سوموار، 3 اگست، 2015

خورشید ندیم کا المیہ

تبخیر مسلسل

خورشید ندیم کا المیہ ...... !

بعض اوقات ذاتی خیالات اور اندرونی خلفشار انسان کو اتنا مجبور کر دیتا ہے کہ وہ دیکھتا تو بیرونی دنیا کو ہے لیکن دیکھتا صرف اپنی عینک سے ہی ہے ....
ناقصین کا ہمیشہ سے یہ المیہ رہا ہے کہ وہ اپنی ناقص معلومات کی بنیاد پر کاملین کے اوپر اعتراضات کھڑے کرتے چلے جاتے ہیں جس سے اس شخصیت کا تو کچھ نہیں بگڑتا لیکن ایسے لوگ ضرور اپنا اعتبار کھو بیٹھتے ہیں ........
میں سب کچھ جانتا ہوں 
میں نے سب کچھ سیکھ لیا ہے 
مجھے سب کچھ معلوم ہے 
صرف میری راۓ ہی معتبر ہے 
میری پرواز فکر کی بلندی تک کون پہنچ سکتا ہے 
میرے سامنے ہر چیر عیاں ہے 
میرا علم کامل ہے


افسوس 

کتنے عبقری اس میں میں کا شکار ہوۓ
کتنے شیر اس میں میں کے چکر میں بکری ہو گۓ ...


یہی حال جناب خورشید ندیم صاحب کا بھی ہے ہر جگہ ہر موضوع پر اور ہر چیز میں اپنی آراء کو معتبر سمجھنا ایک ایسی بیماری ہے جس سے چھٹکارا انتہائی مشکل ہے ......

ملا عمر کی سیاست کو سمجھنے کیلیے اخباری معلومات اور نامہ نگاروں کی اطلاعات سے بڑھ کر اس سیاست شرعی کا سمجھنا ضروری ہے کہ جس کا دین ہم سے تقاضہ کرتا ہے ..
کتاب الله ہماری رہنمائی کرتی ہے
يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْ‌ضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّـهُ لَكُمْ وَلَا تَرْ‌تَدُّوا عَلَىٰ أَدْبَارِ‌كُمْ فَتَنقَلِبُوا خَاسِرِ‌ينَ ﴿٢١﴾
اے میری قوم والو! اس مقدس زمین (١) میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے نام لکھ دی ہے (٢) اور اپنی پشت کے بل روگردانی نہ کرو (٣) کہ پھر نقصان میں جا پڑو۔

٢١۔١ بنو اسرائیل کے مورث اعلیٰ حضرت یعقوب علیہ السلام کا مسکن بیت المقدس تھا۔ لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کے امارات مصر کے زمانے میں یہ لوگ مصر جا کر آباد ہوگئے تھے اور پھر تب سے اس وقت مصر میں ہی رہے، جب تک کہ موسیٰ علیہ السلام انہیں راتوں رات (فرعون سے چھپ کر) مصر سے نکال نہیں لے گئے۔ اس وقت بیت المقدس پر عمالقہ کی حکمرانی تھی جو ایک بہادر قوم تھی۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر بیت المقدس جا کر آباد ہونے کا عزم کیا تو اس کے لئے وہاں قابض عمالقہ سے جہاد ضروری تھا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس ارض مقدسہ میں داخل ہونے کا حکم دیا اور نصرت الٰہی کی بشارت بھی سنائی۔ لیکن اس کے باوجود بنو اسرائیل عمالقہ سے لڑنے پر تیار نہ ہوئے (ابن کثیر)
استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب زید مجدہ نے فرمایا
کہ بنی اسرائیل کا آبائی اورا صلی وطن شام تھا، حضرت یوسف ں کے زمانہ اقتدار میں یہ مصر میں آکر بسے تھے او رملک شام میں ایک دوسری قوم عمالقہ قابض ہو گئی تھی ،فرعون کی غرقابی کے بعد انہیں عمالقہ سے جہاد کرکے اپنا ملک چھڑانے کا حکم ہوا۔ لیکن انہوں نے عمالقہ کی قوت وطاقت کے قصے سن رکھے تھے، اس لیے ہمت ہاربیٹھے او رجہاد کرنے سے صاف انکار کر دیا، الله تعالیٰ نے سزا کے طور پر وادی تیہ میں چالیس سال تک سرگرداں رکھا
قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِنَّ فِيهَا قَوْمًا جَبَّارِ‌ينَ وَإِنَّا لَن نَّدْخُلَهَا حَتَّىٰ يَخْرُ‌جُوا مِنْهَا فَإِن يَخْرُ‌جُوا مِنْهَا فَإِنَّا دَاخِلُونَ ﴿٢٢﴾
انہوں نے جواب دیا کہ اے موسیٰ وہاں تو زور آور سرکش لوگ ہیں اور جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں ہم تو ہرگز وہاں نہ جائیں گے ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں پھر تو ہم (بخوشی) چلے جائیں گے۔(۱)
یہ وہ فطری بزدلی تھی کہ جو سامنے موت دیکھ کر فرار کے راستے ڈھونڈتی ہے کہ جسے خدا کے وعدوں پر یقین نہیں ہوتا
قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِنَّا لَن نَّدْخُلَهَا أَبَدًا مَّا دَامُوا فِيهَا ۖ فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَ‌بُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ ﴿٢٤﴾
قوم نے جواب دیا کہ اے موسٰی! جب تک وہ وہاں ہیں تب تک ہم ہرگز وہاں نہ جائیں گے، اس لئے تم اور تمہارا پروردگار جا کر دونوں ہی لڑو بھڑ لو، ہم یہیں بیٹھے ہوئے ہیں (١)۔

٢٤۔١ لیکن اس کے باوجود بنی اسرائیل نے بدترین بزدلی، سوء ادبی اور سرکشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تو اور تیرا رب جا کر لڑے۔
اس کے برعکس جب جنگ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رض سے مشورہ کیا تو انہوں نے قلت تعداد و قلت وسائل کے باوجود جہاد میں حصہ لینے کے لئے بھرپور عزم کا اظہار کیا اور پھر یہ کہا کہ ' یارسول اللہ! ہم آپ کو اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح قوم موسیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کہا تھا ' (صحیح بخاری)
یہ مزاج تھا اسلام کا کہ تین سو تیرہ ایک طرف اور ہزار ایک طرف سامنے موت یقینی اور ایمان والے کہ رہے ہیں ہم بنی اسرئیل والے نہیں کہ خوف کھا جائیں
دوسری طرف تاریخ اسلامی ملاحظہ کیجئے
حجاج بن یوسف جیسا ظالم ایک بیٹی کی پکار پر اپنی جائیداد گروی رکھ دیتا ہے کہ خلیفہ وقت کے پاس مال و اسباب نہیں وہ کسی بھی قسم کی فوج بھیجنے سے قاصر ہے ...
حجاج اپنے خون کو بھیجتا ہے
افسوس کہ خورشید ندیم کی فراست ملا عمر کی ایمانی کیفیت کو حجاج سے بھی کمتر سمجھتی ہے

کالم نگار پروفیسر سید اسراربخاری
اپنے کالم عافیہ کی اسیری اور ہماری عافیت میں لکھتے ہیں


" کس قدر خوشی کا مقام ہے‘ کہ ہمارے حکمران عافیت کی زندگی گزار رہے ہیں‘ ہمارا سفیر بے پیر امریکہ کے پاکستانی سفارت خانے میں آسودہ ہے‘ اور ملک کی ایک بے خطا بیٹی کو 86 برس کی قید امریکی محبس میں گزارنا پڑ رہی ہے‘ ہم نے جس عزت و توقیر اور ہاتھ کی صفائی کے ساتھ ریمنڈ ڈیوس کو رخصت کیا‘ اس کے مقابلے میں عافیہ کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا اور وہ جس طرح دیار غیر میں سلاخوں کے پیچھے زندانی ہے‘ ہمارے وی وی آئی پیز اپنے کمی ہونے پر بھی غور کریں کہ ان کی ذمہ داری یعنی عافیہ کے ساتھ کیا ، کیا جا رہا ہے اور انہوں نے ریمنڈ دیوث کو تین پاکستانی قتل کرنے کے الزام میں کس اکرام سے نوازا‘ بڑی مہربانی ہے حسین حقانی کی کہ انہوں پاکستانی قونصل جنرل کو گونگلو سے مٹی جھاڑنے اور اپنے عرق انفعال سے محرومی کو چھپانے کیلئے عافیہ سے ملاقات کرنے کی ہدایت دی‘ پاکستان کے قونصل جنرل عقیل ندیم نے ٹیکساس جیل میں 86 سال قید کی سزا کاٹنے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کرکے ان کی خیریت دریافت کی۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ قونصل جنرل کو سفیر باتدبیر نے اس وقت عافیہ کی خیریت معلوم کرنے بھیجا جب اس کی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کی آخری تاریخ گزر چکی تھی‘ آخری تاریخ 15 اپریل تھی۔ چین کی بنسی بجانے والے حکمران عافیہ کی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں‘ یہ بے حمیتی‘ ناترسی اور بے انصافی آخر ان کی جواب دہی تو ہونی ہے‘ اس لئے کہ احکم الحاکمین نے جب ظالمین اور ان کی اعانت کرنے والوں کو ایک ہی ٹکٹکی پر کسنا ہے تو اوباما چھڑانے نہیں آئے گا بلکہ وہ سجین میں پڑا اپنی سزا بھگت رہا ہو گا‘ بھلا امریکہ کو ایسے غلامان قدر دان کہاں ملیں گے۔ اہل پاکستان اب جان چکے ہیں کہ ان کے حکمران وائٹ ہاوس کی میزیں صاف کرنے والے ویٹرز ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ سی آئی اے پاکستان کے بارے اس طرح بولتی ہے کہ گویا یہ کوئی ریاست ہی نہیں ان کے باجگزاروں کا اڈہ ہے‘ جو معاوضے اور تعیش کے عوض امریکہ کے ہاتھ اپنی بیٹی بیچ کر چین کی نیند سو رہے ہیں‘ سی آئی اے کی خرافات کا جواب آئی ایس آئی اسی لہجے میں دے کیونکہ ہمارا یہ ادارہ قابل اعتبار اور خوددار ہے اور اپنی فنی صلاحیت میں سی آئی اے سے زیادہ ہے کم نہیں‘ عافیہ کے حوالے سے بھی یہ ادارہ اپنا کردار ادا کرے تو ممکن ہے‘ وہ اپنی مظلومہ و بے گناہ بیٹی کو چھڑا لے‘ وگرنہ جو امریکہ کی زلفوں کے اسیر ہیں وہ تو وائٹ ہاوس کے کوٹھے کا طواف کرتے ہیں‘ ان سے قوم کو کیا توقع‘ پاکستان کی بے حمیتی جو بے بسی کے مترادف ہے‘ اس کے نتیجے میں وہ ڈرون گرانے کی صلاحیت رکھتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ عافیہ صدیقی کی 86 سال قید کی سزا عمرقید کی سزا سے بھی آگے گزر گئی ہے‘ تاریخ میں کبھی کسی کو اتنی لمبی سزا نہیں ہوئی‘ تو وہ خدانخواستہ قبر میں بھی امریکی قید میں ہو گی؟ مگر امریکہ کی بربریت کے سامنے تمام مہذب دینا خاموش ہے‘ یوں لگتا ہے کہ امریکی حکمران اشرف المخلوقات کے بجائے ارزل المخلوقات کے مقام پر فائز ہو چکے ہیں‘ تاریخ سزا پانے والی ایک بے بس عورت کو سرخرو اور امریکہ کو مجرم لکھے گی‘ معتصم باللہ کے زمانے میں ہندوستان سے ایک عورت نے مدد کیلئے پکارتے ہوئے کہا وامعتصماہ‘ اے معتصم میری مدد کو پہنچو تو معتصم نے خبر پاتے ہی کہا: وا اُختاہ! آیا بہن‘ آیا۔ اور لشکر کشی کرکے مسلمان خاتون کو کافروں سے چھڑا کر ان کے ملک کو تاراج کر دیا "


اور پھر یہ معاملہ تو مسلمان بیٹیوں کا تھا ہمارے اسلاف تو وہ تھے کہ دوسروں کی بیٹیوں کو اپنی بیٹیاں بیٹیاں سمجھتے تھے


" یہ اس زمانہ کی بات ہے جب اسپین میں عیسائیوں کی حکومت تھی۔ مسلمانوں کی آمد سے قبل اندلس میں یہ دستور تھا کہ امراء سلطنت اور گورنر اپنے بچوں کو شاہی آداب سیکھنے کے لئے شاہی محل بھیجا کرتے تھے۔ اندلس کا ایک اہم علاقہ سبتہ تھا جس کا گورنر کائونٹ جولین تھا۔ کائونٹ جولین نے اپنی بیٹی فلورنڈا کو طیطلہ میں شاہ راڈرک کے محل میں تعلیم و تربیت کے لئے بھیج دیا تھا۔ جب وہ جوان ہوئی تو راڈرک اس کے حسن و جمال پر فریفتہ ہوگیا اور بادشاہت کے غرور اور طاقت کے نشہ میں چور ہوکر لڑکی کے دامن عصمت کو تار تار کردیا۔
فلورنڈا نے بڑی مشکل سے یہ اطلاع اپنے باپ کائونٹ جولین کو دی۔ جولین اس بے عزتی پر بادشاہ کا دشمن ہوگیا ور اس سے انتقام اور اپنی باعفت بیٹی فلورنڈا کے حق کے لئے مسلمان والی موسیٰ بن نضیر سے امداد کی اس وقت شمالی افریقہ پر مسلمانوں کا اقتدار قائم ہوچکا تھا۔
۱۹ھ میں موسیٰ بن نضیر اور طارق بن زیاد کی کوششوں سے اندلس پر حملہ ہوا جسے مسلمانوں نے فتح کرکے رعایا کو مظالم سے نجات دلائی جن مظالم کو برداشت کرنے کی اب ان میں طاقت نہ تھی "
ملت کی بیٹیوں کے دلال
محمد اسمعیل بدایونی


خورشید ندیم صاحب کو اس بات کا غم ہے کہ اسامہ کو امریکہ کے حوالے کیوں نہ کیا گیا عجیب بات ہے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی وہاں کون سا اسامہ تھا اور صدام کو بد ترین انجام تک پہنچانے کے بعد بھی انھیں چین نہ آیا .........

شاید خورشید ندیم صاحب اپنوں کی تاریخ اور دینی مزاج سے تو انجان ہیں ہی 
غیروں کی تاریخ اور ان کی فطرت سے بھی ناواقف ہیں


جب عیسائی افواج نے اسپین کو فتح کیا تو اس وقت اسپین کی زمیں پر مسلمانوں کا اتنا خون بہا یا گیا کہ فاتح فوج کے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے تو ان کی ٹانگیں گھٹنوں تک مسلمانوں کے خون میں ڈوبی ہوتے تھیں جب قابض افواج کو یقین ہوگیا کہ اب اسپین میں کوئی بھی مسلمان زندہ نہیں بچا ہے تو انہوں نے گرفتار مسلمان فرما روا کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنے خاندان کےساتھ واپس مراکش چلا جائے جہاں سے اسکے آباؤ اجداد آئے تھے ،قابض افواج غرناطہ سے کوئی بیس کلومیٹر دور ایک پہاڑی پر اسے چھوڑ کر واپس چلی گئی جب عیسائی افواج مسلمان حکمرانوں کو اپنے ملک سے نکال چکیں تو حکومتی جاسوس گلی گلی گھومتے رہے کہ کوئی مسلمان نظر آئے تو اسے شہید کردیا جائے ، جو مسلمان زندہ بچ گئے وہ اپنے علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا بسے اور وہاں جا کر اپنے گلوں میں صلیبیں ڈال لیں اور عیسائی نام رکھ لئے، اب بظاہر اسپین میں کوئی مسلمان نظر نہیں آرہا تھا مگر اب بھی عیسائیوں کو یقین تھا کہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے کچھ چھپ کر اور اپنی شناخت چھپا کر زندہ ہیں اب مسلمانوں کو باہر نکالنے کی ترکیبیں سوچی جانے لگیں اور پھر ایک منصوبہ بنایا گیا ۔ پورے ملک میں اعلان ہوا کہ یکم اپریل کو تمام مسلمان غرناطہ میں اکٹھے ہوجائیں تاکہ انہیں انکے ممالک بھیج دیا جائے جہاں وہ جانا چاہیں۔اب چونکہ ملک میں امن قائم ہوچکا تھا اور مسلمانوں کو خود ظاہر ہونے میں کوئی خوف محسوس نہ ہوا ، مارچ کے پورے مہینے اعلانات ہوتے رہے ، الحمراء کے نزدیک بڑے بڑے میدانوں میں خیمے نصب کردیئے گئے جہاز آکر بندرگاہ پر لنگرانداز ہوتے رہے ، مسلمانوں کو ہر طریقے سے یقین دلایا گیا کہ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا جب مسلمانوں کو یقین ہوگیا کہ اب ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا تو وہ سب غرناطہ میں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے اسی طرح حکومت نے تمام مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرلیا اور انکی بڑی خاطر مدارت کی۔ یہ کوئی پانچ سو برس پہلے یکم اپریل کا دن تھا جب تمام مسلمانوں کو بحری جہاز میں بٹھا یا گیا مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑتے ہوئے تکلیف ہورہی تھی مگر اطمینان تھا کہ چلو جان تو بچ جائے گی دوسری طرف عیسائی حکمران اپنے محلات میں جشن منانے لگے ،جرنیلوں نے مسلمانوں کو الوداع کیا اور جہاز وہاں سے چلے دیئے ، ان مسلمانوں میں بوڑھے، جوان ، خواتین ، بچے اور کئی ایک مریض بھی تھے جب جہاز سمندر کے عین وسط میں پہنچے تو منصوبہ بندی کے تحت انہیں گہرے پانی میں ڈبو دیا گیا اور یوں وہ تمام مسلمان سمندر میں ابدی نیند سوگئے۔ اس کے بعد اسپین میں خوب جشن منایا گیا کہ ہم نے کس طرح اپنے دشمنوں کو بیوقوف بنایا ۔ پھر یہ دن اسپین کی سرحدوں سے نکل کر پورے یورپ میں فتح کا عظیم دن بن گیا اور اسے انگریزی میں First April Fool کا نام دیدیا گیا یعنی یکم اپریل کے بیوقوف ۔

اپریل فول
آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے


اور یہ کوئی ایک واقعہ تو نہیں کہ جو تاریخ کے صفحات پر رقم ہے مزید کریدیں تو مزید حقائق واضح ہوتے ہیں

"سقوطِ یروشلم"

لارنس آف عریبیہ ٹی ای لارنس کی سرکردگی اور حجاز مقدس میں شریف مکہ کی مدد سے عثمانی سلطنت کے خلاف عقبہ کی فتح کے بعد 1917ء میں برطانوی وزیرِ جنگ لائیڈ جارج نے مصر میں موجود برطانوی فوجی مشن کو ارض فلسطین پر قبضے کے لئے سگنل دے دیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ "یروشلم کرسمس سے پہلے ہمارے پاس ہونا چاہئے".
11 دسمبر 1917 کو جنرل ایلن بی یروشلم پر قبضہ کر چکا تها وہ تاریخی یروشلم جو مسلمانوں کا قبلہء اول تها اور سات سو سال سے مسلمانوں کے قبضے میں تھا. ایک طرف برطانیہ لارنس آف عریبیہ کی وساطت سے شریف مکہ کو وسیع تر عرب ریاست کا حکمران بننے کا جهوٹا خواب دکها چکا تها اور دوسری طرف عالمی صیہونیت کے نمائندہ یہودیوں سے ارض فلسطین میں ان کی حاکمیت کے لئے ساز باز کرچکا تها.
2 نومبر 1917ء کو برطانوی وزیرِ خارجہ آرتهر جیمز بالفور نے Bal Four Declaration جاری کیا، جو مسلم امہ پر بجلی بن کے گرا، اس میں کہا گیا تھا کہ" ہزمیجیسٹی کی حکومت ارض فلسطین میں یہودیوں کے لئے قومی وطن کے قیام کی متمنی هے اور وہ اسے رو بہ عمل لانے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی".
1918ء میں جنرل ایلن بی اپنی فوج کے ساتھ دمشق پہنچا اور سیدها سلطان صلاح الدین ایوبی کے مزار پر گیا اور کہا"صلاح الدین ہم واپس آگئے ہیں"، اس کے صرف چار ہفتوں بعد ہی سلطنتِ عثمانیہ 29 اکتوبر 1918ء کو بلادِ عرب میں اپنے چار سو سالہ طویل حکمرانی کے بعد اقتدار سے دستبردار ہوگئی.
اور پهر برطانیہ نے 24 جولائی 1922 کو لیگ آف نیشنز سے فلسطین پر مینڈیٹ حاصل کر لیا.
("حجاز ریلوے، عثمانی ترک اور شریف مکہ از قلم نسیم احمد" ناشر الفیصل پبلیکیشنز لاہور) سے ایک اقتباس.

آج ہم یہ سوال پوچھتے ہیں کہ ملا عمر نے اسامہ کو کیوں امریکہ کے حوالے نہ کیا ....... ؟
سوال دراصل یہ ہے کہ کیا امریکہ اسامہ کو لے جانے کے بعد بھی افغانستان کو چھوڑ دیتا اور اگر کوئی ایسا سوچتا ہے تو وہ تاریخ سے اندھا ہے اسے اقوام و ملل کے مزاج کا اندازہ نہیں اور وہ بے وقوفوں کی جنت میں رہتا ہے ........

ہمیں خورشید ندیم صاحب سے کوئی گلہ نہیں بلکہ انکی کم نظری پر افسوس ہے .

خورشید ندیم کا المیہحسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں