جمعرات، 16 جون، 2016

مستشرقین کے احادیث نبوی صل الله علیہ وسلم پر اعتراضات اور منکرین حدیث کی موافقت.

مقالہ نگار   : حسیب احمد خان
زیر نگرانی : پروفیسر ڈاکٹر غضنفر احمد
جامعہ  کراچی کلیہ معارف اسلامی شعبہ قرآن و سنّه
2015-2016





Abstract
Character and sayings of Prophet Muhammad صلى الله علیہ وسلم were always under the criticism of orientalism, they were biased because of their history against Islam but some of so called Islamic scholars were also under the influence of orientalist approach towards Islam.
The feeling that there is a general ignorance of Islam in the West is shared by Maurice Bucaille, a French doctor, who writes: When one mentions Islam to the materialist atheist, he smiles with a complacency that is only equal to his ignorance of the subject.  In common with the majority of Western intellectuals, of whatever religious persuasion, he has an impressive collection of false notions about Islam.  One must, on this point, allow him one or two excuses.  Firstly, apart from the newly-adopted attitudes prevailing among the highest Catholic authorities, Islam has always been subject in the West to a so-called 'secular slander'.  Anyone in the West who has acquired a deep knowledge of Islam knows just to what extent its history, dogma and aims have been distorted.  One must also take into account that fact that documents published in European languages on this subject (leaving aside highly specialized studies) do not make the work of a person willing to learn any easier.
 (From The Bible, the Qur'an and Science, by Maurice Bucaille, page 118)
In this article we have studied the thoughts of orientalists and their approach towards the personality of  Prophet Muhammad صلى الله علیہ وسلم his sayings and rulings and how so called Islamic scholars borrowed their thoughts from orientalism to malign and  dishonor the hadith of prophet.
According to the teachings of Islam Muhammad صلى الله علیہ وسلم is the role model for his followers as it is mentioned in Quran "Verily in the messenger of Allah you have a good example for him who looks unto Allah and the Last Day, and remembers Allah much."










مقدمہ
ایک بہت بنیادی رکاوٹ انسان اور ہدایت کے درمیان جب دیوار بنتی ہے کہ وہ معیار اپنی عقل یا ہواۓ نفس کو تسلیم کر لے پھر معاملہ اس سے آگے بڑھتا ہے اور انسان اپنی راۓ کو دوسروں کیلئے حجت سمجھنا شروع کر دیتا ہے اور اگر بدقسمتی سے اسے کچھ پیچھے چلنے والے بھی میسر آ جائیں تو سمجھ لیجئے اسلام کے فرق و ملل میں ایک چھوٹی سی فرقی کی پیدائش ہونے جا رہی ہے .
مسلمانوں کے دور غلامی اور خاص کر بر صغیر کے مسلمانوں کے دور غلامی نے مغربیت سے مغلوب طبقہ پیدا  کیا جنکے سرخیل سر سید تھے سر سید نے اپنی سیرت میں سے ہر وہ چیز نکال دی جو انکے نزدیک کسی بھی مغربی مفکر کی عقل میں نہیں آ سکتی تھی .
دوسری طرف اسی زمانے میں اقبال مغرب کے سامنے پورے قد کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں بنیادی فرق مغربی علوم و افکار سے واقفیت کا ہے اقبال نے مغربی علوم میں دسترس حاصل کی اور انکا رد کیا جبکہ سر سید نے مغربی فکر سے متاثر ہوکر اسلام کی شکل ہی تبدیل کرنے کی کوشش کی گو انکا یہ فعل اپنے تئیں  خلوص پر ہی مبنی کیوں نہ ہو .
" میں " کی خرابی ایک بڑی خرابی ہے یہ خرابی ایک اچھے بھلے انسان کو بکری کر دیتی ہے اور وہ جگہ جگہ ٹکریں مارتا پھرتا ہے .
میں میں سے نکل کر سوچنے کی صلاحیت اگر مفقود ہو جاوے تو انسان ممیاتا رہتا ہے .
جہاں تحریر کا ٨٠ فی صد  صرف اپنی تعریف اپنے علم و مرتبے کے بیان اور (self-projection) پر مشتمل ہو وہاں کسی بھی دلیل کے جواب میں سامنے سے صرف ایک ہی دلیل آتی ہے
میں میں .
حدیث نبوی پر پہلا اور سب سے کاری وار اہل استشراق نے کیا اور آج کے مسلمان منکیرین حدیث صرف ان مستشرقین کی بازگشت ہی کہلاے جانے کے قابل ہیں یہ اصیل لوگ نہیں بلکہ صرف مستعار لیے گے افکار کی بنیاد پر زندہ لوگ ہیں .
اگر ان سے ان کے استشراقی ہتھیار چھین لیے جاویں تو انکے پاس کچھ نہیں بچتا .
جیسا کہ عرض کیا اپنی عقل کو مدار ماننے والوں کیلئے دلیل صرف انکی عقل ہی ہوتی ہے چاہے وہ کتنی ہی ناقص کیوں نہ ہو انکا کوا ہمیشہ سفید ہوتا ہے انکو رات کے وقت دن دکھائی دیتا ہے دن کی کھلی روشنی میں انکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا رہتا ہے .....
ایک مثال پیش کرتا ہوں ایک صاحب نے حدیث پر پھبتی کسی .
امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح بخارى ميں ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" موسى عليہ السلام بہت ہى شرميلے اور باپرد انسان تھے، شرميلا پن كى بنا پر ہى ان كى جلد كا كوئى حصہ بھى نہيں ديكھا جا سكتا تھا، چنانچہ بنى اسرائيل ميں سے كئى ايك نے انہيں اذيت پہنچائى اور يہ كہنے لگے:

يہ اپنا جسم صرف اس ليے چھپاتا ہے كہ اسے كوئى جلدى بيمارى ہے، يا تو برص كا شكار ہے، يا پھر خصيتين كى بيمارى ميں مبتلا ہے، يا كوئى اور آفت كا شكار ہے، اور اللہ تعالى نے ان كے اس قول سے موسى عليہ السلام كو برى كرنا چاہا، چنانچہ ايك روز موسى عليہ السلام اكيلے تھے تو انہوں نے اپنا لباس اتار كر ايك پتھر پر ركھا اور غسل كرنے لگے، اور جب غسل سے فارغ ہوئے اور اپنا لباس لينے كے ليے آگے بڑھے تو پتھر لباس لے كر بھاگ كھڑا ہوا چنانچہ موسى عليہ السلام نے اپنا لاٹھى پكڑى اور پتھر كے پيچھے بھاگتے ہوئے كہنے لگے: ارے پتھر ميرا لباس، اے پتھر ميرا لباس، حتى كہ بنى اسرائل كے رؤساء ميں سے كچھ كے پاس پہنچ گئے تو انہوں نے انہيں ننگے اور بے لباس ديكھا تو اللہ كى مخلوق ميں سے بہترين اور حسن والے تھے، اس طرح اللہ تعالى نے ان كے قول سے موسى عليہ السلام كو برى كر ديا، اور پتھر وہاں رك گيا اور موسى عليہ السلام نے اپنا لباس لے كر پہن ليا، اور پتھر كو اپنى لاٹھى سے مارنے لگے.
اللہ كى قسم پتھر پر تين يا چار يا پانچ ضرب كے نشان پڑ گئے، اور اللہ تعالى كا قول يہى ہے:
اے ايمان والو تم ان لوگوں كى طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے موسى عليہ السلام كو اذيت سے دوچار كيا، چنانچہ اللہ تعالى نے انہيں اس سے برى كر ديا جو وہ كہتے تھے، اور وہ اللہ تعالى كے ہاں وجاہت كے مالك ہيں."
صحيح بخارى حديث نمبر ( 3404 ).
سو وہ صاحب گویا ہوے
دیکھو دیکھو کیسا ظلم عظیم کر دیا ایک نبی کی شان میں اتنی عظیم گستاخی یہ تو جھوٹی حدیث ہے بلا بلا بلا
انکی بد قسمتی میں بھی اس محفل میں موجود تھا میں نے کچھ عرض کیا تو اسی طرح وہ ذاتیات پر اتر آۓ اور کہنے لگے کیا آپ اپنے لیے یہ معاملہ پسند کرتے ہیں جواب دیجئے اور یہ کہ کر فاتحانہ بغلیں بجانے لگے .
میں نے پوچھا حضرت ترتیب وار اعتراض بیان کر دیجئے
کہنے لگے
١ ایک نبی کا برہنہ ہونا
٢ لوگوں کا دیکھ لینا
٣ اس غیر اخلاقی بات کا محفوظ کیا جانا اور اسکا بیان
٤ پتھر کا عمل جو خلاف عقل ہے
میں نے کہا حضرت کچھ غور کیجئے ایسا ہی ایک واقعہ قرآن کریم میں بھی بیان ہوا ہے اور یہی احتمالات وہاں بھی پیدا  ہوتے ہیں کم و بیش
فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِیَ لَهُمَا مَا وُوْرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ ھٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّآ أَنْ تَكُوْنَا مَلَکَيْنِ أَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخَالِدِيْنَ
(۲۰)
وَقَاسَمَهُمَا إِنِّيْ لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِيْنَ
(۲۱)
پس وسوسہ ڈالا شیطان نے ان کیلئے(ان کے دل میں)تاکہ ان کے ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں انکے لئے ظاہر کردے اوربولا تمہارے رب نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا مگر اس لئے کہ(کہیں)تم فرشتے ہوجاؤ یا ہوجاؤ ہمیشہ رہنے والوں سے۔
(۲۰)
فَدَلَّاهُمَا بِغُرُوْرٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ ۖ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَآ أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُلْ لَّكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُبِيْنٌ
(۲۲)
پس ان کومائل کرلیا دھوکہ سے پس جب انہوں نے درخت چکھا توان کیلئے ان کی ستر کی چیزیں کھل گئیں اوروہ اپنے اوپر جوڑ جوڑ کررکھنے لگے(ستر چھپانے کیلئے)جنت کے پتے اور انکے رب نے انہیں پکارا کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اورکہا تھا تمہیں کہ بیشک شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔(۲۲)
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِيْنَ
(۲۳)
ان دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا،اوراگر تونے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیاتو ہم ضرور خسارہ پانے والوں سے ہوجائیں گے ۔
(۲۳)
اب موصوف کافی پریشان ہوۓ
میں نے پھر عرض کی جناب جہاں تک بات ہے پتھر کے عمل کی تو جب سمندر راستہ دیتا ہے اور اسکا بیان قرآن میں آتا ہے تو آپ کو قبول یا جب چیونٹی گفتگو کرتی ہے تو آپ کو قبول تو پتھر کی حرکت کو بھی ایسے ہی تسلیم کر لیجئے .
یہاں پھر دو گروہ پیدا  ہوتے ہیں
ایک قرآنی معجزات کا ہی انکار کر دیتا ہے دوسرا انکی باطل تاویلات شروع ک دیتا ہے تاکہ انکار حدیث کا بھرم قائم رہے .
پھر  لوگ  باگ حضرت عائشہ صدیقہ رض کے حوالے سے اعتراض  اٹھاتے ہیں
علمی بات یہ ہے کہ اگر عمر عائشہ صدیقہ رض کے معاملے میں صحیح صریح متواتر روایات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں تو ہوگا کیا
کیا ہم یہ مانیں کہ حضرت عائشہ رض کی رخصتی ہجرت سے پہلے ہو چکی تھی اور اسوقت آپ کی عمر اٹھارہ سال تھی ( کیونکہ اٹھارہ انکی عقل میں آتی ہے کل کو مغرب نے اسپر بھی اعتراض وارد کیا تو یہ اٹھائیس بھی کر دینگے )
اب سوال یہ پیدا  ہوتا ہے کہ کیا انکی شادی حضرت خدیجه رض کی زندگی میں ہی ہو گئی تھی یا اگر ہجرت کے بعد ہوئی اور اسوقت آپ کی عمر ١٨ تھی تو کیا آپ کی تاریخ وفات غلط ہے غرض ایک تاریخ تبدیل کیجئے اور آپ کو تمام تاریخی واقعات کے تسلسل کو ہی تبدیل کرنا پڑے گا جو ایک غیر منطقی بات ہے .
دلیل کوئی بھی دے لیجئے یہ کوئی نیا اعتراض وارد کر دینگے اور جیت انہی کی ہوگی کیونکہ یہ ہی  پکے  عالم ہیں جگہ  جگہ سے استشراقی  اینٹیں چرا کر انکار حدیث کی  ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لینے والے .........
خامہ انگشت بہ دنداں کہ اسے کیا لکھیے
ناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے

حسیب احمد حسیب







استشراق کے حوالے سے ایک تعارفی تحقیق.
 استشراق (Orientalism) اور مستشرق کا لغوی و اصطلاحی معنی
استشراق عربی زبان کے مادہ ( ش۔ر۔ق)  سے مشتق ہے جس کے معنی شر ق شناسی کے ہیں، یہ اصطلاح زیادہ قدیم نہیں ہے؛ اس لیے قدیم عربی ،فارسی اور اردو معاجم میں شرق تو موجود ہے؛ لیکن زیر بحث الفاظ ، یعنی باب استفعال میں اس کے معنی ومفہوم یا بطور فعل ان لغات سے بحث نہیں پائی جاتی؛ البتہ جدید لغات میں استشراق کا ذکر موجود ہے۔
شرف الدین اصلاحی اس ”Orientalist “  کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ لفظ انگریزوں کا وضع کردہ ہے جس کے لیے عربی میں استشراق کا لفظ وضع کیا گیا ہے لفظ  ”orient“ بمعنی مشرق اور ”Orientalism“ کا معنی شرق شناسی یا مشرقی علوم وفنون اور ادب میں مہارت حاصل کرنے کے ہیں۔ مستشرق ( اشتشرق کے فعل سے اسم فاعل ) سے مراد ایک ایسا شخص ہے جو بہ تکلف مشرقی بنتا ہے ۔
(۱)
مولوی عبد الحق صاحب Orientalist کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس شخص کو کہتے ہیں جو ماہر مشرقیات
ہو۔
 (۲)
آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق استشراق اور مستشرق کی اصطلاحات orient سے مشتق ہیں
(۳)
(Han's Wahr) نے ”عربی ، انگریزی معجم “میں استشراق کے معنی مشرقی علوم اور مستشرق کے معنی مشرقی آداب سے آگاہ یا مشرقی علوم کے ماہر بتائے ہیں۔
(۴)
”عربی اعتبار سے ” استشراق “کا سہ حرفی مادہ ” شرق“ ہے ، جس کا مطلب ” روشنی “ اور ”چمک “ ہے ،اس لفظ کو مجازی معنوں میں سورج کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اس اعتبار سے شر ق اور مشرق اس جگہ کو کہا جائے گا جہاں سے سورج طلوع ہو۔
(۵)
جب لفظ ” شرق“ پر (ا، س، ت) کا اضافہ کر کے استشراق بنایا جائے تو اس میں طلب کا مفہوم پیدا ہو جاتا ہے، تو اس طلب میں مستشرقین کے تمام تر مقاصد شامل ہو جاتے ہیں جس کے لیے وہ مشرقی علوم وفنون کو سیکھنے کے بعد ان علوم کی نشرواشاعت بھی کرتے ہیں۔
”منیر البعلبکی نے استشراق کے معنی”معرفة ودراسة اللغات والآداب الشرقیة“ بیان کیے ہیں اور مستشرق سے مراد ”الدارس للغات الشرق وفنونہ وحضارتہ“ہے۔
(۶)
استشراق(Orientalism) اور مستشرق کا اصطلاحی مفہوم
استشراق کا عام فہم اور سادہ مفہوم یہ ہے کہ جب بھی کوئی استشراق کا نام لیتا ہے تو اس سے مرادوہ یورپین علماء و مفکرین مراد ہوتے ہیں جن کو اہل یورپ” Orientalist“کہتے ہیں۔
 ماہرین لغات ومفکرین نے استشراق(Orientalism )اور مستشرق( Orientalist) کا جو اصطلاحی مفہوم بیان کیا ہے، ان میں سے کچھ کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
 ”مستشرق وہ شخص ہے جو خود مشرقی نہ ہو بلکہ بہ تکلف مشرقی بنتا ہو، مشرقی علوم میں مہارت تامہ حاصل کرنے کی کوشش کرے“
(۷)
ایڈورڈ سعید (Edward Said ) تحریک استشراق اور مستشرق کے الفاظ کو وسعت دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔

"Anyone who teaches, writes about, or researches the orient and this applies whether the person is an anthropologist, sociologist, historian, or philologist either in its specific or its general aspects, is an orientalist, and what he or she does is Orientalism."
(8)
”جو کوئی بھی مشرق کے بارے میں پڑھتا،لکھتا یا اس پر تحقیق کرتا ہے تو یہ تحقیقی معیار تمام تر پڑھنے لکھنے اور تحقیق کرنے والے ماہر بشریات، ماہر عمرانیات،مورخین اور ماہر لسانیات پر منطبق ہوتا ہے۔خواہ یہ لوگ اپنے اپنے دائرئہ شخصی میں خاص موضوع یا اپنے کسی عمومی مضمون پر کام کررہے ہوں،مشرق شناس(مستشرق) کہلاتے ہیں اور انکا کیا جانے والا کام شرق شناسی ہوگا“؛ لیکن موجودہ دور میں مستشرقین نے اپنے لیے مختلف نام تجویز کیے ہیں جن کو مولانا ابو الحسن علی ندوی نے ان الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ” اب مستشرقین ، مستشرق کہلوانا پسند نہیں کرتے دوسری عالمگیر جنگ کے بعد وہ ” ایڈوائزر“یا ایریا سٹڈی سپیشلسٹ، ایکسپرٹ کہلواناپسند کرتے ہیں “
(۹)

مجموعی طور پر تحریک استشراق کے دائرہ میں بڑی وسعت ہے جو مشرق میں موجود تمام ممالک،مذاہب زبانوں ،تہذیب وتمدن، باشندوں، انکی رسوم و رواج اور عادات و اطوار کے متعلق تحقیق کر کے ان کے علاقوں پر قبضہ کرنے اور انھیں اپنی دسترس میں رکھنے، جیسے بہت سے شعبہ جات پر محیط ہے؛ لیکن اس تحریک کا سرگرم شعبہ،اسلام،اہل اسلام ان کے ممالک واملاک پر قبضہ کرکے اسے قائم رکھنے پر بحث کرتا ہے۔ اور اکثر مسلمان محقق جب تحریک استشراق پر بحث کرتے ہیں تو ان کے پیش نظر استشراق کا یہی شعبہ ہوتا ہے۔ اس تصور کو سامنے رکھتے ہوئے اکثر مسلم اسکالرز ایک مستشرق کی درج ذیل تعریف کرتے ہیں” استشراق متضاد افکار ونظریات کے مجموعہ کا نام ہے، وقت اور ماحول کی مناسبت سے اس پر کبھی موضوعیت ، کبھی غیر جانبداری ، کبھی تحقیق اور صاف گوئی اور کبھی علم کے ناموں کے خوبصورت غلاف چڑھا دیے جاتے ہیں، ان پردوں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ قاری کو حقیقت کے اصل چہرہ سے بے خبر رکھا جائے “
(۱۰)
عربی زبان کی لغت المنجد جو کہ کثیر الاستعمال ہے، اس میں مستشرق کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے۔ ”العالم باللغات والادب والعلوم الشرقیة والاسم الاستشراق“
 مشرقی زبانوں، آداب اور علوم کے عالم کو مستشرق کہا جاتا ہے اور اس علم کا نام استشراق ہے ۔
(۱۱)
تحریک استشراق کی حقیقت اور استشراقی لٹریچر کے اثرات
از :  حافظ سیف الاسلام ، پی ایچ ڈی اسکالر، اسلامیہ یونیورسٹی، بھاولپور، پاکستان
ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ5، جلد: 99 ‏، رجب 1436 ہجری مطابق مئی 2015ء

حدیث نبوی صل الله علیہ  وسلم کے حوالے سے استشراق کا تاریخی پس منظر
استشراق نے سب سے پہلے نبی کریم صل  الله علیہ  وسلم کی ذات مبارکہ کو نشانہ بنایا استشراقی فکر کی ابتدا چرچ سے ہوئی مستشرقین نے وہی کردار ادا کرنے کی کوشش کی کہ جو سینٹ پال نے مسیحیت کے معاملے میں ادا کیا تھا .
یوحنا دمشقی (John of Damascus) وہ پہلا شخص تھا کہ جس نے نبی کریم صل  الله علیہ  وسلم کی ذات کو براہ راست نشانہ بنایا اسکا شمار اسلام  کے معروف ترین ناقدین میں ہوتا ہے اس نے مسلمانوں پر  بت  پرستی کا الزام لگایا ملاحظہ کیجئے .

There is also the superstition of the Ishmaelites which to this day prevails and keeps people in error, being a forerunner of the Antichrist. They are descended from Ishmael, [who] was born to Abraham of Agar, and for this reason they are called both Agarenes and Ishmaelites. They are also called Saracens, which is derived from Sarras kenoi, or destitute of Sara, because of what Agar said to the angel: ‘Sara hath sent me away destitute.’
[12]
 These used to be idolaters and worshiped the morning star and Aphrodite, whom in their own language they called Khabár, which means great.
[13]
 And so down to the time of Heraclius they were very great idolaters. From that time to the present a false prophet named Mohammed has appeared in their midst. This man, after having chanced upon the Old and New Testaments and likewise, it seems, having conversed with an Arian monk,
[14]
معروف مستشرق ڈاکٹر فلپ ہٹی اپنی معروف کتاب
" Islam and the west "
کے باب
" Islam and the western literature "
میں لکھتے ہیں کہ کہ کس طرح  قرون وسطیٰ  کے مستشرقین نے اسلام کی بابت بیہودہ  کہانیاں نقل کی ہیں .
دانتے الیگیری اپنی معروف نظم خدائی کامیڈی میں معاذاللہ نبی کریم صل  الله علیہ  وسلم کو نویں جہنم میں دکھاتا ہے .
اسی طرح  یہ کہانی بھی اہل مغرب کے ہاں گردش کرتی رہی کہ پیغمبر اسلام صل  الله علیہ  وسلم نے ایک کبوتر کو تربیت دے رکھی تھی جو ہر وقت آپ کے کاندھے پر بیٹھا رہتا اور جب جب وہ آپ صل الله علیہ وسلم کے کان میں پڑا دانہ چگنے کیلئے چونچ مارتا تو آپ علیہ سلام فرماتے روح القدس اس کے ذریعے مجھے وحی  فرماتے ہیں .
حیرت و افسوس کی بات ہے کہ  شیکسپیر جیسے ادیب نے بھی اپنے ایک ڈرامے میں ایک کردار سے یہ واقعہ بیان کروایا ہے .
(16)
مستشرقین کے معروف الزامات اور منکرین  حدیث .

اب ہم چند معروف الزامات کا جائزہ لینگے کہ جو مستشرقین نبی کریم صل  الله علیہ  وسلم کےکردار اور آپکے  اقوال و افعال (حدیث ) کے حوالے سے اٹھاتے ہیں اور منکرین حدیث انہیں من و عن  قبول فرما لیتے ہیں .
١. نبی کریم صل  الله علیہ  وسلم کی تشریعی حیثیت کا انکار .

مستشرقین اللہ کے رسول صل  الله علیہ  وسلم کو ایک عظیم  انسان اور مصلح  تو تسلیم کرنے کو تیار ہیں لیکن نبی کریم کو نبی تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور اس حوالے سے انتہائی بے سر و پا الزامات الله کے رسول کے حوالے سے لگاتے رہتے ہیں .
منٹگمری واٹ  معروف مشنری  عیسائی ہے اور نبی کریم صل  الله علیہ  وسلم کا تذکرہ انتہائی تکریم کے ساتھ کرتا ہے لیکن وحی  کے تجربے کو (Creative Imagination) کا نام دے کر گھٹانے کی کوشش کرتا ہے ملاحظہ کیجئے  اسکے الفاظ .
WAS MUHAMMAD A PROPHET?
So far Muhammad has been described from the point of view of the historian. Yet as the founder of a world-religion he also demands a theological judgment. Emil Brunner, for example, considers his claim to be a prophet, holds that it ' does not seem to be in any way justified by the actual content of the revelations ', but admits that, ' had Mohammed been a pre-Christian prophet of Arabia, it would not be easy to exclude him from the ranks of the messengers who` prepared the way for the revelation '. Without presuming to enter into the theological complexities behind Brunner's view, I shall try, at the level of the educated man who has no special knowledge of either Christian or Islamic theology, to put forward some general considerations relevant to the question.
I would begin by asserting that there is found, at least in some men, what may be called ' creative imagination '. Notable instances are artists, poets and imaginative writers. All these put into sensuous form (pictures, poems, dramas, novels) what many are feeling but are unable to express fully. Great works of the creative imagination have thus certain universality, in that they give expression to the feelings and attitudes of a whole generation. They are, of course, not imaginary, for they deal with real things; but they employ images, visual or conjured up by words, to express what is beyond the range of man's intellectual conceptions.
W. Montgomery Watt. Muhammad: Prophet and Statesman.
(17)
من و عن  یہی اعتراض  منکرین حدیث کے ہاں بھی ملتا ہے مگر خوبصورت الفاظ میں لپٹے ہوے زہر کی مانند یہ نبی کریم صل  الله  علیہ وسلم کی نبوی حیثیت کو تو مانتے ہیں مگر قول رسول (احادیث مبارکہ ) صل الله علیہ وسلم کو حجت تسلیم کرنے سے انکاری ہیں ملاحظہ کیجئے .
''حضور فیصلے وحی کی رو سے نہیں کرتے تھے__ اپنی ذاتی بصیرت کے مطابق کیا کرتے تھے__ ان میں اس کا بھی امکان تھا کہ حق دار کے خلاف فیصلہ صادر کر دیا جائے... یہ قرآن کی اس آیت کے مطابق ہے جس میں حضور سے کہا گیا ہے کہ ... ''ان سے کہہ دو کہ اگر میں کسی معاملے میں غلطی کرتا ہوں تو وہ غلطی میری اپنی وجہ سے ہوتی ہے، اس کا ذمہ دار میں خود ہوتا ہوں، لہٰذا اس کا وبال بھی مجھ پر ہوگا۔ اور اگر میں صحیح راستہ پر ہوتا ہوں تو وہ اس وحی کی بنا پر ہے جو میرے ربّ کی طرف سے میری طرف آئی ہے۔''
غور کیجئے کہ منٹگمری واٹ  کے مقدمے اور پرویز کی تعریف میں جوہری اعتبار سے سر مو کوئی فرق نہیں ہے .
(18)
٢.معجزات نبوی صل الله علیہ وسلم کا انکار .
ڈاکٹر ڈیوڈ سموئیل مارگولیتھ David Samuel Margoliouth (17 October 1858, London – 23 March 1940, London) چرچ آف انگلنڈ کا ایک معروف سپاہی تھا نبی کریم صل الله علیہ  وسلم کے سفر معراج کا انکار کرتا ہے کہ جو صحیح صریح متواتر احادیث میں انتہائی وضاحت و صراحت کے ساتھ موجود ہے ملاحظہ کیجئے .

The hopes of Muhammad were now fixed on al-Medina, visions of his journey northwards doubtless flitted before his imagination and the musing of the day, reappeared in his midnight slumbers. He dreamed that he was swiftly carried by Gabriel on a winged steed past al-Medina to the Temple of Jerusalem, where he was welcomed by the former Prophets all assembled in solemn conclave. From Jerusalem he seemed to mount upwards, and to ascend from one heaven to another, until he found himself in the awful presence of his Maker, who dismissed him with the order that he should command his followers to pray five times a day.
(19)
ملاحظہ کیجئے کہ یہی نظریہ آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی من و عن  اپنی کتاب میں نقل فرما دیتا ہے
"حقیقت میں معراج ایک کشف تھا جو بڑا عظیم الشان اور صاف کشف تھا، اور اتم و اکمل تھا۔ کشف میں اس جسم کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ کشف میں جو جسم دیا جاتا ہے اس میں کسی قسم کا حجاب نہیں ہوتا بلکہ بڑی بڑی طاقتیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں۔ اور آپ ﷺ کو اسی جسم کے ساتھ جو بڑی طاقتوں والا ہوتا ہے ،معراج ہوا"
٢٠. (ملفوظات جلد دوم صفحہ 446)
" نیا اور پُرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو محال ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس خاکی جسم کے ساتھ کُرَّۂ زَمْہَرِیْر تک بھی پہنچ سکے بلکہ علم طبعی کی نئی تحقیقاتیں اس بات کو ثابت کر چکی ہیں کہ بعض بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہنچ کر اس طبقہ کی ہوا ایسی مُضرِّ صحت معلوم ہوئی ہے کہ جس میں زندہ رہنا ممکن نہیں۔پس اس جسم کا کُرَّۂ ماہتاب یا کُرَّۂ آفتاب تک پہنچنا کس قدر لغو خیال ہے "
٢١.(روحانی خزائن جلد 3 اِزالہ اوھام صفحہ 126)
ایسا ہی کچھ موقف غلام احمد پرویز صاحب  کے ہاں بھی موجود ہے
٢٢.( قرآنی فیصلے حصہ اول ص ۲۲۸)
اور عجیب ترین بات یہ کے قادیان کے اس جھوٹے نبی کی پیروی کرتے ہوۓ  دور جدید کے معروف اسکالر جود احمد غامدی صاحب  بھی من و عن  یہی نظریہ قائم فرماتے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ ہر دو حضرات ایک ہی چشمہ استشراق  سے اپنی پیاس بجھاتے تھے .
٢٣. (البیان تفسیر سورہ اسراء آیت ۱،۶۰)
سوال: کیا معراج کی رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسمانوں پر تشریف لے گئے تھے؟ اور کیا معراج کا واقعہ قرآن سے ثابت ہے؟

 جواب :

سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا، اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ.
(بنی اسرائیل۱۷: ۱)

’’
پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو لے گئی ایک شب مسجد حرام سے اس دور والی مسجد تک، جس کے ارد گرد کو ہم نے برکت بخشی ہے تاکہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں، بے شک سمیع و بصیر وہی ہے۔‘‘
اس آیت میں واقعۂ معراج کا ذکر ہے۔ اس آیت میں بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آسمانوں پر جانے کا ذکر موجود نہیں ہے، لیکن حدیث میں اس کی جو تفصیلات بیان ہوئی ہیں، ان میں یہ ذکر موجود ہے کہ آپ آسمانوں پر گئے تھے۔ ہمارے خیال میں حدیث کا بیان’لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا‘(تاکہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں) کے الفاظ کی تشریح و تفسیر ہے۔ بعض علما اسے ایک جسمانی واقعہ قرار دیتے ہیں، ہمارے خیال میں یہ آپ کا رؤیا تھا، جیسا کہ قرآن کی اسی سورۂ بنی اسرائیل کی آیت ۶۰ میں اسے رؤیا قرار دیا گیا ہے۔ البتہ نبی کا رؤیا چونکہ ایک حقیقی واقعہ ہوتا ہے، وہ محض ایک خواب نہیں ہوتا۔ لہٰذا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ سارے واقعات حقیقتاً پیش آئے ہیں جو قرآن مجید یا احادیث صحیحہ میں بیان ہوئے ہیں۔
٣. راویان حدیث کے کردار پر  حملہ .
حضرت ابو ہریرہ رض کہ جو احادیث مبارکہ کے سب سے بڑے  روی ہیں انپر ایک جانب تو مستشرقین اور دوسری جانب انکے پیرو منکرین حدیث نے خوب خوب اعتراض وارد  کیے ہیں ملاحظہ کیجئے .
(24)
 پر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک تحقیقی مقالہ سپر د قلم کیا ہے جس میں اس جلیل القدر راوی کا دفاع کیا اور ان اتہامات کا جواب دیا جو انگریزی انسائیکلو پیڈیا آف اسلام کے مقالہ نگاروں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پر باندھے ہیں

ابن قتیبہ نے اپنی کتاب " المعارف " میں روایت کیا ہے کہ مروان  نے حضرت ابو ہریرہ رض کو مدینہ کا عامل مقرر کیا آپ ایک پلان کس کر گدھے پر سوار ہوۓ  سر پر کھجور کی چھال  اٹھا رکھی تھی جب راستے میں کوئی شخص ملتا تو کہتے راستے سے ہٹ  جاؤ مسلمانوں کا امیر آ رہا ہے .
(25)
یہ واقعہ گولڈ زیہر نے نقل کر کے حضرت ابو ہریرہ رض ضعیف العقل ثابت کرنے کی کوشش کی ہے
(26)
اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رض کی سیاسی وابستگی کے حوالے سے بھی منکرین حدیث مشتشرقین کی پیروی میں شدید اعتراضات وارد  کرتے ہیں.

معروف منکر حدیث استاد احمد امین نے اپنی کتاب فجر السلام میں حضرت ابو ہریرہ رض کے حوالے سے شدید تنقید فرمائی ہے جسے مستشرقین کا چربہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے .
(27)

٤.امام زہری پر اعتراض  .
گولڈ زیہر نے خاص طور پر امام زہری رح  پر شدید ترین اعتراضات بندھے ہیں اور انہیں انکی سیاسی مناسبت کی وجہ سے متعصب اور کہیں مدلس لکھا ہے .
(28)
من و عن ایسے ہی اعتراضات جناب غامدی نے امام زہری رح پر شدت کے ساتھ وارد  کیے اور اپنے پیش رو زیہر سے کسی بھی طرح پیچھے نہیں رہے موصوف لکھتے ہیں .
غامدی  صاحب نے سبعہ احرف والی روایات کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔ ا ن کا کہنا یہ ہے کہ ایسی تمام روایات کی سند میں ایک راوی امام ابن شہاب زہری ؒ ہے جسے وہ مدلس ا ور مدرج قرار دیتے ہیں۔
غامدی صاحب لکھتے ہیں :
’’لیکن یہ روایتیں اس کے بر خلاف ایک دوسری ہی داستان سناتی ہیں جسے نہ قرآن قبول کرتا ہے اور نہ عقل عام ہی کسی طرح ماننے کے لیے تیار ہو سکتی ہے۔ صحاح میں یہ اصلاً ابن شہاب زہری کی وساطت سے آئی ہیں۔ ائمہ رجال انھیں تدلیس اور ادراج کا مرتکب تو قرار دیتے ہی ہیں‘ اس کے ساتھ اگر وہ خصائص بھی پیش نظر رہیں جو امام لیث بن سعد نے امام مالک کے نام اپنے ایک خط میں بیان فرمائے ہیں تو ان کی کوئی روایت بھی ‘بالخصوص اس طرح کے اہم معاملات میں‘ قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ وہ (امام لیث بن سعد) لکھتے ہیں: اور ابن شہاب سے جب ہم ملتے تھے تو بہت سے مسائل میں اختلاف ہو جاتا تھا اور ہم میں سے کوئی جب ان سے لکھ کر دریافت کرتا تو علم و عقل میں فضیلت کے باوجود ایک ہی چیز کے متعلق ان کا جواب تین طرح کا ہوا کرتا تھا جن میں سے ہر ایک دوسرے کا نقیض ہوتا اور انھیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ اس سے پہلے کیا کہہ چکے ہیں۔ میں نے ایسی ہی چیزوں کی وجہ سے ان کو چھوڑا تھا‘ جسے تم نے پسند نہیں کیا ‘‘۔
(29)
٥. احادیث گھڑنے کا الزام .

مستشرقین یہ ثابت  کرنے  میں اپنی پوری قوت صرف کرتے ہیں کہ احادیث دراصل گھڑی گئیں اور انکی حقیقت کچھ نہ تھی ملاحظہ کیجئے .
(۱) مستشرقین نے علم حدیث کے بارے میں یہ غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ دور اول کے مسلمان حدیث کو حجّت نہیں سمجھتے تھے۔ یہ خیال مسلمانوں میں بعد میں رائج ہوا۔
مستشرق جوزف شاخت نے لکھا ہے کہ امام شافعی (م۲۰۴ھ)سے دو پشت پہلے احادیث کی موجودگی کا کوئی اشارہ ملتا ہے تو یہ شاذ اور استثنائی واقعہ ہے۔
مستشرق آتھر جیفری کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد ان کے ماننے والوں کی بڑھتی تعداد نے محسوس کیا کہ مذہبی اور معاشرتی زندگی میں بے شمار ایسے مسائل ہیں جن کے متعلق قرآن میں کوئی راہ نمائی موجود نہیں ہے، لہٰذا ایسے مسائل کے حل کے لیے احادیث کی تلاش شروع کی گئی ۔
(۲) محدثین کے ہاں سند کی جو اہمیت ہے،وہ دلائل کی محتاج نہیں، حتی کہ انہو ں نے سند کو دین قرار دیا ہے ۔مستشرقین چوں کہ سند کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ ہیں ،اس لیے انہوں نے سند کو من گھڑت قرار دے کر احادیث کو نا قا بل اعتبارقرار دینے کی کوشش کی اور دعوی کیا کہ اس دور میں لوگ مختلف اقوال اور افعال کورسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردیا کرتے تھے ۔کیتانی اور اسپرنگر ان مستشرقین میں شامل ہیںجن کے نزدیک سندکا آغاز دوسری صدی کے اواخر یا تیسری صدی کے شروع میں ہوا ۔
مستشرق گولڈ زیہر امام مالک (۱۷۹ھ) پر بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ انہوں نے سند کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کوئی مخصوص طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ اکثر وبیش تر وہ عدالتی فیصلوںکے لیے ایسی حدیث بیان کرتے تھے جن کا سلسلۂ سند صحابہ تک نہیںپہنچتا تھا۔جب کہ جوزف شاخت کا کہنا ہے کہ اس مفروضے کو قائم کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ اسناد کے با قاعدہ استعمال کا رواج دوسری صدی سے قبل ہو چکا تھا ۔منٹگمری واٹ نے سند کے مکمل بیان کو امام شافعی کی کوششوںکا نتیجہ قرار دیا ہے۔
(۳)مستشرقین نے کہا کہ بہت سی احادیث و روایات یہود و نصاری کی کتب سے متاثر ہو کر گھڑی گئی ہیں۔ مثلاًوہ احادیث جن میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی کسی معجزانہ شان کا ذکر ہے ۔ ان پرتبصرہ کرتے ہوئے ول ڈیورانٹ (Will Durant)کہتا ہے کہ’’ بہت سی احادیث نے مذہب اسلام کو ایک نیا رنگ دے دیا ہے۔( محمدصلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ ان کے پاس معجزات دکھانے کی قوت ہے،لیکن سیکڑوں حدیثیں ان کے معجزانہ کار ناموں کا پتہ دیتی ہیں۔ اس سے واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ بہت سی احادیث عیسائی تعلیمات کے زیر اثر تشکیل پزیر ہوئیں۔
اس قسم کا دعویٰ کرنے والوں میں فلپ کے ہٹی بھی قابل ذکر ہے
(۵)مستشرقین کا نقطہ نظر یہ ہے کہ چوں کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث لکھنے سے منع کر دیا تھا ،اس لیے دور اول کے علماء نے علم حدیث کی حفاظت میں سستی اور لا پروائی سے کام لیا، جس کے نتیجہ میں یا تو حدیثیں ضائع ہو گئیں یا پھر ان میں اس طرح کا اشتباہ پیدا ہو گیا کہ پورے یقین کے ساتھ کہنا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ، ممکن نہیں ۔ مستشرق الفرڈ گیوم (Alfred Guillaume)لکھتا ہے کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ حدیث کے بعض مجموعے اموی دور کے بعد مدوّن ہوئے۔

مشہور مستشرق میکڈونلڈلکھتا ہے کہ بعض محدثین کا صرف زبانی حفظ پر اعتماد کرنا اور ان لوگوں کو بدعتی قرار دینا جو کتابت حدیث کے قائل تھے ،یہ طرز عمل بالآخر سنت کے ضائع ہونے کا سبب بنا ۔
مستشرقین نے ایک خاص حکمت عملی کے تحت ان عظیم شخصیات کو  اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو حدیث و سنت کے جمع وتدوین اور حفاظت میں بنیادی پتھر کی حیثیت رکھتی ہیں ۔اس مقصد کے لیے انہوں نے جن شخصیات کو خاص طور پر اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ان میں ایک تو مشہور صحابی حضرت ابو ہریرہ (م۵۹ھ)اور دوسرے نام ور تابعی امام ابن شہاب زہری (م۱۲۴ھ)ہیں۔گولڈ زیہر (م۱۹۲۱ء)نے حضرت ابو ہریرہؓ پر وضع حدیث کا الزام عائد کیا اورمحدث امام ابن شہاب زہری پر اتہام باندھا ہے کہ وہ بنو امیہ کے مذہبی اور سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لئے احادیث وضع کرتے تھے۔
جوزف شاخت امام اوزاعی(م۱۵۷ھ)پر وضع حدیث کا الزام عائد کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ’’ان کے زمانے میں مسلمانوں میں جو بھی عمل جاری تھا،اس کو رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کردینے کا رجحان تھا،تاکہ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید حاصل ہوجائے،خواہ حدیث اس عمل کی تائید کرتی ہو یا نہ کرتی ہوں۔امام اوزاعی کا یہی عمل تھااور اس رجحان میں عراقی فقہاءامام اوزاعی کے ساتھ تھے‘‘۔
(30)


اس استشراقی فکر کے پیچھے موجود فتنے کو عالم اسلام کے ایک عبقری نے کچھ اس طرح کھولا ہے
یہ حقیقت ہے کہ مستشرقین کی ایک بڑی تعداد نے قرآن مجید، سیرت، تاریخ، تمدن اسلام اور اسلامی معاشرہ کی تاریخ اور پھر اس کے بعد اسلامی حکومتوں کی تاریخ کا مطالعہ ایک خاص مقصد کے تحت کیا اور مطالعہ میں ان کی دور بیں نگاہیں وہ چیزیں تلاش کرتی رہیں، جن کو جمع کر کے قرآن، شریعت اسلامی،سیرت نبوی ﷺ، قانون اسلامی، تمدن اسلامی اوراسلامی حکومتوں کی ایک ایسی تصویر پیش کرسکیں، جسے دیکھ کر لوگ آنکھوں پر پٹی باندھ لیں، مستشر قین نے اپنی آنکھوں پر خورد بین لگا کر تاریخ اسلام اور تمدن اسلا می اور یہ کہ آگے بڑھ کر (خاکم بدہن )قرآن مجید اور سیرت نبوی ﷺ میں وہ ذرے وہ ریزے تلاش کر نے شروع کئے جن سے کوئی انسا نی جماعت، کوئی انسا نی شخصیت خالی نہیں ہو سکتی ہے اور ان کو جمع کر کے ایسا مجموعہ تیار کرنا چاہا جو ایک نہایت تاریک تصور ہی نہیں بل کہ تاریک تاثر اور تاریک جذبہ پیش کرتا ہے اور انہوں نے اس کام کو انجام دیا جو ایک بلدیہ کا ایک انسپکٹر انجام دیتا ہے کہ وہ شہر کے گندے علاقوں کی رپورٹ پیش کرے۔
(حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ(
  
موضوع مقالہ : مستشرقین کے احادیث نبوی صل  الله علیہ وسلم  پر  اعتراضات اور منکرین حدیث کی موافقت.
تعارف : مقالے کا مقصود اہل علم کی توجہ اس استشراقی فکر کی جانب  مبذول کروانا ہے کہ جو علوم اسلامی کی جڑیں کھودنے کا کام کر رہی ہے .
فصول و ابواب .
١. استشراق کی تعریف .
٢. تاریخ استشراق .
٣.استشراق  و استعمار کا باہمی تعلق .
٤.بر صغیر میں استشراقی فکر .
٥.استشراق اور انکار حدیث کا باہمی ربط .
٦.منکرین حدیث کے اعتراضات کی حقیقت .
٧. کرنے کا اصل کام .





کتابیات
(۱)  اصلاحی ،شرف الدین ، مستشرقین ، استشراق اور اسلام ،، ص۴۸، معارف دار المصنّفین اعظم گڑھ ، ۱۹۸۶ء۔
(۲)عبد الحق ، دی اسٹینڈرڈ انگلش اردو ڈکشنری ،ص۷۹۶،انجمن اردو پریس ، دکن ۱۹۳۷ء۔
(۳)The Oxford Dictionary of English, The biologolical Society, V.2 Page,200.
(۴) بذیل مادہ :ش ر ق Dictionery of Modern Written Arabic Han's wahr
(۵) ابن منظور الافریقی ، محمد بن مکرم ،لسان العرب۱۰ /۱۷۴، دار صادر بیروت ۔
(۶) البعلبکی ،منیر، المورد ، بذیل مادہ : ش۔ر۔ق۔
(۷)فرخ، عمر”الاستشراق ، مالہ۔ وماعلیہ“ الاستشراق والمستشرقون(عدد خاص، مجلہ المنھل، عدد۴۷۱) اپریل/مئی ۱۹۸۹ء،ص۱۵۔
(۸)Said, Edward W, Orientalism, Routedge & Kegan Paul London, 1978 p.21
(۹)الندوی ، ابو الحسن علی ، الاسلامیات بین کتابات المستشرقین ،موٴسسة الرسالة ، بیروت۱۹۸۶ء،ص ۱۵۔۱۶.
(۱۰)اسلام اور مستشرقین ، ۶ / ۲۵۸ ،دار المصنّفین شبلی اکیڈمی ، اعظم گڑھ ، یو پی (الہند) ۔
(۱۱)المنجدفی اللغة والاعلام ، ص ۳۸۴، طبع الثالثة والعشرون ، المکتبة الشرقیة ، بیروت لبنان ۔
12. Cf. Gen. 16.8. Sozomen also says that they were descended from Agar, but called themselves descendants of Sara to hide their servile origin (Ecclesiastical History 6.38, PG 67.1412AB).
13. The Arabic kabirun means ‘great,’ whether in size or in dignity. Herodotus mentions the Arabian cult of the ‘Heavenly Aphrodite’ but says that the Arabs called her Alilat (Herodotus 1.131)
14. This may be the Nestorian monk Bahira (George or Sergius) who met the boy Mohammed at Bostra in Syria and claimed to recognize in him the sign of a prophet.
102. Koran, Sura 112.
١٦. ڈاکٹر حافظ محمد زبیر ، باب چارم " سیرت اور مستشرقین " ، صفحہ ١١٤ ، ١١٥ ، کتاب ، اسلام اور مستشرقین ، ناش , مکتبہ رحمت للعالمین.

17. W. Montgomery Watt. Muhammad: Prophet and Statesman.
Oxford University Press, 1961.  From  pg. 229.

١٨. غلام احمد پرویز ، رسالہ 'اطاعت ِرسول ' ، '' ص ۱۶، ، نشر ادارہ طلوع اسلام کراچی
19. Mohammed and the rise of Islam, by Margoliouth, D. S. (David Samuel), 1858-1940
Published c1905, Topics Muhammad, Prophet, d. 632, Islam – History,Page No, 121
٢٠. (ملفوظات جلد دوم صفحہ 446)
٢١.(روحانی خزائن جلد 3 اِزالہ اوھام صفحہ 126)
٢٢.( قرآنی فیصلے حصہ اول ص ۲۲۸)
٢٣. (البیان تفسیر سورہ اسراء آیت ۱،۶۰)
٢٤.علامہ شیخ محمد عرفہ ممبر جمعیۃ کبارالعلماء نے ازہر یونیورسٹی کے
 مجلہ''نور الاسلام''کی جلد پنجم میں صفحہ ۶۳۹
٢٥.حدیث رسول صل  الله علیہ وسلم کا تشریعی مقام ،ڈاکٹر مصطفیٰ سباعی ، ناشر ملک  سنز  فیصل آباد ، صفحہ ٣٦٥
٢٦. انسائیکلوپیڈیا آپ اسلام ، جلد ١ ، صفحہ ٤٠٨
٢٧.استاد احمد امین ، فجر السلام ، صفحہ ٢٦٥  
٢٨.حدیث رسول صل  الله علیہ وسلم کا تشریعی مقام ،ڈاکٹر مصطفیٰ سباعی ، ناشر ملک  سنز  فیصل آباد ، صفحہ ٥١٤
٣٠.ڈاکٹرکمال اشرف قاسمی ،مستشرقین اورحجّیتِ حدیث، http://www.zindgienau.com/Issues/2015/november2015/images/unicode_files/heading6.htm







ایک تبصرہ شائع کریں