جمعرات، 14 نومبر، 2013

" تعریف کی بھوک "

انشائیے پر انحراف کے تخلیقی و تنقیدی پروگرام کے سلسلے میں موصول ہو نے والا محترم حسیب احمد حسیب کا انشائیہ
انحراف ایڈمن انحراف
" تعریف کی بھوک "


انسان پیدائشی بھوکا ہے دنیا میں آتے ہی رو رو کر لوگوں کو متوجہ کرتا ہے " میں بھوکا ہوں ، میں بھوکا ہوں " اسکے اس رونے کو سن کر ماں کی مامتا کو جوش آتا ہے اور اسکی چھاتیوں میں موجود آب حیات کے چشمے ابلنے شروع ہو جاتے ہیں جیسے کوئی اسماعیل (علیہ سلام ) زمین پر ایڑیاں رگڑے اور زمین اپنے بہترین خزانے کو اوپر لا پھینکے اور پھر زم زم ( رک جا ) کی صدائیں بلند کرنا پڑیں ..


جب انسان بلوغت کی حدود میں داخل ہوتا ہے تو ایک اور بھوک سے آشنا ہوتا ہے " جنس کی بھوک " پھر روتا ہے چلاتا ہے حیلے بہانے کرتا ہے آس پاس کے لوگوں کو احساس ہوتا ہے تلاش و تگ و دو شروع ہوتی ہے اور ایک عدد " بر " کا انتظام کیا جاتا ہے اور " ویر میرا گھوڑی چڑھیا " یا " بابلا وے " کی صدائیں بلند ہوتی ہیں ......


اور ایک ہے تعریف کی بھوک اس بھوکے کی بھوک مٹانے کا انتظام کرنے کو کوئی تیار نہیں بلکہ بھوکا بھی اپنی بھوک سے واقف نہیں ہے اور واقف کیا ہو شاید اسے بھوک تسلیم کیا ہی نہیں جاتا .....


تعریف ایک ایسی غذا ہے جو بچپن سے کسی بھی شخص کو ملتی تو ضرور ہے لیکن ناواقفیت کی وجہ سے کہیں بہت زیادہ اور کہیں بہت کم .....


کوئی تعریف سن سن کر بدہضمی کا شکار ہوا پڑا ہے تنقید کو ایسے اگل دیتا ہے جیسے لقمے میں بوٹی کی بجاۓ کوئی چھیچڑا آ جاتے اور کوئی اتنی قلت کا شکار ہے کہ اسے بھولے سے یہ غذا دے دی جاۓ تو ایسے الٹ دے گا جیسے بچے کو پہلی بار اوپر کا دودھ دیا جاۓ تو الٹ دیتا ہے ..


تعریف کی بھوک انسان کے اندر کے ان جذبات کو ابھارتی ہے جو ایندھن کا کام دیتے ہیں انسان کی خوابیدہ صلاحیتیں اپنی توصیف کو سننے کے لیے تخلیق کی طرف مائل ہوتی ہیں شاعر،ادیب ،مصنف ، اداکار غرض کوئی بھی ہو یہ تعریف کی بھوک ہی تو ہے جو اسے تخلیق پر مجبور کرتی ہے ...


کسی مشاعرے میں واہ واہ کی صداؤں میں شاعر کے دوران خون کی بڑھتی ہوئی رفتار اور اسکے نتیجہ میں پیدہ ہونے والی حرکی توانائی سے بننے والی حرارت کا اثر اسکے چہرے کے آئینے پر واضح دیکھا جا سکتا ہے ........


الحمرا میں سٹیج پر کھڑا ہوا فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوے لوگوں کی طرف متوجہ تعریف کے چند بولوں کے انتظار میں اتنا ہی بیتاب ہوتا ہے جتنی کوئلوں کے چولہے پر روٹی پکاتی ایک دیہاتن چند جملوں کی منتظر ہوتی ہے تالیوں کی فلک شگاف گونج یا " آج تو صواد آ گیا " کے چند جادو اثر الفاظ اپنے اپنے ظرف کے مطابق ہر دو افراد کی تشفی کر سکتے ہیں......


تعریف جنس ارزاں نہیں کہ لوگوں پر نچھاور کرنی شروع کر دی جاۓ اور نہ ہی جنس نایاب کے کسی گودام میں ذخیرہ کرکے سڑنے کو چھوڑ دی جاۓ ...


یہ غذا کب دینی ہے کس کو دینی ہے کتنی دینی ہے اسکا جاننا ضروری ہے اور کہیں اسکی زیادتی ہو جاۓ تو تنقید کے چورن کی ایک خاص مقدار کہ کہیں زیادتی کی وجہ سے معدہ کا نظام متغیر نہ ہو جاۓ .....


تعریف کی ٹنکی پر خود آگاہی کی گھنٹی ضرور لگی ہو تاکہ اوور فلو ہونے سے پہلے اپنے اپنے ظرف کا اندازہ ہو سکے ..


ہاں ایسا نہ ہو کہ یہ بارٹر ( جنس کے بدلے جنس ) کا کاروبار بن جاۓ اور دسترخوان پر بیٹھے ہر دو افراد برابر کے لقمے بنا بنا کر ایک دوسرے کے منہ میں دیتے چلے جائیں اور کسی کا بھی پیٹ نہ بھرے ..


تعریف کی دعوت ، دعوت عام ہے یہ ہر مدعو کا حق تو ہے کہ اسے اپنے جثے کے مطابق چند لقمے یا پورا خوان ہی مل جاۓ لیکن اسکا خیال بھی ضروری ہے کہ کہیں چند بو الہوسوں کی وجہ سے کچھ ضرورت مند بھوکے نہ رہ جائیں اور کچھ کم ظرفوں کے معدہ کی گرانی باقی لوگوں کے " تنفس " پر بار نہ بن جاۓ ..


تعریف ہمیشہ میٹھی ہوتی ہے یہ پیٹ بھرنے کی چیز نہیں بلکہ زبان کی نوک پر رکھ کر لطف لینے کا معاملہ ہے یہ مٹھاس ہر بار مختلف ہوتی ہے کبھی کسی محفل میں کھائی جانے والی آرٹیفیشل فلیور آئس کریم کی طرح اور کبھی اپنے گھر کے آنگن میں ماں کے ہاتھوں کھلائی جانے والی چوری کی طرح جو ماں کی مامتا کے ساتھ جزو بدن بن جاۓ اور جسم میں خون کے اضافے کا سبب ہو ہاں کبھی کبھی منہ کا ذائقہ تبدیل کرنا بھی اچھا ہے .....


تعریف کی مٹھاس اتنی زیادہ نہ ہو جاۓ کہ " شکر " کا مرض لاحق ہو جاۓ اور پھر اسکی بڑھتی ہوئی زیادتی بطن کے گھلنے کے عمل کا موجب ہو جسکا انجام وجود کی موت ہے ...


یہ ہمیشہ کھانے کی ہی چیز نہیں کھلانے کی چیز بھی ہے کرنے سے کم نہیں ہوتی بانٹنے سے ختم نہیں ہوتی اگر طبیعت میں خساست اور مزاج میں بخیلی نہ ہو تو دوسروں کو بھی شریک کرلینا نظر بد سے بچا سکتا ہے .....


اگر تعریف کا لڈو درکار ہے اور جسم اسکی کمی محسوس کر رہا ہے تو جان لیجئے یہ ایسے نہیں ملنے والا اسکیلئے تخلیق کی اجرت درکار ہے .


حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں