اتوار، 29 نومبر، 2015

میں حسیب ہوں ...

میں حسیب ہوں ...

خودی اور خود بینی " autoscopy " کے درمیان کے باریک سی لکیر ہے جو شعور ذات اور حصار ذات کے درمیان تفریق کرتی ہے کبھی نجانے کس کیفیت میں کہا تھا 

میں خود سے دور نکلنے کے فن سے واقف ہوں 
میں اپنے آپ میں رہتا ہوں ضم نہیں ہوتا

خیام قادری مرحوم کہا کرتے تھے 

صوفی ہیں اور عشق ہے آل سعود سے 
حضرت نکل گئے ہیں حدود و قیود سے 

سو زندگی میں کبھی حدود و قیود کی پابندی نہ کی یا یوں کہیے پابندی ہو نہ سکی 
نسبی تعلق بنی اسرائیل کی بچھڑی ہوئی بھیڑوں سے ہے اجداد نے ہندوستان کی ریاست محمد آباد ٹونک کو اپنی آماجگاہ بنایا کہ جو تیر کابل سے نکلا تھا ہندوستان کی قلب میں پیوست ہوا ......
اختر شیرانی ، مشتاق احمد یوسفی ، عیش ٹونکی اور مفتی ولی حسن خان ٹونکی جیسی علمی و ادبی شخصیات کی ریاست سے تعلق قابل فخر تو ضرور ہے لیکن اگر خود کو دیکھوں تو شرمساری بھی ہوتی ہے کہ میں کہاں کھڑا ہوں ..........

اپنے بارے میں بات کرنا انتہائی آسان بھی ہے اور انتہائی مشکل بھی 
لیکن بات یہ بھی ہے کہ آخر اپنے بارے میں بات کی ہی کیوں جاوے ..؟!

گو کہ تعارف وہ کھڑکی ہے کہ جو بیرونی دنیا کو آپ کے اندر جھانکنے کا موقع فراہم کرتی ہے لیکن اندر کا منظر وہی دکھائی دیتا ہے کہ جو آپ انھیں دکھلانا چاہیں ہاں جب تعارف پہچان میں بدل جاوے تو حقیقت سامنے آتی ہے ......

طالب علم ہوں اور طالب علموں کے ساتھ رہنا پسند کرتا ہوں گو کچھ لوگوں کو یہ مغالطہ ضرور ہے کہ " ٹیچر " ہوں لیکن حقیقت میں پھٹیچر ہوں لکھنے کا شوق رکھتا ہوں اسلیے لکھتا ہوں اور اس بات کا طالب نہیں کہ میرے لکھے ہوے کو پڑھا بھی جاوے ہاں اگر کوئی پڑھ لے تو بلکل برا نہیں مانتا ......

لنگڑی لولی شاعری بھی کر لیتا ہوں وہ بھی استاد محترم اعجاز رحمانی صاحب کا ہی اعجاز ہے 

محترم دوست حسن علی امام صاحب فرماتے ہیں 

مولانا عموما گفتگو کم کرتے ہیں زیادہ تر بحث ہی کرتے ہیں اور یہ مباحثے اس وقت زور پکڑ جاتے ہیں جب مخالفین کو یہ احساس ہو جائے کے وہ غلطی پر ہیں - مولانا تقریبا چالیس ہزار کتابیں پڑھ چکے ہیں "

مولانا غصہ بہت کم کرتے ہیں غصے کی جگہ بھی وہ بحث ہی کر لیتے ہیں - 

اب اس مولانا کے الزام سے کون جان چھڑا ئے اور کیسے چھڑا ئے 

کبھی اس حوالے سے بھی کچھ لکھا تھا 

خدا کی قسم میں " مولوی " نہیں ہوں !

اچانک جب بحث کے دوران نازک صورت حال آجاتی ہے اور گفتگو کا رخ تلخی کی جانب بڑھنے کا احتمال ہوتا ہے تو مجھے اندازہ ہو جاتا ہے ......

یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہمارے محترم صحافی دوست جمالی بھائی طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوے ہمیں حسیب میاں سے " مولانا " کر دیتے ہیں اور یقین جانئے ان کے اس " مولانا " میں بڑی کاٹ ہوتی ہے اس کی چبھن اندر تک محسوس ہوتی ہے ......

اور پھر ہمارے شیخ الفدوی کا تنبیہی لہجہ 
اچھا تو آپ بھی مولانا ہیں ہم تو پہلے ہی آپ کی علمیت کے قائل تھے 
مجھے شرم سے پانی پانی کر دینے کیلئے کافی ہوتا ہے

اگر " مولانا " ایک گالی ہے تو بسر و چشم قبول ہے 
لیکن اگر یہ ایک عالی رتبہ ہے اور بےشک ہے تو میں اس کے قابل نہیں .......
کبھی کبھی میں سوچ کر دیر تک ہنستا ہوں عجیب مخمصہ ہے

نہ ادھر کا رہا نہ ادھر کا رہا
نہیں جناب میں مولانا نہیں مجھ سے تو چند سلیس عربی جملے بھی نہ جوڑے جاویں
شیخ الجوجل کی مدد سے ٹوٹی پھوٹی عربی سمجھتا ہوں 
کیا ہوا جو ایم اے اسلامیات کیا ہوا ہے 
کیا تو پرائیویٹ ہی ہے 
اور کیا ہوا جو او لیول کے برگر بچوں کو پڑھاتا ہوں

" قال الله اور قال الرسول " کا بلند مرتبہ تو میری پہنچ سے کافی دور ہے
جب میرے ادبی دوست مجھے مولانا سمجھ کر اپنی توپوں کا رخ میری جانب کرتے ہیں تو سوچتا 
ہوں 
ارے میرے یاروں میں شاعر بھی تو ہوں گو غیر معروف ہی سہی 
کالم نگار بھی تو ہوں گو فیس بکی ہی سہی 
اور افسانے چند بھی لکھ چھوڑے ہیں 
گو کوئی پڑھتا نہیں
نہیں نہیں میں مولانا نہیں 
ہاں میری داڑھی ہے تو یہ تو سنت رسول علیہ سلام کی علامت ہے 
میرے سر پر ٹوپی بھی ہے مگر صرف رواجی ہے 
میرا یہ ملبوس بظاہر مجھے متقی دکھاتا ہے مگر دھوکے میں مت آجانا 
رند ہوں رند
مگر کیا کروں جب کوئی دینی طبقے پر پھبتیاں کسے تو برداشت نہیں ہوتا نجانے کون سی قوت قلم اٹھانے اور قلم سے سروں کو توڑنے پر مجبور کرتی ہے ....
مگر ڈرتا ہوں کہیں کوئی یہ نہ کہ دے 
ارے او ظالم تو کون سا عالم ہے جو اپنی علمیت جھاڑتا ہے گستاخ ........
پھر میرے ادبی دوست مجھے کانٹوں میں گھسیٹتے ہیں

جمالی بھائی کی طنزیہ مسکراہٹ اور جگر کو چیرتی آواز " مولانا "

اور شیخ الفدوی کے الفاظ " اچھا آپ بھی مولوی ہیں ..........

خدا کی قسم میں " مولانا " نہیں ہوں .

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں