جمعرات، 2 جون، 2016

طاہر شاہ اور اسد بھائی

طاہر شاہ اور اسد بھائی…  

haseeb ahmadعلی اسد بھائی ہمارے دوست ہیں اور “جامی” تخلص کرتے ہیں۔ فارسی شعر کی دنیا میں عبد الرحمن جامی بھی کیا خوب شاعر  گزرا  ہے ۔
کارِ جامی عشقِ خوبان است هر سو عالمی
در پیِ انکارِ او، او ہمچناں در کارِ خویش
(عارفِ کاملِ تمام تعلقات کو ترک کر دیتا ہے کیونکہ محب وہ ہے جو سب چیزوں سے قطعِ تعلق کر لے اور اُس کی خواہش محبوب کی خواہش بن جائے۔)
اسد جامی بھائی کا تعلق بھی فنون لطیفہ سے ہے۔ کہتے ہیں نثار بزمی مرحوم کی خدمت میں حاضری دی تو نوجوان تھا۔ استاد کی ڈانٹ بھی کھائی اور ان کے جوتے بھی اٹھاۓ لیکن موسیقی کے اسرار و رموز ضرور سیکھے  اور دل لگا کر اس طرح سیکھے کہ جیسا سیکھنے کا حق ہے۔ بہت جوتیاں چٹخائیں بڑی کوششیں کیں لیکن ترقی کی سیڑھی نہ مل سکی ۔  آج یہ معاملہ ہے کہ کبھی کبھی ان کا  ہاتھ اس قدر تنگ ہو جاتا ہے کہ دوستوں کی وسعت  قلبی کی طرف دست طلب بڑھانا پڑتا ہے .
گزشتہ شب ” چورنگی ” پر ملاقات ہوئی چہرے کا رنگ متغیر تھا۔ ہم نے پوچھا کیا ہوا تو کہنے لگے اس طاہر شاہ کی دم میں نمدہ…. وغیرہ وغیرہ …
asad jamiارے اسد بھائی کیوں خو ن جلاتے ہیں، جانے دیجئے۔ کہنے لگے ارے حسیب میاں کیسے نہ خون جلائیں، ہم نے جوتیاں چٹخا ئی ہیں، ریاضت کی ہے، خون جگر ٹپکایا ہے تو کہیں جاکر موسیقی کا فن ہاتھ آیا ہے اور یہاں کسی امیر کی …. وغیرہ وغیرہ… اولاد اپنی دولت کے بل بوتے پر آتی ہے اور ایک گانا گا کر دنیا پر چھا جاتی ہے…
اجی اسد بھائی، لوگ تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں
تو کہنے لگے حسیب میاں وہ مذاق ہی مذاق میں لاکھوں لوگوں کی نگاہوں کا مرکز اور ہم سنجیدگی کے ساتھ گمنامی کے پردوں سے لپٹے اپنے فن کے ساتھ دنیا سے چلے جائیں گے .
اسد بھائی بھی کیا خوب گاتے ہیں اکثر محفل کے شاعر حضرات فرمائش کرتے ہیں
اسد بھائی ذرا میری غزل تو گاکر سنائیے
طاہر عباس کی غزل
سید فیاض علی کی غزل
خیام قادری مرحوم کی غزل
اور تو اور استاد محترم اعجاز رحمانی کی غزل ….
چورنگی کی راتوں میں بغیر آلات موسیقی کے جب اسد جامی بھائی کی پر سوز آواز ابھرتی ہے تو سما ں بندھ جاتا ہے۔ لوگ رک رک کر سنتے ہیں …
ts6ہاں اسد جامی کی جیب میں پیسا نہیں اور ہاتھ میں سفارش کی پرچی نہیں ..
ہاں تو کچھ دیر گفتگو کے بعد اسد بھائی کا غصہ کچھ کم ہوا تو کہنے لگے حسیب میاں ایک لطیفہ سنو .
ایک بادشاہ نے اپنی بیٹی کی شادی کیلئے سوئمبر  رچایا اور شرط یہ رکھی کہ جو کوئی بھی سورج ڈوبنے سے پہلے پنگ پانگ کی سب سے زیادہ گیندیں لاۓ گا اس کے ساتھ شہزادی بیاہ دی جاوے گی۔ جناب لوگ تلاش میں نکلے سورج ڈوبنے سے کچھ دیر پہلے ملک کافرستان کا شہزادہ نمودار ہوا اور ایک بوری بادشاہ کے قدموں میں لا پھینکی ..
ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ملک کوہ قاف کا شہزادہ دو بوریاں لادے نمودار ہوا …
اس سے پہلے کہ سورج غروج ہوتا لوگوں نے کیا دیکھا کہ دور سے ایک شخص چلا آتا ہے عجیب حالت ہے کہ لباس تار تار ہے لگتا ہے جیسے کوئی صدیوں کا بیمار ہے آخر کون ہے یہ قریب آیا تو کیا دیکھا کہ یہ تو ڈفرستان کا شہزادہ ہے اور دو تھیلوں میں کچھ بھاری بھرکم لیے چلا آتا ہے …
میاں یہ کیا اٹھا لاۓ ہو ؟ بادشاہ نے استفسار کیا۔ یہ پنگ پانگ کی گیندیں تو نہیں دکھائی دیتیں …
کیا … کیا … کہا … !
پنگ پانگ …؟
شہزادے نے ہونق سا منہ بناتے ہوۓ کہا
میں تو سمجھا تھا کنگ کانگ ….
یہ طاہر شاہ اسی ڈفرستان کا شہزادہ ہے
Tahir-Shah-Angel-Lyricsاسد بھائی کی آنکھوں میں ہنستے ہنستے آنسو آ گۓ
معلوم نہیں یہ کیسے آنسو تھے
جاتے جاتے کہنے لگے
حسیب میاں ایک بات بولوں …
جب جب کوئی طاہر شاہ موسیقی کی دنیا میں پیدا ہوتا ہے نا ، تب تب کہیں کسی اسد جامی کی موت واقع ہو جاتی ہے .
اور میں ان کے جانے کے کافی دیر بعد تک وہیں بیٹھا سوچتا رہا
ایں قدَر مَستم کہ از چشمَم شراب آید بروں
وَز دلِ پُر حسرتم دُودِ کباب آید بروں
میں اس قدر مست ہوں کہ میری آنکھوں سے (آنسو کی بجائے) شراب باہر آ رہی ہے اور میرے دلِ پُر حسرت سے اس طرح دھواں اٹھ رہا ہے جیسے کباب سے دھواں اٹھتا ہے۔
ایک تبصرہ شائع کریں