بدھ، 19 نومبر، 2014

مفتی صاحب جواب دو

مفتی صاحب جواب دو !

https://www.facebook.com/pages/%DA%86%D9%88%D8%B1%D9%86%DA%AF%DB%8C-%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81-Chorangi-Nama/1424576877789438?fref=photo


آج فیس بک پر ایک تحریر سے گزرا تحریر کیا تھی ایک دکھڑا تھا ایک شکوہ تھا ہاۓ بے چارہ کیا کہوں ......
یہ ایک ایسے صاحب کی کہانی ہے جو معاشی تنگی سے پریشان ہیں 
اجی کون نہیں ہوتا مگر کیا کیجئے ہمارا قومی مزاج 
بلکہ قومی بیماری ہے (Narcissism) نرگسیت کی ایک کیفیت یہ ہوتی ہے کہ انسان اپنی کمیوں کوتاہیوں اور غلطیوں کا الزام آسانی سے دوسروں پر دھرتا چلا جاتا ہے اس کی بنیادی وجہ لاشعور میں موجود خود پسندی اور عملی کم ہمتی ہے .
اس کہانی میں یہ صاحب مفتی صاحب سے سوال کرتے ہیں اور اپنے سوال کے لغو ہونے کو نہیں دیکھتے بلکہ مفتی صاحب سے شاکی ہیں اور انھیں مجرم گردانتے ہیں
" مفتی صاحب بت بنے اسکی باتیں سنتے رہے اس اثناء میں وہ شخص جانے کے لئیے کھڑا ہوگیا اور بولا میرے ہر سوال کا جواب آپکی مجرمانہ خاموشی میں پنہاں ہے۔ بس اب آپ سے اور آپکی علماء برادری سے آخری بات یہ ہی کہوں گا کہ اب بھی اگر آپ لوگوں نے سولہہ کروڑ عوام کے اس مسلے پر مسجد کے منبر سے آواز حق بلند نہ کی تو ثابت ہوجائے گا کے آپ اور آپکی پوری علماء برادری بھی سولہہ کروڑ عوام کی تباہی میں برابر کے شریک ہیں آپ بھی ان ہی دس پرسنٹ لٹیروں میں شامل ہیں، آپکو اور آپکی علماء برادری کو بھی سولہہ کروڑ عوام کے اس اہم اور بنیادی مسلے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے پر برابر کا حصہ مل رہا ہے۔
یاد رکھئیے گا میری بات جس دن بھی عوام کے اندر پکا ہوا یہ لاوا پھٹا اس روز ان دس پرسنٹ مراعت یافتہ لوگوں کے ساتھہ ساتھہ عوام آپکی بھی پگڑیاں نہیں، سر اچھالے گی۔ اس سے پہلے کہ مفتی صاحب مزید کچھہ کہتے وہ شخص کمرے سے جاچکا تھا۔ "
اور یہ ساری برسات اسلئے کہ کہانی کے ہیرو صاحب دو پیسے کمانے کا ہنر نہیں جانتے 
پڑھنے کے بعد میں نے سوچا
ابھی پچھلا کچھ عرصہ میرا بیروزگاری کا گزرا کتنا آسان تھا میں بھی کسی مولوی کسی مفتی کو جاکر ذلیل کرتا اور دل کا سکون پاتا .......
میں بے وقوف سی وی ڈالتا رہا انٹرویوز دیتا رہا اور میری کم نصیبی آج اچھی نوکری کر رہا ہوں 
ارے او مولوی !
یہ سب تیرا قصور کہ مجھ سے دو پیسے نہ کماۓ جا سکیں 
میں اگر نکما نکھٹو ہوں تو کیا ہوا 
اب یہ تو مجھے حرام کمانے کا لائسنس دے 
یا میری گالیاں سن
جی ہاں حرام کا کمانے کا لائسنس بس یہی تو گلا ہے مولوی سے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں 
پھر سوچا کچھ لکھوں شاید اس شکوہ بے جا کا کچھ مداوا ہو سکے
گو کہ بظاہر انتہائی خوبصورت اور دلگداز تحریر ہے لیکن اس کی مثال اس خوبصورت زہر کی سی ہے جسکو خوبصورت رنگ و خوشبو میں لپیٹ کر کسی کے سامنے پیش کر دیا جاوے کہ لیجئے نوش جاں فرمائیے اور جان سے گزر جائیے.......
دیکھئے مولوی کی نہ مان کر ساٹھ سال پہلے ہم نے مسٹر کے ہاتھ پر بیعت فرما لی تھی تو آج مولوی سے سوال کیسے ! کیا آپ کی معیشت کو سنوارنے کی ذمےداری مولوی کی ہے اگر آپ ایسا سمجھتے ہیں تو جان لیجے آپ بے وقوفوں کی جنت میں رہتے ہیں یہ ایک جمہوری ریاست ہے جو آپ نے ایک مسٹر کی قیادت میں حاصل کی ہے یہ کوئی اسلامی خلافت نہیں جناب خلافت تو آپ نے بالاکوٹ کے پہاڑوں میں دفنا دی تھی جب شہیدین رح کے خون سے سر زمین بالاکوٹ رنگی گئی تھی کیا آپ کو ١٨٥٧v کی جنگ آزادی یاد ہے یا تحریک ریشمی رومال ..........
اپنی کمزوری کا رونا ، رونا ہے اپنی بےکسی کا پیٹنا ڈالنا یا اپنی کسمپرسی کا ماتم کرنا تو خدا را مولوی پر تبرا مت بھیجئے اپنے سینے پر ماتمی ضربیں لگائیں.........
مولوی یہ مولوی وہ ...........
آپ شاید اس دور میں ابو حنیفہ ، راضی و غزالی یا ابن تیمیہ رح کی پیدائش کے خواہش مند ہیں مگر کیسے ...........؟
آپ کے گھر کا سب سے کم عقل کمزور بچہ دین کے علم کے واسطے اور آپ کے مال کا سب سے زیادہ بچا کچہ دینی درسگاہوں کے واسطے .......
جتنا پیسہ سال بھر میں ایک او لیول پڑھنے والے بچے پر خرچ ہوتا ہے اتنے میں ایک مولوی تیار ہو جاتا ہے .......
اصل میں یہ بغض یہ جلن مولوی سے نہیں شاد و آباد مساجد سے ہے علما سے نہیں بلکہ علوم دینیہ سے ہے یہ دشمنی مفتی سے نہیں دین سے ہے ......
اور جناب فقر کا اتنا ہی خوف اور اتنی ہی پریشانی تو مولوی سے کیوں نالاں ہیں مولوی تو ہے ہی بیکار مادی اسباب اختیار کیجئے آپ کی کم ہمتی اور ناقابلیت کا ذمےدار مولوی تو نہیں اور اسی خرابی میں نظام میں باہمت لوگ شکر گزاری کے ساتھ اپنی معاش حاصل کر رہے ہیں
ویسے دعوی تو ہے اس قوم کو حب رسول کا لیکن اس تقاضے کون نباہے .......
ایک اعرابی الله کے رسول سے آکر کہنے لگا !
”یارسول اللہ ! مجھے آپ سے محبت ہے- آپ نے فرمایا جو کچھ کہہ رہے ہو، سوچ سمجھ کر کہو- تو اس نے تین دفعہ کہا، خدا کی قسم مجھے آپ سے محبت ہے- آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے محبوب رکھتے ہو تو پھر فقر و فاقہ کے لئے تیار ہو جاؤ (کہ میرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے) کیونہ جو مجہ سے محبت کرتا ہے فقر و فاقہ اس کی طرف اس سے زیادہ تیزی سے آتا ہے جیسی تیزی سے پانی بلندی سے نشیب کی طرف بہتا ہے-“ (ترمذی؛۲۳۵٠)
اب کیا کریں کمی آپ سے ہوتی نہیں 
حب رسول کا آپ دعوا کرتے ہیں 
شکر کرنا آپکےلئیے مشکل 
اور صبر کرنا کار لاحاصل 
آسان کام یہ ہے مولوی کو برا بھلا کہیں اور دل کا سکون پائیں
" نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ......... نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے "
آج مفتی آپ سے پوچھتا ہے 
اسلام کے نام پر مملکت قائم کرنے والوں نے کتنی مساجد تعمیر کیں کتنی اعلی دینی درسگاہوں کا قیام ہوا دیوبند ، ندوہ ، علیگڑھ اور اعظم گڑھ تو آپ ہندوستان میں چھوڑ آۓ یہاں کون سا الاظہر آپ نے قائم فرما دیا پھر کس منہ سے آپ مولوی پر پھبتی کستے ہیں ہاں مجھے کہنے دیجئے دینی تعلیم و عبادت گاہوں کا قیام آپ کے مقاصد میں تھا ہی کب ہاں بنک کا افتتاح آپ نے ضرور کیا .......
آج مفتی آپ سے پوچھتا ہے ہاں یہ دیوبندی ہے بریلوی ہے اہل حدیث ہے لیکن یہ جو مہاجر ، پٹھان ، سندھی ، بلوچی ، پنجابی سرائیکی ، بہاری کی دیواریں ہیں یہ کس نے کھڑی کر دی ہیں آپ کے درمیان ......
آپ ذرا یہ تو بتائیں آپ کا دنیوی تعلیمی مقام کیا ہے کتنے عظیم علمی دماغ آپ نے پیدہ کر ڈالے کون سی ایجادات کا تمغہ آپ کے سینے پر سجا ہے ......
اور افسوس تو یہ کہ جو چند مولوی سیاهست میں آپ کے سامنے پیش ہوتے ہیں انھیں آپ بطور قوم دھتکار کر کن لوگوں کو چنتے ہیں 
یہ بی بی کا بیٹا ہے یہ مہاجر قوم کا اکلوتا رہنما یہ پنجاب کی شان پنجاب کی آن یہ باچا خانی پشتون ہے اور یہ رنگیلے خان کا دیوانہ دیوانی کیا حکومت کسی مولوی کے ہاتھ ہے 
مولوی کیا کرے الکشن لڑے تو حکومت کا بھوکا کہلاے 
جہاد کی بات کرے تو دہشت گرد بن جاوے 
دعوت و اصلاح کا بیڑا اٹھاۓ تو غیر فعال راہب کی پھبتی سنے 
اور انقلاب کی بات کرے تو فسادی کہلاے .......
آج آپ سے بحیثیت قوم سوال ہے 
کیا آپ پورے کے پورے دین کو قبول کرنے کیلئے تیار ہیں 
الله کے رسول صل الله علیہ وسلم نے عمر فاروق رض سے کہا تھا 
تم مجھے اپنے جان سے زیادہ عزیز رکھو 
اور فاروق ایک لمحے میں فنا فی الرسول کے مقام پر کھڑے تھے
(بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے میری جان کے سوا ہر چیز سے زیادہ پیارے ہیں ۔ تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا! قسم ہے اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! جب تک کہ میں تجھے جان سے پیارا نہ ہو جاؤں تو تیرا ایمان کامل نہیں ۔ تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا بخدا! اب آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ پیارے ہو گئے ہیں تو آپﷺ نے فرمایا: ترجمہ: ’’عمر اب تمہارا ایمان کامل ہو گیا۔ ‘‘
حوالہ کیلئے صحیح بخاری، کتاب الأیمان والنذور، باب کیف کانت یمین النبیﷺ، حدیث نمبر 6142)
مسلہ یہ نہیں کہ مولوی کیا کہتا ہے مسلہ یہ ہے کہ کیا آپ دین کو پوری طرح قبول کرنے کیلئے تیار ہیں اور کیا آپ الله کے دین پر راضی ہیں 
اگر ہاں تو ضرور سوال کیجئے 
اور اگر نہیں تو پھر آپ کو کوئی حق حاصل نہیں
قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ
آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ کے جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں، تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالٰی اپنا عذاب لے آئے اللہ تعالٰی فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا
(التوبہ : 24)
حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں