اتوار، 25 نومبر، 2012

مسلہ خلافت میں اصحاب رض کی مختلف آرا !

!مسلہ خلافت میں اصحاب رض کی مختلف آرا

خلافت کا غیر موجود رہنا دین کے بعض بنیادی امور کا ناقابل عمل ہو جانا ہے اسلئے امّت کے ابتدائی رجال نے ہمیشہ اس امر کو مقدم رکھا !
ہے”۔

اب چونکہ خلافت کی عدم موجودگی میں تقریباً تمام اجتماعی احکامات پر عمل در آمد نہیں ہو سکتا اسی لئے فقہاء اقامت خلافت کو “اُمَّ الفرائض“ قرار دیتے ہیں۔  اﷲ تعالی نے قرآن میں فرماتے ہیں:

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (التوبة: 33)

“وہی وہ ذات ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ غالب کر دے اسے تمام ادیان پر خواہ (یہ بات) مشرکوں کو کتنی ہی ناگوارہ ہو“
یہ امر بدہی ہے کہ قرآن کے مندرجہ بالا حکم پر چلنے کے لئے یعنی اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرنے کے لئے، ایک طاقتور ریاست کی ضرورت ہے جو یقیناً خلافت کے علاوہ کچھ نہیں۔ ابن تیمیہ نے اپنی کتاب “السیاسة الشرعیہ” (صفحہ 189) پر اس کی یوں وضاحت فرمائی:

“ریاست (خلافت) کی زبردست طاقت کے بغیر دین خطرے میں ہوتا ہے اور الہامی قوانین (شریعت) کے نفاذ کے بغیر ریاست جابرانہ ادارہ بن جاتی ہے۔”

        خلافت کی فرضیت کو رسول اﷲ ﷺ نے اپنی احادیث مبارکہ کے ذریعے بڑے واضح انداز میں بیان فرمایا۔ امام مسلم نے ابن عمر سے روایت کیا کہ آپ ﷺ  نے فرمایا:

(مَن خَلَعَ یَدًا مِّنْ طَاعَة' لَقِیَ اللّٰہَ یَومَ القِیَامَة' لَاحُجَّة لَہُ ' وَمَن مَاتَ وَلَیسَ فِی عُنُقِہ بَیعَة ' مَاتَ مِیتَة جَاھِلِیَّة)

“جو شخص (امیر کی )اطاعت سے اپنا ہاتھ کھینچ لے تو قیامت کے دن وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہو گی ۔اور جو کوئی اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں بیعت (کا طوق) نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔”

!ثقیفہ بنو سعدہ

   رسول اﷲ ﷺ کے وصال کے بعد صحابہ کرام (r-a) نے بھی اسلامی ریاست یعنی خلافت کی بقاء کو ایک اہم ترین فریضہ گردانا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ صحابہ (r-a) جو آپ ﷺ پر جان چھڑکتے تھے، آپ ﷺ کے وضو کے پانی کو تبرکاً حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے مسابقت کرتے تھے۔ آپ ﷺ کو اپنے نفوس اور اپنے ماں باپ پر فوقیت دیتے تھے، آپ ﷺ کے وصال کے بعد ثقیفہ بنی صاعدہ میں جمع ہو کر خلافت کے اہم ترین فریضے میں جُت جاتے ہیں اور آپ ﷺ کے جسد پاک کی تجہیز و تدفین کو مؤخر کردیتے ہیں۔ حالانکہ اسلام کسی بھی مسلمان کی وفات کی صورت میں اس کے عزیز و اقارب کو اس کی تجہیز و تدفین جلد از جلد کرنے کا حکم دیتا ہے۔ لیکن اکابر صحابہ (r-a) جن میں حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عبد الرحمان بن عوف اور سعد بن عبادہ شامل تھے انصار کی ایک کثیر جماعت کے ساتھ ثقیفہ بنی سعدہ میں نئے خلیفہ کے انتخاب کے عمل میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ نیز کوئی بھی صحابی انہیں رسول اﷲ ﷺ کی تجہیز و تدفین کو ایک دن تک مؤخر کر کے خلافت کے قیام میں مصروف ہو جانے پر ملامت یا تنقید کا نشانہ نہیں بناتا۔ صحابہ (r-a) سے بڑھ کر اسلام اور شریعت کو کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی ان سے بڑھ کر شریعت کا کوئی پابند ہو سکتا ہے۔ چنانچہ یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب تمام صحابہ (r-a) ایک ایسی حدیث جانتے ہوں جس کے مطابق خلیفہ کا انتخاب رسول اﷲ ﷺ کی تجہیز و تدفین سے بھی بڑھ کر اہم اور فوری فریضہ ہو۔ یہ ہے خلافت کی فرضیت پر اجماع الصحابہ (r-a) سے دلیل۔ امام الحیثمی (807ھ) “صواعق الحراکة” میں فرماتے ہیں: “یہ امر سب کو معلوم ہے کہ صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین متفق تھے کہ دور نبوت کے خاتمے پر امام کا انتخاب واجب تھا۔ بلاشبہ انہوں نے اس فرض کو دیگر تمام فرائض پر فوقیت دی اور رسول اﷲ ﷺ کی تدفین کے بجائے اس (فرض کی تکمیل )میں جُت گئے۔”
یہ مسلمانو کے باہمی اجتماع اور انتخاب خلافت کی اعلی ترین مثال ہے 

حضور  کی وفات کے حادثہ سے حضرت ابوبکرصدیقؓ کی مذکورہ بالا تقریر کے نتیجہ میں صحابہ کرامؓ باہر آچکے تھے اور انہیں یہ یقین ہوچکا تھا کہ حضور  اپنے پروردگار کے پاس جاچکے ہیں ، لیکن اس کے ساتھ ہی انصارؓ و مہاجرینؓ میں حضور  کی خلافت کے مسئلہ کو لیکر ایک ایسا زبردست اختلاف پیدا ہوچکا تھا کہ اگر اس کو بروقت نہ روکا جاتا تو امت مسلمہ دو لخت ہوچکی ہوتی اور صحابہ کرامؓ جنہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسلام کی برکت سے اور حضور  کی تربیت کے نتیجہ میں بھائی بھائی بنادیا تھا،باہم دست و گریباں ہوجاتے اور اس طرح اسلام کا چراغ ہمیشہ کے لئے گل ہوجاتا، لیکن خدا کو توحید کی روشنی سے تمام عالم کو منور کرنا تھا اس لئے اس نے آسمانِ اسلام پر حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ جیسے مہر وماہ پیدا کردئے تھے، جنہوں نے اپنی عقل و سیاست کی روشنی میں افقِ اسلام کی ظلمت و تاریکی کو کافور کردیا، جیسے ہی حضرت ابوبکرؓ کو ثقیفۂ بنو ساعدہ میں انصار کے جمع ہونے کی اطلاع ملی،آپؓ حضرت عمرؓ کو ساتھ لئے ہوئے وہاں پہنچے، انصار نے دعویٰ کیا کہ ایک امیر ہمارا ہو اور ایک تمہارا! ظاہر ہے کہ اس دو عملی کا نتیجہ کیا ہوتا؟ ممکن تھا کہ مسند خلافت مستقل طور پر صرف انصار ہی کے سپرد کردی جاتی، لیکن دقت یہ تھی کہ قبائل عرب خصوصاً قریش ان کے سامنے گردنِ اطاعت خم نہیں کرسکتے تھے،پھر انصار بھی دو گروہ تھے، اوس اور خزرج اور ان میں باہم اتفاق نہ تھا، غرض ان دقتوں کو پیش نظر رکھ کر حضرت ابوبکرؓ نے کہا : "امراء ہماری جماعت سے ہوں اور وزراء تمہاری جماعت سے"۔ اس پر جناب بن المنذرؓ انصاری بول اٹھے: خدا کی قسم نہیں ! ایک امیر ہمارا ہو ،ایک تمہارا! حضرت ابوبکرؓ نے یہ جوش و خروش دیکھا تو نرمی و آشتی کے ساتھ انصار کے فضائل و محاسن کا اعتراف کرکے جو کچھ فرمایا وہ ان کی سیاسی بصیرت کا بیِّن ثبوت ہے، آپؓ نے فرمایا:"صاحبو! مجھے آپ کے محاسن سے انکار نہیں !لیکن درحقیقت تمام عرب قریش کے سواء کسی کی حکومت تسلیم نہیں کرسکتا، پھر مہاجرین اپنے تقدم اسلام اور رسول اللہ  سے خاندانی تعلقات کے باعث بہ نسبت آپ سے زیادہ استحقاق رکھتے ہیں ،یہ دیکھو ابو عبیدہ ابن الجراحؓ اور عمر ابن الخطابؓ موجود ہیں ، ان میں سے جس کے ہاتھ پر چاہو بیعت کرلو"۔ لیکن حضرت عمرؓ نے پیش قدمی کرکے خود حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ میں ہاتھ دیدیا اور کہا کہ: "نہیں !بلکہ ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں ، کیونکہ آپ ہمارے سردار، ہم لوگوں میں سب سے بہتر ہیں اور رسول اللہ  آپ کو سب سے زیادہ عزیز رکھتے تھے"۔ (۷)
چنانچہ اس مجمع میں حضرت ابوبکرؓ سے زیادہ کو ئی بااثر بزرگ اور معمر نہ تھا اس لئے اس انتخاب کو سب نے استحسان کی نگاہ سے دیکھا اور تمام خلقت بیعت کے لئے ٹوٹ پڑی، اس طرح یہ اٹھتا ہوا طوفان بصیرتِ صدیقیؓ کی برکت سے رک گیا اور لوگ حضور  کی تجہیز و تکفین میں مشغول ہوگئے۔
دکھے کس طرح اصحاب رسول رض نے اختلاف کو رفع کیا !
فاروق اعظم کی جانشینی  کا واقعہ !
پہلے اک بنیادی اصول سمجھ لینا ضروری ہے ،
بھائی صاحب انتخاب امیر کا دوسرا طریقہ جس کو فقہاء نے بالاتفاق درست قرار دیا ہے، وہ یہ کہ خلیفہٴ وقت خود اپنی زندگی میں اپنے بعد کے لیے امیر نامزد کردے، علامہ ماوردی نے اس کے جواز پر اجماع امت نقل کیا ہے،اس کا سب سے بڑا مأخذ حضرت صدیق اکبر کا عمل ہے، کہ آپ نے اپنی وفات سے پیشتر حضرت عمر فاروق کو اپنا جانشین تجویز فرمایا اوراس کا اعلان بھی اپنی زندگی میں فرمادیا، حضرت صدیق کی وفات کے بعد مسلمانوں نے بالاتفاق حضرت عمر کو اپنا خلیفہ تسلیم کیا، کسی ایک شخص نے بھی حضرت صدیق کے اس انتخاب کی مخالفت نہیں کی، حضرت عمر بن خطاب نے اپنے جانشین کے انتخاب کا یہ طریقہ اختیار فرمایاکہ کسی ایک شخص کو نامزد کرنے کے بجائے معاملہ ارباب حل وعقد کی ایک جماعت کے حوالے کردیا، یہ ایک محفوظ راستہ تھا؛ البتہ اس میں امیر کے اس اختیار پر روشنی پڑتی ہے کہ امیر کے معاملے کو تمام مسلمانوں کے بجائے ایک مخصوص کمیٹی کے حوالے کرسکتا ہے، اس چیز کو بھی تمام صحابہ نے من وعن تسلیم کیا، چنانچہ حضرت عمر کی وفات کے بعد جس وقت اس مجلس منتخبہ کی میٹنگ ہورہی تھی حضرت عباس نے اس مجلس میں شرکت کی خواہش کی تو حضرت علی نے جو اس کمیٹی کے اہم رکن تھے سختی کے ساتھ ان کو روک دیا۔ (الموسوعة الفقہیہ)
حضرت صدیق کے عمل سے ولی عہدی کا دستور جاری ہوا، یعنی امیر کو یہ اختیار حاصل ہوا کہ وہ اپنی حیات میں اپنا جانشین نامزد کردے۔

بھائی صاحب امیرالمؤمنین حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ منتخب فرمایا اوردس برس چھ ماہ چاردن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تخت خلافت پر رونق افروز ہو کر جانشینی رسول کی تمام ذمہ داریوں کو باحسن وجوہ انجام دیا۔۲۶ذی الحجہ ۲۳ھ؁ چہار شنبہ کے دن نماز فجر میں ابولؤلوہ فیروز مجوسی کافر نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شکم میں خنجر مارا اور آپ یہ زخم کھا کر تیسرے دن شرف شہادت سے سرفراز ہوگئے ۔ بوقت وفات آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر شریف تریسٹھ برس کی تھی۔ حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور روضۂ مبارکہ کے اندر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلوئے انور میں مدفون ہوئے ۔

(تاریخ الخلفاء وازالۃ الخفاء وغیرہ)

 حضرت ابوبکر ؓ کی خلافت کو ابھی صرف سوادوبرس ہوئے تھےاور اس قلیل عرصہ میں مدعیان نبوت ،مرتدین اور منکرین زکوۃ کی سرکوبی کے بعد فتوحات کی ابتداء ہی ہوئی تھی کہ پیام اجل پہنچ گیا،حضرت عائشہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن جب کہ موسم نہایت سردوخنک تھا، آپ نے غسل فرمایا غسل کے بعد بخار آگیا اور مسلسل پندرہ دن تک شدت کے ساتھ قائم رہا، اس اثناء میں مسجد میں تشریف لانے سے بھی معذور ہوگئے؛چنانچہ آپ کے حکم سے حضرت عمر ؓ امامت کی خدمت کے فرائض انجام دیتے تھے۔
مرض جب روز بروزبڑھتا گیااور افاقہ سے مایوسی ہوتی گئی تو صحابہ کرام ؓ کو بلاکر جانشینی کے متعلق مشورہ کیا اور حضرت عمر ؓ کا نام پیش کیا، حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے کہا عمر ؓ کے اہل ہونے میں کس کو شبہ ہوسکتا ہے ؛لیکن وہ کسی قدر متشدد ہیں"حضرت عثمان ؓ نے کہا"میرے خیال میں عمر ؓ کا باطن ظاہر سے اچھا ہے"لیکن بعض صحابہ ؓ کو حضرت عمر ؓ کے تشدد کے باعث پس وپیش تھی؛چنانچہ حضرت طلحہ عیادت کے لئے آئےتو شکایت کی کہ آپ عمر ؓ کو خلیفہ بنانا چاہتے ہیں، حالانکہ جب آپ کے سامنے وہ اس قدر متشدد تھے تو خدا جانے آئندہ کیا کریں گے؟حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جواب دیا" جب ان پر خلافت کا بار پڑے گا تو ان کو خود نرم ہوناپڑے گا۔"اسی طرح ایک دوسرے صحابی نے کہا، آپ عمر ؓ کے تشدد سے واقف ہونے کے باوجود ان کو جانشین کرتے ہیں ، ذراسوچ لیجئے آپ خدا کے یہاں جارہے ہیں وہاں کیا جواب دیجئے گا۔"فرمایا "میں عرض کروں گا خدایا میں نے تیرے بندوں میں سے اس کو منتخب کیا ہے جوان میں سب سے اچھا ہے۔"
غرض سب کی تشفی کردی اور حضرت عثمان ؓ کو بلا کر عہد نامہ خلافت لکھوانا شروع کیا، ابتدائی الفاظ لکھے جاچکے تھے غش آگیا، حضرت عثمان ؓ نے یہ دیکھ کر حضرت عمر ؓ کا نام اپنی طرف سے بڑھادیا،تھوڑی دیر کے بعد ہوش آیا تو حضرت عثمان ؓ سے کہا کہ پڑھ کرسناؤ،انہوں نے پڑھا تو بے ساختہ اللہ اکبر پکار اٹھے اور کہا خدا تمہیں جزائے خیر دے تم نے میرے دل کی بات لکھ دی، غرض عہد نامہ مرتب ہوچکا تو اپنے غلام کو دیا کہ جمع عام میں سنادے اور خود بالاخانہ پر تشریف لے جاکر تمام حاضرین سے فرمایا کہ میں نے اپنے عزیز بھائی کو خلیفہ مقرر نہیں کیا ہے ؛بلکہ اس کو منتخب کیا ہے جو تم لوگوں میں سب سے بہتر ہے، تمام حاضرین نے اس حسن انتخاب پر سمعنا وطعنا کہا، اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حضرت عمر ؓ کو بلاکر نہایت مفید نصیحتیں کیں جو ان کی کامیاب خلافت کے لئے نہایت عمدہ دستور العمل ثابت ہوئیں۔
(طبقات ابن سعد قسم اول ج ۳ وصیت ابوبکر ؓ ص ۴۲)

یہاں بھی کچھ اصحاب رض کو حضرت عمر رض  کی جانشینی پر اختلاف تھا لیکن کسی نے بھی صدیق اکبر رض کی راۓ سے انکار نہیں کیا ! 

ایک تبصرہ شائع کریں