سوموار، 15 فروری، 2016

اسلام میں اشیاء (Goods) اور امور کی حلت و حرمت کے فکری اصول

اسلام صرف ایک مذھب ہی نہیں کہ جو عقائد اور عبادات کا مجموعہ ہو بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات
(A code of conduct ) ہے جس میں متعین کردہ اصول و مبادی اپنی قانونی اخلاقی اور معاشرتی بنیادیں رکھتے ..
قوانین عالم کی تشکیل یا تو خالص عقلی بنیادوں پر ہوتی ہے یا خالص الہیات کی بنیاد پر، فی زمانہ نافذ قوانین نہ تو خالص عقلی ہیں اور نہ ہی الوہی بلکہ انکو قلت و کثرت رائے کے مطابق تشکیل دیا گیا ہے یعنی ان کی تشکیل (Qualitative) نہیں بلکہ (quantitative) ہے .
اس بحث میں پڑے بغیر کہ قوانین علمی ہوں یا عقلی اکثریتی رائے پر قائم ہوں یا الہی اصولوں پر مبنی اور ان قوانین میں سے کون سے برتر و بہتر اور کون سے بدتر و کمتر ہیں اور اس برتری و کمتری کے پیچھے کون سا (argument) کار فرما ہے ہم یہ بات سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام بطور قانون احکامات اوامر و نواہی کس انداز میں اور کن اصولوں کے مطابق نافذ کرتا ہے ..
اسلام کے پاس تین بنیادی اصول ہیں کہ جنکی بنیاد پر اشیاء و احکام کا حلال (lawful) اور حرام (unlawful) ہونا ثابت ہوتا ہے اب اگر غور کیا جاوے تو ان بنیادوں سے ہٹ کر کوئی بھی الگ علت ہمیں دکھائی نہیں دیتی کہ جو ان قوانین کے پیچھے کار فرما ہو ..
اس سے پہلے کہ ان امور کو سمجھا جاوے اسلامی ریاست و معاشرت کی ہیت ترکیبی کو سمجھ لینا ضروری ہے کہ جو چار بنیادوں پر کھڑی ہے ..
١. ریاست اور شریعت (احکام الہی ) کا تعلق .
٢. ریاست اور عوام کا تعلق .
٣. عوام اور شریعت کا تعلق .
٤.عوام کا باہمی تعلق .
ان چار دوائر سے باہر اسلامی ریاست کی گفتگو نہیں ہے اور ان ہی کے اندر قوانین اسلامی کا اجراء ہوتا ہے ...
اب ان تمام قانونی بنیادوں کو سمجھا جاوے کے جن کے تحت اشیاء کی حلت و حرمت ثابت ہوتی ہے ..
اسلامی قوانین کا تعلق سنت الہی اور سنن نبوی صل الله علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق " یسر " کے اصول پر قائم ہے ..
الله کے رسول صل الله علیہ وسلم نے فرمایا .. !
عن أبي هريرة - رضي الله عنه - أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال:((إن الدين يسر، ولن يشاد أحد الدين إلا غلبه، فسددوا وقاربوا وأبشروا واستعينوا بالغدوة والروحة وشيء من الدلجة))؛ رواه البخاري.

'' دین آسان ہے، جو کوئی دین سے سختی میں مقابلہ کرے گا تو وہ اس پر غالب آ جائے گا۔ پس راہ راست دکھاؤ، میانہ روی اختیار کرو اور خوش خبری دو...۔''
اب یہ معاملہ صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی اور قانونی بھی ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابو موسیٰ اشعری کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا تو دوسری باتوں کے علاوہ یہ نصیحت بھی کی :
یسرا ولا تعسرا وبشرا ولا تنفرا وتطاوعا ولا تختلفا...
'' تم دونوں آسانی پیدا کرنا، تنگی پیدا نہ کرنا، خوش خبری دینا، نفرت نہ دلانا، او رخوشی سے ایک دوسرے کی تابع داری کرنا، اختلاف نہ کرنا۔''
رواہ البخاری، کتاب الایمان، باب: الدین یسر۔
اسلامی معاشرت کی دو پرتیں ہیں انفرادی اور اجتماعی اور ہر دو اپنی جگہ انتہائی اہم اور ضروری ہیں ایک منفرد جب تک اسلامی امور پر عامل نہ ہوگا اور نواہی سے بچنے کی کوشش نہیں کرے گا وہ اجتماعیت کیلیے بھی مفید نہ ہوگا ..
دوسری جانب دینی احکامات کی ترویج نصیحت کے ساتھ کی جاوے گی کہ جسکا اصول ہمیں نبی کریم صل الله علیہ وسلم سے بطور قانون ملتا ہے
بَاب قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّم الدِّينُ النَّصِيحَةُ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ وَقَوْلِهِ تَعَالَى{ إِذَا نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ }
نبی ﷺ کا ارشاد کہ دین، اللہ اور اس کے رسول اور قائدینِ اسلام اور عام مسلمانوں کے لئے نصیحت (کا نام) ہے اور اللہ کا قول کہ جب وہ اللہ اور اس کے لئے نصیحت کریں، یعنی دین کا خلاصہ اور حاصلِ اخلاص اور خیر خواہی ہے۔
جلد نمبر ۱ / پہلا پارہ / حدیث نمبر ۵۶ / حدیث متواتر : مرفوع
یہاں قول رسول صل الله علیہ وسلم سے ریاست و معاشرت کے تمام (sectors) کیلیے اصول دین ہے اور دین کے پیچھے خیر خواہی کی حکمت کار فرما ہے ..
اب ہم ان تین بنیادوں کو دیکھتے ہیں کہ جن کے مطابق دین اسلام میں اشیاء (Goods) اور امور ( Affairs) کو حلال و حرام قرار دیتا ہے ..
١. قوانین الہی یا شریعت میں تغیر و تبدل (بدعات ).
٢. مضرت و مشقت .
٣. منفعت کی غیر موجودگی .
اب ان تمام اصولوں کو الگ الگ سمجھتے ہیں
رب کریم کی جانب سے نازل کردہ شریعت اور نبی کریم صل الله علیہ وسلم کی جانب سے نافذ کردہ شریعت میں تغیر و تبدل کا اختیار کسی کے پاس موجود نہیں ہے یہاں تک کہ کوئی ناسخ (جدید حکم یا شریعت) کسی قدیم (حکم یا شریعت) کو منسوخ نہ کر دے ..
اس حوالے سے احادیث مبارکہ میں واضح اصول و مبادی موجود ہیں ..
الله کے رسول صل الله علیہ وسلم نے فرمایا ..
سنت خلفاء راشدین پر عمل کیا جاوے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«عَلَيْکُمْ بِسُنَّتِی، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِيْنَ الْمَهْدِيِّينَ تَمَسَّکُوْا بِهَا وَعَضُّوْا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَاِيَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْاُمُوْرِ، فَاِنَّ کُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَکُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ» سنن ابی داود، السنة، باب فی لزوم السنة، ح:4607
’’تم میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو، اسے مضبوطی سے تھام لو اور دانتوں کے ذریعہ سختی سے پکڑ لو اور (دین میں) نئے نئے کاموں سے کنارہ کشی اختیارکرو کیونکہ (دین میں ایجاد کردہ) ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘
راغب اصفہانی لکھتے ہیں ''والبدعة فی المذہبایراد قول لم یستند قائلھا وفاعلھا فیہابصاحب الشریعة واماثلھا المتقدمة واصولھا المتقنة.(مفردات الفاظ القرآن ٣٩ .)
دین میں بدعت ہر وہ قول و فعل ہے جسے صاحب شریعت نے بیان نہ کیا ہو اور شریعت کے محکم و متشابہ اصول سے بھی نہ لیا گیا ہو
ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں ''والمحدثات بفتح الدال جمع محدثة ،والمراد بھا ما احدث ولیس لہ اصل فی الشرع ویسمیہ فی عرف الشرع بدعة ، وماکان لہ اصل یدل علیہ الشرع فلیس ببدعة ''( فتح الباری ١٣ ٢١٢ . )
ہر وہ نئی چیز جس کی دین میںاصل موجود نہ ہو اسے شریعت میں بدعت کہا جاتا ہے اور ہر وہ چیز جس کی اصل پر کوئی شرعی دلیل موجود ہو اسے بدعت نہیں کہا جائے گا ۔ یہی تعریف عینی نے صحیح بخاری کی شرح (عمدة القاری ٢٥ ٢٧. )،مبارکپوری نے صحیح ترمذی کی شرح (تحفة الأحوذی ٧ ٣٦٦ .) ، عظیم آبادی نے سنن ابی داؤد کی شرح (عون المعبود ١٢ ٢٣٥.) اور ابن رجب حنبلی نے جامع العلوم میں ذکر کی ہے۔(جامع العلوم والحکم ١٦٠ ، طبع ہندوستان.)
یہاں سے دو بنیادی اصول معلوم ہوتے
بدعات کا تعلق صرف عقائد و عبادت کے باب سے نہیں بلکہ ریاست و معاملات کے ابواب سے بھی ہے ..
اب قانونی طور پر اگر الله کے رسول صل الله علیہ وسلم نے ہمیں پانچ نمازوں کا حکم دیا ہے تو انہیں چار نہیں کیا جا سکتا ..
رمضان کا ایک ماہ کا ہوگا دو یا تین کا نہیں ..
حج مخصوص ایام میں ہوگا ان سے ہٹ کر نہیں ...
دوسری جانب امور کہ جن میں صراحت کے ساتھ کوئی حکم موجود نہیں وہاں اجتہاد کا در بھی وا کیا گیا ہے جسکی طرف حدیث رسول صل الله علیہ وسلم میں اشارہ ملتا ہے ...
حدیث معاذ بن جبل رض
یمن روانہ کرتے وقت آنحضرتﷺ نے معاذؓ سے پوچھا تھا کہ "مقدمہ آئے گا تو کیونکر فیصل کروگے؟" حضرت معاذؓ نے جواب دیا کتاب اللہ سے آپ نے فرمایا اگر اس میں نہ پاؤ، تو عرض کی سنت رسول اللہ ﷺ سے پھر فرمایا اگر اس میں بھی نہ پاؤ تو عرض کی کہ "اجتہاد کرونگا" یہ سن کر آنحضرتﷺ اس قدر خوش ہوئےکہ ان کے سینہ پر اپنا دست مقدس پھیرا اور فرمایا خدا کا شکر ہے جس نے تم کو اس بات کی توفیق دی جس کو میں پسند کرتا ہوں، حضرت معاذؓ کے جواب سے گویا اصول فقہ کا یہ پہلا اصول مرتب ہوا کہ احکام اسلامی کے یہ تین بہ ترتیب ماخذ ہیں اول کتاب الہی پھر حدیث نبوی اوراس کے بعد قیاس
شروع زمانہ میں جو لوگ دیر میں پہنچتے اور کچھ رکعتیں چھوٹ جاتیں تو وہ نمازیوں سے اشارہ سے پوچھ لیتے کہ کتنی رکعتیں ہوئیں اور وہ اشارہ سے جواب دیدیتے ،اس طرح لوگ فوت شدہ رکعتیں پوری کرکے صف نماز میں مل جاتے تھے،ایک دن جماعت ہورہی تھی اور لوگ قعدہ میں تھے کہ معاذؓ آے اور دستور کے خلاف قبل اس کے کہ رکعتیں پوری کرتے جماعت کے ساتھ قعدہ میں شریک ہوگئے،آنحضرتﷺ نے سلام پھیرا تو حضرت معاذ نے اٹھ کر بقیہ رکعتیں پوری کیں، آنحضرتﷺ نے دیکھا تو فرمایا :قد سن لکم فھکذا فاصنعوا یعنی معاذؓ نے تمہارے لئے ایک طریقہ نکالا ہے تم بھی ایسا ہی کرو (مسند:۵/۲۴۶،۲۳۳) یہ حضرت معاذؓ کے لئے کتنی قابل فخر مزیت ہے کہ ان کی سنت تمام مسلمانوں کے لئے واجب العمل قرار پائی اورآج تک اسی پر عمل در آمد ہے اور دنیا کے سارے مسلمان اسی کے مطابق اپنی فوت شدہ رکعتیں ادا کرتے ہیں۔
فقہ اسلامی کے مطابق ایک اصول کا تعین دوسرے سے کیا جاتا ہے مثال کے طور پر ایک حدیث میں آتا ہے
( أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ ) تمہارے لئے سمندر کا شکار اوراسکا کھانا حلال قرار دیا گیا ہے
[المائدة: 96]
اور ابو داود (83) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے بارے میں فرمایا: (سمندر [کا پانی] پاک کرنیوالا ہے، اور اسکا مردار حلال ہے) البانی نے
"صحیح ابو داود " کی اس روایت کو صحیح کہا ہے۔
اس کے مطابق کچھ فقہاء تمام سمندری جانوروں کو حلال قرار دیتے ہیں لیکن ایک دوسری حدیث اس کی وضاحت کر دیتی ہے
عن جابر قال : حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم يعني يوم خيبر الحمر ولحوم البغال وكل ذي ناب من السباع وذي مخلب من الطير
( سنن الترمذي : 1478 ) .
ترجمہ : حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقعہ پر پالتو گدھا اور خچر کا گوشت ، ہر کچلی دانت والا جانور اور ہر پنجے سے شکار کرنے والے پرندے کو حرام قرار دیا ۔ { سنن ترمذی }
یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام (predators) حرام ہیں چاہے وہ خشکی کے ہوں یا پانی کے ...
اسی طرح وہ جاندار کہ جو حلال تو ہیں لیکن انکے دوسری زیادہ اہم مصارف موجود ہیں جیساکہ جنگ کے مواقع پر جب کہ گھوڑوں کی انتہائی ضرورت تھی انہیں بطور غذاء استعمال کرنے سے روکا گیا ..
اب آتے ہیں دوسری شق کی طرف

٢. مضرت و مشقت .

اسلام افراد کو مشقت میں ڈالنا پسند نہیں کرتا ایسے ہی اسلامی تعلیمات ہر اس شے کو حرام خیال کرتی ہیں کہ جن دینی اخلاقی جسمانی یا مالی اعتبار سے لوگوں کیلیے مضر ہو ..
کسی کی جان لےلینا بغیر حق کے (یعنی قصاص نہ ہو ) اسلام میں حرام ہے
کسی کا مال لے لینا بغیر حق کے اسلام میں حرام ہے
کسی کی عزت کو ٹھیس پہنچانا بغیر حق کے اسلام میں حرام ہے ..
اب اسکی ایک مثال ملاحظہ کیجئے اسلام میں تجسس حرام ہے
ارشاد باری تعالی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيراً مِنْ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلا تَجَسَّسُوا ۔ (حجرات 49:12)
اے ایمان والو، بہت گمان کرنے سے بچا کرو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ تجسس کرنے سے بھی بچا کرو۔
ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد ہے:
لا تغتابوا المسلمین و لا تتبعوا عوراتھم۔ فان من اتبع عوراتہم یتبع اللہ عورتہ و من یتبع اللہ عورتہ یفضحہ فی بیتہ۔ (قرطبی)
مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کے عیوب کی جستجو نہ کرو۔ کیونکہ جو شخص ان کے عیوب کی تلاش کرتا ہے، اللہ تعالی اس کے عیب کی تلاش کرتا ہے۔ اور جس کے عیب کی تلاش اللہ تعالی کرے، اس کو اس کے گھر کے اندر بھی رسوا کر دیتا ہے۔
اسی طرح چادر اور چار دیواری کا تقدس اسلام میں انتہائی اہمیت کا حمل ہے
آدم بن ابی ایاس، ابن ابی ذئب، زہری، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے سوراخ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جھانکا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو او زار سے کھجا رہے تھے، آپ نے فرمایا کہ اگر میں جانتا کہ تو جھانک رہاہے تو میں اس کو تیری آنکھوں میں چبھو دیتا اور اجازت لینادیکھنے ہی کی وجہ سے مقرر کیا گیا ہے۔
صحیح بخاری۔۔جلد نمبر 3 / چوبیسواں پارہ / حدیث نمبر 864 / حدیث مرفوع
یہاں معاشرتی اعتبار سے چند بنیادی اخلاقی اصولوں کا تعین ہوتا ہے کہ جنہیں قانونی حیثیت بھی حاصل ہے اسی طرح ماکولات و مشروبات میں وہ تمام اشیاء کہ جو انسانی صحت کیلیے مضر ہوں اصول مضرت کے مطابق حرام ہیں ..
دوسری جانب مشقت کا معاملہ یعنی اگر کوئی اپنے آپ کو یا دوسروں کو ایسی مشقت میں ڈالے کہ جو غیر ضروری ہو تو اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا ..
ارشاد ربانی ہے :
وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ.
’’اور رہبانیت (یعنی عبادتِ الٰہی کے لئے ترکِ دنیا اور لذّتوں سے کنارہ کشی) کی بدعت انہوں نے خود ایجاد کر لی تھی، اسے ہم نے اُن پر فرض نہیں کیا تھا، مگر (انہوں نے رہبانیت کی یہ بدعت) محض اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے (شروع کی تھی)۔‘‘
يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ ﴿٣١﴾ قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ۚ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﴿٣٢﴾ قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴿٣٣﴾
اے بنی آدم، ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ رہو اور کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا اے محمدﷺ، ان سے کہو کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں؟ کہو، یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لیے ہیں، اور قیامت کے روز تو خالصتاً انہی کے لیے ہوں گی اِس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھنے والے ہیں اے محمدﷺ، اِن سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں: بے شرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی کو شریک کرو جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو کہ وہ حقیقت میں اسی نے فرمائی ہے ۔
قرآن، سورت الاعراف، آیت نمبر 33-31
اسی طرح حدیث نبوی صل الله علیہ وسلم میں آتا ہے
بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی رہبانیت اختیار کرنے کی کوشش کی اور یہ ارادہ کیا کہ وہ رات بھر نمازیں پڑھا کریں گے، ہمیشہ روزہ رکھیں گے اور ہمیشہ اپنی بیویوں سے دور رہیں گے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا: ’’خدا کی قسم! میں تم سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا ہوں اور اس کے حدود کا پاس رکھنے والا ہوں، لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں۔ میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور شادی بیاہ بھی کرتا ہوں۔ جس نے میرے طریقے سے انحراف کیا ، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ ‘‘ (بخاری ، کتاب النکاح)
مضرت سے بچنے کا اصول اتنا قوی ہے کہ بعض اوقات وہ اشیاء کہ جو حرمت کے باب میں ہوتی ہیں اسلام انہیں بھی حلال قرار دیتا ہے ...
حالت اضطرار میں احکامات
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالْدَّمَ وَلَحْمَ الْخَنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَإِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
اس نے تم پر صرف مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام بلند کیا گیا ہو حرام کیا ہے۔ پس جو (ان کے کھانے پر) مجبور ہو جائے نہ باغی ہو اور نہ حد سے تجاوز کرنے والا (تو کوئی مضائقہ نہیں) بے شک خدا بڑا بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
(سوره النحل)
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَمَن اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفِ لاِّثْمٍ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (المائدہ:۳)
(جو شخص بھوک سے مجبور ہوکر حرام چیزوں کا استعمال کرے اوراس کا رجحان گناہ کی طرف نہ ہو تواس میں کوئی حرج نہیں، بے شک اللہ معاف کرنے والاہے)
حضرت عمر حدود و تعزیرات میں حالت اضطرار کا عذر پیش نظر رکھتے تھے ۔
حضرت عمر کے پاس ایک عورت لائی گئی جسے صحراء میں جب کہ وہ شدید پیاسی تھی ، ایک چرواہا ملا۔ عورت نے اس سے پانی مانگا۔ اس نے اسے پانی دینے سے انکار کیا۔ سوائے اس صورت کے کہ وہ اسے اجازت دے کہ وہ اس کے ساتھ بدکاری کرے۔ عورت نے اسے اللہ کا واسطہ دیا مگر وہ نہیں مانا۔ جب اس عورت کی قوت برداشت جواب دے گئی تو اس نے اس شخص کو اپنے آپ پر قدرت دے دی۔ حضرت عمر نے اضطرار کی اس حالت کی بناء پر اس عورت سے حد ساقط کر دی۔ [33]
مصنف عبد الرزاق : 7/407 ، سنن البیہقی : 8/236 ، المغنی لابن قدامہ : 8/187 بحوالہ فقہ عمر : ٩٣
اسلام میں مصالح مرسلہ ایک مستقل حکم کے طور پر موجود ہے
کسی منفعت کی تحصیل یاتکمیل یاکسی مضرت وتنگی کا ازالہ یاتخفیف کی وہ صورت جوشارع کے مقصود کی رعایت وحفاظت پر مبنی ہو اور اس کی تصریح وتشخیص یااس کے کسی نوع کی صراحت شریعت نے نہ کی ہو، اسے اصطلاح میں مصالح مرسلہ کہا جاتا ہے اور اسے "مرسلہ" "الاستدلال المرسل" اور الاستصلاح بھی کہا جاتا ہے۔
(ارشاد الفحول:۲۸۵۔ البحرالمحیط:۶/۷۶)
فقہاء نے مصالح مرسلہ پر عمل کرنے کی تین شرطیں بیان کی ہیں:
۱۔وہ مصلحت ایسی ہوجوشریعت کے مقاصد کے مناسب ہو اور دلائلِ قطعیہ کے مخالفت نہ ہو اور نہ ہی کسی اصل کے منافی ہو؛ بلکہ شارع کی مراد کے موافق اور اس سے متفق ہو۔
۲۔مصلحت بذاتِ خود معقول ہو، عقول سے بالاتر نہ ہو، عقل سلیم ان کو قبول کرتی ہو۔
۳۔مصلحت کی رعایت کا مقصد کسی ضرر کو دفع کرنا ہو، محض نفسانی خواہشات کی پیروی نہ ہو۔
(المدخل:۲۰۱)
مصالح مرسلہ مقید ہیں
۱)حفظِ جان
(۲)حفظِ نفس
(۳)حفظِ عقل
(۴)حفظِ نسل
(۵)حفظِ مال۔
میں ..
مصالح مرسلہ کا خیال خود الله رب العزت نے بھی رکھا اور الله کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ صل الله علیہ وسلم نے بھی رکھا ...
حضرت عائشہ صدیقہ رض سے مروی ہے
عن عَائِشَةَ قالت سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عن الْجَدْرِ أَمِنْ الْبَيْتِ هو قال نعم قلت فَلِمَ لم يُدْخِلُوهُ في الْبَيْتِ قال إِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرَتْ بِهِمْ النَّفَقَةُ قلت فما شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا قال فَعَلَ ذَلِكِ قَوْمُكِ لِيُدْخِلُوا من شاؤوا وَيَمْنَعُوا من شاؤوا وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ في الْجَاهِلِيَّةِ فَأَخَافُ أَنْ تُنْكِرَ قُلُوبُهُمْ لَنَظَرْتُ أَنْ أُدْخِلَ الْجَدْرَ في الْبَيْتِ وَأَنْ أُلْزِقَ بَابَهُ بِالْأَرْضِ. (مسلم، رقم 3249)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روايت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا حطیم بھی بیت اللہ میں داخل ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں،پھر میں نے پوچھا کہ لوگوں نے اسے کعبے میں شامل کیوں نہیں کیا؟ آپ نے جواب دیا کہ تمھاری قوم کے پاس خرچ کی کمی پڑ گئی تھی، پھر میں نے پوچھا کہ یہ دروازہ کیوں اونچا بنایاہے؟ آپ نے فرمایا:یہ بھی تمھاری قوم ہی نے کیا ہےتاکہ وه جسے چاہیں اندر آنے دیں او رجسے چاہیں روک دیں۔اگر تمھاری قوم نےجاہلیت كو نيا نيا نہ چهوڑا ہوتا اور مجھے اس کا خوف نہ ہوتا کہ ان کے دل بگڑ جائیں گے تو ميں اس حطیم کو بھی کعبہ میں شامل کر دیتا اور کعبہ کا دروازہ بهى زمین کے برابر کر دیتا۔

اب تیسرے اور آخری اصول کو دیکھتے ہیں ..
٣. منفعت کی غیر موجودگی .
ترک لا یعنی اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے
علامہ قرطبی رحمتہ اللہ علیہ الجامع میں لکھتے ہیں :
ما لا خیر فیه او بما یلغی اثمه
"جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور اس میں کوئی گناہ ہی ہو۔"
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے

اِنَّ مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُہ مَالَا یَعْنِیْہِ (ترمذی ۲/ ۵۸)
آپ ﷺ نے فرمایا،" آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ لا یعنی امور کو ترک کردے۔"
(ترمذی ص 58، مشکوٰۃ )
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا،" آدمی کے اسلام کی خوبی میں سے یہ ہے کہ بے فائدہ امور کو چھوڑدے۔"
(مجمع الزوائد ج 8 ص 18)
کتاب الله میں ہے مون تو وہ لوگ ہیں ...
وَٱلَّذِينَ لَا يَشۡهَدُونَ ٱلزُّورَ وَإِذَا مَرُّواْ بِٱللَّغۡوِ مَرُّواْ ڪِرَامً۬ا
(سُوۡرَةُ الفُرقان 72)
"اور وہ بیہودہ باتوں میں شامل نہیں ہوتے اور اگر (اتفاقاً )بیہودہ مشغلوں کے پاس سے ہو کر گزریں تو سنجیدگی کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔"
حدیث مبارکہ صل الله علیہ وسلم میں آتا ہے
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّخِذَھَا ھُزُوًا اُولٰٓءِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مَّھِیْنٌ. وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰتُنَا وَلّٰی مُسْتَکْبِرًا کَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْھَا کَاَنَّ فِیْ اُذُنَیْہِ وَقْرًا فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ. اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَھُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِ . خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّا وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ . (لقمان ۳۱: ۶۔۹)
’’اورلوگوں میں ایسے بھی ہیں جو ’لھو الحدیث‘ خرید کر لاتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر بھٹکا دیں اور ان آیات کا مذاق اڑائیں۔یہی لوگ ہیں جن کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ اور جب ان کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تواس طرح متکبرانہ اعراض کرتے ہیں گویا ان کو سنا ہی نہیں۔ گویا ان کے کانوں میں بہرا پن ہے تو ان کو ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔ البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، ان کے لیے نعمت کے باغ ہوں گے جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ اللہ کا وعدہ پورا ہو کے رہے گا اور وہ غالب و حکیم ہے۔‘‘
’لھو‘ کے معنی کھیل تماشے اور غافل کر دینے والی چیز کے ہیں۔
’’لسان العرب ‘‘میں ہے:
لھو: ما لھوت بہ ولعبت بہ وشغلک من ھوی وطرب نحوھما. (۱۵/ ۲۵۸)
’’لہو‘ سے مراد وہ چیز ہے جس کے ساتھ تم کھیلتے ہو یا ایسی خواہش یا خوشی یا کوئی بھی ایسی چیز جو تمھیں مشغول کردے یا ان دونوں جیسی کوئی چیز۔‘‘
صاحب مفردات علامہ راغب اصفہانی بیان کرتے ہیں:
اللھو ما یشغل الإنسان عما یعنیہ ویھمہ. (المفردات فی غریب القرآن ۴۵۵)
’’لہو وہ چیز ہے جو انسان کو اس سے غافل کردے جس کا وہ ارادہ رکھتا ہو۔‘‘
زمخشری کہتے ہیں
للھو کل باطل ألھی عن الخیر وعما یعني و(لھو الحدیث) نحو السمر بالأساطیر والأحادیث التي لا أصل لہا، والتحدث بالخرافات والمضاحیک وفضول الکلام، وما لا ینبغي من کان وکان، ونحو الغناء وتعلم الموسیقار، وما أشبہ ذلک. (الکشاف۳/ ۴۹۶۔۴۹۸)
’’ ہر وہ باطل چیز ’ لھو ‘ہے جو انسان کو خیر کے کاموں اور بامقصد باتوں سے غافل کر دے۔ جیسے داستان گوئی، غیر حقیقی قصے، خرافات ہنسی مذاق ، فضول باتیں ، ادھر ادھر کی ہانکنا اور جیسے گانا، موسیقار کا موسیقی سیکھنااور اس طرح کی دوسری چیزیں۔‘‘
اور رازی رح کی راۓ ہے
أن ترک الحکمۃ والاشتغال بحدیث آخر قبیح. (التفسیر الکبیر۲۵/ ۱۴۰)
’’اس سے مراد اچھی بات کو چھوڑکر کسی بری بات میں مشغول ہوجانا ہے۔‘‘

اسلامی فلسفے کے مطابق " وقت " الله رب العزت کی جانب سے ودیعت کردہ ایک نعمت ہے اور اس عظیم نعمت کو صحیح طریقہ پر استعمال نہ کیا جاوے تو یہ بھی ایک جرم ہے
معروف مفسر اور مورخ امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کے شیخ ابوالمظہر یحییٰ بن محمد بن ھبیرہ فرمایا کرتے تھے :
والوقت أنہس ما عہنہيتَ بحہظه وأراه أسهل ما عليک يَضہيع
(ابن عماد حنبلي، شذرات الذهب، 4 : 195)
’’وقت وہ قیمتی ترین شے ہے جس کی حفاظت کا تمہیں ذمہ دار بنایا گیا ہے لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ یہی وہ چیز ہے جو تمہارے پاس نہایت آسانی سے ضائع ہو رہی ہے۔‘‘
حضرت حسن بصری رحمة الله عییہ فرماتے ہیں : اے انسان ! تو ایام ہی تو ہے ، جب ایک دن ختم ہو جائے تو تیرا ایک حصہ ختم ہو جاتا ہے ۔
قرآن کریم وقت کی قسم اٹھاتا ہے
’’والعصر ۔ ان الانسان لفی خسر‘‘ (العصر:1، 3) ’’زمانے کی قسم، بلا شبہ انسان گھاٹے میں ہے۔‘‘
سواۓ ان لوگوں کے
إِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ(۳)
سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے اور انہوں نےایک دوسرے کو حق کی وصیت کی اور صبر کی وصیت (تلقین) کی ! (۴)
پس معلوم ہوا کہ وہ تمام امور و اشیاء کہ جو اسلامی تعلیمات و احکامات میں تغیر پیدا کریں یا اپنے اندر کسی بھی قسم کی مضرت رکھتی ہوں یا پھر لا یعنی کے قبیل سے ہوں اسلامی تعلیمات کے مطابق حرام ہیں.
ایک تبصرہ شائع کریں