سوموار، 15 فروری، 2016

مولانا اور مسخرہ

مولانا اور مسخرہ .... !

یہ کہانی ہے دو کرداروں کی یہ واقعہ ہے دو انتہائوں کا یہ حقیقت ہے دو انسانی رویوں کی ...
ایک جانب اخلاق ہے کردار ہے انسانی مروت ہے رحمت ہے مودت ہے سچائی ہے محبت ہے ..
تو
دوسری جانب
شیطانیت ہے دروغ گوئی ہے نفاق ہے فرقہ واریت ہے دشمنی ہے تفریق ہے نفرت ہے .....
ایک حق کا علمبردار ہے
تو
دوسرا جھوٹ کا پیرو کار
ایک مولانا ہیں
اور
دوسرا مسخرہ
مولانا کا تعلق ایک معزز خانوادے سے ہے ایک اچھے گھرانے سے ہے آپ رکھ رکھاؤ والے انسان ہیں آپ کی کہانی متاثر کر دینے والی ہے آپ کی زندگی لوگوں پر مثبت اثرات ڈالنے والی ہے ..
مسخرے کی کوئی خاندانی بنیاد نہیں اس کا کوئی فکری پس منظر نہیں اس کا کوئی بنیادی کردار نہیں اس کی شخصیت کراہیت آمیز ہے اور اس کا کردار تعفن زدہ ...
مولانا کی فکری زندگی کا سفر بطور طالب علم ہوتا ہے ایک صاحب ثروت گھرانے کا نوجوان کہ جو طب کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اپنے گھر سے نکلتا ہے اور پھر دین سے متاثر ہوکر اپنی زندگی دینی علوم کیلیے وقف کر دیتا ہے جب کٹھن مشقت آمیز محنت سے بھرپور ماہ و سال گزار کر یہ سونا کندن بن کر بھٹی سے نکلتا ہے تو ایک دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کر دیتا ہے ...
مولانا جب دعوت کے میدان میں قدم رکھتے ہیں تو الله ان کے قلب کو انسانی محبت اور ہدایت کو عام کرنے کی تڑپ سے لبریز کر دیتے ہیں مولانا کے بیانات دلوں کو بدل دینے والے ہوتے ہیں مولانا انسانی اجسام کو نہیں بلکہ قلوب کو مسخر کرتے ہیں ...
مسخرے کی زندگی آوارگی اور اضطراب کا نمونہ ہے اس کے دل میں سختی ہے اس کی ابتداء جہاد کے نام پر جھوٹے نعرے لگانے سے ہوتی ہے یہ گمراہی کا پروردہ ہے یہ ذلالت کا کارندہ ہے اور اس کے علمی اور تحریکی سفر کا انجام ایک جھوٹے اور کذاب کی پیروی پر ہوتا ہے ....
مولانا اپنے حصے کا کام کر کے اس دنیا فانی سے کوچ کر جائینگے اور انشاء الله ثم انشاء الله جب اپنے خالق حقیقی کے سامنے حاضر ہونگے تو شاداں و فرحاں حاضر ہونگے نبی کریم صل الله علیہ وسلم اپنے اس غلام کو سینے سے لگائیںگے ..
آگیا میرا وہ امتی کہ جس نے اپنے دن رات میرے دین کی دعوت کی محنت میں لگاۓ ..
خوش آمدید اے میرے روحانی بیٹے
خوش آمدید ...
اور
یہ وہ وقت ہوگا کہ جب مسخرہ ذلت کے ساتھ دھتکارا جا رہا ہوگا
اور
یہی وہ وقت ہوگا کہ جب اسے دیدار کی دولت بھی نصیب نہ ہوگی
اور پھر
مسخرہ انتہائی ذلت کے ساتھ اپنے جھوٹے کذاب کے جلو میں جہنم کی طرف روانہ کر دیا جاوے گا ...
اور مولانا تمام اہل حق کے ساتھ جنت کی نعمتوں میں اپنے خالق حقیقی کے سامنے شکر گزار ہونگے ..
اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے
ہم مولانا کا ساتھ دیتے ہیں
کہ
مسخرے کی بات سنتے ہیں ....
حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں