جمعرات، 14 نومبر، 2013

تنقید بر اقبال !

تنقید بر اقبال !


اہم ادبی شخصیات پر تنقید اپنے قد کو بڑھانے کی ناکام کوشش ہوتی ہے جو اکثر نو آموز محقق سر انجام دینے کی کوشش میں انجام پذیر ہو جاتے ہیں..ایسا ہی ایک عجوبہ ایک فورم میں دیکھنے کو ملا جب کلام اقبال کو چند مجھول اقتباسات کی بنیاد پر دریا برد کرنے کی ناکام کوشش کی گئی لیکن سمندر کو دریا برد کرنا ممکن ہے

...
لیجئے اقتباس ملاحظہ کیجے اور پھر اسکا تجزیہ
(٩) نومبر کے حوالے سے خصوصی تحریر _____________________ حضرت علامہ اقبال کی وہ مشہور شاعری جو حقیقت میں ان کی نہیں تھی مگر ہم سب اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ یہ ان کی ہے اور اس جھوٹ کو پاکستانی درسی کتب نے بھی بہت پھیلایا ______________________ اقبال کی نظم "پیام صبح" لانگ فیلو کی نظم" ڈے بریک" کا آزاد ترجمہ ھے اقبال کی نظم "ماں کا خواب " ولیم بارنس کی نظم کا ترجمہ ھے اقبال کی نظم "مکڑا اور مکھی" Mary Haworthکی نظم The Spider and The Fly کا آزاد ترجمہ ہے۔ اصل انگریزی نظم چالیس سطروں ﴿مصرعوں﴾ پر مشتمل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جب کہ اقبال کا منظوم ترجمہ ۲۴ اشعار پر مشتمل ہے اقبال کا منظوم ترجمہ " رخصت اے بزم جہاں" ایمرسن کی نظم Good Bye کا منظوم ترجمہ ہے اقبال کی نظم "بچے کی دعا" مٹیلڈا بینتھم ایڈورڈس کی نظم ۔ سے لی گئی ھے۔۔"لب پہ آتی ھے دُعا بن کے تمنا میری"۔۔۔ اقبال کی نظم "پرندہ اور جگنو" ﴿۳:۵۹﴾ ولیم کوپر کی نظم The Nightingale And The Glowworm ﴿ کا آزاد ترجمہ ہے۔ یہ ۱۹۰۵ء کے پہلے کی نظم ہے۔ اقبال نے اصل شاعر کا حوالہ نہیں دیا اور نہ دوسرے منظوم ترجموں کی طرح ماخوذ ہونے کی صراحت کی ہے ۔ البتہ مولوی عبدالرزاق نے کلیات اقبال میں لکھا ہے یہ نظم انگلستان کے ایک نازک خیال شاعر" ولیم کوپر" کی ایک مشہور و مقبول نظم " اے نائٹ اینگل اینڈ گلوورم" سے ماخوذ ہے۔ اقبال نے اپنی دونوں نظموں میں ولیم کوپر کی ایک ہی نظم کے خیال کو الگ الگ استعمال کیا ہے، ہمدردی کو ہم ماخوذ قرار دے سکتے ہیں جب کہ "ایک پرندہ اور جگنو" آزاد ترجمہ ہے۔ اس منظوم ترجمہ میں مفہوم کو باقی رکھتے ہوئے لفظی ترجمے سے اجتناب کیا گیا ہے اقبال سے پہلے بانکے بہاری لال نے " حکایت بلبل اور شب تاب کی " اور رحیم اللہ نے بلبل اور جگنو کی حکایت کے عنوان سے منظوم ترجمے کئے تھے۔ بہت شکریہ
اقبال کی دینی فکر ترقی پسندوں کی نگاہ میں کیوں کھٹکتی ہے اسکا جاننا مشکل نہیں اور اسکی وجوہات روز روشن کی طرح عیاں ہیں

حیرت جب ہوتی جب غیر ادیب جو ردیف کی " ر " اور قافیہ کی " ق " کا درک بھی نہ رکھتے ہوں اساتذہ پر تنقید کریں ایاز قدر خویش بہ شناس استفادہ سرقہ اور چربہ میں بنیادی فرق ہےاستفادہ ادب میں جائز ہے بلکہ بعض مقامات پر مستحسن بھی ہے اسی طرح خیال کا توارد ہو جانا بھی کچھ عجیب نہیں ہے

تمنّاؤں میں الجھایا گیا ہوں
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں
یہ شاعر خمریات ریاض خیر آبادی کا شعر ہے پروین نے اسے اسطرح باندھا ہے

کھلونے پا لیے ہیں میں نے لیکن
مرے اندر کا بچہ مر رہا ہے
اقبال کا کثیر فارسی کلام مولانا روم کے افکار کا ورود ثانی ہے جسمیں تصوف و تزکیہ کی وہی قدیم روح دکھائی دیتی ہے
ہند میں اب نور ہے باقی نہ سوز
اہل دل اس دیس میں ہیں تیرہ روز
تو پیر رومی رحمتہ اللہ علیہ یہ جواب عنائت فرماتے ہیں : کار ِ مرداں روشنی و گرمی است
کارِ دوناں حیلہ و بے شرمی است

لیکن اقبال کا حقیقی وصف اسکا تصور خودی ہے جو اقبال کا غالب کلام ہے اور مغربی ادب خودی کے عنوان سے ناواقف ہے اسی طرف عقل و دل کا موازنہ اقبال کا خاصہ ہے جس سے مغربی ادب جو مادیت پرست معاشروں کی پیدہ وار ہے کلی ناواقف ہے
اقبال کی مدح میں جدید دہریت پسندوں کا ایک بڑا آئ کون کچھ اسطرح رطب السان ہے
(۱۹۳۱
ء میں) گورنمنٹ کالج، لاہور میں منعقدہ ایک مشاعرے میں ’اقبال‘ کے عنوان پر انعامی مقابلے کے لیے فیض نے بھی ایک نظم لکھ کر اقبال کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ یہ نظم بعد ازاں گورنمنٹ کالج کے ادبی مجلے راوی میں ’اقبال‘ کے عنوان سے شائع ہوئی:
زمانہ تھا کہ ہر فرد انتظارِ موت کرتا تھا
عمل کی آرزو باقی نہ تھی بازوے انساں میں
بساطِ دہر پر گویا سکوتِ مرگ طاری تھا
صداے نوحہ خواں تک بھی نہ تھی اس بزمِ ویراں میں
رگِ مشرق میں خونِ زندگی تھم تھم کے چلتا تھا
خزاں کا رنگ تھا گلزارِ ملت کی بہاروں میں
فضا کی گود میں چپ تھے ستیز انگیز ہنگامے
شہیدوں کی صدائیں سو رہی تھیں کارزاروں میں
سنی واماندئہ منزل نے آوازِ درا آخر
تِرے نغموں نے آخر توڑ ڈالا سحرِ خاموشی
میِ غفلت کے ماتے خوابِ دیرینہ سے جاگ اٹھے
خود آگاہی سے بدلی قلب و جاں کی خودفراموشی
عروقِ مردئہ مشرق میں خونِ زندگی دَوڑا
فسردہ مشتِ خاکستر سے پھر لاکھوں شرر نکلے
زمیں سے نوریاں تک آسماں پرواز کرتے تھے
یہ خاکی زندہ تر ، پائندہ تر ، تابندہ تر نکلے
نبود و بود کے سب راز تو نے پھر سے بتلائے
ہر اک فطرت کو تو نے اس کے امکانات جتلائے
ہر ایک قطرے کو وسعت دے کے دریا کر دیا تو نے
ہر اک ذرّے کو ہمدوشِ ثریا کر دیا تو نے
فروغِ آرزو کی بستیاں آباد کر ڈالیں
زجاجِ زندگی کو آتشِ دوشیں سے بھر ڈالا
طلسم کن سے تیرا نغمۂ جاںسوز کیا کم ہے
کہ تو نے صد ہزار افیونیوں کو مرد کر ڈالا

اگر خیال خاطر احباب نہ ہو اور انیس کے آبگینوں کو ٹھیس لگنے کا اندیشہ نہ ہو تو ترقی پسندوں کے ادبی سرقہ جات کی فہرست طویل ہے لیکن یہ شاید الزامی جواب یا جوابی الزام ہو جاۓ لیکن کیڑے نکالنے والوں کی تنقید پسندی دیکھتے ہوے کچھ ادبی سرقوں کے حوالے سے ایک مضمون کے کچھ اقتباسات پیش کروں
عصمت چغتائی .... عدالت خانم
یادش بخیر آج سے پندرہ بیس سال پہلے اُردو ادب میں نئے ادبی تجربے کئے جا رہے تھے، نئے اسالیب سامنے آرہے تھے اور مغربی اثرات کا غلبہ تھا۔ یورپ کے ادب کے ساتھ ترکی اور عربی ادب کی طرف بھی توجہ دی کی جا رہی تھی۔ اُس دو رمیں کئی ایسی چیزیں لکھی گئیں جن میں ایک نئی فضا تھی۔ مثال کے طور پر امتیاز علی تاج کا ”چچا چھکّن“۔ قاضی عبدالغفار کی کتاب ”لیلیٰ کے خطوط“ اور ”اُس نے کہا“۔ ان کے بعد محترمہ عصمت چغتائی کا ناولٹ ”ضدی“۔ اُردو کے عام پڑھنے والوں نے ان تمام فن پاروں کا خیر مقدم کیا اور انہیں ادب میں قیمتی اضافہ قرار دیا۔ لیکن چھان بین سے پتہ چلا کہ یہ کتابیں تخلیقی کارناموں کی جگہ ترجمہ تھیں۔ یا ان کا مرکزی خیال اور تمام تر جزئیات ماخوذ تھیں۔ مثلاً ”چچا چھکّن“ امتیاز علی تاج کا کارنامہ انگریزی زبان کے مشہور مصنف ”جے کے جے روم“ کا مکمل چربہ تھا۔ چچا چھکّن کا سلسلہ جب تک رسالوں میں شائع ہوتا رہا۔ تاج صاحب نے کہیں اس بات کی طرف اشارہ نہ کیا۔ لیکن جب یہ مضامین کتابی صورت میں شائع ہونے لگے تو تاج صاحب نے مناسب سمجھا کہ دبی زبان سے کہیں ”اصل مصنف“ کا تذکرہ کردیا جائے۔ اسی طرح ”لیلیٰ کے خطوط“ کی تازگی الیگزینڈر کوپرین کے گل تر سے لی گئی تھی۔ ”اُس نے کہا“ کی اشاعت نے قاضی صاحب کے ترجمہ کرنے اور اخذ کرنے کی صلاحیت کا شاندار ثبوت فراہم کیا۔ یہ کتاب ”خلیل جبران“ کی مرہون منت تھی۔ جس کے قاضی صاحب بقول خود ”خوشہ چیں“ تھے مگر انہوں نے ترجمے کو ترجمہ کہنا مناسب نہ سمجھا۔ یہ ”خوشہ چینی“ کا جدید مفہوم ہے!عصمت چغتائی اُردو کے جدید افسانہ کے معماروں میں سے ایک ہیں! ان کے افسانوی نقوش ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں! اور اُردو ادب کی تایخ میں عصمت اپنے لئے ممتاز جگہ بنا چکی ہیں۔ ”کلیاں“ اور ”چوٹیں“ کے بعد آج سے بارہ تیرہ سال پہلے عصمت کا ناولٹ ”ضدّی“ شائع ہوا تھا۔ اس ناولٹ کو عصمت کی فنی عظمت کا ثبوت قرار دیا گیا تھا۔ اُس زمانے میں ادبی سراغرساں نے ”ضدّی“ کو بڑے ذوق وشوق سے پڑھا تھا۔ لیکن پڑھ کر اُسے بے حد صدمہ ہوا تھا کیونکہ یہ ناولٹ ترکی کی ناول ”ہاجرہ“ کا مکمل چربہ تھا اور ادبی سراغرساں نے اکتوبر 1943ءکے ”ماہنامہ معاصر“ پٹنہ میں ”ضدّی“ کے متعلق اس انکشاف کو پیش کیا تھا۔ مدتوں بعد پاکستان کے ایک نیم ادبی اور نیم مذہبی رسالے نے ”ضدّی“ سے متعلق اس تحریر کو بغیر کسی حوالے کے شائع کردیا یہ گویا ”انکشافِ جُرم کی دستاویز“ پر ڈاکہ تھا۔ مہر نیمروز 56ءکے پہلے شمارے میں، انتصار حسین صاحب کے بارے میں اسی عنوان کے تحت جو مضمون شائع ہواتو اسکے بارے میں ہمیں بہت خطوط موصول ہوئے۔ ڈاکٹر اعجاز حسین وغیرہ نے اسے ”قابل قدر کام“ قرار دیا۔ ایک محترمہ کا ارشاد ہے کہ ”آپ غریب اور معمولی ادیبوں کے پیچھے کیوں پڑنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ میں اخلاقی جرات ہے تو بڑے بڑے مصنفین کے بارے میں لکھئے“....
علی اکبر قاصد
حقیقت یہ ہے کہ اقبال کی ادبی عظمت و جلالت میں گذرتے وقت کے ساتھ اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے اسلئے ناقدین اقبال کی کمزور صف سے محبان اقبال کی مضبوط دیوار زیادہ بہتر ہے

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں