جمعرات، 28 جولائی، 2016

ادب کے میدان میں دو نظریات کی جنگ ... !

چورنگی نامہادب کے میدان میں دو نظریات کی جنگ ... !

ادب ایک ایسا میدان ہے کہ جس میں نظریات پلتے ہیں پھلتے ہیں پھولتے ہیں اور پھر اپنا رنگ دوسروں پر چڑھاتے جاتے ہیں اردو آدم میں نظریاتی ادب کی تخلیق کے حوالے سے بڑے نام " اقبال " اور  " فیض" کے ہیں ..

ہر دو شخصیات کا ادب گل و بلبل کا لایعنی ادب نہ تھا بلکہ خالص نظریاتی ادب تھا اور ہر دو شخصیات نے اپنی ادبی صلاحیت اپنے اپنے نظریات کی ترویج کیلئے وقف کی .

خادم کا ہر دو حضرات کا مداح ہے گو کہ " اقبال " کی نظریاتی فکر کا پیرو اور " فیض " کی نظریاتی فکر کا ناقد ہے لیکن ہر دو حضرت کی ادبی صلاحیت اور اپنے نظریات سے خالص مناسبت کی تعریف کرتا ہے معاملہ دراصل یہ ہے کہ انسان بغیر نظریات کی کچھ بھی نہیں یا تو وہ کوئی نظریہ رکھتا ہے یا کسی نظریے کا تابع ہوتا ہے اسلئے یہ کہ دینا کہ نظریاتی ادب کوئی شے نہیں ایک انتہائی مجھول بات ہے .

گزشتہ دنوں معروف شاعر نغمہ نگار اور ادیب راجہ مہدی علی خان کی ایک نظم نگاہ سے گزری

" میں اور شیطاں دیکھ رہے تھے "

نظم خاص اشارات و علامات سے بھری ہوئی تھی اگر اسے سادگی و پرکاری کا شاہکار کہا جاوے تو کچھ غلط نہ ہوگا خادم نے اپنی بساط اور اپنے نظریے کے مطابق جواب آں نظم لکھنے کی ٹھانی اور لکھی بھی نظم کو پسندیدگی اور نا پسندیدگی کی یکساں خوراک حاصل ہوئی لیکن قارئین کے تبصرے دیکھ کر بھر سی چیزوں کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے اسلئے درج ذیل چند لکیریں گھسیٹنے کی جسارت کی ہے ...

 چونکہ خادم کا  تھوڑا بہت تعلق فلسفے سے رہا ہے اسلئے علامات کی  تھوڑی بہت سمجھ ضرور ہے اب اگر اصل نظم میں موجود علامات ملاحظہ کیجئے تو جن معانی کا ظہور ہوتا ہے انکے پیچھے کیا کہانی ہے یہ ایک مخالف نظریہ رکھنے والا ہی جان سکتا ہے کہ چوٹ کہاں ماری جا رہی ہے ...

اگر علامات کا بیان بزبان ادب ہو تو ایک طرف معنویت میں اضافہ ہوتا ہے تو دوسری جانب تہ داری اور پیچیدگی کہیں زیادہ بڑھی ہوئی دکھائی دیتی ہے بظاھر سیدھے اور آسان سے الفاظ علامت بن جاتے ہیں گفتگو اصطلاحات میں چھپ کر ہوتی ہے اور مضمون سامنے ہونے کے باوجود کہیں پوشیدہ رہتا ہے ...

اصل نظم کا عنوان ہے

" میں اور شیطاں دیکھ رہے تھے "

اور جوابی نظم ہے

" میں نے اور جبریل نے دیکھا "

یہاں دو علامات کا ٹکراؤ ہے اسے خالص فلسفہ دین اور فلسفہ لا دینیت کے تناظر میں ملاحظہ کیجئے یعنی یہ ایک فلسفیانہ بحث ہے کہ جو علامات کے پیچھے چھپ کر لڑی گئی ہے ...

عجیب بات ہے کہ اعتراض وہاں پر بھی ہوا کہ جہاں بنتا نہیں

نظم میں " میں " سے نہ تو مہدی علی خاں مراد ہیں
اور نہ ہی جواب آں نظم میں حسیب احمد حسیب اور یہ کافی سامنے کی بات ہے

" میں " فرق ہے دو نظریات کا ایک جانب لبرل کی آنکھ ہے اور دوسری جانب صوفی کی نگاہ

اب " جبریل " کہ جو علامت ہے ہدایت کی
اور شیطان کہ جو علامت ہے گمراہی کی .......

ہر دو مقابل ہیں ....

جبریل کا دیکھنا اور جبریل کی آنکھ سے صوفی کا دیکھنا معرفت کا معاملہ
شیطان کا دیکھنا اور اسکی آنکھ سے لبرل کا دیکھنا دھوکے کا منظر ہے ..

آگے چلیے

پہلا بند

جنت کی دیوار پہ چڑھ کر
میں اور شیطاں دیکھ رہے تھے
جو نہ کبھی ہم نے دیکھا تھا
ہو کر حیراں دیکھ رہے تھے

جوابی بند

دوزخ کی دیوار پہ چڑھ کر
میں نے اور جبریل نے دیکھا
جو نہ کبھی سوچا تھا میں نے
حیراں حیراں دیکھ رہا تھا

یہاں دوزخ یا جنت کے مناظر کا حیران کن ہونا کوئی اختلافی امر نہیں
" میں " کی وضاحت اوپر آ چکی
لازمی امر ہے کہ جب مہدی علی خان " جنت " کا مقدمہ اٹھاتے ہیں تو
جواب میں دوزخ کا منظر ہی دکھایا جاوے گا ......

دوسری طرف مبصر ہیں " جبریل "
اور
شیطان .......

اب ہم دوسرے بند پر آتے ہیں

وادیِ جنت کے باغوں میں
اف توبہ اک حشر بپا تھا
شیطاں کے ہونٹوں پہ ہنسی تھی
میرا کلیجہ کانپ رہا تھا

جواب

وزخ کی گھاٹی میں ہر سو
وحشت تھی اک حشر بپا تھا
ایسا منظر کیا بتلاؤں
میرا کلیجہ کانپ رہا تھا

عجیب بات ہے کہ وادی جنت کے باغوں میں حشر کا بپا ہونا تو قرآن سنت تو کیا فلسفیانہ استدلال کے بھی یکسر منافی ہے غور کیجئے " جنت " علامت ہے سکون و اطمنان کی جنت جا ہے نعمتوں کی خوشیوں کی راحت کی جنت سے مراد ہے انسانی ذہن اور روح کی کامل تسکین کی .....

اس عجیب و غریب بیان کو تو ادب شمار کیا جاوے اور جب خادم کہے دراصل دوزخ کی گھاٹی میں حشر بپا تھا وحشت تھی عجیب دل دھلا دینے والا منظر تھا تو ہلچل مچ جاوے .....

اب تیسرا بند ملاحظہ کیجئے

میں نہ کبھی بھولوں گا توبہ
میں نے دیکھا جو نظّارا
لعنت لعنت بول رہا تھا
جنت کا ہر منظر پیارا

جواب

میں نہ کبھی بھولوں گا توبہ
میں نے دیکھا جو نظّارا
لعنت لعنت بول رہا تھا
دوزخ کا ہر منظر گندا

یہاں تفصیل کی ضرورت نہیں کہ لعنت کی مناسبت کس سے ہے دوزخ سے یا جنت سے ..

چوتھے بند پر نظر ڈالیں

موٹی موٹی توندوں والے
بدصورت بد ہیت ملا
خوف زدہ حوروں کے پیچھے
بھاگ رہے تھے کہہ کے "ہا ہا"

جواب


ننگی ننگی ٹانگوں والے
بدصورت بد ہیت لبرل
خوف زدہ زنخوں کے پیچھے
بھاگ رہے تھے کہہ کے " ھررا "

محترم اگر مولوی صحت مند ہو تو بد ہیت اور اگر لاغر ہو تو مفلوک الحال بے چارہ جائے تو جائے کہاں
اور بدصورتی کیا ہے کیا مولوی کی داڑھی اسکی ٹوپی اسکے سرپر سجی دستار یا اسکا مکمل لباس بدصورتی ہے ۔۔۔ ؟ سبحان الله .....

اور ہم جواب میں کہیں کہ لبرل کی برہنگی اور غیر فطری جنسی رویے بدصورتی ہیں تو ہمیں مورد الزام ٹھہرایا جاوے ....

صاحب نظم جب جنت کی اور حوروں کی توہین فرماتے ہیں تو گویا انکا مقصود دین کی اور خالق کی توہین ہے جواب میں خادم اسی فلسفے کا رد بطریق فلسفہ علامات کی شکل میں کرتا ہے ......

موصوف کا مقصود یہ ہے کہ دین و مذھب خواتین کے حقوق کا غاصب ہے انہیں بندھن میں باندھتا ہے ہاں اگر آزاد روی و بے حیائی کے کھلے مواقع ہوں اور جنسی تعلقات میں قیود نہ ہوں تو کوئی مضائقہ نہیں

خادم کہتا ہے اجی آپ آزاد جنسی تعلقات پر کہاں رکنے والے بلکہ آپ تو غیر فطری جنسی تعلقات کے خواہاں ہیں " ہم جنس پرستی " آج لبرلز کا خصوصی شعار ہے ....

پانچواں بند

"بچ کے کہاں جاؤ گی؟" کہہ کے
وہ دیوانے ناچتے گاتے
چاروں طرف سے گھیر کے ان کو
ہنستے، کدکتے، شور مچاتے

جواب آں بند

"بچ کے کہاں جاؤ گے ؟" کہہ کے
وہ دیوانے ناچتے گاتے
چاروں طرف سے گھیر کے ان کو
ہنستے، کدکتے، شور مچاتے

یہاں صرف منظر کشی ہے بظاھر کوئی فرق نہیں ایک صاحب دوزخ دکھلا رہے ہیں تو دوسرے جنت یہ اور بات ہے کہ جنت و دوزخ حقیقی نہیں علامتی ہیں ........

چھٹا بند


ڈر کے چیخیں مار رہی تھیں
حوریں ریشمیں ساڑھیوں والی
ان کے دل دھک دھک کرتے تھے
دیکھ کے شکلیں داڑھیوں والی

جوابی بند

ڈر کے چیخیں مار رہے تھے
زنخے ریشمی کپڑوں والے
ان کے دل دھک دھک کرتے تھے
دیکھ کے لبرل ننگے پنگے

موصوف چونکہ ساکن ہندوستان تھے اور شاید ساڑھیوں والی لبرل خواتین (ماروی سرمد صاحبہ یاد آ گئیں)
سے کافی متاثر اور شاید انہی کو حوریں سمجھتے ہوں مسلمانو کے نظریہ جہاد سے منسلک مال غنیمت اور خواتین کے بطور ملک یمین ہاتھ آنے کو ہدف تنقید بناتے ہیں .......

تاریخ اسلامی کے مناظر ذہن میں تازہ کیجئے
معرکہ بدر و حنین
اسلامی جنگوں میں ہاتھ آنے والی لونڈیاں اور ان سے متعلق قرآن و سنّت کے میں موجود احکامات اور ہاں یہاں ولن ہیں داڑھیوں والے مجاہد .....

جواب میں خادم نے توجہ دلائی ہے کہ جناب من ہمارے ہاں تو لونڈیوں کے بھی متعین حقوق ہیں آپ کے ہاں تو کسی بھی عورت یا مرد سے فائدہ اٹھایا اور رات گئی بات گئی والا معاملہ ہوا ...

ساتواں اور آخری بند

میں اور شیطاں لب بہ دعا تھے
اے الله بچانا ان کو
اپنی رحمت کے پردے میں
اے معبود چھپانا ان کو

جوابی بند

میں نے اور جبریل نے بولا
اپنے قہر کی آگ میں انکو
دوزخ کی اس تیز تپش میں
اے معبود جلانا
تو ، تو.!

لیجئے یہاں صاحب نظم مولوی یا مذہبی کو بطور ولن پیش کر کے حوروں کی حفاظت کی دعا الله سے مانگ رہے ہیں اور دعا میں شریک دعا حضرت شیطان ہیں .....

دراصل ہیں منطقی سوال یہ ہو ہو سکتا تھا کہ کیا خالق حقیقی مالک کائنات اس قدر بے بس بھی ہو سکتا ہے کہ اسکی بنائی ہو جنت میں وحشت زدہ مولوی بڑھی ہوئی داڑھیوں کے ساتھ گھس جائیں اور دند مچاتے پھریں ......
لیکن اگر گہرائی سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پور نظم ہیں " شیطان " علامت ہے بغاوت کی

فلسفہ یہ کہتا ہے کہ بھی شیطان بھی ایک لبرل ہوگا کہ سجدے سے انکاری ہوا سر اسکی حریت فکر نے اسکی انا اور اسکی خود داری نے اسے کسی خدا کے آگے جھکنے پر مجبور نہ ہونے دیا ..

ہاں جبریل علامت ہے تسلیم و رضا کی حکم کے سامنے سر جھکا دینے کی .....

اور جہاں تک بات ہے عذاب کس کی قسمت ہوگا اور راحت کس کی تو اس اسکی وضاحت آسمانی صحیفوں میں واضح موجود ہے ہاں مگر وہ کہ جو ایمان نے لائے .

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں