سوموار، 9 جون، 2014

ایک فیس بکی مجدد کے فکری مغالطے ،

ایک فیس بکی مجدد کے فکری مغالطے ،

میری عقل !

ایک بہت بنیادی رکاوٹ انسان اور ہدایت کے درمیان جب دیوار بنتی ہے کہ وہ معیار اپنی عقل یا ہواۓ نفس کو تسلیم کر لے پھر معاملہ اس سے آگے بڑھتا ہے اور انسان اپنی راۓ کو دوسروں کیلئے حجت سمجھنا شروع کر دیتا ہے اور اگر بدقسمتی سے اسے کچھ پیچھے چلنے والے بھی میسر آ جائیں تو سمجھ لیجئے اسلام کے فرق و ملل میں ایک چھوٹی سی فرقی کی پیدائش ہونے جا رہی ہے .........

مسلمانوں کے دور غلامی اور خاص کر بر صغیر کے مسلمانوں کے دور غلامی نے مغربیت سے مغلوب طبقہ پیدہ کیا جنکے سرخیل سر سید تھے سر سید نے اپنی سیرت میں سے ہر وہ چیز نکال دی جو انکے نزدیک کسی بھی مغربی مفکر کی عقل میں نہیں آ سکتی تھی ......

دوسری طرف اسی زمانے میں اقبال مغرب کے سامنے پورے قد کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں بنیادی فرق مغربی علوم و افکار سے واقفیت کا ہے اقبال نے مغربی علوم میں دسترس حاصل کی اور انکا رد کیا جبکہ سر سید نے مغربی فکر سے متاثر ہوکر اسلام کی شکل ہی تبدیل کرنے کی کوشش کی گو انکا یہ فعل اپنے تیں خلوص پر ہی مبنی کیوں نہ ہو ......

" میں " کی خرابی ایک بڑی خرابی ہے یہ خرابی ایک اچھے بھلے انسان کو بکری کر دیتی ہے اور وہ جگہ جگہ ٹکریں مارتا پھرتا ہے .........
میں میں سے نکل کر سوچنے کی صلاحیت اگر مفقود ہو جاوے تو انسان ممیاتا رہتا ہے .........

جہاں تحریر کا ٧٠% صرف اپنی تعریف اپنے علم و مرتبے کے بیان اور (self projection) پر مشتمل ہو وہاں کسی بھی دلیل کے جواب میں سامنے سے صرف ایک ہی دلیل آتی ہے
میں میں ......

حدیث نبوی پر پہلا اور سب سے کاری وار اہل استشراق نے کیا اور آج کے مسلمان منکیرین حدیث صرف ان مستشرقین کی بازگشت ہی کہلاے جانے کے قابل ہیں یہ اصیل لوگ نہیں بلکہ صرف مستعار لیے گے افکار کی بنیاد پر زندہ لوگ ہیں ......

اگر ان سے ان کے استشراقی ہتھیار چھین لیے جاویں تو انکے پاس کچھ نہیں بچتا ......

جیسا کہ عرض کیا اپنی عقل کو مدار ماننے والوں کیلئے دلیل صرف انکی عقل ہی ہوتی ہے چاہے وہ کتنی ہی ناقص کیوں نہ ہو انکا کوا ہمیشہ سفید ہوتا ہے انکو رات کے وقت دن دکھائی دیتا ہے دن کی کھلی روشنی میں انکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا رہتا ہے .....

ایک مثال پیش کرتا ہوں ایک صاحب نے حدیث پر پھبتی کسی ....

امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح بخارى ميں ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" موسى عليہ السلام بہت ہى شرميلے اور باپرد انسان تھے، شرميلا پن كى بنا پر ہى ان كى جلد كا كوئى حصہ بھى نہيں ديكھا جا سكتا تھا، چنانچہ بنى اسرائيل ميں سے كئى ايك نے انہيں اذيت پہنچائى اور يہ كہنے لگے:

يہ اپنا جسم صرف اس ليے چھپاتا ہے كہ اسے كوئى جلدى بيمارى ہے، يا تو برص كا شكار ہے، يا پھر خصيتين كى بيمارى ميں مبتلا ہے، يا كوئى اور آفت كا شكار ہے، اور اللہ تعالى نے ان كے اس قول سے موسى عليہ السلام كو برى كرنا چاہا، چنانچہ ايك روز موسى عليہ السلام اكيلے تھے تو انہوں نے اپنا لباس اتار كر ايك پتھر پر ركھا اور غسل كرنے لگے، اور جب غسل سے فارغ ہوئے اور اپنا لباس لينے كے ليے آگے بڑھے تو پتھر لباس لے كر بھاگ كھڑا ہوا چنانچہ موسى عليہ السلام نے اپنا لاٹھى پكڑى اور پتھر كے پيچھے بھاگتے ہوئے كہنے لگے: ارے پتھر ميرا لباس، اے پتھر ميرا لباس، حتى كہ بنى اسرائل كے رؤساء ميں سے كچھ كے پاس پہنچ گئے تو انہوں نے انہيں ننگے اور بے لباس ديكھا تو اللہ كى مخلوق ميں سے بہترين اور حسن والے تھے، اس طرح اللہ تعالى نے ان كے قول سے موسى عليہ السلام كو برى كر ديا، اور پتھر وہاں رك گيا اور موسى عليہ السلام نے اپنا لباس لے كر پہن ليا، اور پتھر كو اپنى لاٹھى سے مارنے لگے.

اللہ كى قسم پتھر پر تين يا چار يا پانچ ضرب كے نشان پڑ گئے، اور اللہ تعالى كا قول يہى ہے:

اے ايمان والو تم ان لوگوں كى طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے موسى عليہ السلام كو اذيت سے دوچار كيا، چنانچہ اللہ تعالى نے انہيں اس سے برى كر ديا جو وہ كہتے تھے، اور وہ اللہ تعالى كے ہاں وجاہت كے مالك ہيں."

صحيح بخارى حديث نمبر ( 3404 ).

سو وہ صاحب گویا ہوے
دیکھو دیکھو کیسا ظلم عظیم کر دیا ایک نبی کی شان میں اتنی عظیم گستاخی یہ تو جھوٹی حدیث ہے بلا بلا بلا

انکی بد قسمتی میں بھی اس محفل میں موجود تھا میں نے کچھ عرض کیا تو اسی طرح وہ ذاتیات پر اتر آۓ اور کہنے لگے کیا آپ اپنے لیے یہ معاملہ پسند کرتے ہیں جواب دیجئے اور یہ کہ کر فاتحانہ بغلیں بجانے لگے .....

میں نے پوچھا حضرت ترتیب وار اعتراض بیان کر دیجئے

کہنے لگے
١ ایک نبی کا برہنہ ہونا
٢ لوگوں کا دیکھ لینا
٣ اس غیر اخلاقی بات کا محفوظ کیا جانا اور اسکا بیان
٤ پتھر کا عمل جو خلاف عقل ہے

میں نے کہا حضرت کچھ غور کیجئے ایسا ہی ایک واقعہ قرآن کریم میں بھی بیان ہوا ہے اور یہی احتمالات وہاں بھی پیدہ ہوتے ہیں کم و بیش

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِیَ لَهُمَا مَا وُوْرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ ھٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّآ أَنْ تَكُوْنَا مَلَکَيْنِ أَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخَالِدِيْنَ(۲۰)وَقَاسَمَهُمَا إِنِّيْ لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِيْنَ(۲۱)

پس وسوسہ ڈالا شیطان نے ان کیلئے(ان کے دل میں)تاکہ ان کے ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں انکے لئے ظاہر کردے اوربولا تمہارے رب نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا مگر اس لئے کہ(کہیں)تم فرشتے ہوجاؤ یا ہوجاؤ ہمیشہ رہنے والوں سے۔(۲۰)

فَدَلَّاهُمَا بِغُرُوْرٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ ۖ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَآ أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُلْ لَّكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُبِيْنٌ(۲۲)

پس ان کومائل کرلیا دھوکہ سے پس جب انہوں نے درخت چکھا توان کیلئے ان کی ستر کی چیزیں کھل گئیں اوروہ اپنے اوپر جوڑ جوڑ کررکھنے لگے(ستر چھپانے کیلئے)جنت کے پتے اور انکے رب نے انہیں پکارا کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اورکہا تھا تمہیں کہ بیشک شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔(۲۲)

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِيْنَ(۲۳)
ان دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا،اوراگر تونے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیاتو ہم ضرور خسارہ پانے والوں سے ہوجائیں گے ۔(۲۳)

اب موصوف کافی پریشان ہوے
میں نے پھر عرض کی جناب جہاں تک بات ہے پتھر کے عمل کی تو جب سمندر راستہ دیتا ہے اور اسکا بیان قرآن میں آتا ہے تو آپ کو قبول یا جب چیونٹی گفتگو کرتی ہے تو آپ کو قبول تو پتھر کی حرکت کو بھی ایسے ہی تسلیم کر لیجئے .......

یہاں پھر دو گروہ پیدہ ہوتے ہیں

ایک قرآنی معجزات کا ہی انکار کر دیتا ہے دوسرا انکی باطل تاویلات شروع ک دیتا ہے تاکہ انکار حدیث کا بھرم قائم رہے ......

موصوف نے فرمایا کیا آپ اس سنت پر عمل کرنے کو تیار ہیں .....
ہم کہتے ہیں جی ہاں حضرت کیا آپ اپنی بیٹی دینے کو تیار ہیں ....

اگر علمی گفتگو میں دلیل صرف پھبتیاں اور جگتیں ہی ہیں تو دیجئے جواب مگر آپ کو شاید معلوم نہیں کہ مسجد کے منبر اور ڈرامے کے سٹیج میں فرق ہوتا ہے .....

علمی بات یہ ہے کہ اگر عمر عائشہ صدیقہ رض کے معاملے میں صحیح صریح متواتر روایات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں تو ہوگا کیا .......

کیا ہم یہ مانیں کہ حضرت عائشہ رض کی رخصتی ہجرت سے پہلے ہو چکی تھی اور اسوقت آپ کی عمر اٹھارہ سال تھی ( کیونکہ اٹھارہ انکی عقل میں آتی ہے کل کو مغرب نے اسپر بھی اعتراض وارد کیا تو یہ اٹھائیس بھی کر دینگے )
اب سوال یہ پیدہ ہوتا ہے کہ کیا انکی شادی حضرت خدیجه رض کی زندگی میں ہی ہو گئی تھی یا اگر ہجرت کے بعد ہوئی اور اسوقت آپ کی عمر ١٨ تھی تو کیا آپ کی تاریخ وفات غلط ہے غرض ایک تاریخ تبدیل کیجئے اور آپ کو تمام تاریخی واقعات کے تسلسل کو ہی تبدیل کرنا پڑے گا جو ایک غیر منطقی بات ہے .......

جیسے آپ کو الله کے رسول صل الله علیہ وسلم کی گیارہ شادیاں قبول ہیں ویسے ہی اس بات کو بھی قبول کر لیجئے کوئی حرج نہیں ......
ورنہ آپ بھی گیارہ کر دکھائیں کہ سنت پر عمل ہو ........

دلیل کوئی بھی دے لیجئے یہ کوئی نیا اعتراض وارد کر دینگے اور جیت انہی کی ہوگی کیونکہ یہ پکے سچے دیوبندی حنفی سلفی غامدی عالم ہیں ہر جگہ سے اینٹیں چرا کر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لینے والے .........

خامہ انگشت بہ دنداں کہ اسے کیا لکھیے
ناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں