سوموار، 15 فروری، 2016

ویلین ٹائین ڈے (VALENTINE’S DAY) کا تاریخی پس منظر

ویلین ٹائین ڈے (VALENTINE’S DAY) کا تاریخی پس منظر ... !

ہر سال چودہ فروری کو امریکی اور پوری دنیا میں تحائف کا تبادلہ ہوتا ہے اور اس  دن کو محبت کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے ایک تحقیق کے مطابق ١٨٠ ملین کارڈز خاص اس دن کے موقع پر تیار کیے جاتے اور تقسیم ہوتے ہیں یہ صرف ایک جدید تیوہار کا نام ہی نہیں بلکہ ایک بہت عظیم معاشی حرکت بھی ہے ....

ایک ارب ٩٨ کروڑ پھولوں کو تیار کیا جاتا ہے اور ١١٦.٢١ $ فی کس خرچہ کیا جاتا ہے اس دن کاکل تخمینہ ($13,290,000,000) ہے ......


اس دن کی تاریخ کے حوالے سے متعدد اقوال موجود ہیں لیکن کوئی بھی راۓ تیقن کے ساتھ قائم کرنا انتہائی مشکل ہے ....

تاریخی حوالوں کے مطابق اس نام کے تین مختلف افراد گزرے ہیں

١. پہلی روایت کے مطابق (Valentine) ایک مسیحی بزرگ تھے جو تیسری صدی عیسوی سے متعلق تھے ان کا تعلق روم سے تھا جب رومی بادشاہ (Claudius II ) نے فیصلہ کیا کہ کنوارے مرد سپاہی شادی شدہ سپاہیوں سے زیادہ کارآمد ثابت ہوتے ہیں تو اس نے شادی پر پابندی عائد کر دی اس موقع پر انہوں نے بادشاہ کی مخالفت کرتے ہوۓ نوجوان محبت کرنے والے جوڑوں کی شادیوں کا سلسلہ جاری رکھ اور آخر کار بادشاہ کے ہاتھوں مارے گۓ .

٢. دوسری روایت کے مطابق (Valentine) صاحب رومن قید میں محبوس قیدیوں کو اس قید سے آزاد کرواتے ہوۓ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے .

٣. تیسری اور معروف ترین روایت کے مطابق (Valentine) جیل میں مقید موصوف نے اپنے جیلر  کی بیٹی کو سب سے پہلی محبت نامہ (“valentine” greeting) ارسال کیا محترمہ جناب سے تنہائ میں ملاقات کیلئے تشریف لاتیں جہاں ان کے تعلقات قائم ہوۓ ایک دن یہ راز کھل گیا اور انہیں اپنی جان سے جان پڑا
(“From your Valentine”) تمھارے محبوب کی طرف سے ..... یہ سینٹ کا آخری پیغام تھا ..

یہ آخری کہانی ہی دور جدید کے تیوہار کی بنیاد ہے ...

لیکن بات صرف اتنی ہی نہیں ہے بلکہ یہ کہانی اور قدیم ہے ...

مزید تحقیق  کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ( PAGAN FESTIVAL) تھا اس تیوہار کو فروری کے درمیان میں منانے کی اپنی ایک تاریخ ہے ایک روایت کے مطابق ١٥ فروری قدیم دیوتا (Faunus) کی یاد تازہ کرتا ہے کہ جو بار آوری کا دیوتا تھا اور ایک دوسری روایت کے مطابق اس کا تعلق
 (Roman founders Romulus and Remus)    

سے ہے کہا جاتا ہے کہ انہیں ایک مادہ بھیڑیے (lupa) نے دودھ پلایا تھا اس دن کہیں پھیڑ کو بارآوری اور کتے کو صفائی کیلیے ذبح کرتے ہیں (بھیڑ بھیڑیے کا شکار اور کتا اس کا دشمن  )  اس دن کی یاد میں فصلوں اور عورتوں کو ذبح شدہ جانوروں کے خون سے رنگ جاتا کہ ان کی بارآوری کی صلاحیت بڑھ جاۓ قدیم یونانی روایت کے مطابق اس دن تمام نوجوان عورتیں ایک بڑے جار میں اپنا نام ڈالتیں اور جس کے نام جو عورت نکلتی وہ اس سے لطف اندوز ہوتا ........

(Lupercalia) مسیحیت کے عروج تک جاری رہا لیکن اس کے بعد اسے غیر مسیحی قرار دیکر اس پر پابندی لگا دی گئی (جیسے آج اسے غیر اسلامی قرار دیا جا رہا ہے ) قدیم فرانسیسی اور برطانوی روایت کے مطابق یہ دن پرندوں کے ملن کا دن تھا (beginning of birds’ mating season) ١٤١٤ میں ڈیوک آف اورلینس نے اپنی محبوبہ کو کچھ خط لکھے کہ جنہیں اس دن کے محبت بھرے خطوط کی بنیاد سمجھا جاتا ہے ........

حقیقت تو یہ ہے کہ بدنام زمانہ بادشاہ (constantine) کے دور میں اس پیگن تیوہار کو مسیحی دنیا میں متعارف کروایا گیا جبکہ بائبل نے بھی اس کی سخت مخالفت کی ہے ملاحظہ کیجئے ..

(“When the Lord your God cuts off from before you the nations which you go to dispossess … do not inquire after their gods, saying, ‘How did these nations serve their gods? I also will do likewise.’ You shall not worship the Lord your God in that way; for every abomination to the Lord which He hates they have done to their gods … Whatever I command you, be careful to observe it; you shall not add to it nor take away from it” (Deuteronomy 12:29-32)

اس حوالے سے خود مغربی مصنفین لکھتے ہیں

As the book Celebrations: The Complete Book of American Holidays notes, “Everywhere that [mainstream] Christians came into power they immediately adapted the holidays and customs of the people to their own creed” (Robert Myers and Hallmark Cards editors, 1972, pp. 50-51).

The World Book Encyclopedia tells us regarding Valentine’s Day: “The customs connected with the day . . . probably come from an ancient Roman festival called Lupercalia which took place every February 15. The festival honored Juno, the Roman goddess of women and marriage, and Pan, the god of nature” (1973, vol. 20, p. 204.

اب کچھ بات اسلامی حوالوں سے ہو جاۓ

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ سَلَكُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَكْتُمُوهُ ". قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى قَالَ " فَمَنْ "؟.
( صحيح البخاري :3456 ،الأنبياء – صحيح مسلم :2669 ، العلم )
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے سے پہلی قوموں کی ضرور پیروی کروگے ، بالشت بالشت برابر اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ، حتی کہ اگر وہ لوگ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوں گے تو تم لوگ بھی ان کی پیروی کروگے ، حضرت ابو سعید کہتے ہیں کہ یہ سننے کے بعد ہم لوگوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول کیا [پہلی قوموں سے مراد ] یہود ونصاری ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : پھر اور کون ۔
{ صحیح بخاری و صحیح مسلم }
دنیا میں مختلف اقوام پائی گئی ہیں کچھ وہ جنکی کوئی باقاعدہ تاریخ اور تہذیب ہے اور کچھ وہ جو بے تاریخ اور بد تہذیب گزری ہیں ایسی ہی قوم کے بارے میں ایک اور روایت میں سوسمار کا ذکر بھی آتا ہے ..
١٣٢٤ : سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا کہ ہم ایسی زمین میں رہتے ہیں جہاں گوہ بہت ہیں اور میرے گھر والوں کا اکثر کھانا وہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب نہ دیا۔ ہم نے کہا کہ پھر پوچھ، اس نے پھر پوچھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار جواب نہ دیا۔ پھر تیسری دفعہ ( یا تیسری دفعہ کے بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آواز دی اور فرمایا کہ اے دیہاتی ! اللہ جل جلالہ نے بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر لعنت کی یا غصہ کیا تو ان کو جانور بنا دیا، وہ زمین پر چلتے تھے۔ میں نہیں جانتا کہ گوہ انہی جانوروں میں سے ہے یا کیا ہے؟ اس لئے میں اس کو نہیں کھاتا اور نہ ہی حرام کہتا ہوں۔ مسلم
عین ممکن ہے بنی اسرائیل کا وہ گمراہ گروہ ہی سوسمار میں تبدیل ہو گیا ہو لیکن یہ بات طے ہے کہ یہود و نصاریٰ اگر گوہ کے سوراخ میں گھسینگے تو ہم بھی انکی پیروی میں گھس پڑینگے ..

تشبہ کی حقیقت :

 اپنی حقیقت ،اپنی صورت، ہیئت اور وجود کو چھوڑ کر دوسری قوم کی حقیقت ، اس کی صورت اختیار کرنے اور اس کے وجود میں مدغم ہو جانے کا نام تشبہ ہے۔ (التنبہ علی ما في التشبہ للکاندھلوي، ص: ۷، مکتبہ حکیم الامت کراچی )
           شریعت مطہرہ مسلم وغیر مسلم کے درمیان ایک خاص قسم کا امتیاز چاہتی ہے کہ مسلم اپنی وضع قطع،رہن سہن اور چال ڈھال میں غیر مسلم پر غالب اوراس سے ممتاز ہو،اس امتیاز کے لیے ظاہری علامت داڑھی اور لباس وغیرہ مقرر کی گئی کہ لباس ظاہری اور خارجی علامت ہے۔اور خود انسانی جسم میں داڑھی اور ختنہ کو فارق قراردیا گیا ہے۔
           نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے موقع بہ موقع اپنے اصحاب رضوان اللہ علیہم کو غیرمسلموں کے مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ذیل میں ان میں سے کچھ احکامات ذکر کیے جاتے ہیں:
          اللہ رب العزت کی طرف سے بواسطہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُمت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیرمسلمین کفارویہود اور نصاریٰ سے دور رکھنے کی متعدد مقامات پر تلقین کی گئی، مثلاً:
          ﴿یَآأیّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوا الْیَہُوْدَ وَالنَّصَاریٰ أولیاء، بَعْضُہُمْ أولیاءُ بَعْضٍ، وَّمَنْ یَتَوَلَّہُمْ مِنْکُمْ، فاِنّہ مِنْہُمْ، انّ اللّٰہَ لاَ یَہْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ﴾ (المآئدة: ۵۱)
ترجمہ:” اے ایمان والو! مت بناو یہود اور نصاریٰ کو دوست ،وہ آپس میں دوست ہیں ایک دوسرے کے،اور جو کوئی تم میں سے دوستی کرے اِن سے ،تو وہ انہی میں سے ہے ،اللہ ہدایت نہیں دیتا ظالم لوگوں کو“۔ (تفسیر عثمانی، ص: ۱۵۰)
          ﴿یَآ أیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا﴾(آل عمران: ۱۵۶)
ترجمہ: اے ایمان والوتم نہ ہو (جاوٴ)ان کی طرح جو کافر ہوئے۔(تفسیر عثمانی، ص: ۹۰)
          سنن ترمذی میں ایک روایت ہے،جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
 ”جو شخص ملتِ اسلامیہ کے علاوہ کسی اور امت کے ساتھ مشابہت اختیار کرے تو وہ ہم میں سے نہیں ،اِرشادفرمایا کہ تم یہود اور نصاری کے ساتھ مشابہت اختیار نہ کرو“۔
                              (سنن الترمذي، کتاب الاستیذان، رقم الحدیث: ۲۶۹۵)
          اس حدیث کی شرح میں صاحب تحفة الأحوذي لکھتے ہیں کہ
          مراد یہ ہے کہ تم یہود و نصاریٰ کے ساتھ ان کے کسی بھی فعل میں مشابہت اختیار نہ کرو۔(تحفة الاحوذی: ۷/۵۰۴)
          سنن ابی داوٴد میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
 ”جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں سے ہوگا“ (سنن ابو داوٴد، کتاب اللباس، رقم الحدیث: ۴۰۳۰)
          علامہ سہارنپوری لکھتے ہیں کہ مشابہت عام ہے ، خیر کے کاموں میں ہو یا شر کے کاموں میں، انجام کار وہ ان کے ساتھ ہو گا، خیر یا شر میں۔(بذل المجہود: ۴/ ۵۹)
          ”مَنْ تَشَبَّہَ “ کی شرح میں ملا علی القاري لکھتے ہیں کہ:
 ”جو شخص کفار کی، فساق کی، فجار کی یاپھر نیک و صلحاء کی، لباس وغیرہ میں (ہو یا کسی اور صورت میں) مشابہت اختیار کرے وہ گناہ اور خیر میں ان کے ہی ساتھ ہوگا۔(مرقاة المفاتیح، کتاب اللباس،رقم الحدیث: ۴۳۴۷، ۸/۲۲۲،رشیدیہ)
          ایک اور حدیث ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے:
” ہم میں،اور مشرکین کے درمیان فرق (کی علامت ) ٹوپیوں پر عمامہ کا باندھنا ہے“۔ یعنی:ہم ٹوپی پر عمامہ باندھتے ہیں اور مشرکین بغیر ٹوپی کے عمامہ باندھتے ہیں۔(سنن ابی داوٴد، کتاب اللباس، رقم الحدیث: ۴۰۷۸۔ مرقاة المفاتیح، رقم الحدیث: ۴۳۴۰، ۸/۲۱۵)
تشبہ کے بارے میں آثارِ صحابہ و تابعین:
          حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں جب سلطنتِ اسلامیہ کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیاتو حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو اس بات کی فکر دامن گیر ہوئی کہ مسلمانوں کے عجمیوں کے ساتھ اختلاط کی وجہ سے اسلامی امتیازات میں کوئی فرق نہ آ جائے ، اس خطرے کے پیش ِ نظر آپ رضی اللہ عنہ نے ایک طرف مسلمانوں کو اس سے بچنے کی تلقین کی، تو دوسری طرف غیرمسلمین کے لیے بھی دستور قائم کیا۔
          جیسا کہ حضرت ابو عثمان النہدی رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ ہم عتبة بن فرقد کے ساتھ آذربائیجان میں تھے کہ ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک خط بھیجا (جس میں بہت سارے احکامات و ہدایات تھیں، منجملہ ان کے ایک ہدایت یہ بھی تھی کہ ) ”تم اپنے آپ کو اہلِ شرک اور اہلِ کفر کے لباس اور ہیئت سے دور رکھنا“۔
          (جامع الأصول، الکتاب الأول في اللباس، الفصل الرابع في الحریر، النوع الثاني، رقم الحدیث: ۸۳۴۳، ۱۰ / ۶۸۷،مکتبة دارالبیان)
          ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لکھا تھا کہ
 ”اے مسلمانوں! ازار اور چادر کا استعمال رکھو اور جوتے پہنو․․․․ اور اپنے جدِ امجد اسماعیل علیہ السلام کے لباس (لنگی اور چادر)کو لازم پکڑو اور اپنے آپ کو عیش پرستی اور عجمیوں کے لباس اور ان کی وضع قطع اور ہیئت سے دور رکھو،( مبادا کہ تم لباس اور وضع قطع میں عجمیوں کے مشابہہ بن جاوٴ )․․․․اور موٹے ، کھردرے اور پرانے لباس پہنو“(شعب الایمان، رقم الحدیث ۵۷۷۶، ج۸، ص۲۵۳)
          اور دوسری طرف اہلِ نصاریٰ اور یہود کو دارالاسلام میں رہنے کی صورت میں بہت سے اُمور کا پابند کیا، جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بہت ہی مظبوط انداز میں اسلامی تہذیب و تمدن اور اسلامی اَقدار کی حفاظت کی گئی ہے۔
          چنانچہ! فتح شام کے موقع پر نصاریٰ شام کے عہدِ صلح کے بعد جو شرائط طے کی گئیں وہ یہ تھیں:
 ”ہم (نصاریٰ شام) مسلمانوں کی تعظیم و توقیر کریں گے، اور اگر مسلمان ہماری مجالس میں بیٹھنا چاہیں گے توہم ان کے لیے مجلس چھوڑ دیں گے، اور ہم کسی امر میں مسلمانوں کے ساتھ تشبہ اور مشابہت اختیار نہیں کریں گے، نہ لباس میں ، نہ عمامہ میں ، نہ جوتے پہننے میں ، اور نہ سر کی مانگ نکالنے میں ، ہم اُن جیسا کلام نہیں کریں گے، اور نہ مسلمانوں جیسا نام اور کنیت رکھیں گے، اور نہ زین کی سواری کریں گے، نہ تلوار لٹکائیں گے، نہ کسی قسم کا ہتھیار بنائیں گے، اور نہ اُٹھائیں گے، اور نہ اپنی مہروں پر عربی نقش کندہ کروائیں گے، اور سر کے اگلے حصے کے بال کٹوائیں گے، اور ہم جہاں بھی رہیں گے، اپنی ہی وضع پررہیں گے، اور گلوں میں زنار لٹکائیں گے، اور اپنے گرجاوٴں پر صلیب کو بلند نہ کریں گے، اور مسلمانوں کے کسی راستہ اور بازار میں اپنی مذہبی کتاب شائع نہیں کریں گے، اور ہم گرجاوٴں میں ناقوس نہایت آہستہ آواز میں بجائیں گے، اور ہم اپنے مُردوں کے ساتھ آگ لے کر نہیں جائیں گے(یہ آخری شرط مجوسیوں سے متعلق ہے)۔
          حضرت عبد الرحمن بن غنم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ شرائط نامہ لکھ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سامنے ملاحظہ کرنے کے لیے رکھا، تو انہوں نے اس شرائط نامہ میں کچھ مزید اضافہ کروایا جو یہ تھا:
” ہم کسی مسلمان کو ماریں گے نہیں ، یعنی تکلیف نہیں پہنچائیں گے، ہم نے انہی شرائط پر اپنے لیے اور اپنے اہلِ مذہب کے لیے امان حاصل کیا ہے، پس اگر ہم نے شرائط مذکورہ بالا میں سے کسی شرط کی خلاف ورزی کی تو ہمارا عہد اور امان ختم ہو جائے گا اور جو معاملہ اہلِ اسلام کے دشمنوں اور مخالفوں کے ساتھ کیا جاتا ہے وہی معاملہ ان کے ساتھ کیا جائے گا“(تفسیر ابن کثیر، سورہ توبة:۲۹)
          ایک اورروایت جسے علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے،اس میں کچھ مزید شرائط کا بھی ذکر ہے،جو ذیل میں ذکر کی جاتی ہیں:
” ہم اپنی آبادی میں کوئی نیا گرجا گھر نہیں بنائیں گے، اور جو گرجا گھرخراب ہو جائیں گے، اس کی مرمت نہیں کروائیں گے، اور جو خطہٴ زمین مسلمانوں کے لیے ہو گا، ہم اُسے آباد نہیں کریں گے، اور کسی مسلمان کو دن ہو یا رات، کسی وقت بھی گرجا میں اُترنے سے نہیں روکیں گے، اور اپنے گرجاوٴں کے دروازے مسافروں اور گزرنے والوں کے لیے کشادہ رکھیں گے، اور تین دن تک ان مسلمان مہمانوں کی مہمان نوازی کریں گے، اور اپنے کسی گرجا اور کسی مکان میں مسلمانوں کے خلاف جاسوسی کرنے والے کو ٹھکانہ نہیں دیں گے، اور مسلمانوں کے لیے کسی غل و غش کو پوشیدہ نہیں رکھیں گے، اور اپنی اولاد کو قرآن کی تعلیم نہیں دیں گے، اور کسی شرک کی رسم کو ظاہراً اور اعلانیہ طور پر نہیں کریں گے، اور نہ کسی کو شرک کی دعوت دیں گے، اور نہ اپنے کسی رشتہ دار کو اسلام میں داخل ہونے سے روکیں گے“۔
          مذکورہ بالا شرائط کو دیکھتے ہوئے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں کے اسلامی تہذیب و تمدن اور تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے کس قدر اہتمام کیا گیا؛ اس لیے کہ اسلام میں غیروں کے طور طریقوں کاداخل ہو جانا مسخِ اسلام اور تخریبِ اسلام ہے۔
          حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”تشبہ بالغیر فی الحقیقت تخریبِ حدود اور ابطالِ ذاتیات کا نام ہے“۔ (مجموعہ رسائل حکیم الاسلام ، اسلامی تہذیب وتمدن:۵/۴۸۵)
          غیروں کے ساتھ اختلاط ، میل جول اختیار کرنے سے کس قدر سختی سے اور کن کن طریقوں سے روکا گیا، اس کا اندازہ اس مکالمے سے بخوبی ہو سکتا ہے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے درمیان ہوا، وہ یہ ہے:
”حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میرے یہاں ایک نصرانی کاتب ملازم ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تجھے کیا ہو گیا؟خدا تجھے غارت کرے ! کیا تو نے اللہ کا یہ حکم نہیں سنا کہ ”یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست مت بناوٴ؛ کیوں کہ وہ آپس ویلین ٹائین ڈے (VALENTINE’S DAY) کا تاریخی پس منظرمیں ایک دوسرے کے دوست ہیں“۔ تو نے کسی مسلمان کو ملازم کیوں نہیں رکھا؟
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جواب دیا کہ اے امیر الموٴمنین! میرے لیے اس کی کتابت ہے اور اس کے لیے اس کا اپنا دین۔ (یعنی: وہ نصرانی ہے تو کیا ہوا، مجھے تو اس کی کتابت سے غرض ہے، میرا اس کے دین سے کیا تعلق؟)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جن کی اہانت اللہ تعالیٰ نے کی ہے، میں ان کی تکریم نہیں کروں گا، جن کو اللہ تعالیٰ نے ذلیل کیا ہے میں ان کو عزت نہیں دوں گا، جن کو اللہ تعالیٰ نے دور کیا ہے میں ان کو قریب نہیں کروں گا“(المستطرف: ۲/۶۰)۔
          اس پر مغز مکالمے سے یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ
          (۱) جب تک کوئی اضطراری حالت داعی نہ ہو اس وقت تک اصل یہی ہے کہ غیر مسلمین سے استغاثہ اور وہ بھی ایسا کہ جس میں ان کی تکریم ہوتی ہو ، دینِ متین کی فہم حقیقی اورعقل و دانش اس کی اجازت نہیں دیتی ۔
          (۲) یہ عذر قابلِ سماعت نہیں ہے کہ ہمیں تو ان کی صرف خدمات درکار ہیں،نہ کہ ان کا مذہب؛کیوں کہ اس تحصیل ِ خدمت کے ذیل میں ان کے ساتھ معیت ہماری اس شدت اور تغلیظ کو کم کر دے گی یا محو کر دے گی جو ایک مسلمان کا اسلامی شعار بتایا گیا ہے، اور یہی قلتِ تغلیظ بالآخر مداہنت و چشم پوشی اور اعراض عن الدین کا مقدمہ بن کر کتنے ہی شرعی منکرات کی نشوونما کا ذریعہ ثابت ہو گی۔
          (۳) حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بعد کوئی شخص ان جیسا تدین نہیں لا سکتا؛ لیکن اگر کوئی شخص بالفرض لے بھی آئے تو کوئی وجہ نہیں کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو تو کفار کی خدمات حاصل کرنے سے روکا جائے اوراسے نہ روکا جائے۔
          یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے کہ ایک شخص پختہ اور راسخ الایمان بھی ہے اور اس اشتراک ِ عمل سے اس میں کوئی تزلزل بھی نہیں آسکتا؛ لیکن یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایسی ذمہ دار ہستی کا اشتراکِ عمل، عامة المسلمین کے لیے کفار سے استعانت اور اختلاط کے معاملے میں شبہ کا باعث بن جائے اور عوام اپنے لیے اس فعل کو حجت شمار کریں اور اس طرح یہ اختلاط و التباس عام ہو کر ناقابلِ تدارک مفاسد کا باعث بن جائے۔
          (۴) جس مخلوق کی اس کے خالق نے تکریم نہ کی، اور ان کے لیے عزت کا کوئی شمہ گوارا نہ کیا، تواُسی خالق کے پرستاروں کی غیرت و حمیت کے خلاف ہے کہ وہ اس کے اعداء کی تکریم کریں ، وہ جسے پھٹکار دے، یہ اس سے پیار کریں۔
          (۵) اسلام میں سیاستِ محضہ مقصود نہیں ؛ بلکہ محض دین مقصودہے، سیاسی الجھنیں محض تحفظ ِ دین کے لیے برداشت کی جاتی ہیں، پس اگر کوئی سیاست ہی کا کوئی شعبہ تخریب ِ دین یا مداہنت و حق پوشی کا ذریعہ بننے لگے، توبے دریغ اس کو قطع کر کے دین کی حفاظت کی جائیگی، ورنہ بصورتِ خلاف قلبِ موضوع لازم آجائے گاکہ وسیلہ مقصود ہو جائے اور مقصود وسیلہ کے درجہ پر بھی نہ رہے گا۔(مجموعہ رسائل حکیم الاسلام ، اسلامی تہذیب و تمدن: ۵/ ۹۷، ۹۸)
تشبہ با لکفارکے مفاسد:
          غیروں کی وضع قطع اور ان جیسا لباس اختیار کرنے میں بہت سے مفاسد ہیں:
          (۱) پہلا نتیجہ تو یہ ہو گا کہ کفر اور اسلام میں ظاہراً کوئی امتیاز نہیں رہے گا، اور ملتِ حقہ ، ملتِ باطلہ کے ساتھ ملتبس ہو جائے گی، سچ پوچھیے تو حقیقت یہ ہے کہ ”تشبہ بالنصاریٰ “ (معاذ اللہ) نصرانیت کادروازہ اور دہلیز ہے ۔
          (۲) دوم یہ کہ غیروں کی مشابہت اختیار کرنا غیرت کے بھی خلاف ہے، آخر دینی نشان اور دینی پہچان بھی تو کوئی چیز ہے، جس سے یہ ظاہر ہو کہ یہ شخص فلاں دین کا ہے، پس اگر یہ ضروری ہے تو اس کا طریقہ سوائے اس کے اور کیا ہے کہ کسی دوسری قوم کا لباس نہ پہنیں ، جیسے اور قومیں اپنی اپنی وضع کی پابند ہیں، اسی طرح اسلامی غیرت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ہم اپنی وضع کے پابند رہیں، اور دوسری قوموں کے مقابلہ میں ہماری خاص پہچان ہو۔
          (۳) کافروں کا معاشرہ ، تمدن اور لباس اختیار کرنا درپردہ ان کی سیادت اور برتری کو تسلیم کرنا ہے؛ بلکہ اپنی کمتری اور تابع ہونے کا اقرار اور اعلان ہے، جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔
          (۴) نیز! اس تشبہ بالکفارکا نتیجہ یہ ہو گا کہ رفتہ رفتہ کافروں سے مشابہت کا دل میں میلان اور داعیہ پیدا ہو گا، جو صراحةً نصِ قرآنی سے ممنوع ہے:
          وَلاَ تَرْکُنُوْا الیٰ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ، وَمَا لَکُمْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ أوْلِیَاءَ ثُمَّ لاَ تُنْصَرُوْنَ(الھود: ۱۱۳)
ترجمہ: اور تم ان کی طرف مت جھکو، جو ظالم ہیں، مبادا ان کی طرف مائل ہونے کی وجہ سے تم کو آگ نہ پکڑ لے، اور اللہ کے سوا کوئی تمھارا دوست اور مددگار نہیں، پھر تم کہیں مدد نہ پاوٴگے۔
          بلکہ غیر مسلموں کا لباس اور شعار اختیار کرنا ان کی محبت کی علامت ہے، جو شرعاً ممنوع ہے،
          یَا أیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا الْیَہُوْدَ وَالنَّصَاریٰ أوْلِیَاءَ، بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاءُ بَعْضٍ، وَمَنْ یَتَوَلَّہُمْ مِنْکُمْ، فانَّہ مِنْہُمْ، انَّ اللّٰہَ لاَ یَہْدِيْ الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ (المآئدة: ۵۱)
ترجمہ: اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست مت بناوٴ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور رفیق ہیں، وہ تمھارے دوست نہیں اور تم میں سے جو ان کو دوست بنائے گا، وہ انہی میں سے ہو گا، تحقیق اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا۔
          (۵) اس کے بعد رفتہ رفتہ اسلامی لباس اور اسلامی تمدن کے استہزاء اور تمسخر کی نوبت آئے گی، اسلامی لباس کو حقیر سمجھے گا، اور تبعاً اس کے پہننے والوں کوبھی حقیر سمجھے گا، اگر اسلامی لباس کو حقیر نہ سمجھتا تو انگریزی لباس کو کیوں اختیار کرتا؟
          (۶) اسلامی احکام کے اجراء میں دشواری پیش آئے گی، مسلمان اس کافرانہ صورت کو دیکھ کر گمان کریں گے کہ یہ کوئی یہودی یا نصرانی ہے، یا ہندو ہے، اور اگر کوئی ایسی لاش مل جائے توتردد ہو گا کہ اس کافر نما مسلمان کی نمازِ جنازہ پڑھیں یا نہیں؟! اور کس قبرستان میں دفن کریں؟
          (۷) جب اسلامی وضع کو چھوڑ کر دوسری قوم کی وضع اختیار کرے گا تو قوم میں اس کی کوئی عزت باقی نہیں رہے گی، اور جب قوم ہی نے اس کی عزت نہ کی تو غیروں کو کیا پڑی ہے کہ وہ اس کی عزت کریں، غیر بھی اُسی کی عزت کرتے ہیں جس کی قوم میں عزت ہو۔
          (۸) دوسری قوم کا لباس اختیار کرنا اپنی قوم سے لا تعلقی کی علامت ہے۔
          (۹) افسوس! کہ دعویٰ تو ہے اسلام کا ؛ مگر لباس، طعام ، معاشرت ، تمدن ، زبان اور طرزِ زندگی سب کا سب اسلام کے دشمنوں جیسا! جب حال یہ ہے تو اسلام کے دعوے ہی کی کیا ضرورت ہے؟! اسلام کو ایسے مسلمانوں کی نہ کوئی حاجت ہے اور نہ ہی کوئی پرواہ کہ جو اس کے دشمنوں کی مشابہت کو اپنے لیے موجب ِ عزت اور باعث ِ فخر سمجھتے ہوں۔(التنبہ علی ما في التشبہ للکاندھلوي: ۱۶ تا ۲۰)

سچائی تو یہ ہے کہ ہم نے آج اپنے مذہبی اور ثقافتی ورثے کو چھوڑ کر وہ راستہ اختیار کیا ہے کہ جس کا انجام صرف اور صرف تباہی اور بربادی ہی ہے .

وائے نادانی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دِل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

حسیب احمد حسیب

حوالہ جات کیلیے ملاحظہ کیجیے

)



ایک تبصرہ شائع کریں