سوموار، 3 اگست، 2015

عامر خان پیکے اور پاکستان
عامر خان پیکے اور پاکستان ....... !

پیکے ہو کیا بچے کی آواز میرے کان میں پڑی تو میں چونکا 

ارحم عمران ادھر آؤ
جی سر 

یہ تم کیا بول رہے تھے 

سر آپ نے وہ فلم نہیں دیکھی 

کون سی فلم 

سر آپ بھی نہ بالکل پیکے ہیں 

ارحم میں نے سختی سے تنبیہ کی ....

گھر آکر میں نے موویز سے متعلق سب سے بڑی ویب سائٹ (imdb) کو چیک کیا تو (8.5) ریٹنگ کی اس فلم کی کوئی کونٹینٹ ا ڈ وائس یا (parental guidance for movies) موجود نہیں تھی جب فلم دیکھی
تو معلوم ہو کہ یہ ریٹڈ آر مووی ہے جس میں انتہائی قابل اعتراض اور قبیح مواد موجود ہے ..

مغرب کے مادر پدر آزاد معاشرے میں بھی اتنی اخلاقیات موجود ہے کہ وہ اپنا سودا جھوٹ بول کر نہیں بیچتے فلموں کیلئے انہوں نے ریٹنگ کا ایک خاص نظام ترتیب دیا ہے جو یہ بتلاتا ہے کہ کون سی فلم کون سے صارفین کیلئے مناسب ہے اور کس فلم کا مواد جنسی مضامین یہ تشدد کے درجات کے اعتبار کتنا درست ہے

Rating symbol Meaning

G – General Audiences

All ages admitted. Nothing that would offend parents for viewing by children.

PG – Parental Guidance Suggested

Some material may not be suitable for children. Parents urged to give
"parental guidance". May contain some material parents might not like for
their young children.

PG­13 – Parents Strongly Cautioned

Some material may be inappropriate for children under 13. Parents are
urged to be cautious. Some material may be inappropriate for pre­
teenagers.

R – Restricted

Under 17 requires accompanying parent or adult guardian. Contains some
adult material. Parents are urged to learn more about the film before taking
their young children with them.

NC­17 – Adults Only

No One 17 and Under Admitted. Clearly adult. Children are not admitted.

ڈانسنگ کار یا جنسی عمل کے معا ونات کے حوالے کوئی ایسی کمتر چیز ہیں کہ انھیں نظر انداز کر دیا جاوے یا کھلے عام بوس و کنار اتنی چھوٹی شے ہے کہ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر والدین بخوشی دیکھ سکیں اسے کم سے کم الفاظ میں بےغیرتی کہا جا سکتا ہے جبکہ اس پر پمرا کا کوئی قانون حرکت میں نہیں آتا کیونکہ اس سے ملک کے وقار کو ٹھیس نہیں پہنچتی ..

دوسری طرف سوشل میڈیا کے دیندار خوش ہو ہو کر بغلیں بجا رہے تھے کہ شاید کوئی بہت بڑا میدان فتح ہوگیا ہے اور توحید و شرک کا کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر لیا گیا ہے چونکہ فلم کے مشھور و معروف ہیرو نے کچھ عرصے پہلے پاکستان کے ایک معروف مبلغ اور داعی مولانا طارق جمیل صاحب سے ملاقات کی تھی اسلئے اس فلم کو انکے کھاتے میں ڈالنے کی گمراہ کن کوشش بھی کی گئی ....

فلم کو اگر تحقیقی نگاہ سے دیکھ جاوے تو معلوم ہوگا کہ یہ فلم ہندو مذہب کے خلاف نہیں یا کسی بھی مذہب کی مذہبی رسومات کے خلاف نہیں بلکہ یہ فلم ایک مذہب مخالف فلم ہے چونکہ ہر مذہب کچھ عقائد عبادات رسومات اور معاملات کا مجموعہ ہوتا ہے اور اس فلم میں ہر زاوئیے سے دینی اقدار کا مذاق اڑایا گیا ہے ....
ہم یہ دیکھتے ہیں کہ فلم کی ابتدا میں فلم کے ہیرو برہنہ دکھائی دیتے ہیں چونکہ وہ ایک ایسی دنیا سے برآمد ہوے ہیں جو اس دنیا سے کہیں زیادہ جدید ترین ہے اور وہاں لباس جیسی فضولیات کی ضرورت نہیں انیسویں صدی کے اوائل میں جرمنی میں ایک تحریک شروع ہوئی جس کا نعرہ تھا لباس سے مکمل آزادی

(In the early 1900’s in Germany, a movement called Freikorperkultur (Free Body Culture) arose. This movement was the first real organization of social nudism. It was a time of the shedding of not only clothes, but also the hidebound values and thinking’s left from Victorian England. In the early 1900’s, several noted authors published papers which advocated the removal of clothing as well as an enlightened thinking about the human body. It implored citizens to quit thinking of the human body as sinful and shameful. A book entitled The Cult of the Nude written by noted German sociologist Heinrich Pudor, promoted naturist theories.)

ایک طرف فرائیڈ کے جنسی نظریات تو دوسری طرف ننگی تہذیب کی پڑتی ہوئی بنیادیں ..

چونکہ لباس کسی بھی تہذیب کی علامت ہوتا ہے اور کسی بھی خطے کے لوگوں کا لباس صدیوں میں بنتا ہے لباس سے چھٹکارا صرف لباس سے چھٹکارا نہیں بلکہ اس کا مقصود آپ کی تہذیب اور تاریخ سے برأت ہے .
دوسری طرف جدید دنیا سے آنے والے ایلین عامر خان صاحب زبان و بیان کی قیود سے بھی آزاد ہیں جیساکہ لباس تہذیب کی علامت ہے ایسے ہی زبانیں بھی صدیوں میں مختلف مدارج و مراحل طے کرکے معاشروں میں اپنا ایک خاص مقام حاصل کرتی ہیں زبانیں کسی بھی قوم کے اظہار کا واحد راستہ اور ذریعہ
ہوتی ہیں ....
دوسری طرف موصوف ہندو مسلم شادیوں میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے جناب خود ایک ہندو بیوی بھگتا کر دوسری کی زلف کے اسیر ہیں اور یہی کلچر انڈو پاک میں متعارف کروانا چاہتے ہیں 
ہندی فلموں کا یہ پرانا حربہ ہے کہ ہندو مسلم شادیوں کو پروموٹ کیا جاتا رہا ہے جبکہ یہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہے ایک مسلمان مرد کو کتابیہ سے شادی کی اجازت تو ضرور ہے لیکن کسی بت پرست سے شادی اسلام میں جائز نہیں اور یہ کوئی اختلافی فقہی مسلہ نہیں بلکہ قرآن و سنت سے ثابت شدہ ایک اجماعی معاملہ ہے جی جناب سرفراز تو دھوکہ نہیں دیگا لیکن آپ جو دھوکہ مسلم قوم کو دےرہے ہیں وہ بھی کچھ کم خطرناک نہیں ہے .

اب آتے ہیں فلم کے مندرجات کی طرف ....

ایک سین میں ایک مسیحی پادری ایک ہندو کو دین کی دعوت دے رہا ہے اور وہ ہندو کہ رہا ہے " رانگ نمبر " اگر خدا یہ چاہتا کہ میں عیسائی ہو جاؤں تو مجھے ہندو پیدہ ہی کیوں کرتا .....

لیجئے دلیل کے ساتھ کسی بھی مذہب کی دعوت کا دروازہ ہی بند اب ہمارے وہ مسلمان " کتاب رخی " مفکرین جو اس فلم کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے نہیں تھک رہے تھے کیا فرماتے ہیں کیا دین کی دعوت کا دروازہ بند کر دیا جاوے .......

دوسری طرف ایک سین میں موصوف مختلف مذاہب کی مذہبی رسومات سرنجام دیتے دکھائی دیتے ہیں چونکہ ایک سین میں وہ ایک مزار کی بےحرمتی کرنے چلے تھے اور دوسرے سین میں ماتم کرتے دکھائی دیتے ہیں سو ہمارے وہابی طبقے نے یہ خیال کیا کہ جناب یہ تو حق سچ توحید کی دعوت ہو گئی ....

لیکن غور کیجئے اندر کی تلبیس پر موصوف تمام ہی مذہبی رسومات کے خلاف ہیں اور ان میں عبادات کی کوئی تخصیص نہیں ......

دوسری طرف پی کے کا بنیادی کردار جس دنیا سے نمودار ہوتا ہے وہاں کوئی مذہب سرے سے موجود ہی نہیں ہے بلکہ اس جدید ترین دنیا میں کسی خدا کی کوئی گنجائش نہیں اسی وجہ سے پوری فلم میں پی کے صاحب ادھر ادھر یہاں وہاں بھٹکتے دکھائی دیتے ہیں یہاں واضح یہ تصور پیش کیا جا رہا ہے کہ اس بدلتی ہوئی جدید دنیا میں مذہبی کی کوئی گنجائش موجود نہیں تمام مذہبی عقائد و نظریات متروک ہو جانے والی چیز ہیں .......

خان صاحب کھل کر مذہب کی مخالفت نہیں کرتے لیکن فلم کے ہدایت کار راج کمار ہیرانی نے حقیقت کھول کر بیان فرما دی ہے .
ہیرانی صاحب فرماتے ہیں کہ فلم پی کے کی فکری بنیاد " سنت کبیر " کے افکار پر رکھی گئی ہے آج کتنے لوگ سنت کبیر سے واقف ہیں اگر نہیں واقف تو ہم بتلاتے ہیں

"Our film is inspired by the ideas of Sant Kabir and Mahatma Gandhi. It is a film, which brings to fore the thought that all humans who inhabit this planet are the same. There are no differences," he said in a statement.
آگے فرماتے ہیں " "I have the highest respect for the concept of 'Advait'- the oneness of all humans - that is central to Indian culture, thought, and religion.
Read more at: http://indiatoday.intoday.in/…/pk-aamir-khan-…/1/410616.html "

بھگت کبیر نے اسلام اور ہندوازم کا وہ ملغوبہ تیار کیا تھا جس میں مذہبی عبادات کی کوئی خاص شکل مطلوب و مقصود نہیں آپ کو ہندو یا مسلم کہلوانے کی بھی ضرورت نہیں خدا ان مذہبی حدود و قیود میں مقید نہیں بلکہ یہاں تو ہر شے خدا ہے " ہمہ اوست " کا یہ گمراہ کن نظریہ آج بھی مسلمانوں کے ایک طبقے میں موجود ہے

کبیر کا دور ١٤٤١ سے ١٥١٨ تک کا ہے جبکہ ا شہنشاہ اکبر کی پیدائش ١٥٤٢ میں ہوتی ہے یہ وہ دور تھا جب بر صغیر کو گمراہ کن صوفیت نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور اکبر کے نو رتنوں میں بیربل اور ابو الفضل جیسے گمراہ لوگ شامل تھے جنہوں نے اکبر کو اسی فلسفے کی طرف راغب کیا جو وحدت ادیان کا فلسفہ تھا

دینَ الٰہی : (فارسی : دین الهی) "Divine Faith", مغل بادشاہ، اکبر نے اپنے دور میں، ایک نئے مذہب کی شروعات کی، جس کا نام دین الٰہی رکھا۔ اس مذہب کا مقصد، تمام مذاہب والوں کو یکجا کرنا اور، ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔ اکبر کے مطابق، دین اسلام، ہندو مت، عیسائیت، سکھ مذہب، اور زرتشت مذاہب کے، عمدہ اور خالص اُصولوں کو اکھٹا کرکے ایک نیا دینی تصور قائم کرنا، جس سے رعایا میں نا اتفاقیاں دور ہوں اور، بھائی چارگی قائم ہو۔
اکبر دیگر مذاہب کے ساتھ خوش برتاؤ کرنے اور، دیگر مذاہب کی قدر کرنے کا مقصد رکھتا تھا۔ اس مذہب کے فروغ کیلیے اکبر نے فتح پور سکری شہر میں ایک عمارت کی تعمیر کی جس کا نام عبادت خانہ رکھا۔ اس عبادت خانے میں تمام مذہب کے لوگ جمع ہوتے اور، مذہبی فلسفہ پر بحث و مباحثہ کرتے۔
ان بحث و مباحثہ کے نتائج میں اکبر نے یہ فیصلہ کیا کہ، حق، کسی ایک مذہب کا ورثہ نہیں ہے، بلکہ ہر مذہب میں حق اور سچائی پائی جاتی ہی۔

دین الٰہی، اپنی مخلوط تصورات کو، اور دین کے تحت اپنے فکر و فلسفہ کو عملی صورت میں، دین الٰہی پیش کیا۔ اس نئی فکر کے مطابق، اللہ کا وجود نہیں ہے اور نبیوں کا وجود بھی نہیں ہے۔ تصوف، فلسفہ اور فطرت کی عبادت ہی عین مقصد ہے۔ اس نئے مذہب کو اپنانے والوں میں سے دم آخر تک بیربل رہا۔ اکبر کے نو رتنوں میں سے ایک راجا مان سنگ جو سپاہ سالار بھی تھا، دین الٰہی کی دعوت ملنے پر کہا کہ؛ میں مذاہب کی حیثیت سے ہندو مت اور اسلام ہی کی نشاندہی کرتا ہوں، کسی اور مذہب کو نہیں۔ مباد شاہ کی تصنیف شدہ کتاب دبستان مذاہب کے مطابق، اس دین الٰہی مذہب کے پیرو کار صرف 19 رہے۔ اور رفتہ رفتہ ان کی تعداد بھی کم ہوگئی۔

دین الٰہی ایک فطری رواجوں پر مبنی مذہب تھا، اس میں، شہوت، غرور و مکر ممنوع تھا، محبت شفقت اور رحیمیت کو زیادہ ترجیح دی گئی۔ یوں کہا جائے کہ یہ ایک روحانی فلسفہ تھا۔ اس میں روح کو زیادہ اہمیت دی گیی۔ جانوروں کو غذا کے طور پر کھانا منع تھا۔ . نہ اسکی کوئی مقدس کتاب تھی، اور نہ ہی کوئی مذہبی رہنما اور نہ اس کے کوئی وارث۔

یہی وحدت ادیان فلم پیکے کا مرکزی خیال بھی ہے

’’ جب منزل ایک ہو تو راستوں کے جدا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘‘

پیکے کہتا ہے !

کون ہندو کون مسلمان 
ٹھپا کدھر ہے دکھاؤ 
ای پھرک بھگوان نہیں تم لوگ بنایا ہے 
اور اے ہی اس گولہ کا سب سے ڈینجر رانگ نمبر ہے

یہ وہ چند جملے ہیں جو پیکے کی زبان سے پوری فلم کا مقصود بیان کر دیتے ہیں

غور کیجئے ورنہ آپ کے ساتھ ہاتھ ہوجاوے گا اور آپ کو معلوم بھی نہ ہو سکے گا .

حسیب احمد حسیب

ایک تبصرہ شائع کریں