اتوار، 25 نومبر، 2012

خلافت عثمان رض اور شوری کا قیام !


!خلافت عثمان رض اور شوری کا قیام
خلیفۂ دو م حضرت عمر رضی اﷲ عنہ تندرست تھے کہ کچھ اہل ایمان نے انھیں اپنا جانشین مقرر کرنے کا مشورہ دیا ۔ وہ سوچ میں پڑ گئے اور کہا:اگر میں اپنا جانشین خود مقرر کروں تو روا ہو گا، کیونکہ مجھ سے بہتر شخص(ابوبکر رضی اﷲ عنہ)نے ایسا کیا ہے اور اگر ایسا نہیں کرتا تو بھی جائز ہے کیونکہ مجھ سے کہیں زیادہ صاحب فضیلت شخصیت (حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم) نے ایسا کیا ہے ۔ کچھ غور وفکر کے بعد انھیں اندیشہ ہوااگر اس بارے میں اہل ایمان کی راہ نمائی نہ کی گئی تو وہ نزاع میں مبتلا ہو جائیں گے۔ قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعدبھی انھوں نے کسی فرد کو نامزد کرنے کے بجاے عشرۂ مبشرہ میں سے۶ زندہ اصحاب رسول حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زبیر بن عوام ، حضرت طلحہ بن عبید اﷲ،حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبدالرحمان بن عو ف کی مجلس بنانا پسند کیااور ساتویں صاحب بشارت سعیدبن زید کو اپنا چچا زاد ہونے کی وجہ سے شامل نہ کیا۔حضرت عمرنے ان صحابیوں کو ترجیح دینے کی وجہ خود ہی بیان کر دی کہ رسول اﷲ صلی علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوتے وقت ان سے راضی تھے ۔ ان میں سے کسی ایک کومامور کرنا ان کے لیے مشکل ہو گیا یا شاید وہ خیال کر رہے تھے کہ اہل راے کے باہمی مشورہ سے خلیفہ کا انتخاب زیادہ موزوں ہو گا۔انھوں نے اپنے بیٹے عبد اﷲ کووصیت کی ،انتخاب کے وقت موجود رہیں تاہم ان کااس میں کوئی دخل نہ ہو گا۔
نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا عباس بن عبدالمطلب بہت تاخیر سے اس وقت ایمان لائے تھے جب آپ نے فتح کے لیے کوچ کیا۔رخصت ہونے کے بعد وہ بنو ہاشم کو خلافت دلانے کے لیے سرگرم رہے۔ اوائل محرم ۲۴ھ میں بھی جب خلیفۂ ثالث کا انتخاب ہونے لگاتو انھوں نے حضرت علی کو مشورہ دیا کہ ۶ اصحاب کی 
مجلس انتخاب میں وہ شامل نہ ہوں۔حضرت علی نے یہ کہہ کر انکار کر دیاکہ میں اختلا ف پسند نہیں کرتا۔
 عبدالرحما ن بن عوف نے یہ مسئلہ سلجھانے کی کوشش کی۔انھیں معلوم تھا کہ علی وعثمان ہی خلافت کے دو بنیادی حق دار ہیں۔ وہ ان دونوں سے الگ الگ ملے،حضرت علی سے پوچھا ،آپ سبقت الی الاسلام کی وجہ سے خلافت کے اہل ہیں لیکن اگر آپ کو خلافت نہ ملی تو آپ کے خیال میں یہ ذمہ داری کسے اٹھانی چاہیے؟ انھوں نے جواب دیا عثمان کو، پھریہی بات حضرت عثمان سے پوچھی تو انھوں نے حضرت علی کا نام لیا۔اب عبدالرحمان نے چاہا،انتخاب ان دونوں پر موقوف ہو جائے۔ انھوں نے اصحاب شوریٰ سے مطالبہ کیا کہ ان میں سے تین ان تینوں کے حق میں دست بردار ہو جائیں جنھیں وہ خلافت کا زیادہ حق دار سمجھتے ہیں۔ چنانچہ زبیرعلی کے حق میں ، سعد عبدالرحمان کے اور طلحہ عثمان کے حق میں دست بردار ہوگئے ۔ عبدالرحمان اپنے امیدوار نہ ہونے کا اعلان پہلے ہی کر چکے تھے ، اس لیے معاملۂ انتخاب علی وعثمان کے بیچ معلق ہو گیا۔
 عبدالرحمان اپنے بھانجے مسور بن مخرمہ کے گھر پہنچے۔علی و عثمان کو وہاں بلایا اور انھیں بتایاکہ اہل ایمان آپ دونوں میں سے ایک کو خلیفہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے ان دونوں سے عہد لیا،جسے وہ خلیفہ مقرر کریں گے، عدل و انصاف سے کام لے گااور جسے یہ ذمہ داری نہ مل پائی، سمع و اطاعت کرے گا۔فجر کے وقت منادی ہوئی کہ لوگ مسجد نبوی میں جمع ہو جائیں۔عوام الناس کے ساتھ انصار و مہاجرین کے زعمااور فوجی کمانڈر موجود تھے۔ نماز کے بعدعبدالرحمان منبر پر چڑھے ،انھوں نے وہ عمامہ پہن رکھا تھا جو نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ان کے سر پر باندھا تھا ۔ان کی دعاطویل ہو گئی تو سعد بن ابی وقاص پکارے، جلد انتخاب خلیفہ کا اعلان کر دیجیے ،مبادا لوگ کسی فتنے میں مبتلا ہو جائیں۔عبدالرحمان بن عوف نے علی کا ہاتھ تھامااور پوچھا، کیا وہ کتاب اﷲ ، سنت رسول اﷲﷺ اور سیرت شیخین ابو بکر و عمر پر عمل کریں گے؟ ان کے اقرار کے بعدکہ وہ اپنے علم کے مطابق مقدور بھر ایسا ہی کریں گے انھوں نے حضرت عثمان سے بھی یہی عہد لیا۔وہ عثمان کا ہاتھ تھامے رہے ،سر آسمان کی طرف بلند کیا اور تین بار کہا،اے اﷲ!سن لے اور گواہ رہ۔میں نے خلافت کی ذمہ داری عثمان کو سونپ دی۔ عبدالرحمان کے بعد ان کے پاس کھڑے علی نے عثمان کے ہاتھ پربیعت کی پھر مسجد میں موجود سب اہل ایمان بیعت کے لیے ٹوٹ پڑے ۔(ابن سعد)ایک روایت کے مطابق حضرت علی نے تاخیرکی اور عبدالرحمان کے پکارنے پر بیعت کے لیے لوٹے۔ (طبری)
غور کیجئے حضرت علی اور حضرت عباس رض مکمّل متفق نہ تھے لیکن امّت کی وحدت کو محفوظ رکھنا مقصود تھا !
ایک تبصرہ شائع کریں