اتوار، 6 جولائی، 2014

مالک کی مدد آئی......!

مالک کی مدد آئی......!

گزشتہ تین ہفتے آزمائش تکلیف اور الله سے تعلق کی مضبوطی کے تھے کئی بار پیمانہ صبر چھلکنے کو بیتاب ہوا لیکن الله کی نصرت و مدد کے شواہد بھی بے شمار نظر آۓ....

والد محترم کو آفس سے واپسی پر ایک تیز رفتار رکشے نے سروس روڈ پر ہٹ کیا سیدھے پہلو اور ناک پر شدید چوٹ آئی ادھر ادھر ڈاکٹرز و اسپتالوں کے چکر کاٹنے کے بعد معلوم ہوا کہ پلوس بون سے منسلک فیومر نیک فریکچر ہے اور اسکا واحد علاج آپریشن ہے پہلے ایک ہسپتال میں کچھ دن گزرے اور وہاں کے ڈاکٹرز کے رویہ اور مہنگے داموں کی وجہ سے دوسری جگہ جانا پڑا الله کی مدد ایسے آئی کہ والد محترم کی کمپنی نے آپریشن کے اخراجات اٹھانے کی حامی بھری ایک اوسط درجے کے ہسپتال میں ایک اعلی درجے کے ڈاکٹر نے کامیاب " بائی پولر ھیمی آرتھو پلاسٹی " کی مدد سے والد صاحب کی ٹوٹی ہوئی پلوس بال کو آپریٹ کیا اسکے بعد اب الله کے کرم سے والد صاحب گھر آ چکے ہیں کچھ طویل اور کچھ عارضی احتیاطوں کے ساتھ مکمل صحت یابی تک کی مشکل چوٹی سر کرنی باقی ہے ....

اس دوران کچھ کمزور لمحات میں ایک فریاد مالک الملک کی خدمت میں دل سے نکلی جو احباب کی نظر ہے گزارش ہے کہ اس میں شعریت تلاش نہ کی جاوے بلکہ اسکو دل کی آواز سمجھ کر دل کی آنکھوں سے پڑھا جاۓ....

بیٹھے تھے پریشاں ہم ، مالک کی مدد آئی
آساں ہوے سارے غم ، مالک کی مدد آئی

ہر گام پے آقا نے رستے ہمیں دکھلاۓ
محتاج تھے ہم ہر دم ، مالک کی مدد آئی

اک سایہ رحمت تھا جلتے ہوے صحراء میں
پیاسا تھا بہت موسم ، مالک کی مدد آئی

اک نور سا ابھرا پھر ظلمت کے اندھیروں سے
پرنور ہوا عالم ، مالک کی مدد آئی

اک بوجھ سا تھا دل پر خدشات کی یورش تھی
آنکھیں تھیں میری پرنم ، مالک کی مدد آئی

میں شکر کروں کیسے مالک کی عطاؤں کا
جب درد ہوے پیہم ، مالک کی مدد آئی

آنکھوں سے میری ٹپکے کچھ درد میرے دل کے
جس وقت گری شبنم ، مالک کی مدد آئی

فریاد تو ہونٹوں تک تاخیر سے پہنچی تھی
سینے سے اٹھی سرگم ، مالک کی مدد آئی

اظہار سے عاجز میں سجدوں میں خدا وندا
کہتا تھا نمی دانم ، مالک کی مدد آئی

حسیب احمد حسیب  
ایک تبصرہ شائع کریں