جمعہ، 23 نومبر، 2012

انسان الله کا خلیفہ ہے ! حصہ: اول

انسان الله کا خلیفہ ہے !( حصہ: اول )

رشاد باری تعالیٰ ہے :
”ولقد کرمنا بنی آدم وحملنھم فی البر والبحر ورزقنھم من الطیبت وفضلنھم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلا “ (سورة الاسراء ،۷۰)
ترجمہ: ” اور ہم نے آدم کی اولا دکو عزت دی اور ہم نے ان کو خشکی اور دریا میں سوار کیا اور نفیس نفیس چیزیں ان کو عطافرمائیں اور ہم نے ان کو بہت سی مخلوقات پر فوقیت دی“۔
اس کے ساتھ ہی اللہ جل شانہ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا فرماکر انسان کو خلافت سے بھی نوازا اور فرشتوں کے سامنے اعلان فرمادیا :
”واذقال ربک للملئکة انی جاعل فی الارض خلیفة “ (سورةالبقرة،۳۴)
ترجمہ: ”اورجس وقت آپ کے رب نے فرشتوں کے سامنے ارشاد فرمایا کہ ضرور میں بناوٴں گا زمین پر ایک نائب“۔ 

انسان کے لیے کائنات کو تسخیر کیا گیا !
اسکے دو درجات ہیں !
١. خلافت عقلی : بقول وحید الدین خان،
کائنات اک بہت بڑی کتاب کی مانند ہمارے سامنے پھیلی ہوئی ہے مگر یہ اک ایسی انوکھی کتاب ہے جس کے کسی صفحہ پر اس کا موضوع اور اسکے مصنف کا نام تحریر نہیں اگر چہ اس کتاب کا اک اک حرف یہ بول رہا ہے کہ اس کا موضوع کیا ہوسکتا ہے اور اسکا مصنف کون ہے – جب کوئی شخص آنکھ کھولتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ اک وسیع و عریض کائنات کے درمیان کھڑا ہے تو بالکل قدرتی طور پر اس کے ذہن میں سوال آتا ہے کہ ---- " میں کون ہوں اور یہ کائنات کیا ہے –" وہ اپنے آپ کو اور کائنات کو سمجھنے کیلئے بے چین ہوتا ہے اپیہ فطرت میں سموئے ہوئے اشارات کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہے دنیا میں وہ جن حالات سے دوچار ہورہا ہے چاہتا ہے کہ وہ انکے حقیقی اسباب معلوم کرے غرض اس کے ذہن میں بہت سے سولات اٹھتے ہیں جنکا جواب معلوم کرنے کیلئے وہ بیقرار رہتا ہے مگر وہ نہیں جانتا کہ اس کا جواب کیا ہوسکتا ہے یہ سوالات محض فلسفیانہ قسم کے سوالات نہیں ہیں بلکہ یہ انسان کی فطرت اور اسکے حالات کا قدرتی نتیجہ ہیں – یہ ایسے سوالات ہیں جن سے دنیا میں تقریبا ہر شخص کو اک بار گزرنا ہوتا ہے – جن کا جواب نہ پانے کی صورت میں کوئی پاگل ہوجاتا ہے ،کوئی خودکشی کرلیتا ہے ،کسی کی ساری زندگی بے چینیوں میں گذرجاتی ہے اور کوئی اپنے حقیقٰی سوال کا جواب نہ پاکر دنیا کی دلچسپیوں میں کھوجاتا ہے اور چاہتا ہے اسی میں گم ہوکر اس ذہنی پریشانی سے نجات حاصل کرے – وہ جو کچھ حاصل کرسکتا ہے اسکو حاصل کرنے کی کوشش میں اسکو بھلا دیتا ہے جس کو وہ حاصل نہ کرسکا -

یہ عمل قیامت تک جاری رہے گا ،
علامہ کہتے ہیں !وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں
خدا مجھے نفس جبرئیل دے تو کہوں
ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخی افلاک میں ہے خوار و زبوں
حیات کیا ہے ، خیال و نظر کی مجذوبی
خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گونا گوں
عجب مزا ہے ، مجھے لذت خودی دے کر
وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ رہوں
ضمیر پاک و نگاہ بلند و مستی شوق
نہ مال و دولت قاروں ، نہ فکر افلاطوں
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دما دم صدائے ‘کن فیکوں’
علاج آتش رومی کے سوز میں ہے ترا
تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں
٢ . خلافت تکوینی  !
یعنی مادی اصولوں کے خلاف غیر مادی اسباب سے تسخیر اسباب جسکو معجزہ یا کرامت کہینگے ،
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
لغت کے اعتبار سے"کرامات" لفظ "کرامۃ" کی جمع ہے، جس کا معنی ہے "خارقِ عادت امر" یعنی انسانوں میں معلوم ومعروف امر کے برعکس امر کا وقوع۔
کرامت کی شرعی تعریف
شرعی اصطلاح میں کرامت سے مراد وہ خرق ِعادت امور جنہیں اللہ تعالی اپنے اولیاء کے ہاتھوں پر جاری فرماتا ہے۔
ولی کی شرعی تعریف
"الاولیاء" لفظ "ولی" کی جمع ہے۔ اور ولی (ہر) مومن ومتقی شخص کو کہتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (62) الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ

(یونس: 62-63)
(یاد رکھو اللہ تعالی کے دوستوں (اولیاء اللہ) پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں۔ یہ وہ ہیں کہ جو ایمان لائے اور (برائیوں) سے پرہیز کرتے ہیں یعنی تقوی اختیار کرتے ہیں)
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ نے فرمایا: ‘‘اہل سنت کے (عقیدے کے) اصول میں سے یہ بات بھی ہےکہ کرامات اولیاء اور جو خرقِ عادت امور، مختلف علوم ومکاشفات اور مختلف قسم کی قدرتوں اور تأثیرات کے حوالے سے ان کے ہاتھوں رونما ہوتے ہیں، کی تصدیق کی جائے۔ اسی طرح سے سابقہ امت سے سورۂ کہف وغیرہ میں جو منقول ہے اور اس امت کے اول طبقہ صحابہ کرام، تابعین y اور امت کے دیگر افراد سے جو کرامات منقول ہیں، کی تصدیق کی جائے۔ اور یہ کرامات اس امت میں قیامت تک موجود رہیں گی’’۔



خلافت بہ معنا حکومت !


'' یقینا میں زمین میں ایک نائب بنانے والا ہوں۔''

امام قرطبی اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

۲۔(ہٰذِہ الاٰیةُ اَصْل فِی نَصْبِ اَمِامٍ وَخَلَیفة یُسْمَعُ لہُ ویْطَاعْ لتجتمع بہ الکلمة وتَنْفُذُ بِہ احکام الخَلِیْفَةِ ولا خلافَ فیِ وُجُوبِ ذٰلِکَ بَیْنَ الأمةولَابَیْنَ الأئمة )[الجامع لاحکام القرآن١/٢٥١]

'' یہ آیت امام و خلیفہ کے تقرر کے بارے میں قاعدہ کلیہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسا امام جس کی بات سنی جائے اور اس کی اطاعت کی جائے تاکہ کلمہ (اسلام کی شیرازہ بندی) اس سے مجتمع رہے اور خلیفہ کے احکام نافذ ہوں۔ امت اور آئمہ میں خلیفہ کے تقرر کے واجب (فرض کفایہ) ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔'
انبیاء علیہم السلام کی بعثت ایسے وقت میں ہوتی ہے جبکہ دنیا میں ظلمت اور تاریکی کا دور دورہ ہوتا ہے اور’’ظھر الفساد فی البر والبحر‘‘ کی کیفیت ہوتی ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے طفیل اللہ تعالیٰ ان ظلمتوں اور اندھیروں کو اپنے نور کے ذریعہ زائل کرتا ہے اور ایمان لانے والی اور عمل صالح کرنے والی جماعتیں کھڑی کر دیتا ہے۔ 



  •  قرآن کریم میں جہاں جہاں خلیفہ کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کے بعد الارض کا لفظ بھی ضرور آیا ہے اور "إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً" سے ثابت ہوا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے آدمی یعنی بنی آدم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے ،بنی آدم کا اشرف المخلوقات ہونا ظاہر اور نوع انسان کا زمینی مخلوقات پر حکمراں ہونا عیاں ہے پس یہ خلافت انسان کی جو زمین کے ساتھ مخصوص ہے یقیناً خلافت الٰہیہ ہے اور نوع انسان خلیفۃ اللہ ؛لیکن خدائے تعالیٰ کی ذات جو سب کی خالف ومالک ہے،اس سے بہت اعلیٰ وارفع ہے کہ من کل الوجوہ کوئی مخلوق چاہے وہ اشرف المخلوقات ہی کیوں نہ ہو اس کی جانشین یعنی خلیفہ ہوسکے پس نوع انسان کی خلافت الہیہ من وجہ تسلیم کرنی پڑے گی اور وہ بجز اس کے اورکچھ نہیں ہوسکتی کہ جس طرح خدائے تعالیٰ تمام موجودات مخلوقات کا حقیقی حکمراں اورشہنشاہ ہے اسی طرح زمین میں صرف نوع انسان ہی تمام دوسری مخلوقات پر بظاہر حکمراں نظر آتی ہے اور ہر چیز اورہر زمینی مخلوق سے اپنی فرماں برداری انسان کرالیتا ہے


انبیا کی خلافت !
''لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَےِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَامَعَھُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِےْزَانَ لِےَقُوْمَ النَّاسُ بِا لْقِسْطِ۔۔۔'' ٢
''اور ہم نے اپنے انبیاء کو واضح نشانیاں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب (قانون ) اور میزان (عدالت )کو بھی نازل کر دیا تاکہ لو گوں میں انصاف کو قائم کریں ''
انبیا کا مقام پوری امّت سے بالاتر ہوتا ہے اسلئے انبیا کے بعد خلافت امتوں تفویض ہوتی ہے !

 وَعَدَ اﷲ ُالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَکِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا يَعْبُدُوْنَنِیْ لَا يُشْرِکُوْنَ بِیْ شَيْئًا وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۤئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ. (نور ٢٤:٥٥)'' تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے، ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو اس ملک میں اقتدار عطا فرمائے گا۔جس طرح اس نے ان لوگوں کو عطا فرمایا جو ان سے پہلے گزرے اور ان کے اس دین کو مضبوطی سے قائم کردے گا جو اس نے ان کے لیے پسند فرمایااور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔ وہ میری ہی عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرے ساتھ شریک نہ کریں گے۔اور جو اس کے بعد پھر منکر ہوں گے وہی ہیں جو نافرمان ٹھیریں گے۔ ''
خلافت راشدہ !

''اللہ کے جو پیغمبر بھی اس دنیا میں آئے،قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی دعوت الی اللہ اور انذار و بشارت کے لیے آئے۔ سورہ بقرہ کی آیت 'کان الناس امة واحدة فبعث اللّة النبيين مبشرين و منذرين ' میں یہی بات بیان ہوئی ہے۔ ان نبیوں میں سے اللہ تعالیٰ نے جنھیں رسالت کے منصب پر فائز کیا،ان کے بارے میں البتہ، قرآن بتاتا ہے کہ وہ اس انذار کو اپنی قوموں پر شہادت کے مقام تک پہنچا دینے کے لیے بھی مامور تھے۔ قرآن کی اصطلاح میں اس کے معنی یہ ہیں کہ حق لوگوں پر اس طرح واضح کر دیا جائے کہ اس کے بعد کسی شخص کے لیے اس سے انحراف کی گنجایش نہ ہو: 'لئلا يکون للناس علی اللّٰه حجة بعد الرسل' ( تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے اللہ کے سامنے کوئی عذر پیش کرنے کے لیے باقی نہ رہے )۔ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان رسولوں کو اپنی دینونت کے ظہور کے لیے منتخب فرماتے اور پھر قیامت سے پہلے ایک قیامت صغریٰ ان کے ذریعے سے اسی دنیا میں برپا کر دیتے ہیں۔ انھیں بتا دیا جاتا ہے کہ وہ خدا کے ساتھ اپنے میثاق پر قائم رہیں گے تو اس کی جزا اور اس سے انحراف کریں گے تو اس کی سزا انھیں دنیا ہی میں مل جائے گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کا وجود لوگوں کے لیے ایک آیت الٰہی بن جاتا ہے اور وہ خدا کو گویا ان کے ساتھ زمین پر چلتے پھرتے اور عدالت کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ یہی شہادت ہے۔ یہ جب قائم ہو جاتی ہے تو جن کے ذریعے سے قائم ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ انھیں غلبہ عطا فرماتے اور ان کی دعوت کے منکرین پر اپنا عذاب نازل کر دیتے ہیں۔''(قانون دعوت 
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت مختلف مراحل طے کرتے ہوئے، جب اپنے اتمام کو پہنچی تو عرب کی سر زمین سیاسی اعتبار سے ایک ریاست کی صورت اختیار کر چکی تھی۔ قبل ازیں عرب قبائل اپنے اپنے علاقوں میں خود مختار حیثیت سے رہتے تھے۔اگرچہ ان میں رہن سہن، رسوم ورواج، لباس وطعام اور مذہبی عقائد و اعمال کااشتراک تھا، لیکن یہ اشتراک انھیں کسی سیاسی وحدت میں تبدیل کرنے میں ناکام رہا تھا۔ہماری مراد یہ ہے کہ وہ کسی ایک سیاسی یا اجتماعی نظام میں جڑے ہوئے نہیں تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی کامیابی کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کی اٹھائی ہوئی دینی اور اخلاقی اصلاح کی تحریک بڑے پیمانے پر کامیاب ہوئی۔ دوسرا یہ کہ عرب منتشر اور متفرق گروہوں میں منقسم نہیں رہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سربراہی میں ایک سیاسی وحدت کی صورت اختیار کر گئے۔

شرائط خلافت !
نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ
مَا بَالُ رِجَالٍ یَشْتَرِطُوْنَ شُرُوْ طًا لَیْسَتْ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ مَا کَانَ مِنْ شَرْطٍ لَیْسَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ فَھُوَ بَاطِلٌ وَ اِنْ کَانَ مِائَۃَ شَرْطٍ قَضَاءُ اللّٰہِ اَحَقُّ وَ شَرْطُ اللّٰہ اَوْثَقُ
لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کا اللہ کی کتاب میں پتہ نہیں۔ جو شرط اللہ کی کتاب میں نہ ہو وہ باطل ہے اگرچہ ایسی سو شرطیں بھی ہوں ۔ اللہ ہی کا حکم حق ہے اور اللہ ہی کی شرط پکی ہے ۔ ( بخاری ،کتاب البیوع۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا)
 عاقل و بالغ ہو
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ !
وَلَا تُؤْتُوا السُّفَھَآءَ اَمْوَالَکُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ قِیٰمًا وَّارْزُقُوْھُمْ فِیْھَا وَاکْسُوْھُمْ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا ﴿﴾ وَابْتَلُوا الْیَتٰمٰی حَتّٰٓی اِذَا بَلَغُوْا النِّکَاحَ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْھُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْآ اِلَیْھِمْ اَمْوَالَھُمْ 
اور نہ دو کم عقلوں کو اپنے مال جس کو بنایا اللہ نے تمہارے لیے ذریعہ گزران اور کھلاؤ انہیں اس میں سے اور پہناؤ بھی اور سمجھاؤ انہیں اچھی بات۔ اور جانتے پرکھتے رہو یتیموں کو یہاں تک کہ جب پہنچ جائیں نکاح کی عمر کو ، پھر اگر تم پاؤ ان میں عقل کی پختگی تو دے دو ان کو مال ان کے۔ (۴:النساء۔۵،۶)
درج بالا آیات میں یتیموں کوان کے مال صرف اس وقت حوالے کرنے کا حکم نکلتا ہے جب وہ عاقل و بالغ ہو جائیں۔ جب کسی کو اس کا مال اس وقت تک نہیں دیا جا سکتا جب تک کہ وہ عاقل و بالغ نہ ہو جائے تو اہل ِ ایمان کی سیاست کی ذمہ داری کسی ایسے فردکو کیونکر دی جا سکتی ہے جو عاقل و بالغ نہ ہو۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خلیفہ صرف اسی کو بنایا جائے گا جو عاقل و بالغ ہو ۔
 خلافت کی خواہش سے بے نیاز ہو
جیسا کہ نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ!
تَجِدُوْنَ النَّاسِ مَعَادِنَ فَخِیَارُھُمْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ خِیَارُھُمْ فِی الْاِسْلَامِ اِذَا فَقُھُوْا وَ تَجِدُوْنَ مِنْ خَیْرِ النَّاسِ فِی ھٰذَا الْاَمْرِ اَکْرَھُھُمْ لَہ‘ قَبْلُ اَنْ یَّقَعَ فِیْہِ 
تم لوگوں کو معدن (معدنی کان سے نکلی ہوئی چیز) کی مانند پاؤ گے جو جاہلیت میں اچھا ہوتا ہے وہی اسلام میں بھی اچھا ہوتا ہے جب وہ دین کی سمجھ پیدا کرلے اور تم اس امر(خلافت) کے لیے وہی آدمی زیادہ موزوں پاؤ گے جو اس کو بہت بری چیز خیال کرے تا آنکہ ایسا شخص خلیفہ بنا دیا جائے۔ 
 مرد ہو
نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ!
لَنْ یُّفْلِحَ قَومٌ وَلَّوْا اَمْرَھُمْ اِمْرَاَۃً
وہ قوم کبھی فلاح نہیں پاسکتی جو عورت کو اپنا حاکم بنائے۔ 
(بخاری ،کتاب المغازی ۔ابو بکرہ رضی اللہ عنہ)
 اہل ِ ایمان میں سے ہو 
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ! 
یٰٓاَ یُّھَاا لَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی ا لْاَ مْرِ مِنْکُمْ 
اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور صاحبانِ امر کی جو تم (اہل ایمان) میں سے ہوں۔ 
(۴:النساء ۔ ۵۹)
اک اور اہم معاملہ قرشی ہونے کا ہے !
نبیﷺ کے ارشادات ہیں کہ!
اَلاَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ
امامت قریش میں رہے گی۔ (احمد: باقی مسند المکثرین۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ) 
لَا یَزَالُ ھٰذَا الْاَمْرُ فِیْ قُرَیْش ٍمَا بَقِیَ مِنْھُمُ اثْنَان ِ
یہ خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گی بے شک ان (قریش ) میں سے دو ہی آدمی باقی رہ جائیں۔
(بخاری ،کتاب الاحکام ۔عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ)
لَا یَزَالُ ھٰذَا الْاَمْرُ فِیْ قُرَیْش ٍمَا بَقِیَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ
یہ خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گی بے شک انسانوں میں سے دو ہی آدمی باقی رہ جائیں۔ 
(مسلم:کتاب الامارۃ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ)
اِنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ فِیْ قُرَیْشٍ لَا یُعَادِیْھِمْ اَحَدَ اِلَّا کَبَّہُ اللّٰہُ عَلَی وَجْھِہٖ مَٓا اَ قَامُوْا الدِّیْنَ
یہ خلافت قریش میں رہے گی جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے اور جو کوئی ان سے دشمنی کرے گا اللہ اس کو اوندھے منہ جہنم میں گرائے گا۔ ( بخاری: کتاب الاحکام۔امیر معاویہ رضی اللہ عنہ)
حدیث بالا سے عام طور پر لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ جب قریش دین کو قائم نہ رکھیں گے تو خلافت ان سے چھن کر غیر قریشیوں کے سپرد ہو جائیگی لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ ارشادات واضح ہیں کہ ’’یہ خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گی‘‘ اس بنا پر آپ کے اس ارشاد کہ ’’ یہ خلافت قریش میں رہے گی جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے‘‘ کا صاف مطلب یہ سامنے آتا ہے کہ جب قریش دین کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو خلافت سرے ہی سے ختم ہو جائیگی نہ کہ غیر قریش کو منتقل ہو جائیگی درج بالا احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ غیر قریشی کی خلافت غیر شرعی ہو گی۔
ہنگامی حالات !
حبشی غلام کی خلافت کا مسئلہ 
نبی ﷺ کے ارشادات ہیں کہ!
اِسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبَشِیٌ کَانَ رَأَسُہ‘ زَبِیْبَۃٌ
حکم سنو اور اس کی اطاعت کرو بے شک تم پر ایک حبشی غلام مقرر کیا جائے جس کا سر منقے کی طرح ہو۔
(بخاری:کتاب الاحکام۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ)
اِنْ اُمِّرَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌحَسِبْتُھَا قَالَتْ اَسْوَدُ یَقُوْدُکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ فَاسْمَعُوْا لَہٗ وَاَطِیْعُوْا۔
اگر تمہارے اوپر ہاتھ پاؤں کٹا کالا غلام بھی امیر بنایا جائے اور وہ تمہیں کتاب اللہ کے ساتھ چلائے تو اس کا حکم سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ ( مسلم: کتاب الامارۃ ۔جدت یحیٰ بن حصین رضی اللہ عنہا)
بعض لوگ نبیﷺ کے درج بالا ارشاد ات کی بنا پرغیر قریشی کے علاوہ کسی غلام کو بھی خلیفہ بنانا جائز سمجھتے ہیں ۔جبکہ آپﷺ کے ارشادات کو غور سے پڑھنے سے بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ آپ نے اسْتَعْمِلَ(استعمال کیا جائے) اور اُمِّرَ( امیرمقرر کیا جائے ) کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔جو اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ اس استعمال کیے جانے والے یا مقرر کیے جانے والے امیرکے پس منظر میں اس سے بھی بڑی کوئی ایسی اتھارٹی موجود ہے جو اس کو استعمال کر رہی ہے یا امیرمقرر کر رہی ہے اور یہ بات طے ہے کہ کتاب و سنت میں امت کے اندر اللہ کے بعد سب سے بڑی اتھارٹی نبی کی ہوتی ہے اور اُس کے بعد خلیفہ کی جو امیر مقرر کرتی ہے جیسا کہ ذیل کی حدیث سے واضح ہوتا ہے ۔ 
بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سَرِیَّۃً وَاسْتَعْمَلَ عَلَیْہِمْ رَجُلًا مِّنَ الْاَنْصَارِ وَاَمَرَ ھُمْ اَنْ یَّسْمَعُوْا لَہٗ وَ یُطِیْعُوْ ہُ 
رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر ایک انصاری کو امیر مقررکیا اور لوگوں کو اس کا حکم سننے اور اس کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ۔ (مسلم :کتاب الامارۃ۔علی رضی اللہ عنہ)
درج بالا احادیث سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ مقرر کیا جانے والا امیرخلیفہ نہیں بلکہ خلیفہ کی طرف سے مقرر کیا جانے والا کوئی ذیلی حاکم (سپہ سالار یا کسی صوبے یا محکمے کا امیر) ہے جو غیر قریشی بھی ہو سکتا ہے اور غلام بھی لیکن وہ خلیفہ نہیں ہوسکتا ۔ 
حبشی غلام کی خلافت کا مسئلہ 
نبی ﷺ کے ارشادات ہیں کہ!
اِسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبَشِیٌ کَانَ رَأَسُہ‘ زَبِیْبَۃٌ
حکم سنو اور اس کی اطاعت کرو بے شک تم پر ایک حبشی غلام مقرر کیا جائے جس کا سر منقے کی طرح ہو۔
(بخاری:کتاب الاحکام۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ)
اِنْ اُمِّرَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌحَسِبْتُھَا قَالَتْ اَسْوَدُ یَقُوْدُکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ فَاسْمَعُوْا لَہٗ وَاَطِیْعُوْا۔
اگر تمہارے اوپر ہاتھ پاؤں کٹا کالا غلام بھی امیر بنایا جائے اور وہ تمہیں کتاب اللہ کے ساتھ چلائے تو اس کا حکم سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ ( مسلم: کتاب الامارۃ ۔جدت یحیٰ بن حصین رضی اللہ عنہا)
بعض لوگ نبیﷺ کے درج بالا ارشاد ات کی بنا پرغیر قریشی کے علاوہ کسی غلام کو بھی خلیفہ بنانا جائز سمجھتے ہیں ۔جبکہ آپﷺ کے ارشادات کو غور سے پڑھنے سے بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ آپ نے اسْتَعْمِلَ(استعمال کیا جائے) اور اُمِّرَ( امیرمقرر کیا جائے ) کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔جو اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ اس استعمال کیے جانے والے یا مقرر کیے جانے والے امیرکے پس منظر میں اس سے بھی بڑی کوئی ایسی اتھارٹی موجود ہے جو اس کو استعمال کر رہی ہے یا امیرمقرر کر رہی ہے اور یہ بات طے ہے کہ کتاب و سنت میں امت کے اندر اللہ کے بعد سب سے بڑی اتھارٹی نبی کی ہوتی ہے اور اُس کے بعد خلیفہ کی جو امیر مقرر کرتی ہے جیسا کہ ذیل کی حدیث سے واضح ہوتا ہے ۔ 
بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سَرِیَّۃً وَاسْتَعْمَلَ عَلَیْہِمْ رَجُلًا مِّنَ الْاَنْصَارِ وَاَمَرَ ھُمْ اَنْ یَّسْمَعُوْا لَہٗ وَ یُطِیْعُوْ ہُ 
رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر ایک انصاری کو امیر مقررکیا اور لوگوں کو اس کا حکم سننے اور اس کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ۔ (مسلم :کتاب الامارۃ۔علی رضی اللہ عنہ)
درج بالا احادیث سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ مقرر کیا جانے والا امیرخلیفہ نہیں بلکہ خلیفہ کی طرف سے مقرر کیا جانے والا کوئی ذیلی حاکم (سپہ سالار یا کسی صوبے یا محکمے کا امیر) ہے جو غیر قریشی بھی ہو سکتا ہے اور غلام بھی لیکن وہ خلیفہ نہیں ہوسکتا ۔ 




ایک تبصرہ شائع کریں