اتوار، 20 جولائی، 2014

دین کے طالب علموں سے ایک التجا !

دین کے طالب علموں سے ایک التجا !

بے شک الله کا دین کی کسی کی میراث نہیں 
بے شک الله کی محبت کسی کی میراث نہیں 
بے شک الله کے رسول صل الله علیہ وسلم کی محبت کسی کی میراث نہیں ....

یہ تو وہ خزانہ ہے جسکا ہر کوئی برابر کا حق دار ہے
یہ دولت سب کی سانجھی ہے
یہ وہ گنج ہاۓ گرانمایہ ہے جس کا منہ ہر خاص و عام کیلئے کھول دیا گیا ہے
آؤ آتے جاؤ اور بقدر ظرف لیتے جاؤ
اس پر کسی مولوی ملا فقیہ محدث کس مفسر مجدد مجتہد کسی پیر فقیر صوفی بزرگ
اور کسی جماعت ادارے فرقے مسلک قوم یا نسل کی اجارہ داری نہیں
یہ وہ خیر کثیر ہے جسکا دریا چودہ سو سال سے رواں ہے اور ان شاء الله قیامت تک بلکہ قیامت کے بعد بھی رواں رہے گا ....

إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ ﴿١﴾ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ ﴿٢﴾ إِنَّ شَانِئَکَ هُوَ الأبْتَرُ

خدا نے کہ دیا بے شک خدا نے کہ دیا خیر کثیر آپ کا مقدر ہے
خدا نے کہ دیا بے شک خدا نے کہ دیا آپ کا دشمن ہی جڑ کٹا ہے
ہاں ہم سے مطالبہ ہے بس ایک مطالبہ

فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ
بس یہ مطالبہ پورا کر دیجئے پھر ہم بھی اس خیر کثیر میں شریک ہونگے جو فیضان نبوت کا جاری چشمہ ہے

آج دین کے طالب علموں سے ایک التجا ہے ایک گزارش ہے ایک درخواست ہے
یہ دین کے طالب علم مدارس مساجد خانقاہوں کے مکین اور دینی تبلیغی اصلاحی فکری و احیائی جماعتوں کے اراکین ہی نہیں بلکہ ہر وہ شخص جو دین کے علم کا طالب ہے دین کو سمجھنے جاننے کی جستجو میں ہے جو بھی اس راستے کا مسافر اس راہ کا راہی ہے ان سب سے درخواست ہے .

اکثر احباب مجھ سے پوچھتے ہیں دین کا علم کیسے حاصل کریں کہاں سے شروع کریں کون سا سرا پکڑیں کسی کو حدیث سے شغف کوئی فقہ کو جاننے سمجھنے کی کوشش میں کوشاں کوئی علوم قرآنی کا طالب کسی کا میدان تاریخ تو کسی کی طلب تزکیہ نفس
سب کو میرا ایک ہی جواب ہوتا ہے

خدا کے واسطے سیرت پڑھو
سیرت سے تعلق پیدہ کرو
سیرت میں مشغول رہو
بجز سیرت علوم دینیہ کا دروازہ نہیں کھلنے والا
سیرت سے ہٹ کر نہ تو قرآن کو سمجھا جا سکتا نہ حدیث کا فہم حاصل کیا جا سکتہ نہ فقہ کا افادہ ہو سکتا اور نہ ہی تاریخ کی سمجھ آ سکتی .....
بلکہ سیرت کو اپنے اندر اتارے بغیر نہ تو جہاد ، جہاد ہے
نہ دعوت ، دعوت ہے
نہ علم ، علم ہے
اور نہ ہی تزکیہ ، تزکیہ

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ’’ ترجمہ : بے شک رسول کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے

اور ایک جگہ فرمایا

من یطع الرسول فقدااطاع اﷲ’’ (النساء :80) ترجمہ:” جس نے رسول ﷺ کی اعطاعت کی اُس نے میری اعطاعت کی

اور پھر حجت ہی تام کر دی

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ’’ ترجمہ: کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالٰی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالٰی بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔

سب سے پہلی چیز جو امت پر پیش کی گئی وہ احکامات و عقائد کا بیان حکومتی و سیاسی معاملات علمی و فقہی موشگافیاں نہیں تھیں بلکہ کردار تھا

جی ہاں محمّد عربی صل الله علیہ وسلم کا کردار
پہلے چالیس سال آپ کا کردار منوایا گیا پھر نبوت اتاری گئی
اور کردار بھی ایسا کہ دشمن بھی بول رہا ہے
بے شک آپ صادق و امین ہیں
بے شک آپ سچے ہیں
بے شک آپ امانت دار ہیں
بے شک آپ معیار ہیں سچائی کا
بے شک آپ معیار ہیں امانت کا
بے شک آپ معیار ہیں کردار کا

آپ صاحب کتاب نہیں
آپ تو چلتی پھرتی کتاب ہیں

صاحبو ! جان لیجئے جب تک مزاج نبوی صل الله علیہ وسلم اور صفات نبوی صل الله علیہ وسلم کا رنگ آپ میں نہیں جھلکے گا
اور جب تک اوصاف محمدی کا نور آپ کے قلوب میں نمودار نہیں ہوگا
نہ تو آپ کو قرآن راستہ دے گا کہ اسے سمجھیں
نہ ہی حدیث آپ کی دل میں سماۓ گی کہ اسکی حکمتوں سے نفع اٹھائیں
نہ ہی فقہ آپ کے فہم کی درستگی کرے گی کہ اسکی روشنی میں دنیا کے مسائل کا حل تلاش کر سکیں

خدا کی قسم سالوں خاک چھاننے کے بعد سمجھ آیا کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آیا
یقین جانیے سیرت رسول عربی صل الله علیہ وسلم ہی وہ دروازہ ہے جو منزل کی طرف کھلتا یہی وہ راستہ ہے جسے صراط مستقیم کہتے ہیں یہی انعام والوں کا راستہ اور اس سے ہٹ کر کچھ بھی نہیں سواۓ اندھیرے اور بھٹک جانے کے .....

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّواْ مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ

سو یہ کتنی بڑی رحمت ہے اللہ کی کہ ہو تم (اے محمد ﷺ ) نرم مزاج ان کے لیے اور اگر کہیں ہوتے تم سخت مزاج اور سنگدل تو ضرور منتشر ہوجاتے یہ تمہارے گرد و پیش سے سو تم معاف کردو ان کو اور دعائے مغفرت کرو ان کے حق میں اور مشورہ لیتے رہو ان سے دین کے کام میں پھر جب پختہ فیصلہ کرلو تم تو توکّل کرو اللہ پر (اور کر گزرو) بےشک اللہ دوست رکتھا ہے توکّل کرنے والوں کو

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں