوسری اہم بات کہیں ایسا نہ ہو کہ مصلحت کے تحت یہ مودت و محبت کہیں حق کو آپ کی نگاہوں میں ہی مبہم نہ کردے حق ہمیشہ حق ہی رہے گا حق کبھی تبدیل نہیں ہو بس حق کے ادعا کا طریق حالات کے تحت بدلتا رہے گا .
یسرو لا تعسرو بشرولا تنفر
(دلائل النبوہ ج ۵ ص ۴۰۱)
”یعنی آسانی اور نرمی کا راستہ اختیار کرو سختی کا نہیں اور لوگوں کو خوشخبری دو اور ان کی خواہش و رغبت و شوق کو ابھارو انہیں متنفر نہ کرو۔“

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں