سوموار، 12 مئی، 2014

وسعت الله خان کی بو العجبیاں !

وسعت الله خان کی بو العجبیاں !

محترم ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اپنے مشن پر ہیں اور انکا مشن ہے فرقہ واریت کو بڑے پیمانے پر ہوا دینا طریقہ انتہائی آسان ہے ایک گروہ سے اپنا تعلق ثابت کر کے دوسرے سے ہمدردی جتائیں اور اندروں خانہ دونوں کی جڑیں کاٹیں .....

عرف میں عام میں اسے
" گھنا بننا " کہتے ہیں

حضرت نے فرمایا

ایک سنی دیوبندی گھرانے میں پیدا ہونے والا وسعت اللہ خان خود کو ایک اچھا مسلمان ثابت کرنے کے لئے کہاں تک جائے، کیا کرے ؟؟؟

اجی آپ نے دعوا کیا اور ہم تسلیم کر لیں وہ کیا کہا ہے شاعر نے

حسن زبصرہ، بلال زحبشہ، صہیب از روم
زخاک مکہ ابوجہل، این چہ بو العجبی ست؟

موصوف کو بین المسالک و مذاھب مقابلہ بلکہ تصادم کروانے کا بڑا شوق ہے

" ریلوے کے امتحان میں کامیاب ہونے والے ایک امید وار نے پہلی ہی درخواست جو کی اس نے افسران بالا کو
حیرت میں ڈال دیا
سر میری ڈیوٹی واچ ٹاور پر لگا دیجئے
مگر کیوں
جناب میری ایک بچپن کی خواہش ہے
وہ کیا
وہ جی
مجھے بچپن سے ہی ٹرینوں کی ٹکر دیکھنے کا بڑا شوق ہے "

کہیں کوئی ایسا ہی شوق تو خان صاحب کو میدان صحافت میں کھینچ نہیں لایا......؟

موصوف نے اپنی تحریر سوالیہ رکھی ہے اور ہمیں تو انکی پوری تحریر پر سوالیہ نشان لگا دکھائی دیتا ہے ممکن ہے کہ موصوف نے اس تحریر کو لکھنے سے پہلے تحقیق کے کوہ گراں سر کیے ھوں لیکن معلوم نہیں پھر یہ تحریر انہوں نے کسی کھائی میں بیٹھ کر کیوں لکھی جہاں سے حقائق کا آسمان ہی نگاہوں سے پوشیدہ ہو ......

تحریر کی بنت کچھ اسطرح کی ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے ....
" جب تک کوئی سنی کسی شیعہ کے گلے پر چھری نہ پھیر دے اسکا سنی ہونا محقق نہیں ہوگا "
(وسعت الله خان )

کیا ایسا ہی ہے
شدت پسند افراد ہر دو گروہ میں موجود ہیں ابھی پنڈی کا واقعہ قریب کا ہی ہے ....

سو کچھ لوگوں کی وجہ سے پورے مکتب فکر کو ہی مورد الزام ٹھہرا دینا کہاں کا انصاف ہے گو آپ کا قلم جب بھی اگلتا ہے ستم ہی اگلتا ہے ......

دوسری بات عقائد کا وہ اختلاف جو صدیوں سے موجود ہے اسکو یکایک فراموش کر دینا بھی ممکن نہیں یہ ایک خواہش تو ہو سکتی ہے لیکن زمینی حقائق سے واقفیت نہیں جہاں تک بات ہے شخصیات کے علمی و فکری کارناموں کی بنیاد پر انکے عقیدہ کی حقانیت کو پرکھنا تو یہ بھی ایک بو العجبی ہی ہے اسکے سوا کچھ نہیں ...

پاکستان کے آئین کے مطابق قادیانی کافر ہیں امید تو یہی ہے کہ آپ پاکستانی آئین کی اس تکفیری ذہنیت کو تسلیم کرنے سے ضرور انکار کر دینگے یہاں ڈاکٹر عبدالسلام جیسا سائنسدان بھی اپنے عقیدہ کی بنیاد پر غیر مسلم ہی ٹھہر تا ہے جبکہ اسے تو فقیہ الملت کا خطب مرحمت ہونا چاہئیے تھا مگر کیا کیجئے امید ہے آپ پاکستانی آئین کے خلاف بھی ایسے آواز بلند کرینگے ...

اب آتے ہیں کالم میں موجود تاریخی حقائق کی طرف موصوف نے اپنے پلے سے اس ان تمام علمی شخصیات کو ایک مکتب فکر کی جھولی میں ڈال دیا اور اتنا بھی نہ سوچا کہ وہ تاریخی حقائق کو مسخ کرتے چلے جا رہے ہیں یا انکے نزدیک تاریخی حقائق کی کوئی حقیقت ہی نہیں ......

ایک نام لیا گیا غالب کا اگر حضرت اقبال کا بھی لے دیتے تو ہم کیا بگاڑ لیتے لیکن کم از کم غالب کے اپنے افکار تو ملاحظہ کر لیتے
لیجئے دیکھئے فتاویٰ غالب


جن لوگوں کو ہے مجھ سے عداوت گہری
کہتے ہیں وہ مجھ کو رافضی او ردہری
دہری کیونکر ہو، جو کہ ہو صوفی؟
شیعی کیونکر ہو،ماورا النہری؟


اصحاب کو جو ناسزا کہتے ہیں
سمجھیں تو ذرا د ل میں کہ کیا کہتے ہیں
سمجھا تھا نبیﷺ نے ان کو اپنا ہمدم
ہے، ہے! نہ کہو، کسے برا کہتے ہیں


یارانِ رسولﷺ، یعنی اصحابِ کبار
ہیں گرچہ بہت، خلیفہ ان میں ہیں چار
ان چار میں ایک سےہو جس کو انکار
غالبؔ، وہ مسلماں نہیں ہے زنہار


یارانِ نبیﷺ میں تھی لڑائی کس میں؟
الفت کی نہ تھی جلوہ نمائی کس میں؟
وہ صدق، وہ عدل، وہ حیا(اور) وہ علم
بتلاؤ کوئی کہ تھی برائی کس میں؟


یارانِ نبی ﷺ سے رکھ تولا، باللہ!
ہر یک ہے کمالِ دیں میں یکتا، باللہ!
وہ دوست نبی ﷺکے، اور تم ان کے دشمن
لا حول ولا قوۃ الا باللہ!

(یہ پانچوں رباعیاں سید الاخبار دہلی ، جلد 8 ، شمارہ28، 16 نومبر1850ء میں شائع ہوئی تھیں)

یہ غالب بھی متشدد دیوبندی بلکہ کسی کلعدم تنظیم کے کوئی سرکردہ رکن دکھائی دیتے ہیں ...

اب کچھ دوسری شخصیات کو دیکھتے ہیں

جہاں تک بات ہے جابر بن حیان اور الخوارزمی کی تو انکو سنی حکمرانوں ہارون الرشید اور مامون الرشید کے ادوار میں ہی پنپنے کے مواقع ملے

البیرونی کو بھی آسانی سے شیعت کے کھاتے میں ڈال دیا گیا جبکہ وہ صلح کل کا قائل تھا ایک جگہ اپنی دینی فکر سے متعلق لکھتا ہے ....

" ہر گروہ اور ہر مذہبی فرقہ اس وقت تک اسے عزیز ہے جب تک کہ وہ علم کے حصول کا ذریعہ ہے "

ایسا ہی معاملہ معروف کرخی کا ہے یہ ایک عیسائی گھرانے میں پیدہ ہوے اور بعد میں اسلام قبول کیا اسلئے انپر کسی مخصوص مسلک یا مکتب فکر کی چھاپ لگا دینا کہاں کا انصاف ہے ..

عمر خیام کو جس ڈھٹائی سے ایک مکتب فکر کی جھولی میں ڈال دیا گیا ہے اسپر ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہیے ...
یہ سب کو معلوم ہے کہ خیام کی شہادت ایک باطنی حسن بن صباح کے گروہ کے ہاتھوں ہوئی تھی خیام کا علمی استفادہ ابو طاہر سمرقندی شافعی رح سے ہے جو ایک سنی عالم تھے اور خیام کی بنیادی دینی تربیت وہیں سے ہوئی ( خیام ، سید سلیمان ندوی رح )

ایسا ہی لطیفہ سلطان ٹیپو شہید کو ایک مکتب فکر سے متعلق قرار دینے کا ہے اور اس کوشش میں موصوف نے میر صادق کو بھی فراموش کر دیا عجیب بات یہ ہے کہ دیوبندی اور وہابی فکر کے ابتدائی اکابرین سید احمد شہید رح کے خانوادے کے بزرگ شاہ ابو سعید صاحب رح اور شاہ ابو للیث رح سے روحانی مناسبت تھی ....
(وقاع احمدی )

اسی سلطان ٹیپو نے ملا جونپوری امامی کے فرقہ مہدویہ کے خلاف شدید رویہ اختیار کیا اگر خان صاحب سلطان ٹیپو شہید کی سوانح ملاحظہ کر لیتے تو شاید سلطان شہید کا تذکرہ بھی گوارہ نہ کرتے ....

کیا کیا بیان کیا جاوے اور کس کس کا تذکرہ ہو اکبر الہ آبادی بھی اسی فکر کا حصہ ٹھہرے

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

یہاں شخصیات کا نام لیکر انکے کمالات بیان کرتے ہوے نادر شاہ کا تذکرہ بھی فرما دیا شاید حضرت کسی خاص کیفیت میں تھے

لیجئے ایک لطیفہ ملاحظہ کیجئے نادر شاہ جسے ایشیاء کا نپولین بھی کہا جاتا ہے

ان فتوحات نے نادر کی شہرت کو چار چاند لگادیئے۔ ایرانی اس کو ایران کا نجات دہندہ سمجھتے تھے اور اس کے سامنے تخت ایران پیش کردیا لیکن نادر نے ایرانیوں کے سامنے یہ مطالبہ رکھا کہ جب تک خلفائے راشدین اور اصحاب رسول کے خلاف تبرا اور اہل سنت مسلمانوں کو ستانا بند نہیں کریں گے وہ بادشاہت قبول نہیں کرسکتا۔ [1]۔ ایرانیوں نے اس کا یہ مطالبہ منظور کرلیا اور نادر شاہ نے عباس سوم کو معزول کرکے 1736ء میں اپنی بادشاہت کا اعلان کردیا۔ 17 اکتوبر 1736ء کو ایران اور ترکی کے درمیان صلح نامے پر باضابطہ دستخط ہوگئے۔ ترکوں نے گرجستان اور آرمینیا پر ایران کا قبضہ تسلیم کرلیا اور دونوں سلطنتوں کی حدود وہی قرار پائیں جو سلطان مراد چہارم کے زمانے میں مقرر ہوئی تھیں۔

(ملت اسلامیہ کی مختصر تاریخ از ثروت صولت، اسلامک پبلیکیشنز لاہور، پاکستان)

اجی ہمارا مطالبہ بھی تو بس اتنا ہی ہے جو نادر شاہ کا تھا

گو بعد میں کچھ یوں ہوا

نادر شاہ جس میں فوجی صلاحیت غیر معمولی تھی انتظامی صلاحیت اس پائے کی نہیں تھی۔ دہلی کے قتل عام کا تو اس پر زیادہ الزام نہيں آتا لیکن آخر میں وہ بہت ظالم ہوگیا تھا۔ مورخین کہتے ہیں کہ اگر نادر شاہ بخارا اور خیوہ کی فتح کے بعد مرجاتا تو ایران کا انتہائی نیک نام حکمران ہوتا۔ نادر شاہ کے بعد ایران ایک بار پھر انتشار اور طوائف الملوکی کا شکار ہوگیا۔ نادرا کے بعد اس کا بھتیجا علی قلی، عادل شاہ کے نام سے خراسان میں تخت نشین ہوا لیکن ایک سال حکومت کرپایا تھا کہ نادر کے اندھے لڑکے رضا قلی کا بیٹا شاہ رخ 15 سال کی عمر میں 1748ء میں مشہد میں تخت نشین ہوگیا لیکن ایک شیعہ سردار نے اس کو معزول کرکے اندھا کردیا۔ نادر کے ایک افغان سردار احمد شاہ ابدالی نے افغانستان میں اپنی خود مختار حکومت قائم کرلی اور شاہ رخ کو 1749ء میں دوبارہ تخت دلادیا اور اس کو اپنی حمایت میں لے لیا۔ افشار خاندان کی یہ حکومت افغانوں کی زیر سرپرستی 1796ء تک قائم رہی۔

جناب تاریخ بڑی طویل ہے کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں ......

عرض صرف اتنی ہے کہ یہ دور اس طرح کی شرلیاں چھوڑنے کا نہیں جو بھوسے کے ڈھیر میں آگ لگانے کا سبب ہوں ہاں اگر مقصود ہی آگ لگانا ٹھہرا تو کیا کیجئے ...



جلا کے رکھے تھے ہم نے تو روشنی کے لیے
یہ کس چراغ سے میرے چمن میں آگ لگی

کچھ اس ادا سے وہ محفل میں آج آۓ ہیں
ہے انگ انگ میں بھڑکی بدن میں آگ لگی

نجانے کیسی یہ تلخی در آ ئی لہجے میں
ہے بات بات میں سوزش سخن میں آگ لگی

میرے خدا میرے مالک تو بھیج ابر کرم
بجھا دے اے میرے مولیٰ وطن میں آگ لگی

یہ اسکا جسم ہے شعلہ ہے آگ ہے یا شرار
جو دھوۓ پیر تو اس نے ، لگن میں آگ لگی

یہ کس کی گرمی گفتار کی وجہ سے حسیب
ہر ایک شیریں سخن کے دھن میں آگ لگی


حسیب احمد حسیب


http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/08/120826_baat_se_baat_wusat_tk.shtml?print=1
ایک تبصرہ شائع کریں