جمعہ، 30 مئی، 2014

چندا ما ما دور کے !

چندا ما ما دور کے !

ہمارے بچپن کی پسندیدہ لوری تھی

چندا ماما دُور کے
پوئے پکائیں بُور کے
آپ کھائیں تھالی میں
مُنّے کو دیں پیالی میں
پیالی گئی ٹوٹ
مُنّا گیا رُوٹھ
لائیں گے نئی پیالیاں
بجا بجا کے تالیاں
مُنے کو منائیں گے
ہم دُودھ بالائی کھائیں گے
اُڑن کھٹولے بیٹھ کے مُنّا
چندا کے گھر جائے گا
تاروں کے سنگ آنکھ مچولی
کھیل کے دل بہلائے گا
کھیل کُود سے جب
میرے مُنّے کا دل بھر جائے گا
ٹھُمک ٹھُمک کر میرا مُنّا
واپس گھر کو آئے گا
چندا ماما دُور کے
پوئے پکائیں بُور کے
آپ کھائیں تھالی میں
مُنّے کو دیں پیالی میں

یہ لوری سن کر ہم ہمیشہ نیند کی وادیوں میں کھو جایا کرتے تھے پھر بچپن گیا لوریاں گئیں اور راتوں کی نیند بھی گئی کہتے ہیں لوری سنانے کی تاریخ ٤٠٠٠ سال پرانی ہے مگر وہ زمانے گۓ جب کانوں میں مامتا بھری میٹھی آوازیں رس گھولتی تھیں

چندا کی نگری سے آجا ری نندیا
تاروں کی نگری سے آ جا .....

اب نہ تو تاروں کی نگری ہے اور نہ ہی چندا کی وادی آجکل راتیں جاگتی ہیں اور دن سوتے .....

چندا ماما اور ہمارا بچپن کا ساتھ ہے یہ تو بڑے ہوکر سمجھ آیا کہ چاند تو ایسی بنجر زمین ہے جسمیں گڑھے ہیں جہاں سانس لینا ممکن نہیں اور جسکی روشنی اپنی نہیں مستعار ہے .....

مگر کیا کیجئے کہ دل تو بچہ ہے جو

" کھیلن کو مانگے چاند رے "

آجکل ماؤں کے چاند چاندنی کے پیچھے دیوانے ہیں اور ہر روز نۓ چاند چڑھاتے ہیں .....

پہلے کی دادیاں بتلاتی تھیں کہ چاند پے پریاں رہتی ہیں جو روز اتر کر آتی ہیں

ان پریوں کی خواہش میں کئی چاندوں کی کھوپڑیوں پر چاند نمودار ہو چکے ہیں

چاند کا اور چودھویں کا پرانا ساتھ ہے وہ کیا خوب کہا ہے شاعر نے

کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا تیرا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرا تیرا
ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی سب پُوچھا کیے
ہم ہنس دیئے، ہم چُپ رہے، منظور تھا پردہ تیرا

اور اس چودھویں کی رات کو دلاور نے کچھ اسطرح فگار کیا ہے

کل چودھویں کی رات تھی آباد تھاکمرہ ترا
ہوتی رہی دھک دھک دھنا، بجتا رہا طبلہ ترا

شوہر، شناسا، آشنا، ہمسایہ، عاشق، نامہ بر
حاضر تھا تیری بزم میں ہر چاہنے والا ترا

عاشق ہیں جتنے دیدہ ور، تو سب کا منظورِ نظر
نتھا ترا، فجّا ترا، ایرا ترا، غیرا ترا

اک شخص آیا بزم میں، جیسے سپاہی رزم میں
کچھ نے کہا یہ باپ ہے، کچھ نے کہا بیٹا ترا

میں بھی تھا حاضر بزم میں، جب تو نے دیکھا ہی نہیں
میں بھی اٹھا کر چل دیا بالکل نیا جوتا ترا

یہ مال اک ڈاکے میں کل دونوں نے مل کرلوٹا ہے
انصاف اب کہتا ہے یہ، آدھا مرا، آدھا ترا

دلاور فگار

ویسے سنا ہے چاند اور چکور کا بھی پرانا ساتھ ہے مگر ہم تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ چاند گول ہے لیکن جناب کیا کیجئے معاملہ گول مول ہے ....

اکثر عقلمند لوگ پوچھتے ہیں چاند سے زمین کو دیکھنے کیلئے لوگ اوپر دیکھیںگے یا نیچے اور پھر جواب نہ ملنے پر خوشی سے بغلیں بجاتے ہیں .....
ہم کہتے ہیں چاند پر جاکر زمین کو کون گدھا دیکھنا چاہے گا
لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ سمندروں کے مدو جزر میں چاند کی خفیہ سازش کارفرما ہوتی ہے
ہم کہتے ہیں اس چاند ماری کی ضرورت ہی کیا ہے مد ہو یا جزر آپ سے مطلب ....

ہم پکے مسلمان ہیں اور رمضان و عید کے مواقع پر پوری قوم چاند تلاش رہی ہوتی ہے کچھ آسمان کے اور کچھ زمین کے چاند.....
خیر ہو ہمارے رویت ہلال والوں کی جب چاہیں جہاں چاہیں چاند نکال دیں صاحبان کرامت جو ٹھہرے

لیکن ہماری قوم کے نو جوان سپوت بھی کم نہیں محلے کی چھتوں پر اپنے اپنے چاند تلاش کرنے میں ماہر ہوتے ہیں بلکہ بعضے تو سورج کے عین سوا نیزے پر ہونے کے وقت بھی چاند کی چاندنی سے لطف اندوز ہونے کے ہنر سے واقف ہیں

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے

اکثر مائیں اپنے لاڈلوں کیلئے چاند سی دلہن ڈھونڈ رہی ہوتی ہیں چاہے لڑکا مریخ کی مخلوق ہی کیوں نہ ہو دوسری طرف سنتے ہیں کہ وہ لڑکے جن کی چندیا نمودار ہو جاوے انکی جیبیں چاندی سے بھری ہوتی ہیں ......
بعض محب وطن یہ گاتے ہوے دکھائی دئیے
چاند میری زمیں
پھول میرا وطن

جی ہاں اب ہمارے وطن کی زمین بجلی و پانی کے بغیر چاند کی زمین کا منظر ہی پیش کرنے ولی ہے باقی پھول کا تو معلوم نہیں بھول ضرور نظر آتا ہے اپنا وطن آجکل ....

کہتے ہیں چاند پر سبزہ نہیں اگتا لیکن جناب ہم نے تو صفا چٹ چندیا پر بالوں کا جنگل اگتے دیکھا ہے

یہ پل بھر میں کیا ماجرا ہو گیا

افسوس ہماری قوم کے چاند کو گرہن لگ چکا ہے

ایک انشاء نام کے دیوانے نے " چاند نگر " میں کیا خوب لکھا تھا

’’چاند کے تمنائی‘‘
شہروں کی گلیوں میں
شام سے بھٹکتے ہیں
چاند کے تمنائی
بے قرار سودائی
دل گداز تاریکی
جاں گراز تنہائی
روح و جاں کو ڈستی ہے
روح و جاں میں بستی ہے
شہر دل کی گلیوں میں
جابجا بھٹکتے ہیں
کس کی راہ تکتے ہیں
چاند کے تمنائی
سرد سرد راتوں کو
زرد چاند بخشے گا
بے حساب تنہائی
بے حجاب تنہائی
شہر دل کی گلیوں میں۔

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں