اتوار، 25 نومبر، 2012

شہادت عثمان اور سبائی فتنہ !


!شہادت عثمان اور سبائی فتنہ 
حضرت عثمان رضی الله تعالیٰ عنہ کے اخیر دور خلافت میں کچھ ایسے حالات پیدا ہوگئے جن کی وجہ سے اسلام کے خلاف ک عجیب وغریب تحریک شروع ہوئی ۔ اس تحریک کا بانی عبدالله بن سبا یہودی تھا، جو اپنے مسلمان ہونے کا اظہار بھی کر تا تھا ، اس کا خاص نصب العین یہ تھا کہ لوگوں کو یہ سمجھایا جائے کہ صحابہ کرام رضی الله تعالیٰ عنہم میں سے نہ تو کوئی اپنے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا سچا دوست تھا اور نہ ہی ( معاذ الله) آپ صلی الله علیہ وسلم سے انہیں کوئی عقیدت تھی ۔ یہ بات ظاہر ہے کہ جماعت صحابہ رضی الله تعالیٰ عنہم سے اگر اعتماد اٹھ جائے تو سارا دین ہی مسمار ہو کر رہ جائے گا، اس فتنے نے زور پکڑا،بالآخر اسی کے نتیجہ میں حضرت عثمان رضی الله تعالیٰ عنہ شہید ہوئے ، حضرت علی رضی الله تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں مسلمان خانہ جنگیوں میں مبتلا ہو گئے۔ موقع پاکریہ سبائی جماعت حضرت علی رضی الله تعالیٰ عنہ کی فوج میں گھل مل گئی۔

مؤرخین کا اتفاق ہے کہ جنگ ”جمل“ کا واقعہ بالکل پیش نہ آتا… اگر یہ سبائی جماعت صلح کو جنگ سے بدلنے میں کامیاب نہ ہوئی ہوتی، جنگ ”جمل“ کے بعد صفین وغیرہ کی لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر یہ سبائی جماعت اپنے خیالات اور بے سروپا روایات پھیلاتی رہی۔

اسی بات کو حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ الله تعالیٰ فرماتے ہیں ”اول من کذب عبدالله بن سبا“ (روایات کے سلسلہ میں جس شخص نے سب سے پہلے جھوٹ چلایا، وہ عبدالله بن سبا تھا) یعنی اس نے سب سے پہلے جھوٹی حدیثوں کو پھیلانے کی کوشش کی ، بالآخر حضرت علی رضی الله تعالیٰ عنہ اس سازش سے جب واقف ہوئے تو سخت ناراض ہوئے اور فرمایا:” ومالی ولھذا الخبیث الاسود“

کہ اس سیاہ کالے خبیث سے مجھے کیا علاقہ؟

او راعلان عام کر دیا کہ جو اس طرح کی باتیں کرے گا اس کو سخت سزا دی جائے گی ، بالآخر حضرت علی رضی الله تعالیٰ عنہ نے اس جماعت سے داروگیر میں سختی سے کام لیا۔

اس سلسلے میں حافظ ابن حجر رحمہ الله تعالیٰ فرماتے ہیں:” قد احرقھم علی رضی الله تعالیٰ عنہ فی خلافتہ“․

کہ ان لوگوں کو حضرت علی رضی الله تعالیٰ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانے میں آگ میں ڈلوادیا۔

فی الواقع یہ لوگ حضرت علی رضی الله تعالیٰ عنہ کے خدا ہونے کا اعتقاد رکھتے تھے۔

مگر اس جماعت کے نمائندے کوفہ، بصرہ، شام، مصر وحجاز ہر جگہ پھیلے ہوئے تھے، اس لیے حضرت علی رضی الله تعالیٰ عنہ نے پوری قوت سے اس فتنے کو دبایا اور لوگوں کو اس جماعت کی سازش سے آگاہ کیا۔ حضرت علی رضی الله تعالیٰ عنہ نے اس کے بارے میں فرمایا:” قاتلھم الله ای عصابة بیضاء سودوا، وای حدیث من حدیث رسول الله صلی الله علیہ وسلم افسدو!!․“

کہ خدا انہیں ہلاک کرے ، کتنی روشن جماعت کو انہوں نے سیاہ کیااور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی کتنی حدیثوں کو انہوں نے بگاڑا۔

حافظ ابن تیمیہ رحمہ الله تعالیٰ فرماتے ہیں:

”دورصحابہ رضی الله تعالیٰ عنہم میں بعد کے ادوار کے مقابلے میں بہت کم فتنے تھے ، لیکن جتنا زمانہ عہد نبوت سے دور ہوتا گیا ، اختلاف وگروہ بندی کی کثرت ہوتی چلی گئی، حضرت عثمان رضی الله تعالیٰ عنہ کے عہدِ خلافت میں کوئی بدعت کھل کر سامنے نہیں آئی، مگر ان کی شہادت کے بعد لوگ مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گئے اور دو مقابل کی بدعتوں کا ظہور ہوا، ایک خوارج کی بدعت، جو (معاذ الله) حضرت علی رضی الله تعالیٰ عنہ کی تکفیر کرتے تھے اور دوسری روافض کی بدعت، جو حضرت علی رضی الله تعالیٰ عنہ کی امامت اور عصمت کے مدعی تھے، بلکہ روافض میں سے بعض ان کی نبوت کے اور بعض الوہیت تک کے قائل تھے۔
عبداللہ بن سبا دراصل، ایک یہودی تھاجو اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے مسلمان ہوا تھا۔ اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری دور میں سبائی فتنے کا آغاز کیا۔ ابن سبا کو خلیفۂ وقت سے ذاتی دشمنی تھی۔ اس نے خلافت عثمانی کو درہم برہم کرنے کے لیے حب علی اور حب 'اہل بیت' (فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم) کا نعرہ لگایا اور اس مقصد کے لیے اس نے اور اس کے ہم نواؤں نے طرح طرح کی احادیث وضع کیں۔ انھی سبائیوں کے ہاں علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کا عقیدہ پایا جاتا تھا۔''لسان المیزان'' میں ابن حجر نے یہ بیان کیا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دور اقتدار میں انھیں آگ میں جلا دیا تھا۔
ایک شیعہ عالم علامہ مجلسی نے اپنی کتاب بحارالانوارمیں ایک واقعہ لکھاہے کہ ایک شخص حضرت علی رض کے پاس آیااورکہنے لگاکہ مسجدسے باہرایسے لوگ ہیں جوعقیدہ رکھتے ہیں کہ آپ رض انکے خداہیں۔آپ رض نے انہیں بلایااورفرمایاکہ تم خداکی تباہی کے حقدارہو میں خدانہیں بلکہ انکاایک ادنی بندہ ہوں۔اللہ سے ڈرواورمجھ سے غلط عقیدہ رکھنے سے بچو۔
وہی لوگ پھردوسرے اورتیسرے روزآئے اوراپنے عقیدے کودہرایااس پرآپ رض نے ان کوسخت الفاظ میں کہاکہ یااپنے عقیدے سے رجوع کروورنہ میں تمہیں آگ میں جلادوں گاجب وہ نہ مانے توانہین خندقیں کھدواکراسمیں آگ جلاکرسب کوجلادیا۔بعض کاخیال ہے کہ جلایانہیں تھاصرف دھواں دیاگیاتھا۔(بحارالانوار414/34)۔۔۔۔۔(واضح رہے آج بھی شیعہ حضرات اپنے علم اورامام بارگاہوں میں یاعلی مدداورعلی مشکل کشاجیسے کلمات فخریہ طورکندہ کرتے ہیں اورخودبھی ایسے کلمات پورے جوش میں بولتے ہیں).
جس طرح سینٹ پال نے عیسائیت میں فتنہ اورافتراق پیداکیااسی طرح عبداللہ بن سبانے مسلمانون میں فتنہ پیداکیا۔یہ شخص نہایت خطرناک تھااوربڑی مکاری کے ساتھ یہ مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہوااورباطل عقائد،فتنہ پردازی کاانجکشن مسلمانوں میں پیوست کیا۔
ابن عبداللہ اشعری کتاب المقالات الفرق کے صفحہ 20میں فرماتے ہیں کہ یہ فرقہ سبیہ کہلاتاہے اسکاپورانام عبداللہ بن وہب راہبی ہمدانی تھا۔عبداللہ بن حرمی اورابن اسوداسکے رفقااورشریک سازش تھے۔ابن سباوہ پہلاشخص تھاجس نے اصحاب ثلاثہ اوردیگراصحاب پرسب و تشنیع کی۔ابان بن عثمان کے مطابق خداابن سباپرلعنت کرے جوحضرت علی رض کوخداکہتاہے جبکہ وہ خداکے مطیع بندے تھے ہم اس سے اپنی برات کااعلان کرتے ہیں۔(رجال کشی ص 107اور108)
رجال الطوسی ص51میں ابن سبا کوغلوکرنے والااورکافرلکھاگیاہے اوررجال القہبائی میں بھی اس کے بارے میں یہی لکھاہواہے۔علامہ اربلی بھی اسکے متعلق یہی لکھتاہے۔اپنے پڑھنے والوں کومیں بتادوں کہ امام خمینی نے کتاب رجال کشی کوشیعیت کی ایک اہم کتاب بتایاتھااورپڑھنے والے جانتے ہیں کہ ایران ملک کی شیعوں کی نظرمیں کتنی اہمیت ہے اورشیعہ ایران کے انقلاب سے کتنے مسرورہیں اسی ملک کاایک روح اللہ سمجھاجانے والا جس کتاب کے بارے میں تعریف کرتاہے میں نے اسی کاحوالہ نظرخدمت کیاہے۔
تعجب ہے کہ شیعہ حضرات اس شخص کے وجودسے ہی انکارکرتے نظرآتے ہیں اورکہتے ہیں کہ یہ شخص تھاہی نہیں بلکہ ایک فرضی کرداربنادیاگیاہے۔شیعیت یہودیت کی پیداوارنہیں ہے بلکہ یہ وہ مسلمان ہین جنہوں نے اسلامی شریعت کومضبوطی سے تھامے رکھااورجب آپ ص کاانتقال ہواتویک دم 1400صحابہ کرام کی جماعت مرتدہوگئی اورصرف اہل بیت اورچندصحابہ صراط مستقیم پررہے۔لیکن انکی جیدکتابیں کچھ اورکہتی ہیں میرے خیال میں اگرشیعہ علمابجائے مسلمانوں کی کتب کی غلط تشریحات کے اگراپنی ہی کتابوں کامطالعہ کریں توبہت حدتک اختلافات کاتدارک ممکن ہے۔علامہ ابتسام الحق کی بات یادآگئی کہ شیعہ حضرات وہ روایات جوانکے عقائدسے مناسبت نہین رکھتی ہیں انہیں نہین مانتے۔
انکادعوی ہے کہ انہوں نے براہ راست احادیث اہل بیت یعنی خاندان محمدص لی ہیں لیکن راوی سارے شیعہ ہوتے ہیں۔جوکام سینٹ پال نے عیسائیوں کے ساتھ کیاوہی کام عبداللہ بن سبانے مسلمانوں کے ساتھ کیاسینٹ پال نے عیسائیوں میں پروٹیسٹینٹ فرقہ بنایاتوابن سبانے شیعہ فرقہ بنادیالیکن شیعہ اس سے انکارکرتے ہیں نہ صرف یہ بلکہ اس کے وجودکوہی دیومالائی گردانتے ہیں۔مولاناجھنگوی کے بقول یہ ایک ایسافرقہ ہے جس کی بنیاددھوکہ،فریب اورجھوٹ پررکھی گئی ہے۔


حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف ایک سازش کے تحت فتنہ کھڑا کیا گیا ۔ اور یہ سازش عبداللہ بن سبا جو کہ نسلا یہودی تھا اور اوپر سے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا تھا تیار کی گئی ۔ چنانچہ ایک گروہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف پروپیگنڈا شروع کیا ۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر پانچ الزامات لگائے گئے ۔ 

١ آپ نے اکابر صحابہ رضی اللہ عنہ کے بجائے اپنے ناتجربہ کار رشتہ داروں کو بڑے بڑے عہدے دے رکھے ہیں ۔

٢ آپ اپنے عزیزوں پر بیت المال کا روپیہ بے حد صرف کرتے ہیں ۔ 


٣ آپ نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لکھے ہوئے قرآن مجید کے سوا باقی سب صحائف کو جلا دیا ہے ۔

٤ آپ نے بعض صحابہ کرام کی تذلیل کی ہے ۔ اور نئی نئی بدعتیں اختیار کر لی ہیں ۔ 

٥ مصری وفد کے ساتھ صریح بد عہدی کی ہے ۔ 

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے صاجزادے محمد بن ابوبکر پیش پیش تھے ۔ اس نے آگے بڑھ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی ریش مبارک پکڑ کر زور سے کھینچی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بھتیجے اگر آج تمہارے والد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ زندہ ہوتے ۔ تو تمہاری اس حرکت کو پسند نہ فرماتے ۔ محمد بن ابی بکر یہ سن کر پشیمان ہوا ۔ اور پیچھے ہٹ گیا ۔ مگر کفانہ بن بشیر نے آپ کی پیشانی پر کاری ضرب لگائی ۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ زمین پر گر پڑے اور فرمایا ۔ بسم اللہ توکلت علی اللہ ۔ 
دوسرا وار سودان بن حمران نے کیا ، جس سے خون کا فوارہ چل نکلا اور اس کے ساتھ ہی امیر المومنین تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ 



ایک تبصرہ شائع کریں