منگل، 8 جولائی، 2014

ام معاویہ رض حضرت ہند بنتِ عتبہ رضی اللہ عنہا

ام معاویہ رض حضرت ہند بنتِ عتبہ رضی اللہ عنہا ! 

ابن جریر کی روایت ہے فتح مکہ کے موقع پر عورتیں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوئیں تو آپ ۖ نے حضرت عمر بن خطاب رضی ﷲ عنہ کو حکم دیا کہ وہ عورتوں سے کہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم تم سے اس بات پر بیعت لیتے ہیں کہ تم ﷲ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو. ان بیعت کے لئے آنے والوں میں حضرت ہندہ بھی تھیں جو عتبہ بن ربیعہ کی بیٹی اور حضرت ابوسفیان کی بیوی تھیں، یہی تھیں جنہوں نے اپنے کفر کے زمانے میں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی ﷲ عنہ کا پیٹ چیر دیا تھا. اس وجہ سے یہ ان عورتوں میں ایسی حالت میں آئی تھیں کہ انھیں کوئی پہچان نہ سکے. اس نے جب فرمان سنا تو کہنے لگی میں کچھ کہنا چاہتی ہوں . لیکن اگر بولوں گی توحضور صلی ﷲ علیہ وسلم مجھے پہچان لیں گے اور اگر پہچان لیں گے تو میرے قتل کا حکم دے دیں گے . میں اسی وجہ سے اس طرح آئی ہوں کہ پہچانی نہ جاؤں مگر وہ عورتیں سب خاموش رہیں اور ہندہ کی بات اپنی زبان سے کہنے سے انکار کردیا. آخر ان ہی کو کہنا پڑا کہ یہ ٹھیک ہے . جب شرک سے ممانعت مردوں کو ہے تو عورتوں کو کیوں نہ ہوگی؟ حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا لیکن آپۖ نے کچھ نہ فرمایا پھر حضرت عمر سے کہا ان سے کہہ دو کہ دوسری بات یہ ہے کہ چوری نہ کریں. اس پر ہندہ نے کہا میں ابوسفیان کی معمولی سی چیز کبھی کبھی لے کر لیا کرتی ہوں کیا خبر یہ بھی چوری میں داخل ہے یا نہیں ؟ اور میرے لئے یہ حلال بھی ہے یا نہیں ؟ حضرت ابوسفیان بھی اسی مجلس میں موجود تھے. یہ سنتے ہی کہنے لگے میرے گھر میں سے جو کچھ بھی تو نے لیا ہو خواہ وہ خرچ میں آگیا ہو یا اب بھی باقی ہو وہ سب میں تیرے لئے حلال کرتا ہوں. اب تو نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم نے صاف پہچان لیا کہ یہ میرے چچا حضرت حمزہ رضی ﷲ عنہ کی قاتلہ اور ان کے کلیجے کو چیرنے والی اور پھر اسے چبانے والی عورت ہندہ ہے. آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے انہیں پہچان کر اور ان کی یہ گفتگو سن کر اور یہ حالت دیکھ کر مسکرا دئیے اور انہیں اپنے پاس بلا لیا. انہوں نے آکر حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کا تھام کر معافی مانگی تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تم وہی ہندہ ہو؟ ہندہ جی ہاں. فرمایا جاؤ آج میں نے تجھے معاف کیا.
( ابن کثیر ، جلد5 )
( ''صحیح اسلامی واقعات ''، صفحہ نمبر 60-58)

حضرت ہند رضی اللہ عنہا مسلمان ہوکر گھر گئیں تواب وہ ہند نہ تھیں، ابن سعد نے لکھا ہے کہ انہوں نے گھرجاکر بت توڑڈالا اور کہا کہ ہم تیری طرف سے دھوکے میں تھے۔
(اصابہ:۸/۲۰۶)

اسدالغابہ میں ان کے حسنِ اسلام کے متعلق لکھا ہے کہ: أُسَلمَت يَوْم الْفَتْحِ وَحَسُنَ إِسْلَامِهَا۔
(اسدالغابہ،كتاب النساء،هِنْد بِنْت عُتْبَة:۳/۴۲۴، شاملہ،موقع الوراق)

غزوات
فتح مکہ کے بعد اگرچہ اسلام کوعلانیہ غلبہ حاصل ہوگیا تھا اور اس لیے عورتوں کوغزوات میں شریک ہونے کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی؛ تاہم جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں روم وفارس کی مہم پیش آئی توبعض مقامات میں اس شدت کا رن پڑا کہ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کوبھی تیغ وخنجر سے کام لینا پڑا؛ چنانچہ شام کی لڑائیوں میں جنگ یرموک ایک یادگار جنگ تھی، اس میں حضرت ہندرضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ دونوں نے شرکت کی اور فوج میں رومیوں کے مقابلہ کا جوش پیدا کیا۔
وفات
حضرت ہندہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں انتقال کیا، اسی دن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد ابوقحافہ نے بھی وفات پائی تھی ابن سعد کی روایت ہے کہ ان کی وفات حضرت عمررضی اللہ عنہ کے زمانہ میں نہیں بلکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہوئی، کتاب الامثال سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے؛ چنانچہ اس میں مذکور ہے کہ جب حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے وفات پائی (ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں وفات پائی) توکسی نے حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھ سے ہند رضی اللہ عنہا کا نکاح کردو؛ انہوں نے نہایت متانت سے جواب دیا کہ اب ان کونکاح کرنے کی ضرورت نہیں۔
(اصابہ:۸/۲۰۶)

اولاد
اولاد میں حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ زیادہ مشہور ہیں۔
اخلاق
حضرت ہند رضی اللہ عنہا میں وہ تمام اوصاف موجود تھے جوایک عرب عورت کے مابہ الامتیاز ہوسکتے ہیں، صاحب اسدالغابہ نے لکھا ہے: وَكَانَتْ إِمْرَأَةٌ لَهَا نَفْسٌ وَأَنَفَةٌ، وَرَأي وَعَقل۔
(اسدالغابہ،كتاب النساء،هِنْد بِنْت عُتْبَة:۳/۴۲۴، شاملہ،موقع الوراق)

ترجمہ: ان میں عزتِ نفس، غیرت رائے وتدبیر اور دانشمندی پائی جاتی تھی۔
فیاض تھیں، حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ ان کوان کے حوصلہ کے مطابق خرچ نہیں دیتے تھے، اسلام لانے کے وقت جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے عہد لیا کہ چوری نہ کریں توانہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! ابوسفیان رضی اللہ عنہ مجھے پورا خرچ نہیں دیتے اگران سے چھپاکرلوں توجائز ہے؟ آپ نے اجازت دی۔
(صحیح بخاری)
ایک تبصرہ شائع کریں