جمعہ، 23 نومبر، 2012

انسان الله کا خلیفہ ہے ( حصّہ: دوم )


انسان الله کا خلیفہ ہے  ( حصّہ: دوم )

اقسام خلافت  !
 خلافت عامہ!
حضرت شاہ اسماعیل شہید اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

'' پس جیسا کہ کبھی کبھی دریائے رحمت سے کوئی موج سربلند ہوتی ہے اور آئمہ ہدیٰ میں سے کسی امام کو ظاہر کرتی ہے ایسا ہی اللہ کی نعمت کمال تک پہنچتی ہے تو کسی کو تخت خلافت پر جلوہ افروز کر دیتی ہے اور وہی امام اس زمانے کا خلیفہ راشد ہے اور وہ جو حدیث میں وارد ہے کہ خلافت ِراشدہ کا زمانہ رسول مقبول علیہ الصلوٰة والسلام کے بعد تیس سال تک ہے اس کے بعد سلطنت ہو گی تو اس سے مراد یہ ہے کہ خلافت راشد متصل اور تو اتر طریق پر تیس ٣٠ سال تک رہے گی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قیام قیامت تک خلافت ِراشدہ کا زمانہ وہی تیس سال ہے اور بس۔ بلکہ حدیث مذکورہ کا مفہوم یہی ہے کہ خلافت راشد ہ تیس سال گزرنے کے بعد منقطع ہو گی نہ یہ کہ اس کے بعد پھر خلافت ِراشدہ کبھی آہی نہیں سکتی۔ بلکہ ایک دوسری حدیث خلافت ِراشدہ کے انقطاع کے بعد پھر عود کرنے پر دلالت کرتی ہے۔ چنانچہ نبی ﷺنے فرمایا ہے:

تکون النبوة فیکم ماشاء اﷲ ان تکون ثم یرفعہا اﷲ تعالیٰ ثم تکون خلافة علی منہاج النبوة فیکم ماشاء اﷲ ان تکون ثم یرفعہا اﷲ ثم تکون ملکاً عاضا فیکون ماشاء اﷲ ان یکون ثم یرفعہا اﷲ ثم یکون ملکاً جبرّیاً فیکون ماشاء اﷲ ان یکون ثم یرفعہا اﷲ تعالیٰ ثم تکون خلافة علیٰ منہاج النبوة ثم سکت.(منصب امامت ص١١٦۔١١٧)

'' نبوت تم میں رہے گی جب تک اللہ چاہے گا پھر اللہ تعالیٰ اسے اٹھالے گا اور بعد نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی جو اللہ کے منشاء تک رہے گی پھر اسے بھی اللہ اٹھا لے گا۔پھر بادشاہی ہو گی اور اسے بھی اللہ جب تک چاہے گا رکھے گا پھر اسے بھی اٹھا لے گا۔ پھر سلطنت جابرانہ ہو گی جو منشاء باری تعالیٰ تک رہے گی۔ پھر اسے بھی اُٹھالے گا اور اس کے بعد پھر نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی، پھر آپﷺ خاموش ہو گئے۔''

حدیث کے الفاظ پر غور کریں !
١. پہلے نبوت 
٢.خلافة علی منہاج النبوة
٣.ملکاً عاضا(خلافت ) عام 
٤.ملکاً جبرّیاً(خلافت )جابرانہ 
٥. ثم یرفعہا اﷲ تعالیٰ(یعنی خلافت سرے سے مفقود ہو جانے گی )
٦.ثم تکون خلافة علیٰ منہاج النبوة ثم سک(دوبارہ قیام خلافت )

طریق انتخاب !
خلیفہ کے تقرر کے چار طریقے ہیں۔

۱۔ اہل الحل والعقدکا بیعت کرلینا: یہ طریقہ دو مواقع پر جاری ہوتا ہے۔ (١)خلیفہ ولی عہد اور شوریٰ بنائے بغیر فوت ہو جائے۔(٢)خلیفہ خود ان امور کی وجہ سے خلافت سے معزول ہو جائے، جو اس کے بذات خود خلافت سے معزول ہونے کا تقاضا کرتے ہیں یا اہل حل وعقد خلیفہ کوان امور کی وجہ سے معزول کر دیں جن کے ذریعہ وہ خلیفہ کو معزول کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔


٢ .تولیت ،ولی عہدی: اس کی صورت یہ ہے کہ خلیفۂ عادل مسلمانوں کی خیر خواہی کو مد نظررکھتے ہوئے جامع شروط خلافت لوگوں میں سے کسی شخص کو منتخب کر کے لوگوں کے سامنے اس کی ولی عہد کا اعلان کرے کہ میری وفات کے بعد یہ شخص تمہارا خلیفہ ہو گا اور تم اس کی اتباع کرنا۔ اب ولی عہد تمام جامع شروط الخلافۃ لوگوں میں سے خلافت کے لیے مخصوص ہو جائے گا اور خلیفہ کی وفات کے بعد اسی کو خلیفہ بنانا امت پر لازم ہے۔ خلیفہ اپنی زندگی تک خودمنصبِ خلافت پر فائز رہے گا اور اس کی وفات کے بعد ولی عہد کی بیعت ِاطاعت کی جائے گی جس سے وہ خلیفہ بن جائے گا۔


۳۔ شورٰی۔ شوریٰ کا مطلب یہ ہے کہ خلیفہ جامع الشروط لوگوں میں سے چند آدمیوں کو منتخب کرے اور اہل حل وعقد کو اختیار دیدے کہ ان میں سے جس کو چاہیں خلیفہ منتخب کر لیں خلیفہ کی وفات کے بعد اہل حل وعقد مشاورت کے بعد مقررہ لوگوں میں سے جس کو منتخب کریں گے وہ خلیفہ بن جائے گا۔


٤. (استیلائ): یعنی کوئی شخص استخلاف اور اہل حل و عقد کی بیعت کے بغیر مسندِ خلافت پر غالب ہو جائے۔خلیفہ نے نہ کسی کو ولی عہد بنایا نہ شورٰی بنائی تو خلیفہ کی وفات کے بعد کوئی شخص اہل حل و عقد کی بیعت کے بغیر مسند خلافت پر زبردستی غالب ہو جائے ۔ اس طریقے (یعنی غلبہ وجبر) سے انعقادِ خلافت کی کچھ صورتیں ہیں۔پہلی یہ کہ غلبہ سے مسند خلافت پر غالب شخص میں شروط خلافت کا مل طور پر پائی جائیں۔ دوسری صورت یہ کہ مسند خلافت پر غالب شخص میں اگرچہ منصب ِ خلافت کی شرائط نہیں پائی جاتی ہیں لیکن وہ امور ِریاست سر انجام دینے کا اہل ہے۔تیسری صورت یہ کہ منصب خلافت کی اہلیت نہیں رکھتا، نہ اس کو طاقت و سختی حاصل ہو اور نہ اسے کفایت و استغناء یعنی خود امور سلطنت چلانا اور دوسروں کا محتاج نہ ہونے کی خوبی حاصل ہے۔


جانشینی کا دو درجات ہیں!
١ اپنے اہل میں جانشیں بنانا
٢ اپنے اغیار میں جانشیں بنانا 

١ .


وَوَاعَدْنَا مُوسَى ثَلاَثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً وَقَالَ مُوسَى لأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلاَ تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ
(بنی اسرائیل وہاں سے آگے بڑھے تو) ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ ٹھیرایا اور دس مزید راتوں سے اُس کو پورا کیا تو (اِس کے نتیجے میں) اُس کے پروردگار کی ٹھیرائی ہوئی مدت، چالیس راتیں پوری ہو گئی۔ ۴۹۵(اِس وعدے کے لیے جاتے ہوئے) موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا: میرے پیچھے تم میری قوم میں میری جانشینی کرو گے اور (لوگوں کی) اصلاح کرتے رہو گے
٢.

اب ذرا یہ روایت ملاحظہ کریں !
ایک حدیث جو خاص اہل سنت کی روایت سے اس امر کا قطعی فیصلہ کرتی ہے جس میں آنحضرت نے مرض الموت میں حضرت عائشہؓ کو فرمایا تھا: عن عائشة قالت قال لي رسول اﷲ! في مرضه: اُدعي لي أبا بکر أباک وأخاک حتی أکتب کتابًا فإنی أخاف أن يتمنّٰی متمنّ ويقول قائل: أنا ويأبی اﷲ والمؤمنون إلا أبابکر (صحيح مسلم: رقم ۲۳۸۷) ''اپنے باپ ابوبکرؓ اور بھائی عبدالرحمنؓ کوبلا کہ میں خلافت کا فیصلہ لکھ دوں۔ ایسا نہ ہو کہ میرے بعد کوئی کہنے لگے کہ میں خلافت کا حق دار ہوں حالانکہ اللہ کو اور سب مؤمنوں کو ابوبکرؓ کے سوا کوئی بھی منظور نہ ہوگا۔''
انتخاب امیر کا دوسرا طریقہ جس کو فقہاء نے بالاتفاق درست قرار دیا ہے، وہ یہ کہ خلیفہٴ وقت خود اپنی زندگی میں اپنے بعد کے لیے امیر نامزد کردے، علامہ ماوردی نے اس کے جواز پر اجماع امت نقل کیا ہے،اس کا سب سے بڑا مأخذ حضرت صدیق اکبر کا عمل ہے، کہ آپ نے اپنی وفات سے پیشتر حضرت عمر فاروق کو اپنا جانشین تجویز فرمایا اوراس کا اعلان بھی اپنی زندگی میں فرمادیا، حضرت صدیق کی وفات کے بعد مسلمانوں نے بالاتفاق حضرت عمر کو اپنا خلیفہ تسلیم کیا، کسی ایک شخص نے بھی حضرت صدیق کے اس انتخاب کی مخالفت نہیں کی، حضرت عمر بن خطاب نے اپنے جانشین کے انتخاب کا یہ طریقہ اختیار فرمایاکہ کسی ایک شخص کو نامزد کرنے کے بجائے معاملہ ارباب حل وعقد کی ایک جماعت کے حوالے کردیا، یہ ایک محفوظ راستہ تھا؛ البتہ اس میں امیر کے اس اختیار پر روشنی پڑتی ہے کہ امیر کے معاملے کو تمام مسلمانوں کے بجائے ایک مخصوص کمیٹی کے حوالے کرسکتا ہے، اس چیز کو بھی تمام صحابہ نے من وعن تسلیم کیا، چنانچہ حضرت عمر کی وفات کے بعد جس وقت اس مجلس منتخبہ کی میٹنگ ہورہی تھی حضرت عباس نے اس مجلس میں شرکت کی خواہش کی تو حضرت علی نے جو اس کمیٹی کے اہم رکن تھے سختی کے ساتھ ان کو روک دیا۔ (الموسوعة الفقہیہ)
حضرت صدیق کے عمل سے ولی عہدی کا دستور جاری ہوا، یعنی امیر کو یہ اختیار حاصل ہوا کہ وہ اپنی حیات میں اپنا جانشین نامزد کردے


حنفیہ کی رائے یہ ہے کہ نابالغ کو ولی عہد بنایا جاسکتا ہے، بشرطیکہ امام کی وفات کے بعد ملکی معاملات اور ذمہ داریوں کے لیے عارضی طور پر اس کا کوئی نائب مقرر کردیا جائے، جو ولی عہد کے بلوغ تک امورِ مملکت انجام دے، وعلی عہد کے بالغ ہونے کے بعد نائب خود بخود معزول ہوجائے گا۔ (حاشیہ ابن عابدین ۱/۳۶۹)
دور جدید اور انتخاب خلیفہ (جب خلافت مفقود ہے )


جو حکمراں عوامی انقلاب اور افرادی قوت کے ذریعہ اقتدار میںآ تے ہیں وہ بھی اسی زمرہ میں آتے ہیں، الا یہ کہ خواص اور اہل علم وفضل کا طبقہ بھی اس کی تائید کررہا ہو ، اسلامی تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں جن میں عوامی طاقت کے ذریعہ حکومت کا تختہ پلٹنے کی کوشش کی گئی، اورمتعدد کامیابی بھی ملی، خود حضرت امام حسین کا سفر کوفہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی، حضرت عبداللہ بن زبیر نے عوامی انقلاب کے ذریعہ مکہ معظمہ میں اپنی حکومت قائم فرمائی، وغیرہ۔ بعد کے ادوار میں بھی ایسی کئی کوششوں کا تذکرہ ملتا ہے جن میں بعض کو ہمارے مشہور ائمہ کی تائید بھی حاصل ہوئی، مثلاً خلافتِ بنی امیہ کے زمانے۔ (صفر ۱۲۲ھ م ۷۴۰/) میں حضرت زید بن علی نے عوامی تحریض پر حکومت کا تختہ پلٹنے کی کوشش فرمائی، جس کو حضرت امام ابوحنیفہ کی تائید حاصل ہوئی، آپ نے ان کو مالی مدد بھی فراہم کی۔ (الجصاص:۱/۸۱، الخیرات الحسان للمکی:۱/۲۶۰)

کیا خلافت مفقود ہو گئی تھی !

 خلافت عامہ!
حضرت شاہ اسماعیل شہید اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

'' پس جیسا کہ کبھی کبھی دریائے رحمت سے کوئی موج سربلند ہوتی ہے اور آئمہ ہدیٰ میں سے کسی امام کو ظاہر کرتی ہے ایسا ہی اللہ کی نعمت کمال تک پہنچتی ہے تو کسی کو تخت خلافت پر جلوہ افروز کر دیتی ہے اور وہی امام اس زمانے کا خلیفہ راشد ہے اور وہ جو حدیث میں وارد ہے کہ خلافت ِراشدہ کا زمانہ رسول مقبول علیہ الصلوٰة والسلام کے بعد تیس سال تک ہے اس کے بعد سلطنت ہو گی تو اس سے مراد یہ ہے کہ خلافت راشد متصل اور تو اتر طریق پر تیس ٣٠ سال تک رہے گی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قیام قیامت تک خلافت ِراشدہ کا زمانہ وہی تیس سال ہے اور بس۔ بلکہ حدیث مذکورہ کا مفہوم یہی ہے کہ خلافت راشد ہ تیس سال گزرنے کے بعد منقطع ہو گی نہ یہ کہ اس کے بعد پھر خلافت ِراشدہ کبھی آہی نہیں سکتی۔ بلکہ ایک دوسری حدیث خلافت ِراشدہ کے انقطاع کے بعد پھر عود کرنے پر دلالت کرتی ہے۔ چنانچہ نبی ﷺنے فرمایا ہے:

تکون النبوة فیکم ماشاء اﷲ ان تکون ثم یرفعہا اﷲ تعالیٰ ثم تکون خلافة علی منہاج النبوة فیکم ماشاء اﷲ ان تکون ثم یرفعہا اﷲ ثم تکون ملکاً عاضا فیکون ماشاء اﷲ ان یکون ثم یرفعہا اﷲ ثم یکون ملکاً جبرّیاً فیکون ماشاء اﷲ ان یکون ثم یرفعہا اﷲ تعالیٰ ثم تکون خلافة علیٰ منہاج النبوة ثم سکت.(منصب امامت ص١١٦۔١١٧)

'' نبوت تم میں رہے گی جب تک اللہ چاہے گا پھر اللہ تعالیٰ اسے اٹھالے گا اور بعد نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی جو اللہ کے منشاء تک رہے گی پھر اسے بھی اللہ اٹھا لے گا۔پھر بادشاہی ہو گی اور اسے بھی اللہ جب تک چاہے گا رکھے گا پھر اسے بھی اٹھا لے گا۔ پھر سلطنت جابرانہ ہو گی جو منشاء باری تعالیٰ تک رہے گی۔ پھر اسے بھی اُٹھالے گا ا

 · 

  • یہ درست ہے کہ خلافت اسلام کا اصل نظام ہے البتہ اگر بادشاہ اللہ کے قانون کو لوگوں پر نافذ کرے تو اسلام ایسی ملوکیت کو بالکلیہ غلط نہیں کہتا ۔آج مغربی جمہوریت سے متاثر ہو کر لوگ ملوکیت کو برا سمجھتے ہیں حالانکہ ملوکیت فی نفسہ مذموم نہیں۔دلائل ملاحظہ فرمائیں ۔
    ۱۔ ۔۔رسول اللہ ﷺ نے شاہِ فارس خسر و پرویز کو یہ پیغام بھی بھیجا کہ اگر تم مسلمان ہو جائو تو جو کچھ تمہارے زیر ِاقتدار ہے وہ سب میں تمہیں دے دوں گا اور تمہیں تمہاری قوم کا بادشاہ بنا دوں گا (رحیق المختوم)
    ۲۔۔رسول اللہ ﷺ نے بادشاہت کو رحمت قرار دیا :عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
    ‘‘اس دین کا ابتدائی حصہ نبوت اور رحمت ہے پھر خلافت اور رحمت ہو گا پھر بادشاہت اور رحمت ہو گی پھر اس بادشاہت پر لوگ گدھو ں کی طرح ایک دوسرے کو کاٹیں گے تب تم پر جہاد لازم ہو گا ۔اور افضل جہا د سرحدوں کی حفاظت ہے ۔(سلسلۃ الصحیحہ للالبانی :3270،المعجم الکبیر للطبرانی رقم:۱۰۹۷۵)
    ۳۔۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر احسان جتلاتے ہوئے بادشاہت کو انعام قرار دیا:{وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ یَا قَوْمِ اذْکُرُواْ نِعْمَۃَ اللّہِ عَلَیْْکُمْ إِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ أَنبِیَاء وَجَعَلَکُم مُّلُوکاً وَآتَاکُم مَّا لَمْ یُؤْتِ أَحَداً مِّن الْعَالَمِیْن}(المائدہ20)
    اورجب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم اللہ کی ان نعمتوں کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیں جب تم میں سے انبیاء بنائے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ کچھ عطا فرمایا جو تم سے پہلے دنیا میں کسی کونہ دیا گیا۔
    ۴۔۔۔دائود علیہ السلام کے بیٹے سلیمان علیہ السلام نے خود اللہ تعالیٰ سے بادشاہت کے لئے یوں دعا فرمائی۔{قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَہَبْ لِیْ مُلْکاً لَّا یَنبَغِیْ لِأَحَدٍ مِّنْ بَعْدِیْ إِنَّکَ أَنتَ الْوَہَّاب}
    اے میرے رب مجھے معاف فرما اور مجھے ایسی بادشاہت دے جو میرے بعد کسی کو نہ ملے بلاشبہ تو بڑا عطا فرمانے والا ہے (صٓ ۳۵)
    ۵۔۔داود علیہ السلا م بیک وقت بادشاہ بھی تھے اور خلیفہ بھی {وَآتَاہُ اللّہُ الْمُلْکَ وَالْحِکْمَۃ} اور اللہ نے (داود کو )بادشاہت اور حکمت عطا فرمائی‘‘(البقرہ ۲۵۱)){یَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیْفَۃً فِیْ الْأَرْضِ فَاحْکُم بَیْْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ} (صٓ ۲۶)’’اے دائود ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہٰذا لوگوں میں انصاف سے فیصلہ کرنا‘‘
    ۶۔۔۔بنی اسرائیل نے اپنے نبی سے عرض کیا کہ ہمارے لئے کوئی بادشاہ مقرر کر دیجئے تو اللہ نے ان پر بادشاہ مقرر کردیا:
    وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ إِنَّ اللّہَ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوتَ مَلِکاً }(البقرہ ۲۴۷)
    ان کے نبی نے ان سے کہا اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو بودشاہ مقرر کیا ہے
    ان حوالہ جات سے واضح ہے کہ بادشاہت فی نفسہ بری چیز نہیں۔ جو بادشاہ اللہ تعالیٰ کو قانون ساز تسلیم کرے پھر اس کے احکام پر خود بھی چلے اور لوگوں پر بھی ان احکام کو نافذ کرے تو یقینا وہ ’’الامیر‘‘اور ’’خلیفۃ المسلمین‘‘ہی کے حکم میںہے۔
    ۷۔۔۔رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کیا کرتے تھے جب ایک نبی فوت ہوتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین بن جاتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میرے بعد خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ (بخاری۳۴۵۵، مسلم۱۸۴۲)
    جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اسلام بارہ خلیفوں تک ہمیشہ قوی رہے گا اور وہ سب قریش میں سے ہیں ۔ (بخاری۷۲۲۲ و مسلم۱۸۲۱)
    اس حدیث نے وضاحت کردی کہ خلافت صرف چار خلفاء تک محدود نہیں۔ یقینا بنوامیہ اور بنو عباس کے حکمرانوں میں سے بہت سے خلفاء بھی تھے۔
    عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گی جب تک کہ ان میں دو آدمی باقی رہیں۔ (بخاری۳۵۰۱ و مسلم۱۸۲۰)
    ۸۔۔صحابہ کرام تابعین اور تبع تابعین کے بہترین ادوار میں مسلمانوں نے بنو امیہ اور بنو عباس کے حکمرانوں کی بیعت کی ان کی غلط بات کا انکار کیا لیکن جماعت اور امیر جماعت سے الگ نہ ہوئے۔ کیونکہ رسولﷺ نے ایسا کرنے کا حکم دیا۔
    آپ ﷺنے فرمایا ’’تم پر امیر ہوں گے ان کے بعض کام تم اچھے سمجھو گے اور بعض کو برا سمجھو گے جس نے ان کی غلط بات کا انکار کیا وہ بری ہوا اور جس نے ان کی بری بات کو مکروہ جانا وہ سالم رہا اور لیکن جو ان کی بری بات پر راضی ہوا اور ان کی پیروی کی (وہ نقصان میں رہا)‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا ’’کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں؟‘‘ فرمایا ’’نہیں جب تک وہ نماز پڑھیں۔ نہیں جب تک وہ نماز پڑھیں ‘‘۔(مسلم۱۸۵۴)
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ جو شخص اپنے امیر میں کوئی ایسی چیز دیکھے جس کو وہ مکروہ سمجھتا ہے پس چاہئے کہ وہ صبر کرے کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی جدا ہوا اور اس حال میں مرگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا ۔ (بخاری ۷۰۵۳و مسلم۱۸۴۹)



    • حافظ  صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ لکھتے ہیں:بات دراصل یہ ہے کہ اسلام میں اصل مطاع اور قانون ساز اللہ ہے۔ خلیفہ کا منصب نہ قانون سازی ہے نہ اس کی ہر بات واجب الاطاعت ہے۔ وہ اللہ کے حکم کا پابند اور اس کو نافذ کرنے والا ہے اور اس کی اطاعت بھی اسی شرط کے ساتھ مشروط ہے۔حکمرانی کا یہ اسلامی تصور پہلے چار خلفاء کے دل و دماغ میں جس شدت کے ساتھ جاگزیں تھا بعدمیں یہ تصور بتدریج دھندلاتا چلا گیا۔ اسی کیفیت کو بادشاہت کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے ورنہ فی الواقع بادشاہت اسلام میں مذموم نہیں۔ عمر بن عبدالعزیزرحمہ اللہ اصطلاحی طور پر بادشاہ ہی تھے یعنی طریقہ ولی عہدی ہی سے خلیفہ بنے تھے لیکن اپنے طرزِ حکمرانی کی بناء پر اپنا نیک نام چھوڑ گئے۔ اسی طرح اسلامی تاریخ میں اور بھی متعدد بادشاہ ایسے گزرے ہیں جن کے روشن کارناموں سے تاریخ اسلام کے اوراق مزین اور جن کی شخصیتیں تمام مسلمانوں کی نظروں میں محمود و مستحسن ہیں … پھر یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ اسلام میں فی نفسہٖ بادشاہت کوئی مذموم شے نہیں۔ صرف وہ بادشاہت مذموم ہے جو اللہ اور رسول کی بتلائی ہوئی حدود سے ناآشنا ہو جس طرح ہمارے دور کے حکمران ہیں۔ موجودہ حکمرانوں کو اگر کوئی شخص ’’امیرالمومنین‘‘ کا لقب بھی دیدے تب بھی وہ مشرف بہ اسلام نہیں ہوسکتے۔ اللہ کی نظروں میں وہ مبغوض ہی ہیں تاآنکہ وہ اللہ کو مطاع حقیقی اور قانون ساز تسلیم کرکے اپنے آپ کو اس کے احکامات کا پابند اور ان کو نافذ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ (خلافت و ملوکیت کی شرعی حیثیت صفحہ399)


ایک تبصرہ شائع کریں