جمعرات، 6 دسمبر، 2012

کوئی باغباں سے پوچھے!



کوئی باغباں سے پوچھے !

ایک  باغباں رات دن محنت کرتا ہے اپنا خون پسینہ ایک  کرتا ہے اسکے رات دن اسی فکر میں لگتے ہیں کس طرح سے میرا باغ ایک  ایسا مثالی باغ بن جاۓ کہ آنے والے لوگ  اس سے مستفید ہوتے رہیں، باغباں تکلیف اٹھاتا ہے لیکن ہمّت نہیں ہارتا اسکی قوم اسکا قبیلہ اسکی بستی کے لوگ سب اسکی مخالفت کرتے ہیں کوئی مجنوں کہتا ہے کوئی دیوانہ کوئی آسیب زدگی کا الزام دھرتا ہے 

لیکن باغباں کو پرواہ نہیں پیٹ پر پتھر باندھنا پڑیں راتوں کی نیند کو قربان کرنا پڑے پیر لہو  لہان ہو جائیں سینہ اپنوں کے طعنوں  سے چھلنی ہو جانے اسے تو ایک  ہی  دھن ہے اسکا "باغ "

رات دن  کی محنت طویل مشقت قربانیوں کے بعد وہ خوبصورت باغ تیار ہوتا ہے ، باغ بھی کیا ہے شاہکار  ہے یہاں خوش ذائقہ  پھل  ہیں سرسبز شجر ہیں پھولوں سے لدی کیاریاں ہیں پرندوں کی چہکار ہے  درختوں  کی پھلوں سے لدی شاخیں زمین کو چومتی ہیں لہلہاتی سبز گھانس چلنے والے کی روح کو سرشار کر دیتی ہے اور باغ کے درمیان بہتی ندی جسکا  شیریں اور ٹھنڈا پانی برسوں کے پیاسوں کو سیراب کر دے 

لوگ نفع اٹھا رہے ہیں اس باغ سے اور باغباں خوش ہے اسکی محنت رنگ لائی وہ خوش ہے مسرور ہے اسنے اپنا کام کامیابی سے سرانجام دیا یہ باغ وراثت ہے اس بستی کے لوگوں کی اور بستی میں آنے  والوں کی تا ابد تک آباد رہنے والا یہ باغ نعمت ہے خدا کی جسکی تعمیر کا خیال ڈالا گیا اس باغباں کے دل میں 

باغباں جانتا ہے اسنے ہمیشہ نہیں رہنا اسلئے اسنے مالیوں کی اک جماعت تیار کی ہے جو جفاکش ہیں وفادار ہیں بےغرض اور بہادر ہیں جنھیں مادی تعیشات کی کوئی ہوس نہیں وہ باغباں کی محبت میں سرشار ہیں جسنے انھیں سکھایا ہے کیسے خدا کی اس نعمت کو سمبھالنا ہے اور انے والوں کے حوالے  کرنا ہے اور وہ مالی بھی کیا مالی ہیں  انہوں نے جان مال عزت آبرو کسی چیز کی بھی پرواہ نہ کی اور ہر طرح کے مصائب اور مشکلات کو جھیلتے ہوے باغ  کو قائم  رکھا جسکی شان آج بھی اس باغ میں جانے والے دیکھتے ہیں اسکے پھلوں سے قوّت حاصل کرتے ہیں  اسکی خوشبو سے سرشار ہوتے ہیں اسکی ندی سے سیراب ہوتے ہیں 
ہاں مگر کچھ پھٹے حال کم نصیب کم  ظرف جنھیں اسی باغ کی چھاؤں ملی تھی اسی کی ندی سے انکے پرکھ بھی سیراب ہوے تھے اسی کے پھلوں نے انکے بڑوں کی بھوک مٹائی تھی
وہ کم نصیب کہتے ہیں وہ باغ  تو باغباں کے جاتے ہی برباد ہو گیا تھا اسکے مالی امین  سے غاصب بن گۓ تھے اور اس باغ کو انہوں نے لوٹ لیا انکی تربیت تعلیم سب رائگاں گۓ باغباں کو دھوکہ ہوا تھا انکو چننے میں 
وہ کم ظرف کہتے ہیں اس باغ کی ندی خشک ہو گئی اسکی ریشمی گھانس صحرا کی ریت میں بدل گئی اسکے اشجار اجاڑ ہو گۓ اسکے پھول کانٹے بن گۓ وہاں اب خوش آواز پرندوں کی چہکار نہیں زہریلے سانپوں  کی سرسراہٹ ہے 
کیا کہتے ہو اس دردناک کہانی کو سننے والوں سچ کیا ہے کچھ تو بولو کیوں تمہاری زبانیں گنگ ہیں وہ کونسی بصیرت ہے جسنے تمہیں  اندھا کر دیا وہ کونسی سماعت ہے جسنے تمہیں بہرا کر دیا وہ کونسا حق ہے جو  تمھارے حلق میں اٹک گیا ہے 

کہتے کیوں نہیں جھوٹ بولتے ہیں یہ کم ظرف کم نصیب احسان فراموش ،وہ باغ آج بھی ہرا ہے وہاں کے پھل  ابھی   تک میٹھے  ہیں  وہاں کے پھول اب بھی خوشبو دار ہیں اس ندی کا پانی ویسی ہی روانی سے بہتا ہے وہاں پرندے اب بھی چہچہاتے ہیں اسکے مالی تب بھی ایماندار تھے اور انکے وارث اب بھی وفادار ہیں اور وہ باغ جڑا ہے اک بڑے باغ سے یہاں کے  دروازے وہاں کھلتے ہیں .....  

کیونکہ اس پر اس باغبان اور اسکے مالک کی گواہی ہے ......


مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ تَرٰىہُمۡ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانًا ۫ سِیۡمَاہُمۡ فِیۡ وُجُوۡہِہِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ ؕ ذٰلِکَ مَثَلُہُمۡ فِی التَّوۡرٰىۃِ ۚۖۛ وَ مَثَلُہُمۡ فِی الۡاِنۡجِیۡلِ ۚ۟ۛ کَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطۡـَٔہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰی عَلٰی سُوۡقِہٖ یُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیۡظَ بِہِمُ الۡکُفَّارَ ؕ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡہُمۡ مَّغۡفِرَۃً وَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿٪۲۹﴾
﴿048:029﴾
محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں تو سخت ہیں اور آپس میں رحم دل (اے دیکھنے والے) تو انکو دیکھتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکے ہوئے سربسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں ان کے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں (وہ) گویا ایک کھیتی ہیں جس نے (پہلے زمین سے) اپنی سوئی نکالی پھر اس کو مضبوط کیا پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور لگی کھیتی والوں کو خوش کرنے تاکہ کافروں کا جی جلائے جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے خدا نے گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے

حسیب احمد حسیب 
ایک تبصرہ شائع کریں